جدید جدّہ میں کسی کو کوئی کتاب پڑھتے نہیں دیکھا

ابوعکاشہ نے 'طنز و مزاح' میں ‏مارچ 13, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    ۔جدید جدّہ میں میں نے اپنے قیام کے دوران کسی ایک فرد کو.. کہیں بھی.. سمندر کے کنارے پکنک مناتے ہوئے.. کسی ریستوران میں.. کسی شاپنگ مال میں..
    کہیں بھی کسی ایک فرد کو کوئی کتاب پڑھتے نہیں دیکھا.. اخبار پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا..
    یہ قبیہ رواج، پڑھنے پڑھانے کا کہیں نظر نہیں آیا۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔اور جدّہ کے پورے طول و عرض میں کہیں بھی کوئی باقاعدہ قسم کا پارک یا باغ نہیں ہے۔
    پارک میں چونکہ نسان، مرسڈیز، بی ایم ڈبلیو اور فراری وغیرہ میں بیٹھ کر سیر نہیں کی جا سکتی اس لیے پارک کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی۔۔۔۔۔

    اقتباس "منہ ول کعبے شریف" ــــ مستنصر حسین تارڑ


    یہ جُدّہ ایران میں دیکھا ھو گا :00001:
     
  2. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    ان کے سفر نامے اچھے ہیں۔اندلس میں اجنبی میں‌نے پڑھا ہے ان کا لیکن تارڑ صاحب جدید جدہ کی بجائے جدید سیکولر کا شکار ہوگئےاسی وجہ سے رائےقائم کرنے میں‌چک گئے۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    ایسی گپ سے پہلے مصنف کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے تھا ۔ جدہ میں اتنی بڑی لائبریر یز اور بک سٹورز کیسے چل رہےہیں ؟ اگر ایک مسافر کو شہر کے بارے میں درست معلومات نہ ہوں تو کسی سے پوچھ لے ۔ تارڑ صاحب لوگ پتہ نہیں کس دنیا میں رہتے ہیں ۔ اکثر سعودی لائبریریز کی اپنی ویب سائٹس ہیں ،مکمل آن لائن کیٹلاگ موجود ہے جس میں آپ اپنے گھر بیٹھے کتاب سرچ کر سکتے ہیں ، اور طلبہ کے تھیسس اور ڈزرٹیشنز کے ایکسٹریکٹس بھی آن لائن ایکسس کیے جا سکتے ہیں ۔ پچھلے دنوں میں نے مدینہ یونیورسٹی کے ایک نسبتا تازہ تھیسس سے یوں ہی فائدہ اٹھایا ہے اور الحمدللہ یہ پہلی بار نہیں تھی۔
    صرف ایک مثال: کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کی لائبریری کی ویب سائٹ میرے پاس بک مارکڈ ہے اسے دیکھیں کیسی زبردست آنلائن سروسز ہیں :
    عمادة شؤون المكتبات| جامعة الملك عبد العزيز | المملكة العربية السعودية
    صرف یہی نہیں یہ لائبریری ورلڈ ڈیجیٹل لائبریری کی ممبر ہے ۔
    Search Results - World Digital Library

    اس کے علاوہ جدہ میں بڑے بڑے بک سٹورز کی ایک ڈائریکٹری
    Jeddah Directories
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    مستنصر حسین تارڑ بچوں کی زبان کی لکنت ٹھیک کراتے کراتے اپنی بھول بیٹھے ۔ مملکت سعودیہ کی پہلی لائبریری جدہ میں قائم ھوئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,320
    آپ سب نے شائد غور نہیں کیا موصوف کتابیں اور اخبار پڑھنے والوں کو کہاں ڈھونڈ رہے ہیں۔ یعنی پکنک مناتے ہوۓ، ریستوراں میں (حالانکہ ہم نے بہت سے لوگوں کو وہاں بھی اخبار وغیرہ پڑھتے ہوۓ دیکھا ہے) اور کسی شاپنگ مال میں۔

    کچھ عقل مند ہوتے تو کسی لائبریری میں جاتے، کسی مدرسے کا رخ کرتے، کسی آفس کا چکر ہی لگا لیتے تو پھر شائد سعودیوں کے متعلق ان کے خیالات بدل جاتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,322
    بالکل صحیح
    سعودی عرب کی آن لائن لائبریریاں بہت ہیں۔ ہمیں بھی یونیورسٹی والون کی طرف سے فری ایکسیس ہیں چند معروف بلکہ یہاں تکہ کہ ہم لوگ ieee explore سے فری پیپرز ڈاونلوڈ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ Saudi Digital Library یا SDL کا بھی ہمیں ایکسیس ملا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    میں نے یہ سفرنامہ اس لیے پڑھا کہ سفرنامہ حج ہے لیکن افسوس بالکل پسند نہیں آیا، حج کے سفرنامے میں اتنی فضول گوئی ہے کہ انسان سوچتا ہے حج پہ جا کر بھی لوگ ایسا سوچ سکتے ہیں ۔ کہتے ہیں پاکیزہ خیالات کے لیے پاکیزہ ذہن چاہیے ، یہ بات اس سفرنامے کو پڑھتے ہوئے عبرت کی طرح یاد آتی ہے ۔ بظاہر عمر رسیدہ مصنف کا دماغ کباڑئیے کی دکان معلوم ہوتا ہے اور سوچیں اس سے بھی منتشر اور بے ربط ۔ اول فول بکنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا گیا۔ مقام ابرہیم پر اسے سکھوں کا پنجہ صاحب یاد آ جاتا ہے ، تلبیہ پڑھنے کو اس کا دل نہیں کرتا ، کبھی احرام مصنف کو کفن جیسا لگتا ہے، کبھی رومیوں کے لباس ٹوگا جیسا، اس کے بیٹے وضو کو جاتے ہیں تو وہ بضد ہے کہ وضو کی کوئی ضرورت نہیں، ایک طرف اس کو پانچ نمازوں کی پابندی کرنے پر خدشہ ہے کہ اس کا کُب نکل آئے گا،اسی طرح اس کا عرفات میں دعا مانگنے کو دل نہیں کرتا ، دوسری طرف وہ قصوی کی مینگنیوں کی بھی تعظیم کرنا چاہتا ہے ، طواف کے سات چکروں سے اسے موسیقی کے سات سر یاد آجاتے ہیں ،نکلے سفر حج کو ہیں اور ہر دو چار صفحے بعد شکایت کرتے ہیں کہ خواتین نظر نہیں آئیں۔ ۔۔ اس کےعلاوہ ہر مبالغہ آمیزی سے پہلے یہ کہا گیا کہ سنا ہے ، روایت ہے ، بڑی مستند روایت ہے وغیرہ ، اور اس مستند روایت کی کوئی سند بھی ذکر نہیں ۔ اگر اس سفرنامے میں موجود گپوں کو جمع کیا جائے تو ایک انسائیکلو پیڈیا بن سکتا ہے کہ منہ ول کعبہ شریف کر کے لوگ کتنا جھوٹ بول سکتے ہیں ۔ مصنف کا کہنا ہے کہ طائف میں" کہنی والی مسجد " ویران تھی وہاں حکومت کی طرف سے سختی ہے وغیرہ نفل ڈرتے ڈرتے ادا کیے کہ کوئی آ نہ جائے ، حتی کہ یہاں تک گپ ماری کہ وہاں مقدس اوراق جلے ہوئے ملے ، اور ءیہ کہ اس مسجد کو جلا دیا گیا ہے تا کہ اس کا اثر مٹ جائے ۔
    اس گپ کو وہ سچ مانے جس نے طائف دیکھا نہ ہو۔ جسے حضرت کہنی والی مسجد کہہ رہے ہیں وہ مسجد الکوع ہے، جسے عثمانی دور میں بنایا گیا اور اس کے متعلق جلانے کی خبر جھوٹ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسجد کی باقاعدہ دیکھ بھال ہو رہی ہے ، باوجود یہ کہ یہ ویران جگہ پر واقع ہے اور یہاں باقاعدہ نمازی نہیں ہوتے ، اس کے باہر سعودی محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے باقاعدہ تختی لگی ہے کہ یہ مسجد الکوع ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تھے ۔ اس تختی پر یہ بھی درج ہے کہ حال ہی میں اس مسجد کی بحالی کے لیے تعمیراتی کام ہوا ہے ۔
    یہاں دیکھیے :
    پہلا کتبہ جو محکمہ سیاحت اور آثار کی جانب سے ہے :

    [​IMG]
    [​IMG]

    دعوۃ والارشاد کا لگایا ہو ا سائن بورڈ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نماز نہیں پڑھی تھی لہذا اس جگہ سے تبرک جائز نہیں ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ مسجد بہت بعد میں عثمانیوں نے تعمیر کروائی ۔ اگر بقول تارڑ صاحب سعودیوں نے اسے جلوا کر نابود کر دیا ہے تو یہ کتبے یا سائن بورڈ کیوں لگوائے ؟ حد ہوتی ہے گپ لگانے کی ۔
    [​IMG]
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,320
    یہ وہی بات ہے کہ یہ حضرت ادب کے نام پر دینی بے ادبی پھیلا رہے ہیں۔ توبہ توبہ جسے مقام ابراہیم پنجہ صاحب نظر آتا ہے۔ اسے حج سے پہلے اپنے دین کا مطالعہ کرنا چاہیے اور وہان جانے سے پہلے اپنے دل و دماغ کا زنگ دور کرنا چاہیے۔ یہ اس کے دل کا زنگ ہی ہے جس کی وجہ سے اس کا دل تلبیہ پڑھنے کو نہیں چاہتا، خواتین تو وہاں بھی نظر آتی ہیں لیکن میرے خیال میں جس طرح کی خواتین کو وہ دیکھنا چاہتا تھا وہ اسے نظر نہیں آئیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    مقام ابراہیم اور گردوارہ پنجہ صاحب میں اگرتارڑ صاحب کو کوئی مماثلت نظر آتی بھی ہے تو انہیں اتنا معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ گورونانک سے کئی ہزار سال پہلے کا ہے ، جب کہ مقام ابراہیم کی تاریخ بھی گردوارے سے کہیں قدیم ہے ۔ گورونانک ۱۵ ویں صدی کے ہیں ، جبکہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریبا ۶۳۰ ء میں مکہ المکرمہ فتح کیا ۔ اس صورت میں نقالی گرونانک کے پیروکاروں کی ثابت ہوتی ہے ۔ جب کہ یہ بات بھی معروف ہے کہ گرونانک نہ صرف اسلامی تعلیمات سے متاثر تھا بلکہ اس نے ایک حج بھی کیا تھا ۔سورہ اخلاص کا ترجمہ بھی سکھ گرنتھ میں شامل ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں