شاہ فیصل مسجد کا تقدّس

Champion_Pakistani نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اپریل 22, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. Champion_Pakistani

    Champion_Pakistani -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2008
    پیغامات:
    44
    اسلام علیکم
    شاہ فیصل مسجد اسلام کی انوکھی طرز تعمیررومی(موجودہ ملک ترکی) کی نمائیندگی کرتی ہے اور پاکستان میں کئی لوگ اسلام آباد جاتےاسکو بھی دیکھتے ہیں۔ اس کی سیر کرنے والوںپر اسلام کی وہ کوئی پابندی بھی نہیں ہے جو مسجد کی حرمت کے لئے لازم ہے۔ مثلا" کسی بھی لباس میں خواتین اس مسجد میں گپ شپ لگاتی ہیں۔ اس پر مزید طرّہ یہ کہ کافر بھی اس مسجد میں آزاد گھومتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سیاحت کی وزارت کی طرف سے اس مسجد کی سیر سب کیلئے آزاد قرار دی گئی ہے۔ مسجد کے امام کا بس نہیں چلتا یا نوکری کی مجبوری ہے کہ ایک مرتبہ ایک سرکاری دورے پر آئی فرنگی ملازم عورت کو تصویر میں اس مسجد کے امام کے ساتھ باتوں میں مصروف دکھایا گیا تھا جبکہ اس عورت نے جانگھیا پہنا ہوا تھا ۔
    لازمی بات یہ ہے کہ یا تو اس مسجد کو فن تعمیر کا نمونہ قرار دے کربالکل سیرگاہ بنا دیا جائے یا اگر یہ مسجد ہے تو اسکا اسلامی تشخّص برقرار رکھا جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    لیکن میرے خیال میں اسلام میں کسی غیر مسلم کےمسجد میں داخل ہونے پر پابندی نہیں ۔
     
  3. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    چلیں مان بھی لیں کہ پابندی نہیں لیکن ادھ ننگی حالت میں اور مسجد کو سیر و تفریح کیلئے استعمال کیا جائے ۔ مزید یہ کہ امام بھی ٹس سے مس نہ ھو ۔اللہ بچائے ۔
     
  4. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    خیر اتنے بھی ننگے نہیں ہوتے ہوں گے۔ اگر غیر مسلموں کے ننگے پن پہ ہی اعتراض ہے تو ماشاء اللہ مسلمان عورتوں کے لباس کے بارے میں کیا خیال ہے جو وہاں مسجد دیکھنے کے لئے جاتی ہیں۔
    اور لباس بھی ایسا ہوتا ہے جیسے ٹشوپیپر ہو۔
    اور لباس کی بنیاد پر تو آج کل کی اکثر خواتین کا جمعہ کے لئے مساجد میں جانا بھی منع کیا جا سکتا ہے۔ جس قسم کا لباس پہن کر وہ مسجد میں جاتی ہیں۔
     
  5. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    میں بھائ پر واضح کر دوں کہ لیبل لگانے سے کوئ مسلمان نہیں ھو جاتا ۔

    اگر میں غلط نہیں ھوں نبی پاک کی ایک حدیث کا مفہوم ھے کہ جس نے یہود و نصٰرٰی کی نقل کی تو وہ ان میں سے ھے ۔
     
  6. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔۔۔
    نعیم بھائی آپ کا خیال۔۔۔ میں سمجھا نہیں ذرا کھل کا بات کریں۔۔۔ کیونکہ اگر میں کہوں کے آپ کا خیال غلط بھی ہوسکتا ہے تو مجھے یہ ثابت کرنے لئے دلیل کی ضرورت ہوگی۔۔۔ بین اسی طرح اگر آپ کوئی ایسا خیال رکھتے ہیں جس کا تعلق عقائد اور عبادات سے ہو تو دلیل لازمی پیش کرنا ہوگی۔۔۔

    والسلام۔۔۔

     
  7. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    میرے پیارے بھائی میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ اسلام میں کسی غیر مسلم کو مسجد ( ماسوا بیت الحرام کے)۔میں داخلے سے منع نہیں کیا گیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں غیر مسلم وفود مسجد میں ہی ٹھہرتے تھے۔ اس کے علوہ اگر کوئی غیر مسلم آُپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کو آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں مسجد میں تشریف فرما ہوتے ، تو وہ مسجد میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتا تھا۔
    چنانچہ ہم تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی غیر مسلم کو مسجد میں داخلے سے نہیں روک سکتے۔ کہ تم لوگ ہماری مساجد میں نہ آؤ۔
     
  8. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ شخص یہودی یا نصرانی بن جائے گا۔ یا دائرہ اسلام سے نکل جائے گا۔
     
  9. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    تو کیا مطلب ھے ذرا کھل کر بتائیے ۔
     
  10. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    زید بھائی کیا آپ واقعتاً یہ سمجھتے ہیں کہ کفار و مشرکین کے ساتھ دوستیاں لگانے والا شخص یا ان کی نقل کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔

    جہان تک میرا خیال ہے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کا دائرہ اتنا کچا اور اتنا چھوٹا نہیں ہے جو معمولی سی غلطیوں پر کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے باہر کردے۔
     
  11. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    ایک حدیث کا اضافہ

    معمولی سے آپ کی مراد کیا ہے ۔۔۔۔۔۔لوگوں کی اکثریت " ترک صلوٰ ہ " کو معمولی سمجھتی ہے تو کیا اس سے وہ دائرہ اسلام سے نہیں نکلیں گے ۔؟ حالانکہ حدیث میں ہے " من ترک الصلوٰہ متعمداً فقد کفرا۔ "
    اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جو کہ بظاہر معمولی ہوتی ہیں یا سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن وہ دائرہ اسلام سے خارج کردینے والی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً
    لا ترغبو عن آبائکم فمن رغب عن ابیہ فقد کفر‘‘(مشکوٰۃ شریف) جو اپنے باپ سے نسبت توڑتا ہے وہ کفر کرتا ہے۔ دوسری حدیث میں فرمایا۔’’ من ادعی الی غیر ابیہ وھو یعلم فالجنۃ علیہ حرام‘‘ (مشکوۃ شریف) جو اپنی نسبت جانتے بوجھتے غیر باپ کی طرف کرتا ہے اس پر جنت حرام ہے۔۔۔۔
    ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 8, 2008
  12. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    جی بہت شکریہ بھائ میں‌ محمد نعیم کی طرف سے اسی طرح کا جواب توقع کر رھا تھا لیکن ‌بھائ نے کچھ غیر واضح اور بلا ثبوت جواب دیا ۔ اسی لئے میں نے ان سے کہا کہ ذرا کھل کر بتائیں ۔ آپ نے یہ لکھ کر میرا موقف واضح‌ کر دیا ھے ۔ جزاک اللہ خیر ۔
     
  13. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علکیم بھائیو!
    اچھی بات ہے کہ دین کے معاملے میں بحث و مباحثا ہونا چاہیے اگر قرآن و حدیث کا علم ہے تو۔۔۔۔
    ویسے نعیم بھائی کی بات اور آفریدی بھائی کی بات میں تھوڑا سا فرق ہے۔
    نعیم بھائی نے اپنی بات کا جواب دے دیا ہے وہ اور بات ہے کہ زید بھائی کو سمجھ میں نہیں آیا ہو۔
    نعیم بھائی نے ثبوت کے طور پر بتادیا کہ غیر مسلم مسجد میں آسکتا ہے اور یہاں لنڈن میں بھی غیر مسلم مسجد میں آتے ہین اگر وہ آئيں نہیں تو علم کیسے حاصل کریں گے؟ اور مسلمان کیسے ہونگے؟
    اور رہی بات مسجد کے تقدس کی تو مسجد کا تقدس ہر حال میں قائم رکھنا چاہیے وہ مسلم کے لیے ہو یا غیر مسلم کے لیے ، اللہ کے گھروں میں پاکیزگی اور قرآن و شریعت کے دائرے کو مدعوکار رکھتے ہوئے داخل ہونا چاہیے۔
    آج کل تو کوئی بھی پرانی مسجد ہو جہاں سے تاریخ کے دریچے کھلتے ہوں وہاں مسلم اور غیر مسلم ایسے گھومتے ہیں جیسے یہ کوئی تفریحی مقام ہو۔۔۔۔
    اس چيز کا خاص خیال حکومت وقت کی ذمیواری اور امام کا فرض ہے۔
    رہی بات آفریدی بھائی کی تو ان کی بات ٪100 درست ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی باتيں جو ہمیں معمولی لگتی ہیں مگر شریعت کے دائرے میں وہ بہت بڑا مقام رکھتی ہیں جن کے مس یوز کرنے سے ایک مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
    اللہ ہر مسلمان کو قرآن و شریعت پہ عمل کرنے کی اور اللہ کے گھروں کا تقدس قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    آپ سب بھائيوں کا بہت بہت شکریہ
    والسلام علیکم
     
  14. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    نعیم بھائی۔۔۔ معمولی غلطی کرنا۔۔۔ یا معمولی غلطی کا سرزرد ہوجانا۔۔۔ یہ دو الگ الگ قاعدے ہیں۔۔۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو معمولی غلطی سرزد ہوئی وہ جان بوجھ کر انجام دی گئی ہے یا پھر انجانے میں‌ ہوگئی ہے۔۔۔

    میں پھر یہ ہی کہوں گا کہ آپ نے جو خیال پیش کیا اُس کی کوئی دلیل ہے آپ کے پاس ؟؟؟۔۔۔ اسلام کا دائرہ نہ ہی کچا ہے اور نہ ہی چھوٹا۔۔۔ مگر پھر بھی اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے والے ویلنٹائن بھی منارہے ہیں اور نئی سال کا جشن بھی اور عید میلاد کا جشن بھی۔۔۔

    نعیم بھائی مخالفت ہمیشہ وہیں سے شروع ہوگی جہاں نظریہ میں‌ حد سے زیادہ تجاوز پایا جائے گا۔۔۔ اسلام کی اپنی واضع حدود موجود ہیں۔۔۔ جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بیان کی جاچکی ہیں۔۔۔ وہ یہ کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں‌ چھوڑ جارہا ہوں۔۔۔ ایک رب کا قرآن اور دوسرا میری سنت۔۔۔ اب سوال یہاں‌ پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے پاس معمولی سے معمولی غلطی سے بچاؤ کے لئے دلیل موجود ہے۔۔۔ یا موجود نہیں ہے ؟؟؟۔۔۔ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھانے پینے، اُٹھنے بیٹھنے، قضائے حاجت کرنے تک کے بارے میں بیان کردیا ہے تو اس کے بعد وہ کون سی معمولی غلطی ہے جو ایک انسان مسلمان ہو کر انجام دے سکتا ہے ؟؟؟۔۔۔ جس سے بچاؤ کی دلیل ہمارے پاس موجود نہ ہو؟؟؟۔۔۔
    والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
     
  15. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    چھوٹا موٹا اختلاف ھونا ایک تعمیری بات ھے ۔ کیونکہ یہ دو لوگوں کے درمیان علم کے حصول کو فروغ‌ دیتا ھے ۔ جس کے نتیجے میں وہ بہت کچھ سیکھتے ہیں ۔
     
  16. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    میں اسی سلسلے میں اپنی ایک الجھن دور کرنا چاہوں گا۔ امید ہے کہ بھائی میری صحیح رہنمائی کریں گے۔

    ایک شخص نماز( جو کہ اسلام میں فرض عین ہے ‌) کو سستی کی وجہ چھوڑ دیتا ہے ۔ کیا وہ کافر ٹھہرا دیا جائے گا۔
    یعنی کہ دین اسلام سے قطعی طور پر خارج اور دیگر غیر مسلم کفار کی مانند ۔
    (میں اس نقطہ نظر کو بھی ذہن میں رکھتا ہوں کہ دنیا میں کروڑوں مسلمان ایسے ہیں جو اس فرض کو سستی کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں۔ کبھی نماز پڑھ لی اور کبھی نماز نہ پڑھی۔ اور "من ترک الصلوۃ متعمداًفقد کفرت" کی رو سے اگر میں انہیں دیکھوں اور جیسے کہ آفریدی بھائی نے بھی وضاحت کی ہے۔ تو پھر کیا وہ کروڑوں لاپر واہ مسلمان ، وہ قطعی طور پر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟؟؟)
     
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام علیکم !
    اللہ کا فرمان ہے :-
    فَاِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُولِ سورۃ النساء ٥٩
    “پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو ، تو اسے لوٹاؤ اللہ کی طرف اور رسول کی طرف “
    بھائیو! بات کو بلاوجہ طول دینا صحیح نہیں ـ کسی مسئلے پر اگر اختلاف ہو بھی جائے تو اس کو قرآن و سنت کے میزان پر تولو ـ، اور موضوع سے ہٹ کر بھی بات نہیں کرنا چاہیے ـ بات ہو رہی تھی کہ مسجد میں غیر مسلم داخل ہو سکتا ہے کہ نہیں ـ یہ صحیح ہے کہ غیر مسلم وفود مسجد میں آکر ٹہرتے تھے ـ اور آج بھی ضرورت کے تحت کوئی بھی کافر مسجد میں آ سکتا ہے ـ اس بات سے بھی انکار نہیں کہ آج کے غیر مسلم اور زمانہ نبوی کے غیر مسلم میں بھی فرق ہے ـ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ غیر مسلموں کو مسجدوں سے دور ہی رکھیں تو بہتر ہے ـ

    اللہ تعالی فرماتا ہے :-

    يَا اَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّۃً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ اِنَّاُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
    اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

    لاَ اِكْرَاہَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ
    دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے،

    پہلے ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔۔
    سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (مومن) آدمی اور کفر و شرک کے درمیان، نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔ (رواہ مسلم)۔۔۔

    اب دوسری بات جو آپ نے کہی کے سستی کی وجہ سے چُھوڑنا۔۔۔یعنی کسی عذر کی بنیاد پر نماز کو ترک کرنا اور جماعت کے ساتھ نہ ادا کرنا اور جیسا کہ آپ نے کہا بہت سے مسلمان آج کل جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں سستی و کاہلی برتتے ہیں۔۔۔

    کسی شک وشبہ کے بغیر اہل علم کے صحیح ترین اقوال کے مطابق مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنا ہر اس شخص پر واجت ہے جو قادر ہو اور اذان کی آواز سنتا ہو۔۔۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں یہ حکم دوں کہ نماز کی جماعت کھڑی کی جائے پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے پر میں چند لوگوں کو لے کر جن کے ساتھ لکڑیوں کا بنڈل ہو ایسے لوگوں کے پاس جاوں جو نماز کی جماعت میں حاضر نہیں ہوتے پھر میں انہیں ان کے گھر سمیت آگ لگاکر خاکستر کردوں

    (بخاری الاذان باب وجوب صلاۃ الجماعۃ ح 644)

    نیز فرمایا!۔
    سیدنا عبداللہ بن مسعود ص کہتے ہیں کہ ہم خیال کرتے تھے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں) نمازِ باجماعت سے وہی منافق پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق ظاہر ہو یا پھر بیمار آدمی۔ اور بیمار آدمی بھی دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر (آ سکتا) تو آتا اور نماز میں ملتا تھا۔ اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دین اور ہدایت کی باتیں سکھائیں اور انہی ہدایت کی باتوں میں سے ہے کہ ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جس میں اذان ہوتی ہو۔
    (رواہ مسلم)

    موطا امام مالک میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کہ اُس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ‌جس نے نماز کو ترک کیا۔(الطھارۃ، باب العمل فیمن غلبہ الدم من حرض او رعاف ح 45)

    یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ نماز دین کا ستُون ہے اور عبادت میں بلند ترین مقام ومرتبہ رکھتی ہے نماز جہاں رب تعالٰی کے ساتھ سرگوشی اور مناجات کا احسن ذریعہ اور حق بندگی ادا کرنے کا کامل طریقہ ہے وہاں مسلم معاشرے کے لئے اجتماعیت و نظم بندی کا بہترین درس بھی اس لئے محض نماز ادا کرنا نہیں بلکہ باجماعت ادا کرنا فرض و واجب ہے اور اس سے غفلت اور بے پروائی کرنا نفاق کی علامت ہے۔۔۔ کیونکہ نماز شریعت اسلامیہ کی سب سے اہم چیز ہے اور جس نے قصدا نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا۔۔۔ کفر واسلام کے درمیان نماز ہی حد فاصل ہے۔۔۔ اس سلسلے میں آگر آپ چاہیں تو تو ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب (کتاب الصلاۃ وحکم تارکھا) اور شیخ سدلان کی کتاب (صلاح الجماعۃ) اور علامہ شیخ محمد صالح العثیمین کی کتاب (حکم تارک الصلاۃ) کا مراجع و مصادر کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔۔۔

    یہ تمام امور جو اوپر بیان کئے گئے ہیں اس امر کی دلیل ہیں کہ نماز باجماعت ادا کرنا فرض و واجب اور انتہائی اہمیت کا حامل عمل ہے اور اس سے کوتاہی کرنا ایمان وتقٰوی کے منافی لہذا نماز باجماعت سے پیچھے رہنے والے لوگ یقینا خسارے میں ہیں اور بہت بڑے اجروثواب سے محروم ہیں تمام مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اس کی فکر کرنی چاہئے اور اللہ تعالٰی سے دُعا بھی کرنی چاہئے کہ وہ ہم سب کو اس فرض کی ادائیگی اور پابندی کی توفیق عطاء فرمائے۔۔۔

    جہاں تک بات ہے کسی کو نماز چھوڑنے پر کافر کہنے کی تو بھائی آپ کے علم میں ہو گا کہ سوائے امام ابوحنیفہ کے سب آئمہ نے نماز چھوڑنے والے کو کافر کہا ہے ۔ لیکن ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ ہر کسی کو کافر کہتے پھریں ۔

    اسلام دنیا میں بسنے والوں مسلمانوں کی کسی ایک نقطے پر اجتماعیت کا نام ہے بلکہ اسلام نے جن نکات کو بیان کردیا ہے اس پر بغیر چُون چڑاں کے عمل کرنا درحقیت اصل اسلام ہے میری یاکسی اور کی تاویلات کی دین اسلام میں نہ کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی حیثیت ـ اللہ تعالٰی سے دُعا بھی کرنی چاہئے کہ وہ ہم سب کو اس فرض کی ادائیگی اور پابندی کی توفیق عطاء فرمائے۔۔۔
    آمین۔۔۔

    والسلام
     
  18. ابو اعمش

    ابو اعمش محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    113
    تَبْصِرَۃً وَذِكْرَى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ
    (یہ سب) بصیرت اور نصیحت (کاسامان) ہے ہر اس بندے کے لئے جو (اﷲ کی طرف) رجوع کرنے والا ہے۔​
    السلام علیکم۔
    چونکہ گفتگو اپنے موضوع سے ہٹ کر غیر ضروری مباحثے میں‌ داخل ہوگئی ہے اس لئے اس تھریڈ کو مقفل کیا جارہا ہے اور ان شاء اللہ انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی مثبت فیصلے کے بعد اس کو کھول دیا جائے گا۔
    فی امان اللہ۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں