تمام رسولوں کا اللہ تعالی کی بندگی کی دعوت دینا اور شرک سے روکنا

بابر تنویر نے 'دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح' میں ‏نومبر 27, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    وكل أمة بعث الله إليها رسولاً(29) من نوح إلى محمد ؛ يأمرهم بعادة الله وحده ، وينهاهم عن عبادة الطاغوت ، والدليل قوله تعالى: (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ(30) (النحل: 36)) وافترض الله على جميع العباد الكفر بالطاغوت والإيمان بالله وحده قال ابن القيم رحمه الله تعالى-الطاغوت: ما تجاوز به العبد حده من معبود أو متبوع ، أو مطاع(31)
    “اور ہر امت کی جانب اللہ تعالی نے، حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک رسول بھیجے ہیں، جو اپنے امتیوں کو اللہ تعالی کی عبادت کا حکم دیتے اور “طاغوت”کی عبادت سے منع کرتے آئے ہیں، جس کی دلیل حق تعالی جل شانہ، کا یہ ارشاد ہے: “اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا (اور اے کے ذریعے سب کو متنبہ بھی کردیا)کہ (ایک) اللہ کی بندگی کرو، اور “طاغوت” کی بندگی سے بچو۔ اور اللہ تعالی نے تمام بندوں (جن و انس) پر طاغوت کا انکار و کفر اور اللہ جل شانہ، پر ایمان لانا فرض قرار دیا ہے، امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ تعالی: طاغوت کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: “جس کسی بھی باطل معبود (یعنی جس غیر اللہ کی عبادت کی جائے) یا متبوع (یعنی جس کی ایسے امور میں پیروی کی جائے، جن میں اللہ تعالی کی نافرمانی ہو) یا مطاع (یعنی جس کی حلال و حرام کے معاملات میں اس طرح اطاعت کی جائے کہ اللہ تعالی کے فرامین کی مخالفت لازم آئے)کی وجہ سے بندہ اپنی بندگی کی حدود (یعنی خالص عبادت الہی) سے تجاوز کرجائے تو وہی چیز “طاغوت”کہلائے گی۔”

    (29) مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا، جو ان کو “ایک اللہ”کی عبادت کی طرف بلاتا اور شرک سے (ان کو) روکتا رہا اور اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی ہے:

    (وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلا فِيهَا نَذِيرٌ(فاطر: 24))
    “اور کوئی امت ایسی نہیں گزری، جس میں کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو۔

    اور شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ! نے اپنے اس قول کی تائید میں، اللہ تعالی کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے:

    (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ(النحل: 36))
    “اور تحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا (یہ حکم دے کر کہ وہ اپنی امت کے لوگوں سے کہے) صرف “اللہ”کی بندگی کرو اور “طاغوت”(کی بندگی) سے بچو۔”

    (30) اور یہ آیت کریمہ حقیقت میں کلمۂ توحید (لا إله إلا الله) کا معنی ہے (جو کہ نفی و اثبات پر مشتمل ہے)

    (31) اپنے اس بیان سے شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ بندہ کی “توحید” اس وقت تک صحیح اور مکمل نہیں ہوگی (یا اس وقت تک وہ پورا “موحد”نہیں بنے گا) جب تک وہ (وحده لا شريك له) کی بندگی نہ کرے اور “طاغوت”سے مکمل طور پر نہ بچے۔” اور یہ چیز اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر فرض کردی ہے....اور “الطاغوت”کا کلمہ “الطغيان” سے مراد کسی کا، مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا ہے ۔ اور اسی سے اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:
    (إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ(الحاقة: 11))
    “جب پانی کا طوفان حد سے بڑھا، تو ہم نے ہی تمہیں کشتی میں سوار کردیا تھا۔”

    ٭....آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب پانی مقررہ حد سے تجاوز کرگیا، تو اس وقت ہم نے تم کو “الْجَارِيَةِ”یعنی کشتی میں بٹھالیا۔”

    اور شرعی اصطلاح میں طاغوت کی سب سے اچھی اور عمدہ تعریف امام ابن قیم رحمہ اللہ نے کی ہے، جیسا کہ اس کا ذکر مولف کتاب رحمہ اللہ! نے بھی کیا ہے کہ “طاغوت” ہر وہ باطل معبود (جس ’”غیر اللہ“ کی عبادت کی جائے) یا متبوع (جس کی، اللہ کی نافرمانی میں اتباع کی جائے) یا مطاع (جس کی حلال و حرام کے امور میں اللہ تعالی کی مخالفت کرتے ہوئے اطاعت کی جائے) ہے، جن کی وجہ سے بندہ اپنے حقیقی معبود کی بندگی سے تجاوز کرجائے۔” اور امام موصوف رحمہ اللہ کی طاغوت کی تعریف میں معبود، متبوع اور مطاع سے مراد وہ لوگ ہیں جو صالحین (یعنی نیکو کار اور پرہیز گار) نہ ہوں، اور جو خود نیک، متقی اور پر ہیز گار ہوں وہ “طواغيت”کی صف میں شامل نہیں، خواہ ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی، گمراہ لوگ ان کی عبادت کرتے ہوں یا ان کی، اللہ تعالی کی معصیت اور مخالفت میں، اطاعت و اتباع بھی کی جاتی ہو۔”(والعياذ بالله من ذلك)

    لہذا ہر قسم کا بت، جس کی “اللہ واحد”کے علاوہ عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے، وہ علمائے سوء جو اللہ کی مخلوق کو گمراہی اور کفروشرک یا بدعات و خرافات کی طرف دعوت دیتے ہوں، یا پھر وہ اللہ تعالی کی حلال کردہ چیز کو حرام اور حرام کردہ چیز کو حلال قرار دے کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوں، وہ “طواغيت” ہیں، اسی طرح علماء میں سے ان مفکرین اور دانشوروں کا گروہ، جو وقت کے حکمرانوں کو، دین اسلام کے مخالف، باہر سے درآمد شدہ باطل نظام کی ظاہری چمک دمک سے متاثر کرکے انہیں “شریعت طاہرہ” سے برگشتہ کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، یہ سب “طواغيت” ہیں۔

    ٭....کیونکہ ان لوگوں نے اللہ تعالی کی (ان کے اپنے بارے میں مقرر کردہ) حدود سے تجاوز کیا ہوتا ہے، اور ایک عالم (پڑھے لکھے) شخص کی حد یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کی پیروی کرے، کیونکہ علماء حضرات انبیاء علیہم السلام کے حقیقی جانشین ہیں، جو ان کے بعد امت میں “علم و عمل” سیرت و اخلاق اور دعوت و تعلیم میں ان کے وارث بنتے ہیں، تو اگر یہ لوگ اپنی اس مقرر کردہ حد اور مقام سے تجاوز کرجائیں اور پھر جیسا کہ ہم نے پہلے بھی ذکر کیا ہےکہ (وہ ترقی یافتہ اور جدت پسند بنتے ہوئے اور اپنے تئیں عصر حاضر کے مفکر اور دانشور ہونے کا دعوی کرتے ہوئے) ملک کے حکمرانوں اور امراء طبقہ کو مغربی تہذیب کے باطل اور پرفریب نظام کا چکمہ دے کر، شریعت اسلامیہ کے پاکیزہ اور فطری نظام حیات سے متنفر کرنے کا غلیظ اور مہیب کردار ادا کرنے لگیں، تو وہ “طواغيت” ہیں، اس لئے کہ “شریعت طاہرہ” کی متابعت ، جوان پر فرض تھی، اس سے انہوں نے تجاوزاور انحراف کیا۔”(والعياذ بالله)

    اور مؤلف رحمہ اللہ کا “طاغوت”کی تعریف کے ضمن میں جو یہ قول (أو مطاع) ہے ، تو اس سے آپ رحمہ اللہ کی مراد ریاست کے وہ امراء ہیں، جن کی عوام الناس دوطریقوں سے اطاعت کرتے ہیں، ایک شرعا، دوسرے قدرا۔ تو ایسے امراء کی “شرعی”طریقے سے تب اطاعت کی جاتی ہے، جب وہ عامتہ الناس کو ایسے احکام صادر کریں، جو اللہ تعالی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت میں نہ ہوں۔ایسے حالات میں ان پر “طواغيت”کی اصطلاح صادق نہیں آتی (یا بالفاظ دیگر وہ “طواغيت”نہیں ہیں)، بلکہ رعایا پر ان کی سمع (یعنی جو کچھ وہ کہیں اس کو سننا) اور طاعۃ (یعنی جو کچھ وہ حکم دیں اس کی پیروی کرنا) واجب ہے، اس لئے کہ اس مذکورہ صورت میں لوگوں کا حاکم وقت یا “امیر ریاست”کا حکم ماننا، اللہ عزوجل کی اطاعت کرنا ہے، لہذا جب “والی ریاست” یا “حاکم وقت” کسی ایسی بات کا حکم دے، جس پر عمل کرنا واجب ہو، تو اس وقت ہمیں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ امیر کے اس حکم کی پیروی میں ہم اللہ تعالی کی بندگی اور اس کا قرب حاصل کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہمارا اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قربت کا ذریعہ بن جاتا ہے، تو اس بناء پر ہمیں اس بات کی طرف اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہئے....

    اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ(النساء: 59))
    “اے ایمان والو! اللہ کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرو اور ان حاکموں کی بھی جو تم میں سے ہوں۔”

    ٭....اور امراء و حکام کی “قدری” طریقے سے اطاعت اس وقت کی جاتی ہے، جب وہ اپنے عوام پر غلبہ کی پوری قوت اور طاقت رکھتے ہوں، تو ایسے حالات میں لوگ حاکم کی قوت اور طاقت کی بناء پر اس کا حکم مانتے ہیں، خواہ وہاں ایمانی جذبہ وحمیت کا فقدان ہو، اس لئے کہ امیر یا حاکم کی اطاعت تو جذبۂ ایمانی کے بل بوتے پر ہوتی ہے اور یہی وہ منفعت بخش اطاعت ہے، جو بیک وقت حکام اور عامتہ الناس دونوں کےلئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اور سلطانی (یعنی غلبہ اور) رعب و دبدبے کی بناء پر اطاعت و پیروی کبھی کبھارایسے حالات میں ہوتی ہے جب ملک و ریاست کا سربراہ اتنا مضبوط اور طاقتور ہو کہ لوگ اس سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہوں، اس لئے کہ وہ اپنے حکم کے مخالف شخص کو عبر تناک سزا سے دوچار کرتا ہے....اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: کہ لوگوں کے اس مسئلہ میں اپنے امراء و حکام کے ساتھ کئی ایک احوال ہیں جو درج ذیل ہیں:
    پہلی حالت: کہ عوام الناس کا جذبہ ایمانی اور سلطانی (شاہی) رعب و دبدبہ دونوں طاقتور ہوں اور یہ حالات (رعایا اور حاکم دونوں کے لئے) مکمل ترین، مناسب ترین اور بہترین ہیں۔

    دوسری حالت: بلکہ عوام میں ایمانی جذبہ اور اسی طرح شاہی قوت و سطوت، دونوں کمزور ہوں، اور یہ صورت پہلی حالت کے بالکل برعکس ، معاشرے اور عوام کے لئے انتہائی ناگفتہ بہ اور خطرناک حالات کاباعث ہے اور نہ صرف عوام کے لئے، بلکہ اس خطرے کی لپیٹ میں خود حکام بھی آجائیں گے، اس لئے کہ لوگوں میں ایمانی جذبہ اور غیرت وحمیت کم ہونے کے ساتھ ساتھ جب حکام کا رعب و دبدبہ اور قانونی شکنجہ بھی کمزور پڑجائے گا، تو زمین پر فکری بگاڑ اور اخلاقی و عملی انحطاط شروع ہوجائے گا (اور یہ ایک سلطنت کی ناکامی کی بدترین صورت ہے)

    تیسری حالت: کہ لوگوں میں ایمانی جذبہ اور حمیت و غیرت کمزور ہو اور ادھر شاہی قوت و دبدبہ طاقتور اور سلطانی غلبہ انتہائی مضبوط ہو، تو یہ حالات کے اعتبار سے پہلی دو انتہائی صورتوں کے درمیان کا مرتبہ ہے، کیونکہ جب سلطانی غلبہ قوت اور طاقت میں ہوگا، تو ملک میں ظاہری حالات امت کے لئے سازگار اور اچھے ہوں گے اور اگر بادشاہ یا حاکم وقت کی قوت اور گرفت ڈھیلی اور ماند پڑجائے گی، تو اس وقت امت میں افراتفری اور اس کے برے اعمال کے بارے میں نہ پوچھئے کہ بگاڑ اور فساد کا کیا عالم ہوگا۔

    چوتھی حالت: کہ عوام کا ایمانی جذبہ وحمیت تو مضبوط اور طاقتور ہو، مگر سلطانی (شاہی) رعب اور دبدبہ کمزور اور ماند پڑجائے، تو یہ صورت، تیسری حالت کے بالکل برعکس ہے، ان حالات میں عامۃ الناس کی عام زندگی، ریاست کے وضع کردہ قوانین اور قواعد و ضوابط سے ہٹ کر غیر منظم اور غیر مربط ہوگی اور معاشرے میں امن وامان کے مسائل کھڑے ہوجائیں گے، جیسا کہ اوپر تیسری حالت میں بیان ہوچکا ہے، لیکن انسان اور اس کے پروردگار کے مابین تعلق مضبوط، اکمل اور زیادہ پائیدار ہوگا۔

    دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح(شرح اصول الثلاثة) - URDU MAJLIS FORUM
     
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جزاک اللہ خیرا وبارک اللہ فی عمر و مالک و اولادک
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں