رسولوں (علیہما السلام)کو بھیجنے کی حکمت

بابر تنویر نے 'دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح' میں ‏نومبر 25, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    وأرسل الله جميع الرسل مبشرين ومنذرين والدليل قوله تعالى: (رُسُلاً مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ(27) (النساء: 165))
    “اور اللہ تعالی نے تمام پیغمبروں علیہم السلام کو جنت کی نعمتوں کی خوشخبری دینے اور (عذاب جہنم) سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا تھا، جس کی دلیل یہ فرمان الہی ہے: “یہ سارے رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے، تاکہ ان کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کسی قسم کا کوئی عذر (وحجت) باقی نہ رہے۔”

    (27) مولف کتاب رحمہ اللہ! نے یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام رسولوں (علیہم السلام) کو
    (مُبَشِّرِينَ) (خوشخبری دینے والے) اور
    (مُنْذِرِينَ) (ڈرانے والے)بنا کر اس دنیا میں بھیجا ہے،

    جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:(رُسُلاً مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ)“
    کہ یہ پیغمبر، اطاعت و فرمانبرداری کرنے والوں کی جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور اپنے مخالفین اور نافرمانوں کو آتش جہنم سے ڈراتے ہیں.....اور

    رسولوں علیہم السلام کو اس دنیا میں منصب رسالت دے کر بھیجنے میں بڑی حکمتیں اور مصلحتیں کارفرما ہیں اور ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ لوگوں پر حجت (دلیل) قائم کردی جائے، یہاں تک کہ رسولوں (علیہم السلام) کو بھیجنے کے بعد لوگوں کے لئے اللہ تعالی کے ہاں کوئی عذر اور حجت باقی نہ رہے۔

    جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:(لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ) “
    تاکہ ان رسولوں (علیہم السلام) کے آنے کے بعد لوگوں کے لئے اللہ پر کوئی حجت (عذر یا دلیل)باقی نہ رہے۔”

    اور منجملہ حکمتوں میں اللہ جل شانہ، کا اپنے بندوں پر اپنی نعمت کا پورا کرنا بھی ہے، تو ایک انسانی عقل و بصیرت، فہم و فراست کے جس درجے تک بھی پہنچ جائے، اس کے لئے ان تمام خاص حقوق کی تفصیلات جاننا ناممکن ہے، جو اللہ تعالی کے ، اس کے بندوں پر عائد ہوتے ہیں، نہ اس کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اللہ جل جلالہ، کی تمام صفات کاملہ پر مطلع ہوسکے اور نہ ہی اللہ جل شانہ کے اسمائے حسنی کا احاطہ کرنا اس کے بس کی بات ہے....اور اسی لئے اللہ تعالی نے رسولوں(علیہم الصلاۃ و السلام) کو (مُبَشِّرِينَ) (خوشخبری دینے والے) اور (مُنْذِرِينَ) (ڈرانے والے) بنا کر بھیجا ہے، اور ان کے ساتھ ہی سچائی پر مبنی الہامی کتب بھی نازل فرمادیں تاکہ لوگوں کے آپس میں اختلاف کی صورت میں وہ اس کتاب مبین(اور کتاب ہدایت)کے ذریعے ان کے درمیان فیصلہ کرسکیں۔”

    اور سب سے بڑی “دعوت”جن کی طرف، سب سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر سب سےآخری رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء و رسل علیہم الصلاۃ و السلام نے لوگوں کو بلایا، وہ “دعوت توحید” ہے، جیسا کہ اس بات کی تائید میں اللہ جل شانہ، کا یہ فرمان ہے:
    (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ(النحل: 36))
    “اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا(اور اس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کردیا)کہ اللہ تعالی کی بندگی کرو، اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔”

    اور سورۃ الانبیاء میں اللہ جل شانہ، کا ارشاد ہے:
    (وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ(الأنبياء: 25))
    “اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو بھی رسول بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، لہذا تم صرف میری ہی عبادت کرو۔”
     
  2. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
    اللہ تعالٰی قبول فرماے آمین
    زبردست شیئرنگ
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں