انگریزی کیلنڈر کا ایک اور موا سال گیا

عائشہ نے 'طنزیہ و مزاحیہ کلام' میں ‏دسمبر 17, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    ہر سال کی طرح سوشل میڈیا پر دسمبر اور گئے سال پر اداس شاعری پڑھ پڑھ کر اگر آپ اداس ہونے ہی والے ہیں تو یہ موضوع آپ کے لیے ہے ۔
    یہاں اداس شاعری کے کسی نمونے کو لے کر اس کو اتنا گدگدانا ہے کہ دسمبر ہنس پڑے ۔
    ہر سال اداسی اور یبوست پھیلانے والوں کا ایک پسندیدہ شعر ہے
    کچھ آنسو اور کچھ خوشیاں دے کر ٹال گیا
    جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

    اس کو ہم نے یوں گدگدایا ہے ۔

    کچھ کاجو اور کچھ ریوڑیاں دے کر ٹال گیا
    انگریزی کیلنڈر کا ایک اور موا سال گیا

    خلق خدا کو اداسی سے نکالنے کے نیک کام میں حصہ لے کر ثواب دارین حاصل کریں ۔
     
  2. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,687
    جزاک اللہ خیرا
    بہت هی عمدہ شیئرنگ
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,322
    جزاک اللہ خیرا و بارک اللہ فیک
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,750
    جزاک اللہ خیرا سسٹر
     
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,394
    ایک نمونہ ادھر بھی:
    رات اس نے پوچھا تھا
    تم کو کیسی لگتی ہے
    چاندنی دسمبر کی ؟

    میں نے کہنا چاہا تھا
    دسمبر کی چاندنی کے
    گفتگو کے کیا معنی ؟
    چاہے کوئی منظر ہو
    دشت ہو ، سمندر ہو
    جون ہو ، دسمبر ہو
    چاندنی چاند سے ہوتی ہے
    ستاروں سے نہیں
    ہمیشہ ایک سی ہوتی ہے
    نظاروں سے نہیں
    ہاں مگر دسمبر میں
    سردی اثر کرتی ہے
    ہڈیوں میں اترتی ہے
    جب خشک ہوائیں چلتی ہیں
    تو چھینکیں آنے لگتی ہیں
    گلے میں سوزش ہوتی ہے
    اور ناک بہنے لگتی ہے
    ہفتوں سستی رہتی ہے
    چاند بھی گہنا جاتا ہے
    منظربھی سہما جاتا ہے
    دھڑکنوں ‌کا ہر نغمہ
    منظروں پر بھاری ہو
    پھر بخار کی حدت سے
    یوں لگتا ہے جیسے
    ایک نشہ سا طاری ہو

    لیکن اس کی قربت میں
    کچھ نہیں کہا میں نے
    تکتی رہ گئی مجھ کو
    چاندنی دسمبر کی ! ​
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    کہا تھا یہ دسمبر میں
    ٹماٹر سستے ہو جائیں گے
    دسمبر کتنے گزرے ہیں
    سبزی منڈیوں میں کھپتے
    لوڈڈ ٹرکوں کو تکتے
    نجانے کس دسمبر میں
    ٹماٹر کے بھاؤ گرنے تھے
    ہماری تو دسمبرنے
    بہت امیدیں توڑی ہیں
    بڑے سپنے بکھیرے ہیں
    رکھا ہے کیا دسمبر میں
    ہماری مارکس شیٹ تکتی
    پر نم نگاہوں میں
    ساون کے جو ڈیرے ہیں
    دسمبر ٹیسٹ کے تحفے ہیں
    دسمبر پھر سے آیا ہے
    جو اب بھی پاس نہ ہم ہو پائے
    تو اکیلے ہم نہ روئیں گے
    ہمارا ساتھ دینے کو
    ساون کے بھرے بادل
    برس برس کر روئیں گے
    پھر اتنامینہہ برسے گا
    ممتحن سہہ نہ پائے گا
    بورڈ کا آفس ڈوب جائے گا
    رکھا ہے کیا دسمبر میں
    رویے سرد ہوں تو
    مہینے سارے ٹھنڈے ہیں
    رشتے سارے ٹھنڈے ہیں
    پانی ، گیس ، بجلی کی قلت ہے
    دسمبر تو دسمبر ہے
    دسمبر کا بھروسہ کیا
    آلو بھرا سموسہ کیا
    دسمبر بیت ہی جائے گا

    ابھی بھی سم ٹیکسٹ مسنگ

    ان سب کا شکریہ جنہوں نے یہ نظم(اگر یہ نظم ہے ) دسمبر سے پہلے ہی اتنی بار بھیجی کہ یاد ہو گئی۔
     
  7. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,323
    کہا اس نے سنو بھائن
    دسمبر آن پہنچا ہے
    کہا میں نے چل کام کر
    ہمارے گھر بھی کیلنڈر ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,323
    کس نے کہا تھا نیٹو سپلائی بند کرو
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  9. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,323
    واہ جی واہ
    جوشاندے کے اشتہار میں لگ سکتی ہے آپ کی نظم :00003:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    دسمبر ہم نے خود کچھ نہیں کرنا

    دسمبر اب کے آؤ تو اس شہر تمنا کی خبر لانا
    جہاں بجلی دن میں بارہ بار غائب نہ ہو تی ہو
    جہاں گیس بیس گھنٹے سہی فل پریشر پر ملتی ہو
    سوئی ناردرن اور سدرن کے ساتھ کھاریاں سے بھی سپلائی ٓتی ہو
    دسمبر ہم سے نہ پوچھو ہمارے شہر کی بابت
    آج پھر اس عظیم قائد کے یوم ولادت کی چھٹی ہے جو
    بڑھاپے میں بسترمرگ پر بھی کام کرتا تھا

    دسمبر اب کے آؤ تو اس شہر تمنا کی خبر لانا
    جہاں دو بجے میٹنگ کا مطلب دو بجے ہی ہوتا ہو
    اور ایک کلو ٹماٹر پورے ایک کلو نکلتے ہوں
    دسمبر ہم نے خود کچھ نہیں کرنا
    ہم نے رو رو کر دکھڑا ہی سنانا ہے
    تم نہ سنو تو جنوری کو سنا لیں گے
    دسمبر
    دسمبر اب کے آؤ تو اس شہر تمنا کی خبر لانا
    جہاں قوم ایک ہی ہفتے میں چہلم حضرت حسینؓ ،بڑے دن ،
    قائداعظم کی پیدائش اور اتوار کی چھٹی نہ کرتی ہو
    سی این جی سٹیشن پر گاڑیوں کی لائن ہو تو صرف دو میٹر لمبی ہو
    دسمبر ہم سے نہ پوچھو ہمارے شہر کی بابت
    یہاں چھٹیاں ہی چھٹیاں ہیں
    کل مسلکی دہشت گردوں نے چہلم
    حسینؓ منایا
    سارے شہر کو ان کے ضدی جلوس کے تحفظ کی خاطر کام سے چھٹی تھی
    ہاں بے چاری فوج کو خالی شہر میں مٹرگشت کرنا تھا


    دسمبر ہم سے نہ پوچھو ہمارے حال کی بابت
    یہاں آنکھوں میں گزرے ماضی کی عظمت کی چمک ٹھہری ہے
    سیاست زہر جیسی ہے ، اور پرائیویٹ چینلوں کی کیاریوں میں بیانوں کی فصل اگتی ہے
    ٹماٹر مہنگا ہے وزارت سستی ہے
    مگر پھر بھی
    ہم عظمت رفتہ کی کہانیاں سن کر گہری نیند سوتے ہیں
    سارا دن رومانوی شاعری کی افیون لے کر مست رہتے ہیں
    ساری شام سارے چینلوں کے ڈرامے دیکھتے ہیں ،
    صبح سارے مارننگ شو دیکھنا ہم پہ واجب ہیں
    اور دوپہر میں ڈراموں کی ریپیٹ ٹیلی کاسٹ دیکھنا لنچ کا حصہ ہے
    ہر بریکنگ نیوز پر نظر رکھنا ہماری رضاکارانہ ذمہ داری ہے
    دسمبر
    اب کے آو تو
    اسی حال میں ہم کو پاؤ تو
    حیران مت ہونا
    ہم نے جاگنا ہوتا تو دس سال پہلے جاگ چکے ہوتے
    بدلنا ہوتا تواپریل میں ہی بدل جاتے
    دسمبر کا تو بہانہ ہے
    کسی نہ کسی طرح ہم نے
    کسی نہ کسی کو تو پھنسانا ہے
    دسمبر اب کے آؤ تو
    حیران مت ہونا
    ۔۔۔
    ۔۔۔
    باقی نظم لوڈشیڈنگ کے مارے بجلی ٓنے پر مکمل کریں
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    ذرا سی دیردسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں
    یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں

    مونگ پھلی، چلغوزے،اخروٹ، بادام
    نجانے کتنے مہنگے دام اگلے سال ملیں

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    دسمبری شاعر
    شاعری میں دم نہیں لائکس پہ اتراتا ہے بہت
    ہائے دسمبر وائے دسمبر سالانہ دہراتا ہے بہت
    اداسیوں کے بیج بو کے خود چلا جاتا ہے یہ
    اپنے اداس مداحوں کو یہ رلاتا ہے بہت ​
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں