جنازوں کے پیچھے چل کر جانا ایمان میں سے ہے​

اُم تیمیہ نے 'نقطۂ نظر' میں ‏جون 4, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابٌ : اتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ مِنَ الْإِيمَانِ​

    جنازوں کے پیچھے چل کر جانا ایمان میں سے ہے​

    (44) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ'' مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَ احْتِسَابًا وَ كَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلِّىَ عَلَيْهَا وَيَفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَإِنَّه، يَرْجِعُ مِنَ الأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ ''

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''جو شخص کسی مسلمان کے جنازے کے پیچھے ایمان کا تقاضا اور ثواب سمجھ کر جاتا ہے اور جب تک کہ اس پر نماز نہ پڑھ لے اور اس کے دفن سے فراغت حاصل نہ کر لے، اس کے ہمراہ رہتا ہے تو وہ دو قیراط ثواب کے لے کر لوٹتا ہے (اوران میں سے) ہر ایک قیراط احد (پہاڑ) کے برابر ہوتا ہے اور جو شخص (صرف) جنازہ پڑھ لے پھرتدفین سے پہلے لوٹ آئے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹتا ہے۔ ''
     
  2. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابٌ : خَوْفُ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ وَهُوَ لاَ يَشْعُرُ​

    مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں اس کی بے خبری میں اس کا عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائے​

    (45) عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّﷺ قَالَ '' سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ''

    سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺنے فرمایا ہے :'' مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔ ''

    (46) عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَرَجَ يُخْبِرُ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلاَحَى رَجُلاَنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ '' إِنِّي خَرَجْتُ لِأُ خْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ وَإِنَّهُ تَلاَحَى فُلاَنٌ وَ فُلاَنٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمُ الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ وَالتِّسْعِ وَالْخَمْسِ ''

    سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ایک مرتبہ لوگوں کو) شب قدر بتانے کے لیے نکلے مگر (اتفاق سے اس وقت) دو مسلمان باہم لڑ رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا :''(اس وقت) میں اس لیے نکلا تھا کہ تمہیں (معین) شب قدر بتا دوں مگر (چونکہ) فلاں اور فلاں باہم لڑ ے اس لیے (اس کی قطعی خبر دنیا سے ) اٹھا لی گئی اور شاید یہی تمہارے حق میں مفید ہو ( اب ) تم شب قدر کو رمضان کی ستائیسویں اور انتیسویں اور پچیسویں (تاریخوں ) میں تلاش کرو ۔
     
  3. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابُ سُؤَالِ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الْإِيمَانِ وَالْإِسْلاَمِ وَالْإِحْسَانِ ...​

    جبرئیل علیہ السلام کا نبی ﷺسے ایمان ،اسلام ، احسان اور علم قیامت کی بابت پوچھنا​

    (47) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ بَارِزًا يَوْمًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا الْإِيمَانُ قَالَ'' الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَبِلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ '' قَالَ مَا الْإِسْلاَمُ قَالَ'' الْإِسْلاَمُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ '' قَالَ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ'' أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ '' قَالَ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ'' مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَسَأُ خْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا وَ إِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الْإِبِلِ الْبُهْمِ فِي الْبُنْيَانِ فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ تَلاَ النَّبِيُّ ﷺ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ } الآيَةَ ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ رُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ '' هَذَا جِبْرِيلُ جَائَ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ ''

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺلوگوں کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک آپ کے سامنے ایک شخص آیا اور اس نے (آپ سے پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ تو آپ ﷺنے فرمایا :'' ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر اور اس کے فرشتوں پراور اس کی کتابوں پر اور (آخرت میں) اللہ سے ملنے پر اور اللہ کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور قیامت کا یقین کرو۔'' (پھر) اس شخص نے کہا کہ اسلام کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا :''اسلام یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کروا ور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز قائم کرو اور فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو ۔(پھر) اس شخص نے کہا کہ احسان کیا چیز ہے؟ تو آپﷺنے فرمایا :'' احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت (اس خشوع و خضوع اور خلوص سے) کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر (یہ حالت ) نہ نصیب ہو کہ تم اس کو دیکھتے ہو تو یہ خیال رہے کہ وہ تو ضرور تمہیں دیکھتا ہے۔ پھر اس شخص نے کہا کہ قیامت کب ہوگی؟ تو اس کے جواب میں آپﷺنے فرمایا کہ جس سے یہ بات پوچھی جارہی ہے وہ خود بھی سائل سے زیادہ اس کونہیں جانتا ،( بلکہ ناواقفی میں دونوں برابر ہیں) اور ہاں میں تم کو اس کی علامتیں بتائے دیتا ہوںکہ(۱) جب لونڈی اپنے سردار کو جنے اور (۲)سیاہ اونٹوں کو چرانے والے اونچی اونچی عمارتیں بنانے لگیں ، تو سمجھ لینا کہ قیامت قریب ہے اور قیامت کا علم تو ان پانچ چیزوں میں سے ہے کہ جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھرنبی ﷺنے ''بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ...... آخر تک'' (لقمان:۳۴) پوری آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد وہ شخص چلا گیا تو آپﷺ نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے) فرمایا :''اس کو میرے پاس واپس لاؤ۔ ''(چنانچہ لوگ اس کے واپس لانے کو گئے ) مگر وہاں کسی کو نہ دیکھا تو آپﷺنے فرمایا :''یہ جبرئیل علیہ السلام تھے، لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دینے آئے تھے ۔''
     
  4. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابُ فَضْلِ مَنِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ​

    اس شخص کی فضیلت (کا بیان ) جو اپنے دین کی خاطر (مشتبہ چیزوں سے) علیحدہ ہو جائے​

    (48) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ ''الْحَلاَلُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلاَ إِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ أَلاَ وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلاَ وَهِيَ الْقَلْبُ ''

    سیدنانعمان بن بشیرکہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺسے سنا کہ آپﷺ فرماتے تھے :''حلال ظاہر ہے اور حرام (بھی) ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں کہ جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔ پس جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچ گیا تو اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا اور جو شخص مشتبہ چیز وں میں ملوث ہوگیا (تو وہ) مثل اس چرواہے کے ہے جو سلطانی چراگاہ کے قریب چراتا ہے عین ممکن ہے کہ وہ (اپنے مویشی) اس میں چھوڑ دے۔(اے لوگو!) آ گاہ رہو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہے ، آ گاہ ہو جاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی زمین میں اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں اور خبردار ہو جاؤ کہ بدن میں ایک ٹکڑا گوشت کا ہے، جب وہ سنور جاتا ہے تو تمام بدن سنور جاتا ہے اور جب وہ بگڑجاتا ہے تو سارا بدن خراب ہو جاتا ہے (خوب) سن لو ! وہ ٹکڑا دل ہے۔
     
  5. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابٌ : أَدَائُ الْخُمُسِ مِنَ الْإِيمَانِ​

    خمس(مال غنیمت کے پانچویں حصہ) کا ادا کرنا ایمان میں سے ہے​

    (49) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِالْقَيْسِ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ ﷺ قَالَ'' مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ '' قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ '' مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ نَدَامَى'' فَقَالُوا يَارَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَائَنَا وَنَدْخُلْ بِهِ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ قَالَ '' أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ '' قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ '' شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلٰـہَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلاَةِ وَإِيتَائُ الزَّكَاةِ وَصِيَامُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّائِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ وَقَالَ احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَائَكُمْ ''

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ (قبیلہ) عبدالقیس کے لوگ جب نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے (ان سے) فرمایا کہ :''یہ کونسی قوم یا (یہ پوچھا کہ ) کونسی جماعت ہے؟ ''وہ بولے کہ (ہم) ربیعہؔ (کے خاندان) سے (ہیں) آپ نے فرمایا:'' قوم یا وفد کا آنا مبارک ہو، تم ذلیل ہو گے نہ شرمسار۔''پھر ان لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم سوا ماہ حرام کے (کسی اور وقت میں) آپ کے پاس نہیں آ سکتے (اس لیے کہ) ہمارے اور آپﷺکے درمیان کفار کا قبیلہ مضر رہتا ہے (ان سے ہمیں اندیشہ ہے ) لہٰذا آپ ہمیں کوئی ٹھوس بات (خلاصۂ احکام) بتا دیجیے کہ ہم اپنے پیچھے والوں کو (بھی) اس کی اطلاع کر دیں اور ہم سب اس (پر عمل کرنے) سے جنت میں داخل ہو جائیں اور ان لوگوں نے آپﷺسے پینے کی چیزوں کی بابت (بھی) پوچھا کہ (کونسی حلال ہیں اور کونسی حرام) تو آپﷺنے انھیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے منع کیا ۔(۱) ان کو حکم دیا صرف اللہ پر ایمان لانے کا (یہ کہہ کر) فرمایا :''تم لوگ جانتے ہو کہ صرف اللہ پر ایمان لانا (کس طرح پر ہوتا) ہے؟'' تو انھوں نے کہاکہ اللہ اور اس کا رسول خوب واقف ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا :'' اس بات کی گواہی دیناکہ اللہ کے سوا کوئی معبود (حقیقی)نہیں اور یہ کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ (ان کو حکم دیا) نماز پڑھنے کا۔ زکوٰۃ دینے کا۔ رمضان کے روزے رکھنے کا اور (حکم دیا) اس بات کا کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ (بیت المال میں) دے دیا کرو اور چار چیزوں (یعنی چارقسم کے برتنوںمیں پانی یا اور کوئی چیز پینے) سے منع کیا ۔ (۱) سبز لاکھی مرتبان سے (۲) کدو کے تونبے سے (۳) کریدے ہوئے لکڑی کے برتن (۴)روغنی برتن سے ا و ر کبھی (سیدنا ابن عباس مزفت کی جگہ) مقیر کہا کرتے تھے اور آپﷺ نے فرمایا:'' ان باتوں کو یاد کر لو اور اپنے پیچھے والوں کو اس کی تبلیغ کر دو ۔ ''
     
  6. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابُ مَا جَائَ اَنَّ الْأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ​

    (حدیث میں) آیا ہے کہ اعمال ( کی قبولیت) نیت پر (موقوف) ہے​

    (50) عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثُ إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَقَد تَقَدَّمَ في أَوَّلِ الْكِتَابِ وَزَادَ هُنَا بَعدَ قَولِه: '' وَإنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ '' وَسَرَدَ بَاقِيَ الْحَدِيْثِ *

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اعمال (کے نتیجے) نیت کے موافق (ہوتے) ہیں اور یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے (حدیث:۱) اور (یہاں) اس میں یہ زیادہ ہے کہ (نبی ﷺنے فرمایا) :'' اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جو وہ نیت کرے ۔ لہٰذا جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو (اللہ کے ہاں) اس کی ہجرت اسی (کام) کے لیے (لکھی جاتی) ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔''
    (51) عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ '' إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ ''
    سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :''جب مرد اپنے اہل و عیال پر ثواب سمجھ کر خرچ کرے تو وہ اس کے حق میں صدقہ (کاحکم رکھتا) ہے۔''
     
  7. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ الدِّينُ النَّصِيحَةُ​

    نبی ﷺکا فرمانا کہ دین خیر خواہی (کا نام) ہے​

    (52) عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَائِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ *

    سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کے اقرار پر بیعت کی۔

    (53) وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ قُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الإِسْلاَمِ فَشَرَطَ عَلَيَّ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا *

    سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا او رکہا کہ آپﷺسے اسلام پر بیعت کرنا چاہتا ہوں ، تو آپﷺنے مجھے اسلام پر قائم رہنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کی شرط عائد کی ۔ پس اسی پر میں نے آپﷺسے بیعت کی ۔
     
  8. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    کتاب العلم

    علم کا بیان

    بَابُ فَضْلِ الْعِلْمِ

    علم کی فضیلت کا بیان​

    (54) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي مَجْلِسٍ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَائَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُحَدِّثُ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ مَا قَالَ فَكَرِهَ مَا قَالَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ لَمْ يَسْمَعْ حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ قَالَ أَيْنَ أُرَاهُ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ قَالَ هَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِذَا ضُـيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ قَالَ كَيْفَ إِضَاعَتُهَا قَالَ إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ *

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک دن) اس حالت میں کہ نبی ﷺ مجلس میں لوگوں سے (کچھ) بیان کر رہے تھے کہ ایک اعرابی آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ قیامت کب (قائم) ہوگی؟ تو رسول اللہ ﷺ (نے کچھ جواب نہ دیا اور اپنی بات) بیان کرتے رہے ۔ اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے اس کا کہنا سن (تو) لیا مگر (چونکہ) اس کی بات آپ کو بری محسوس ہوئی اس لیے آپ نے جواب نہیں دیا اور کچھ لوگوں نے کہا کہ (یہ بات نہیں ہے) بلکہ آپ نے سنا ہی نہیں، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ اپنی بات ختم کر چکے تو فرمایا :’’کہاں ہے‘‘ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد یہ لفظ تھے’’ قیامت کا پوچھنے والا ؟‘‘ تو سائل نے کہا یا رسول اللہ! میں (یہاں) ہوں۔ تو آپ نے فرمایا کہ جس وقت امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرنا (سمجھو قیامت آیا ہی چاہتی ہے) ۔‘‘ اس نے پوچھا کہ امانت کا ضائع کرنا کس طرح ہو گا ؟ فرمایا :’’ جب کام (معاملہ) ناقابل (نااہل) کے سپرد کیا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا ۔ ‘‘
     
  9. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابُ مَنْ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْعِلْمِ

    جو شخص علم (کو بیان کرنے) میں اپنی آواز بلند کرے​

    (55) عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ ﷺ فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلاَةُ وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ وَيْلٌ لِلْـأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا *

    سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک سفر میں، جو ہم نے نبی ﷺ کی رفاقت میں کیا تھا ، نبی ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر آپ ﷺ ہم سے اس حال میں ملے کہ نماز میں ہم نے دیر کردی تھی اور ہم وضو کر رہے تھے تو (جلدی کی وجہ سے) ہم اپنے پیروں پر پانی لگانے لگے (کیونکہ دھونے میں دیر ہوتی) پس آپ ﷺ نے اپنی بلند آواز سے دو مرتبہ یاتین مرتبہ فرمایا :’’ایڑیوں کو آ گ کے (عذاب ) سے خرابی (ہونے والی)ہے (یعنی خشک رہنے کی صورت میں)۔ ‘‘
     
  10. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابُ طَرْحِ الْإِمَامِ الْمَسْأَلَةَ عَلَى أَصْحَابِهِ لِيَخْتَبِرَ مَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ

    امام کا اپنے ساتھیوں کی علمی آزمائش کے لیے سوال کرنا​

    (56) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ حَدِّثُونِي مَا هِيَ قَالَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُاللَّهِ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هِيَ النَّخْلَةُ*

    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ اس کا پت جھڑ نہیں ہوتا اور وہ مسلمان کے مشابہ ہے ، تو تم مجھے بتاؤ کہ وہ کونسا درخت ہے؟‘‘ تو لوگ جنگلی درختوں (کے خیال) میں پڑ گئے ۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے دل میں آ یا کہ وہ کھجورکا درخت ہے، مگر میں (کہتے ہوئے) شرما گیا، با لآخر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!آپ ہی ہمیں بتایے کہ وہ کونسا درخت ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’وہ کھجور کا درخت ہے ۔ ‘‘
     
  11. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابُ طَرْحِ الْإِمَامِ الْمَسْأَلَةَ عَلَى أَصْحَابِهِ لِيَخْتَبِرَ مَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ

    امام کا اپنے ساتھیوں کی علمی آزمائش کے لیے سوال کرنا​

    (56) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ حَدِّثُونِي مَا هِيَ قَالَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُاللَّهِ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هِيَ النَّخْلَةُ*

    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ اس کا پت جھڑ نہیں ہوتا اور وہ مسلمان کے مشابہ ہے ، تو تم مجھے بتاؤ کہ وہ کونسا درخت ہے؟‘‘ تو لوگ جنگلی درختوں (کے خیال) میں پڑ گئے ۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے دل میں آ یا کہ وہ کھجورکا درخت ہے، مگر میں (کہتے ہوئے) شرما گیا، با لآخر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!آپ ہی ہمیں بتایے کہ وہ کونسا درخت ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’وہ کھجور کا درخت ہے ۔ ‘‘
     
  12. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابٌ : الْقِرَائَةُ وَالْعَرْضُ عَلَى الْمُحَدِّثِ

    (حدیث کا خود) پڑھنا اور (پڑھ کر) محدث کو سنانا​

    (57) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَالنَّبِيُّ ﷺ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَقُلْنَا هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ قَدْ أَجَبْتُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ ﷺ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلاَ تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ فَقَالَ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ فَقَالَ أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَ أَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ *

    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، ایک شخص اونٹ پر (سوار) آیا اور اس نے اپنے اونٹ کو مسجد میں (لا کر) بٹھا کر اس کے پاؤں باندھ دیے، پھر اس نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا تم میں سے محمد( ﷺ ) کون ہیں ؟ اور (اس وقت) نبی ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے، تو ہم لوگوں نے کہا یہ مرد صاف رنگ تکیہ لگائے ہوئے (جو بیٹھے ہیں انہی کا نام نامی محمد ﷺ ہے)۔ پھر اس شخص نے آپ سے کہا کہ اے عبدالمطلب کے بیٹے ! نبی ﷺ نے فرمایا :’’(کہہ) میں سن رہا ہوں۔‘‘ اس نے کہا کہ میں آپ سے (کچھ) پوچھنے والا ہوں اور (پوچھنے میں) آپ پر سختی کروں گا تو آپ اپنے دل میں میرے اوپر ناخوش نہ ہونا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو تیری سمجھ میں آئے پوچھ لے۔ وہ بولا کہ میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے پروردگار کی قسم دے کر پوچھتا ہوں (سچ بتایے) کہ کیا اللہ نے آپ کو تمام آدمیوں کی طرف (پیغمبر بناکر) بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم !ہاں (بیشک مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے)۔‘‘ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتایے) کیا دن رات میں پانچ نمازوں کے پڑھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’اللہ کی قسم! ہاں ۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتایے) کیا اس مہینے (یعنی رمضان) کے روزے رکھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’اللہ کی قسم !ہاں ۔ پھر اس نے کہاکہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتایے) کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ یہ صدقہ ہمارے مال داروں سے لیں اور اسے ہمارے مستحقین پر تقسیم کریں؟تو نبی ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ کی قسم !ہاں ۔‘‘ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس (شریعت) پر ایمان لایا ، جو آپ ﷺ لائے ہیں اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کا جو میرے پیچھے ہیں ، بھیجا ہوا (نمائندہ) ہوں اور میں ضمام بن ثعلبہ ( رضی اللہ عنہ ) ہوں (قبیلہ) بنی سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔
     
  13. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الْمُنَاوَلَةِ وَ كِتَابِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْعِلْمِ إِلَى الْبُلْدَانِ

    ’’المناولہ‘‘ کے بارے میں اور اہل علم کا علم یا علم کی باتیں لکھ کر شہر والوں کو دے دینا​

    (58) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ بِكِتَابِهِ رَجُلاً وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ ‘‘

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ایک خط ایک شخص کے ہاتھ بھیجا اور اسے حکم دیا کہ یہ خط بحرین کے حاکم کو دیدے۔ (چنانچہ اس نے دے دیا) اور بحرین کے حاکم نے اس کو کسریٰ (شاہ ایران) تک پہنچا دیا ۔ پھر جب (کسریٰ نے ) اس کو پڑھا تو (اپنی بدبختی سے) ا س کو چاک کر ڈالا ۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) ان لوگوں کو بددعا دی کہ ’’وہ (لوگ بھی) بالکل (اسی طرح) ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں۔‘‘
     
  14. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    (59) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَتَبَ النَّبِيُّ ﷺ كِتَابًا أَوْ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ لاَ يَقْرَئُونَ كِتَابًا إِلاَّ مَخْتُومًا فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ *

    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک خط (شاہ روم یا ایران) کو لکھا یا لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے یہ کہا گیا کہ وہ لوگ بے مہر کا خط نہیں پڑھتے، (یعنی اس کو وقعت نہیں دیتے) ۔چنانچہ آپ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ کندہ تھا۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے) گویا میں (اب بھی) آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں اس کی سفیدی کی طرف دیکھ رہا ہوں ۔
     
  15. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    60) عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَذَهَبَ وَاحِدٌ قَالَ فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاَثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَـآوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ *

    سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن) اس حالت میں کہ رسول ا للہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ آپ ﷺ کے پاس (بغرض استفادہ) بیٹھے ہوئے تھے، تین اشخاص آئے تو (ان میں سے) دو رسول اللہ ﷺ کے سامنے آگئے اور ایک چلا گیا (ابو واقد رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ وہ دونوں (کچھ دیر) رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑے رہے پھر ان میں سے ایک نے حلقہ میں گنجائش دیکھی تو وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا سب کے پیچھے (جہاں مجلس ختم ہوتی تھی) بیٹھ گیا اور تیسرا تو واپس ہی چلا گیا۔ پس جب رسول اللہ ﷺ نے (وعظ سے) فراغت پائی تو (صحابہ رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر) فرمایا :’’ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کی حالت نہ بتاؤں کہ ان میں سے ایک نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور اللہ نے اس کو جگہ دی او ر دوسرا شرمایا تو اللہ نے (بھی) اس سے حیا کی اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ نے (بھی) اس سے اعراض فرمایا ۔‘‘
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا
     
  17. فیضان

    فیضان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2016
    پیغامات:
    34
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں