جھنگ کا ذاکر گجرات میں قتل

اہل الحدیث نے 'خبریں' میں ‏نومبر 8, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,052
    فیس بک کی خبر کے مطابق جھنگ کے ایک ذاکر سید طفیل نقوی نے 12 محرم الحرام کو گجرات میں تقریر کے دوران صحابہ پر تبراء کیا جس کی بنا پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔
    تھانے میں پولیس نے جب اس سے تفتیش کی تو اس نے پھر صحابہ کو گالیاں دیں جس پر اے ایس آئی (اسسٹنٹ سب انسپکٹر) نے مشتعل ہو کر کلہاڑی کے وار سے اسے قتل کر ڈالا۔

    [​IMG]

    تصویر کا ربط

    "غیر جانبدار میڈیا" کی ایک خبر

    ربط

    جب کہ شیعہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ ذاکر تھا۔ ملاحظہ فرمائیں:

    Zakir.PNG
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 8, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    گجرات ،تفتیش کے دوران توہین مذہب پر پولیس افسر نے ملزم کو قتل کردیا
    http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=251033
    گجرات ،لاہور(نمائندہ جنگ،ایجنسیاں) گجرات تھانے میں تھانیدار نے کلہاڑیاں مار مار کر کے توہین مذہب کے مبینہ ملزم کو دوران تفتیش قتل کر دیا۔ پولیس نے قاتل اے ایس آئی فراز نوید شاہ کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا۔انچارج تھانہ سول لائن نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ مقتول کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ قاتل سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیاگیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔تفصیلات کے مطابق جھنگ کا رہائشی طفیل حیدر محرم الحرام کے دنوں میں مختلف مقامات پر مجالس کے دوران مجالس کا انعقاد کرنے والوں کے منع کرنے کے باوجودگستاخانہ کلمات ادا کرتا رہا ۔گزشتہ روز محلہ چاہ بڈھے والا میں ایک مجلس کے دوران گستاخانہ کلمات ادا کیے اور مجلس کے منتظمین کی جانب سے منع کرنے پر اس نے دو افراد پر تشدد کر کے انہیں زخمی کر دیاجس پر پولیس تھانہ سول لائن گجرات نے اسے گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی۔دوران تفتیش بھی اس نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کا مظاہرہ کیا اور گالم گلوچ کرتا رہا۔جس پر طیش میں آکر اے ایس آئی فراز نوید شاہ نے قریب پڑی کلہاڑی سے اس کی گردن پر کے وار کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ڈی پی او رائے اعجاز احمد نے ایس ایچ او سول لائن انسپکٹر ملک عامر اور محرر مقصود احمد کو معطل کر دیا ہے۔ ڈی پی او رائے اعجاز احمد نے بتایا کہ ملزم اے ایس آئی کو گرفتا رکر لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقتول ذاکر نہیں تھا۔اے ایف پی اور بی بی سی کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تھانہ سول لائن پولیس نے لڑائی جھگڑے کے الزام میں طفیل حیدر نقوی نامی شخص کو بدھ کی شب حراست میں لیا تھا۔تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او محمد عامر کے مطابق لڑائی جھگڑے کے اس واقعے کی تفتیش اسسٹنٹ سب انسپکٹر فراز نوید کو دے دی گئی اور طفیل حیدر نقوی کو مذکورہ پولیس افسر کی تحویل میں دیا گیا۔ایس ایچ او کے بقول طفیل حیدر کا ذہنی توازن درست نہیں تھا اور وہ ہر کسی کو گالیاں دیتا رہتا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران طفیل حیدر نے گُستاخانہ الفاظ کہے تھے، جس پر تفتیشی پولیس افسر کو غصہ آ گیا اور اس نے کلہاڑی کے وار کر دیئے ۔بی بی سی کے استفسار پر تھانہ سول لائن کے انچارج محمد عامر کا کہنا تھا کہ پولیس اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے کہ اس سے پہلے مقتول طفیل حیدر کے خلاف توہین مذہب کا کوئی مقدمہ تو درج نہیں ہے۔محمد عامر کے مطابق طفیل حیدر کا ذہنی توازن درست نہیں ہے اور وہ کچھ عرصہ دماغی مریضوں کےاسپتال میں زیر علاج رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا مقتول جھنگ سے گجرات دینی تعلیم حاصل کرنے آیا تھا۔مقتول طفیل حیدر کی میت کو سول اسپتال کے مردہ خانے میں رکھ دیا گیا ہے اورتاحال پوسٹ مارٹم نہیں ہو سکا۔سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ محمد واجد کے مطابق چونکہ موت پولیس کی تحویل میں ہوئی ہے اس لیے پوسٹ مارٹم کے لیے میڈیکل بور ڈ تشکیل دیا جائے گا۔دوسری جانب لاہورسے خصوصی نمائندہ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے گجرات کے تھانہ سول لائن میںپولیس تشدد سے نوجوان کے جاںبحق ہونے کے واقعہ کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او گجرات سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحقیقات کر کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں اورقانون کے تحت کارروائی کی جائے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,920
    میرا خیال ہے کہ فیس بک کا ربط نہ دیا جائے ، کیونکہ جب کوئی ادھر جائے گا تو اس میں رافضیوں کی غلاظت پڑھنے کو ملے گی جس پر سوائے خون جلانے کے کچھ نہیں ہوگا ، ان رافضی لوگوں سے بحث نہ کی جائے کیونکہ انکے ہاں دینی ماحول ہوتا نہیں ، انکے بڑے انکو گالی دینے اور سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں ۔ اس لیے ان سے مکمل طور دور رہنا چاہیئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    بہتر ہے کہ شیعہ واویلا کرنے کی بجائے غور کریں کہ ان کی مجلسوں میں ایسے لوگوں کو مولا کا ملنگ کہہ کر کھلی چھوٹ کیوں دی جاتی ہے؟ ایک اخبار نے بھی یہی لکھ کر بات کی سنگینی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
    http://www.dawn.com/news/1142680
    اگر اس کا ذہنی توازن خراب تھا تو اسے مجلس پڑھنے کی ہوش کیسے تھی؟ جو لوگ کسی شیعہ علاقے کے قریب رہے ہوں وہ جانتے ہیں کہ اس طرح کے گندے شیطانی ملنگوں کی باقاعدہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، ان کو داد ملتی ہے اور کوئی ان کی بکواس پر ردعمل کا اظہار کرے تو ذہنی توازن والی بات کا سہارا لے لیا جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    فیس بک لنک اس لیے دیا کہ خود شیعہ اس کو ذاکر مان رہے ہیں جو مجلس پڑھنے آیا تھا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں