معین شخص پر لعنت / گروہ پر لعنت ۔۔۔؟!

باذوق نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏اپریل 4, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    درج ذیل آیات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ عام طور پر کسی خاص گروہ پر لعنت بھیجنا جائز ہے ۔

    سورہ اٰل عمرٰن (3) کی آیت 86 اور 87 یوں ہیں :
    اﷲ ان لوگوں کو کیونکر ہدایت فرمائے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے حالانکہ وہ اس امر کی گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آچکی تھیں، اور اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا
    ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اﷲ کی اور فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت پڑتی رہے
    ( اردو ترجمہ : ڈاکٹر طاہر القادری )

    سورہ ھود (11) کی آیت 60 یوں ہے :
    اور اس دنیا میں (بھی) ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن (بھی لگے گی)۔ یاد رکھو کہ (قومِ) عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا تھا۔ خبردار! ہود (علیہ السلام) کی قومِ عاد کے لئے (رحمت سے) دوری ہے
    ( اردو ترجمہ : ڈاکٹر طاہر القادری )

    سورہ الرعد (13) کی آیت 25 یوں ہے :
    اور جو لوگ اﷲ کا عہد اس کے مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان تمام (رشتوں اور حقوق) کو قطع کر دیتے ہیں جن کے جوڑے رکھنے کا اﷲ نے حکم فرمایا ہے اور زمین میں فساد انگیزی کرتے ہیں انہی لوگوں کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے

    ان آیات میں اللہ نے ظالم قوم پر اور منافقین پر لعنت کی ہے ۔

    سورہ اٰل عمرٰن (3) کی آیت 61 یوں ہے :
    پس آپ کے پاس علم آجانے کے بعد جو شخص عیسٰی (علیہ السلام) کے معاملے میں آپ سے جھگڑا کرے تو آپ فرما دیں کہ آجاؤ ہم (مل کر) اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنے آپ کو بھی اور تمہیں بھی (ایک جگہ پر) بلا لیتے ہیں، پھر ہم مباہلہ (یعنی گڑگڑا کر دعا) کرتے ہیں اور جھوٹوں پر اﷲ کی لعنت بھیجتے ہیں

    اور اٰل عمرٰن کی آیت 61 میں جھوٹوں پر لعنت کی گئی ہے ۔

    لیکن ۔۔۔ کسی فاسق کو معین کر کے لعنت کرنا سنتِ نبوی (ص) میں موجود نہیں ہے ۔
    البتہ عام لعنت وارد ہے ۔
    مثلاََ نبی کریم (ص) نے فرمایا :
    چور پر اللہ کی لعنت کہ ایک انڈے پر اپنا ہاتھ کٹوا دیتا ہے ۔ ( بخاری و مسلم
    جو بدعت نکالے یا بدعتی کو پناہ دے ، اس پر اللہ کی لعنت ۔ ( بخاری

    اور بالکل اسی موضوع پر وہ احادیث بھی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ جس نے کسی صحابی کو گالی دی اس پر اللہ کی لعنت ہو ۔
    یعنی احادیث بھی اسی اصول کو واضح کرتی ہیں جو قرآن ظاہر کرتا ہے ۔ یعنی ۔۔۔
    عام طور پر کسی خاص گروہ پر لعنت بھیجنا جائز ہے ۔ لیکن کسی ایک خاص شخص کو معین کر کے لعنت نہیں کی جا سکتی ۔

    اس کی دلیل بھی پڑھ لیجئے ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر شرابیوں پر لعنت بھیجی ہے ۔
    اب صحیح بخاری کی ایک حدیث دیکھئے :

    ایک شخص (عبداللہ حمار) شراب پیتا تھا اور بار بار نبی (ص) کے پاس پکڑا آتا تھا ۔ اسی طرح کئی پھیرے ہو چکے تو ایک شخص نے کہا :
    اس پر اللہ کی لعنت کہ بار بار پکڑ کر دربارِ رسالت میں پیش کیا جاتا ہے ۔
    رسولِ کریم نے یہ سنتے ہی فرمایا :
    اسے لعنت نہ کرو ۔ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول (ص) سے محبت کرتا ہے ۔
    صحیح بخاری ، كتاب الحدود ، باب : ما يكره من لعن شارب الخمر وانه ليس بخارج من الملة ، حدیث : 6867


    کوئی زندہ شخص ظالم ہو تو اس پر لعنت کرنے سے یہ صحیح حدیث روکتی ہے ۔
    اور کوئی مردہ شخص جس کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ وہ ظالم تھا تو ایسے شخص پر بھی لعنت کرنے سے صحیح بخاری ہی کی ایک اور حدیث روکتی ہے ۔ یعنی :
    بخاری کی حدیث میں درج ہے کہ ابوجہل کو لوگ مرنے کے بعد گالیاں دینے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا اور کہا :
    مرنے والوں کو گالی مت دو ۔
    ( صحیح بخاری )
     
  2. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    369
    حضرت عبد اﷲ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    إِنَّ الْمُؤمِنَ لَيْسَ بِاللَّعَّانِ.

    ’’مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔‘‘

    (أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 416، رقم : 3948)

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام پر لعنت بھیجی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    يَا أَبَا بَکْرٍ! اللَّعَّانُوْنَ وَ الصِّدِّيْقُوْنَ کَلَّا وَرَبِّ الْکَعْبَةِ مَرَّتَيْنِ أوْ ثَلَاثًا.

    ’’اے ابو بکر! کیا صدیق اور لعنت کرنے والے بھی، رب کعبہ کی قسم (ایسا) ہرگز نہیں (ہوسکتا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کلمات دو، تین مرتبہ دہرائے۔

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اُسی دن اپنا غلام آزاد کر دیا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا’’ لا اعود‘‘ میں دوبارہ یہ کلمات نہیں کہوں گا۔‘‘

    (بخاری، الأدب المفرد، 1 : 88 - 89، رقم : 319)

     
  3. ام زینب

    ام زینب -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 19, 2008
    پیغامات:
    252
    السلام علیکم

    اگر اس کا مکمل حوالہ صحیح‌ بخاری سے مل جائے تو بہت مشکور ہوں گی ۔

     
  4. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    وعلیکم السلام

    [QH]حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثني ابي، حدثنا الاعمش، قال سمعت ابا صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ لعن الله السارق، يسرق البيضة فتقطع يده، ويسرق الحبل فتقطع يده ‏"‏‏.‏ قال الاعمش كانوا يرون انه بيض الحديد، والحبل كانوا يرون انه منها ما يسوى دراهم‏.[/QH]
    [QH]صحيح البخاري ، كتاب الحدود ، باب لعن السارق اذا لم يسم ، حديث:6870[/QH]

    عربی متن : یہاں
    اردو ترجمہ : یہاں
     
  5. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,940
    مؤمن گالی گلوچ کرنے والا یا لعن طعن کرنے والا نہیں ہوتا ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بھی ایسے کاموں سے اجتناب فرماتے تھے :

    عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا، وَلاَ فَحَّاشًا، وَلاَ لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ المَعْتِبَةِ: «مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ»
    صحیح بخاری کتاب الأدب باب لم یکن النبی صلى اللہ علیہ وسلم فاحشا ولا متفحشا ح 6031

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گوئی کرنے والے اور لعنت کرنے اور گالی گلوچ کرنے والے نہ تھے اور جب کبھی ناراض ہوتے تو صرف اس قدر فرماتے کہ اس کو کیا ہوگیا ہے، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔

    اور پھر فاسق کو معین کرکے لعنت کرنا سنت نبوی ﷺ میں موجود نہیں البتہ عام لعنت وارد ہے۔ مثلاً نبی ﷺ نے فرمایا:

    لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ

    صحیح البخاری، الحدود، باب لعن السارق إذا لم یسم، ح:۶۷۸۳ وصحیح مسلم، الحدود، باب حد السرقۃ ونصابہا، ح:۱۶۸۷

    "چور پر اللہ کی لعنت کہ ایک انڈے پر اپنا ہاتھ کٹوا دیتا ہے۔"

    فرمایا:

    فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ

    صحیح البخاری، الجزیۃ والموادعۃ ، باب إثم من عاھد ثم غدر، ح:۳۱۷۹

    "جو بدعت نکالے یا بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ کی لعنت۔"

    یامثلاً صحیح بخاری میں ہے کہ ایک شخص شراب پیتا تھا اور باربار نبی ﷺ کے پاس پکڑا آتا تھا یہاں تک کہ کئی پھیرے ہوچکے تو ایک شخص نے کہا:

    اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ

    "اس پر اللہ کی لعنت کہ باربار پکڑ کر دربار رسالت میں پیش کیا جاتا ہے۔"

    آنحضرت ﷺ نے سنا تو فرمایا:

    لَا تَلْعَنُوهُ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

    صحیح البخاری، الحدود، باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر۔۔۔، ح: ۶۷۸۰

    حالانکہ آپ نے عام طور پر شرابیوں پر لعنت بھیجی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عام طور پر کسی خاص گروہ پر لعنت بھیجنا جائز ہے مگر اللہ اور رسول ﷺ سے محبت رکھنے والے کسی معین شخص پر لعنت کرنا جائز نہیں اور معلوم ہے کہ ہر مومن اللہ اور رسول سے ضرور محبت رکھتا ہے۔

    اسی طرح فوت شدگان کو لعن طعن کرنے سے بھی نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے :

    لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا

    صحیح البخاری، الجنائز، باب ما ینہی من سب الأموات، ح:۱۳۹۳

    "مردوں کو گالی مت دو کیونکہ وہ اپنے کیے کو پہنچ گئے۔"

    بلکہ جب لوگوں نے ابو جہل جیسے کفار کو گالیاں دینی شروع کیں تو انہیں منع کیا اور فرمایا:

    لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا

    سنن النسائی، القسامۃ، القود من اللطمۃ، ح:۴۷۷۹

    "ہمارے مرے ہوؤں کو گالیاں مت دو کیونکہ اس سے ہمارے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے۔"

    یہ اس لیے کہ قدرتی طور پر ان کے مسلمان رشتہ دار برا مانتے تھے۔ امام احمد بن حنبل سے ان کے بیٹے صالح نے کہا ألا تلعن یزید؟ آپ یزید کو لعنت کیوں نہیں کرتے؟ حضرت امام نے جواب دیا: متیٰ رأیت أباک یلعن أحداً "تو نے اپنے باپ کو کسی پر بھی لعنت کرتے کب دیکھا تھا۔"

    یعنی دین اسلام کسی معین کافر کو بھی گالی گلوچ اور لعن طعن کرنے سے منع کرتا ہے ۔ البتہ مطلقا لعنت کا جواز موجود ہے لیکن وہ بھی صرف جواز ہے ۔ اور اسے عادت بنا لینا ممنوع و ناجائز ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,320
    جزاک اللہ خيرا
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں