کفار اور مشرکین والے علاقوں کی جانب سفر اور قیام کی شرائط-2

بابر تنویر نے 'دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح' میں ‏نومبر 22, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    ٭....اور ان مذکورہ دو بنیادی شرطوں کے بیان کے بعد “دارکفروشرک”میں سکونت کئی ایک صورتوں میں منقسم ہوجاتی ہے اور وہ اقسام درج ذیل ہیں:

    پہلی قسم: کہ آدمی “دار کفر”میں لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے اور اس میں رغبت دلانے کےلئے رہائش اختیار کرے اور اس کی یہ کاوش، جہاد کی ایک قسم ہے اور جو اس پر قدرت رکھے، اس کے لئے یہ “فرض کفایہ” کا حکم رکھتی ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس کی وہاں یہ دعوت ایک تو بارآور ثابت ہو اور دوسرے یہ کہ نہ کوئی اس کو یہ دعوت دینے سے منع کرتا ہو، اور نہ اس دعوت کو لبیک کہنے (یعنی قبول کرنے)والے کی راہ میں کوئی روک لگاتا ہو، اس لئے کہ اسلام کی طرف دعوت دینا، دین کے واجبات میں سے ہے اور یہ اللہ تعالی کے پیغمبروں (علیہم السلام) کا طریقہ اور وظیفہ ہے، اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کے ہر فرد کو اور ہو جگہ پر اپنی شریعت طاہرہ کے احکامات و پیغامات پہنچانے کا حکم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

    ((بلغوا عني ولو آية))
    “مجھ سے لی ہوئی خواہ ایک ہی آیت (اور حدیث)ہوتو اس کو (آگے میری امت تک)پہنچادو۔”


    دوسری قسم: کہ وہ “بلاد کفر و شرک”میں رہتے ہوئے کافروں اور دشمنان دین کے احوال کی بابت آگاہی رکھے، نیز ان کے عقائد کی خرابیوں، طریقۂ عبادت کے بطلان، اخلاقی انحطاط اور ان کے کردار و گفتار کے بگاڑ پر کڑی نگاہ رکھتا ہو، تاکہ عام لوگوں کو(خاص طور پر حاہل مسلمانوں کو) ان کے دام فریب میں آنے سے ڈرا اور بچاسکے، اور ان کفار کی طرف رشک آلود نگاہوں سے دیکھنے والوں پر ان کی حقیقت آشکارا کرسکے، تو بلاد کفر میں ایسی اقامت (سکونت) جہاد ہی کی ایک قسم ہے اور یہ اس لئے کہ یہ دعوت اپنے نتائج و ثمرات کے اعتبار سے اہل اسلام کو، کفر اور اہل کفر سے بچانے اور عامۃ الناس کو اسلام کی طرف ہدایت پر مشتمل ہے، کیونکہ کفر کا بگاڑ و فساد اسلام کی اصلاح و فلاح کی دلیل ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے:

    (وبضدها تتبين الأشياء)
    کہ اشیاء کی حقیقت، اپنی مخالف اشیاء سے نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔”

    ٭....مگر یہاں اس شرط کا پایا جانا ضروری ہے کہ داعی کی یہ دعوت، جس مقصد کے لئے ہو، وہ مقصد اپنے سے بڑھ کر کسی فساد کے رونما ہوئے بغیر برگ و بار لائے اور اگر اس داعی کو اس دعوت کا کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہ ہوسکے اور وہ اس طرح کہ وہاں کے کفار و مشرکین اس کو اپنے باطل عقائد اور بگاڑ کی اشاعت (اور ان کے رد) سے روک دیں تو تب اس شخص کے وہاں ٹھہرنے کاکوئی فائدہ نہیں، اسی طرح اگر اس (داعی) کو اس دعوت کے مثبت نتائج تو مل رہے ہیں، مگر ساتھ ہی وہ دعوت اپنے فوائد اور مصالح سے بڑھ کر مفاسد و مضرات کے سر اٹھانے کا سبب بن رہی ہے مثلا: اس کی دعوت کے ردعمل میں مخالفین، اسلام، اہل اسلام، رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسلام اور دیگر ائمہ اسلام کو سب و شتم (گالی گلوچ) کا نشانہ بنانے لگے ہوں، تو ایسے حالات میں اس کا

    دعوت سے رک جانا واجب ہے اور اس کی دلیل اللہ جل شانہ، کا یہ فرمان ہے:
    (وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(الأنعام: 108))
    “(اے مسلمانو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں، انہیں گالی نہ دو، ورنہ یہ لوگ جہالت کی وجہ سے چڑ کر اللہ کو گالی دیں گے، اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے، پھر انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، تو جو کچھ یہ کرتے رہے، اس کی انہیں وہ خبردے دے گا۔”

    اور اسی کے مشابہ یہ بھی ہے کہ کوئی مسلمان شخص، کافروں کے کسی ملک میں محض اس غرض سے ٹھہرے کہ وہاں رہ کر وہ مسلمانوں کے حق میں کفار اور مسلمانوں کے دشمنوں کی جاسوسی کے فرائض انجام دے سکے اور ان کی تیار کردہ خفیہ سازشوں اور دسیسہ کاریوں سے اہل اسلام کو متنبہ کرسکے، جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خندق میں، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو مشرکوں کی طرف بھیجا تھا تاکہ وہ ان کی (جنگی چالوں اور)سرگرمیوں کی خبریں معلوم کرسکیں۔

    تیسری قسم: کہ وہ شخص مسلمان ملک یا اسلامی ریاست کی ضرورت یا اس کے کافر ملکوں کے ساتھ انتظامی امور کو منظم اور مربوط کرنے کی خاطر مقیم ہو، جیسے سفارتخانوں کے ملازمین یا عملہ ہے، تو ان کا حکم بھی اس شخص کے حکم جیسا ہے، جو اسلامی ملک کی مصلحت اور فائدے کے لئے کافر ملک میں ٹھہرا ہو، اسی طرح مثال کے طور پر “اسلامی ثقافت” کا ترجمان اور ماہر ذمہ دار وہاں رہتے ہوئے، مسلمان طلباء کے حالات اور ان کی دن رات کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہوئے، ان کی اخلاقی اقدار و روایات کی نگرانی کرتے ہوئے اور ہمہ وقت ان کو دین اسلام کی پاسداری کرنے اور دین کے اخلاق و آداب کو اپنائے رکھنے اور ہمہ وقت اور ہمہ جااپنا اسلامی تشخص برقرار رکھنے کی ترغیب دلاتا ہے۔ تو ایسے شخص کے وہاں رہنے سے ایک بڑی مصلحت اور منفعت کا حصول ممکن ہے اور ساتھ ہی ایک بڑے شر اور فساد کا خاتمہ بھی۔

    چوتھی قسم: کہ آدمی کسی خاص اور جائز ضرورت کی بناء پر وہاں ٹھہرجائے، جیسے تجارت (کاروبار) یا علاج وغیرہ ہے، تو ایسے حالات میں ضرورت پوری ہونے تک وہاں ٹھہرنا جائز ہے اور اہل علم حضرات (رحمہم اللہ!) نے کاروباری مقاصد کی غرض سے کافر ملک میں ٹھہرنے یا اس کی طرف سفر کرنے پر مہر تصدیق ثبت کی ہے اور انہوں نے اس کی دلیل بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار و واقعات سے لی ہے۔

    پانچویں قسم: کہ آدمی کسی کافر ملک میں تحصیل علم اور کسی علمی شعبہ میں تحقیق و تدریس کے لئے ٹھہرے اور یہ صورت سابقہ ضرورت کی ہی ایک قسم ہے، کہ جہاں انسان کسی ضرورت کے پیش نظر مقیم ہو، لیکن یہ اس کی نسبت زیادہ خطرناک، اور ایک سکونت پذیر مسلمان شخص کے دینی اور اخلاقی اقدار کی پامالی کے اعتبار سے زیادہ سخت بھی ہے۔(و العياذ بالله) تو بلاشبہ ایک طالب علم اپنے استادوں کے مرتبے کو جانتا اور ان کی شخصیت کے زیادہ قریب ہوتا ہے، اور استادوں کی اپنے شاگرد کے ہاں قدرومنزلت براہ راست اس کے اخلاق و کردار پر اثر انداز ہوتی اور پھر اس شاگرد کو ان کے افکار و آراء اور آداب سلوک کو اپنانے پر اکساتی اور انگیخت دلاتی ہے اور اس میدان میں اکثر لوگ اپنے استادوں کی ہی سیرت و کردار کے اسیر ہوتے ہیں، سوائے ان لوگوں کے ، جن کو اللہ تعالی بچائے رکھتا ہے اور وہ بہت ہی کم تعداد میں ہیں۔

    پھر طالب علم اپنے استاد کے ہاں اپنی ضرورت سے بھی بخوبی آگاہ ہوتا ہے اور یہی ضرورت اس کے دل کو استاد کی محبت کی طرف مائل کرتی اور جس دینی انحراف اور گمراہی پر وہ گامزن ہوتا ہے، اس کے بارے میں شاگرد میں مداہنت کا سبب بنتی ہے اور پھر طالب علم جس تعلیمی ادارے میں مقیم ہوتا ہے، وہاں اس کے ساتھ اور دوست ہوتے ہیں، جن سے وہ محبت کرتا، ان سے لین دین رکھتا اور دیگر ضروریات پوری کرتا ہے، ان سب امور کے ہوتے ہوئے ایک نوخیز طالب علم کے اخلاق و کردار کے بگاڑ کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے، لہذا اس قسم کے لوگوں کے بارے میں حفاظی اقدامات دوسروں کی نسبت زیادہ ضروری ہیں۔

    “دیار کفر”میں طالب علموں کے دین و ایمان اور اخلاق و کردار کے تحفظ کی خاطر ان دوبنیادی شرطوں (جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے) کے علاوہ درج ذیل اضافی شروط کو اپنا نا لازم ہوگا:

    پہلی شرط: کہ طالب علم عقل کی پختگی اور سوچ و بچار میں اتنی اونچے درجے کی صلاحیت رکھتا ہو، کہ وہ آسانی سے منفعت بخش اور نقصان دہ چیز میں فرق کرسکتا ہو اور کسی بھی چیز کے نفع و نقصان کے بارے میں وہ “مستقبل بعید” میں بھی گہری نظر رکھتا ہو۔ اور جہاں تک چھوٹی عقل اور ناسمجھی کی عمر کے بچوں کو طلب علم اور پڑھائی کے لئے ایسی جگہوں میں بھیجنے کا تعلق ہے، تو یہ ان کے دین اور ان کے اخلاق و کردار کی بربادی کے لئے بہت بڑا اور سنگین خطرہ ہے، پھر یہ نونہال اپنی قوم و ملت کےلئے بھی بہت بڑے خطرے کا باعث ہوں گے، جن کی طرف انہوں نے پلٹ کر آنا ہے اور وہاں آکر وہ ان کے دل و دماغ میں وہ زہر اتاریں گے، جو انہوں نے(دارکفر میں رہتے ہوئے) کفار سے پیا تھا، جیسا کہ اس قسم کے واقعات ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں اور ناقابل تردید حقائق بھی ایسے واقعات پر شاہد ہیں، کہ بہت سے ایسے لوگ جو تعلیم و تعلم کے لئے “دیار کفر وشرک”میں بھیجے گئے، اور واپسی پر وہ کمزور ایمان کی پونجی سے بھی محروم تھے، وہ اپنے دینی تشخص اور اچھے اخلاق و کردار سے بیگانہ اپنے ساتھ کفر و الحاد کو ساتھ لے کر آئے، اور خود اپنے لئے اور اپنی قوم و ملت کے لئے بھی فساد و بگاڑ کا سبب بنے۔ (والعياذبالله من ذالك)اور یہاں یہ بات ہم (ببانگ دہل کہیں گے) کہ ان جیسے حالات میں کم عمر اور مذکورہ شرائط سے تہی دامن لوگوں کو دیار کفر بھیجنا، بھیڑ بکریوں کو، چیڑ پھاڑ کرنے والے کتوں کے آگے پھینک دینے کے مترادف ہے۔

    دوسری شرط: کہ “دیار کفر”میں مقیم طالب علم کے پاس اس حد تک شرعی علم ہو، جس کی وساطت سے وہ حق اور باطل کےدرمیان فرق کرسکتا ہو، اور حق کی ضرب سے باطل کا قلع قمع کرسکتا ہو، تاکہ باطل کی جس روش پراہل کفر جمے ہوئے ہیں، کہیں وہ ان سے متاثر ہوکر دھوکہ نہ کھاجائے، یا ان کے جھوٹ کو، سچ نہ سمجھ بیٹھے، یا حق اور باطل اس پر خلط ملط نہ ہوجائیں یا اس (باطل) سے بچنے سے وہ عاجزنہ آجائے اور پھر وہ حیران و ششدر باطل کی پیروی میں نہ لگ جائے....اور دعائے مسنون میں یہ الفاظ واردہوئے ہیں:

    ((اللهم أرني الحق حقاً وارزقني اتباعه، وأرني الباطل باطلاً وارزقني اجتنابه، ولا تجعله ملتبساً علي فأضل))
    “الہی! مجھے راہ حق دکھا دے اور (پھر) مجھے اس کی پیروی کی توفیق دے اور مجھے باطل رستے دکھادے اور اس سے بچنے کی توفیق مرحمت فرمادے، اور اس (حق و باطل کی)راہ کو مجھ پر خلط ملط نہ کر، کہ میں راہ حق سے بھٹک کر گمراہ ہوجاؤں!”


    تیسری شرط: کہ کفرو شرک کے ممالک میں سکونت پذیر طالب علم کے پاس اتنی دینی حمیت و جذبہ اور ایمانی غیرت ہو، جو اسے بے راہ روی سے بچاسکے اور کفر و فسق کی لعنتوں سے اسے محفوظ رکھ سکے، کیونکہ دینی اعتبار سے کمزور نوجوان، وہاں اقامت کے دوران کفر وفسق کے فتنہ و فساد سے محفوظ و مامون نہیں رہ سکتا، سوائے اس کے ، جسے اللہ تعالی بچائے رکھے، اور یہ اس معاشرے میں کفروشرک کے طاقتور ہونے اور اس کے رد عمل میں دینی قوتوں کے انتہائی کمزور ہونے کی وجہ سے ہے، اور جب یہ الحادی اور طاغوتی قوتیں کسی بھی جگہ اپنی مخالف قوتوں کو کمزور اور ناتواں پاتی ہیں، فورا اپنی تخریبی کارروائی کرنا شروع کردیتی ہیں۔(والعياذبالله)

    چوتھی شرط: کہ طالب علم، اس علم کی انتہائی زیادہ احتیاج رکھتا ہو، جس کے حصول کے لئے وہ وہاں ٹھہرا ہے اور یہ اس اعتبار سے کہ اس علم کے پانے میں عام مسلمانوں کی مصلحت کا رفرما ہو، اور پھر اس جیسی تعلیم ، اس کے اپنے ملک کے کسی مدرسہ یا تعلیمی ادارے میں نہ پائی جاتی ہو، اور نہ اس قسم کا کوئی ادارہ ہی موجود ہو، لیکن اگر وہ کوئی ایسا بیکار اور بے فائدہ علم ہے، جس میں مسلمانوں کا کوئی فائدہ بھی نہ ہو، یا اس جیسا تعلیمی ادارہ اس کے اپنے ملک یا کسی دوسرے اسلامی ملک میں موجود ہو، جہاں سے وہ تعلیم پانا اس کے لئےممکن ہو، تو اس صورت میں اس کےلئے کفارومشرکین کے درمیان رہ کر، ان کے ملک میں تعلیم حاصل کرنا جائز نہیں، اس لئے کہ ایک تو اس کا ایسی جگہ پر ٹھہرنا اس کے دین اور اخلاقی اقدار کےلئے انتہائی خطرناک ہے اور دوسرا یہ کہ ایک بے فائدہ (بلکہ نقصان دہ)چیز کی طلب میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوگی۔

    چھٹی قسم: کہ کوئی شخص باقاعدہ کفار و مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرلے (یا کوئی طالب علم، کفار و مشرکین کے ساتھ تعلیمی ادارے میں سکونت اختیار کرے) تو ایسی اقامت ، پہلی ذکرکردہ صورتوں سے، اس لئے زیادہ خطرناک اور بڑی نقصان دہ ہے کہ اہل کفر کے ساتھ مکمل اختلاط سے بڑا فتنہ و فساد جنم لے گا، اور پھر اس شخص کا یہ تصور کہ یہ لوگ یہاں کے مقامی باشندے ہونے کے ساتھ ساتھ تعداد میں بھی زیادہ ہیں، اور ان کے ساتھ لین دین، مؤدت و محبت رکھنا اور ان کےرسم و رواج کو اپنا نا، یہاں ان کے وطن میں رہنے کے لئے اس کی ایک مجبوری ہے، اور ان کے درمیان اقامت کا تقاضا بھی۔ تو انجام کاریہ ہوگا کہ اس کے اہل خانہ کفار کے درمیان پروان چڑھیں گے، جہاں(نہ چاہتے ہوئے بھی)وہ ان کے طرز حیات، اخلاق وعادات اور غیر اسلامی رسومات کو اپنالیں گے، اور بسا اوقات تو دینی معاملات (اور خاص طور پر)عقائد و عبادات میں بھی (ان کی بدعات و خرافات میں) آنکھیں بند کئے پیروی کریں گے۔(والعياذبالله)

    تو اس ضمن میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں:
    ((من جامع المشرك وسكن معه فهو مثله))
    “جو مشرک کے ساتھ بیٹھا، اور اسکے ساتھ سکونت اختیار کی تو وہ اسی مشرک کی مانند ہے۔”


    یہ حدیث اگرچہ اپنی سند کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن (حقیقت کے بیان میں) اس کی ایک حیثیت اور رائے ہے، “کہ سکونت میں اختلاط (یعنی بعض قوم کا کسی دوسری قوم کے ساتھ مل جل کر رہنا ان کی ) مشابہت اور موافقت کا پیش خیمہ ہے۔”

    قیس بن حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    “میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں، جس نے مشرکوں کے درمیان اقامت اختیار کی، صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین!) نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لا تراءى نارهما)) کہ : “ان (اہل ایمان اور مشرکین) کو تو ایک دوسرے کی جلائی ہوئی آگ بھی نہیں دکھائی دی جانی چاہئے۔ (یعنی ان کے درمیان کم ازکم اتنا فاصلہ ضرور ہونا چاہئے)”

    اس حدیث کو امام ابوداود رحمہ اللہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی اپنی “سنن”میں روایت کیاہے اور اکثر راویوں نے اسے قیس بن حازم رحمہ اللہ (اور قیس رحمہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے) یعنی “مرسل” روایت کیا ہے (مطلب یہ کہ حضرت قیس بن حازم رحمہ اللہ اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے واسطے کے بغیر یہ حدیث “مرسل”ہوگی)

    امام ابوعیسی ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے محمد (یعنی امام بخاری رحمہ ) سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: “کہ صحیح یہ ہے کہ قیس بن حازم رحمہ کی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث “مرسل”ہے”

    اگر معاملہ اس حد تک خطرناک ہو....تو ایک مومن اس بات کو کیونکر گوارا کرسکتا ہے، کہ وہ “بلاد کفار” میں مستقل رہائش اختیار کرے، جہاں کھلے عام کفریہ شعائر کا پرچار ہوتا ہو اور اللہ جل جلالہ، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے علاوہ، طاغوتی شیطانوں کے احکام و قوانین نافذ ہوں اور وہ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہو، اپنے کانوں سے سنتا ہو اور اس پر راضی بھی ہو، بلکہ اس سے بڑھ کروہ اپنے آپ کو انہی کافروں کے ملکوں اور اقوام کی طرف منسوب کرتا ہو، اور وہ ، وہاں “کافر معاشرے”میں اپنے اہل وعیال سمیت رہائش پذیر ہو، اور اس طرح مطمئن زندگی بسر کرتا ہو، جیسے وہ کسی مسلم معاشرے اور مسلمان ملک میں رہائش اختیار کئے ہوئے ہے، اس کے باوجود کہ وہ اپنے اہل وعیال اور خاندان کے اخلاق و کردار اور دینی اقدار پر، اس کافر معاشرے کے بڑے خطرات اور زہریلے اثرات کے ہولناک اور تباہ کن نتائج سے بخوبی آگاہ بھی ہو۔
    ٭....یہ بلاد کفار میں مسلمانوں کی اقامت کے حکم کے بارے میں مختصر سا بیان ہے اور جس حد تک ممکن ہوسکا ہے، ہم نے اسے عامۃ الناس کے فائدے کے لئے رقم کردیا ہے، اللہ عزوجل کے حضور دعاء ہے کہ وہ اس بیان کردہ حکم کو “حق کے موافق”اور “حقیقت کے مطابق” کرتے ہوئے، تمام مسلمانوں کو مستفیدو مستفیض ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے!

    دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح(شرح اصول الثلاثة) - urdu majlis forum
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ماشاء اللہ !
    اللہ تعالی مزید قوت عطا کرے۔
    جزاک اللہ خیرا و بارک اللہ فیک
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں