السلام علیکم! ذیابطیس دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک ملائی ٹس اور دوسری انسپیڈس۔ لیکن جب ہم عام طور پر شوگر یا ذیابطیس کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے، ملائٹس۔ اس بیماری میں انسان کے جسم میں نشاستہ یا کاربوہائڈریٹ کے توازن میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بیماری میں وراثت بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے اور تقریباََ 50 فیصد افراد میں یہ بیماری موروثی ہوتی ہے۔ ذیابطیس کو ایسی حالت کہا جاتا ہے جس میں جسم غذا سے حاصل ہونے والی چینی اور نشاستہ کو اچھی طرح سے استعمال نہیں کر پاتا اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لبلبہ نشاستہ کو استعمال کرنے والی رطوبت انسولین مناسب مقدار میں نہیں پاتا اور اس کے نتیجے میں خون میں شوگر جمع ہو جاتی ہے اور مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتی ہے۔ علامات: 1۔ مریض کو زیادہ پیاس لگتی ہے اور زیادہ مرتبہ پیشاب آتا ہے۔ مریض کو پیاس زیادہ لگتی ہے لیکن پانی پینے سے اس کی پیاس اچھی طرح بجھ نہیں پاتی۔ 2۔ مریض کا وزن گر جاتا ہے۔ 3۔ عورتوں کے پوشیدہ حصے پر خارش شروع ہو جاتی ہے۔ 4۔ مردوں کے بھی پوشیدہ حصے پر خارش شروع ہو جاتی ہے۔ 5۔ مریض جلدی تھک جاتا ہے اور چڑچڑا ہو جاتا ہے۔ 6۔ مریض کو جسم پر پھوڑے پھنسیاں نکلتی ہیں اور جلد کی انفیکشن جلدی ہو جاتی ہے۔ 7۔ عورتوں میں ماہواری آنا بند ہو جاتی ہے۔ 8۔ بینائی متاثر ہوتی ہے۔ 9۔ پیروں پر زخم بن جاتے ہیں۔ 10۔ ہاتھوں اور پیروں پو سوئیاں چبھنے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ وجوہات: ذیابطیس بچوں اور چھوٹی عمر کے لوگوں میں بڑی عمر کے لوگوں کی نسبت مختلف ہوتی ہے۔ چھوٹی عمر کی شوگر میں انسولین بہت کم بنتی ہے اور ایسی عمر کے مریضوں میں عام طور پر انسولین کے ٹیکے لگانے پڑتے ہیں جبکہ 50 یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں شوگر کی تکلیف میں انسولین کی تھوڑی بہت مقدار بنتی رہتی ہے اور ان مریضوں میں غذا اور ادویات کے ذریعے علاج کیا جا سکتا ہے۔ لبلبہ میں خرابی کی وجہ کا تعین حتمی طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ وراثت اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر دو ذیابطیس کے مریض آپس میں شادی کر لیں تو ان کے بچوں میں چار میں سے ایک بچے کو ذیابطیس لگ جاتی ہے۔ شوگر کے مریض کیلیے ہدایات: 1۔ اپنی زندگی کو اس بیماری کے سائے میں نہ گزاریں۔ مناسب علاج اور احتیاط سے مریض ہر طرح کے کام کر سکتا ہے اور عام زندگی گزار سکتا ہے۔ 2۔ اپنے دوستوں کو اچھی طرح سمجھا دیں کہ آپ ان کے ساتھ خوش خوراکی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح گھر والوں کو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ آپ کو کس قسم کی غذا درکار ہے۔ 3۔ انسولین کے ٹیکوں کے ذریعے زیر علاج مریض کو اس وقت تک بھاری کام اور ڈرائیونگ نہیں کرنی چاہئے جب تک کہ اس نے دو گھنٹے قبل کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ 4۔ اگر آپ کی شوگر اکثر کم ہو جاتی ہے یا آپ میں اس کے کم ہو جانے کا رحجان پایا جاتا ہے تو اپنے ساتھ کوئی کارڈ یا نشانی رکھیں تاکہ بوقت ضرورت دوسروں کو معلوم ہو سکے کہ آپ کو بوقت ضرورت چینی کی تھوڑی مقدار کی ضرورت ہے۔ 5۔ شوگر کے پرانے مریضوں کے پاؤں بہت جلدی خراب ہو سکتے ہیں اور ان پر خطرناک زخم بن سکتے ہیں۔ اس لیے پاؤں اچھی طرح اور باقاعدگی سے صاف رکھیں۔ گرم، صاف جرابیں پہنیں اور نرم جوتے استعمال کریں۔ اگر پیروں پر کوئی زخم نمودار ہو تو فوراََ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ 6۔ غذا کے بارے میں خصوصی ہدایات حاصل کریں اور ان پر عمل کریں۔