اصلی اہل سنت کون ؟؟

ابوعکاشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏نومبر 30, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    قوام السنہ امام ابو القاسم الاصبہا نی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

    ہم آپ کی سنت کو صحیح احادیث کے ذریعے پہچان پاتے ہیں ، اہل ِحدیث سب سے بڑھ کر صحیح احادیث کو تلاش کرتے ، ان میں دلچسپی رکھتے اور ان کی پیروی کرتے ہیں ۔

    چنانچہ قرآن و سنت سے ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ اہل ِ حدیث ہی اہل ِ سنت ہیں ، کیونکہ کسی بھی پیشے کی طرف نسبت کرنے والا اس وقت اپنے دعوے میں جھوٹا ہو گا ، جب اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو گی اور ہر کاریگر اپنے پیشے سے متعلق آلے کے ذریعے اپنے پیشے کو ثابت کرتا ہے۔

    مثال کے طور پر جب آپ کسی شخص کو دیکھیں کہ وہ اپنی دکان کا دروازہ کھولے ہوئے ہو ، اس کے سامنے لوہے والی بھٹی اور ہتھوڑ ا وغیرہ پڑا ہو تو آپ فوراَ پہچان لیں گے کہ وہ لوہار ہے ، اسی طرح جب کوئی اپنے سامنے سوئی اور قینچی وغیر ہ رکھے ہوئے ہو تو پہچان لیں گے کہ وہ درزی ہے ، یہی حال باقی پیشوں کا ہے ،اس کے برعکس اگر کوئی کھجوریںبیچنے والا خوشبو فروش کو کہے کہ میں بھی خوشبو فروش ہوں ، تو وہ کہے گا کہ تو جھوٹا ہے ، نیز ہر دیکھنے و الا آدمی اس کی تائید کرے گا۔

    ہم نے اصحاب الحدیث کو دیکھا ہے کہ وہ احادیث ِ نبویہ کی تلاش میں نکلے ، معتبر مصادر سے ان کو لے کر ان کو جمع اور حفظ کیا ، ان کی پیروی کی دعوت دی اور ان کے مخالفین پر تنقید کی ، ان کے پاس احادیث کا ذ خیرہ تھا ، لہٰذا جس طرح بزاز (کپڑا فروش )اپنے کپڑے ، کھجور فروش اپنی کھجوروں اور عطر فروش اپنے عطر کی نسبت سے مشہور ہو جاتے ہیں ، اسی طرح یہ ان احادیث کے ساتھ مشہور (ہو کر اہل ِ حدیث معروف)ہو گئے ،جبکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ احادیث ِ صحیحہ کی معرفت اور اتباع سے روگردانی اختیار کیے ہوئے ہیں ، احادیث ِ صحیحہ میں بے تکے اعتراضات کرتے ہیں ، لوگوں کو ان کی تدوین و اشاعت سے روکتے ہیں ، نیز احادیث اور اہل ِ حدیثوں کے لیے نازیبامثالیں بیان کرتے ہیں ۔

    ان دلائل سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ جو احادیث ِ صحیحہ کو جمع کرنے ، یاد کرنے اور ان کی اتباع کرنے کے شائقین ہیں ، وہی اہل ِ سنت کہلانے کے زیادہ مستحق ہیں ، کیونکہ علماء کے ہاں سنت کا اتباع صحیح سند والی احادیث ِ نبویہ کو لے کر آپ کے احکام پر عمل اور نواہی سے اجتناب کا نام ہے ۔

    یہ واضح دلیل ہے کہ آراء و اہواء کے متبعین کی بجائے یہی لوگ اہل ِ سنت نام کے مستحق ہیں ۔

    اگر کوئی یہ کہے کہ بات تو ایسے ہی ہے، لیکن ہر فرقہ اپنے کی تائید کے لیے دلائل ِ حدیثیہ پیش کرتا ہے ، تو اسے ہمارا یہی جواب ہو گا کہ جو صحیح حدیث کے مقابلے میں ضعیف ، متصل کے مقابلے میں مرسل یا مرفوع کے مقابلے میں موقوف سے حجت پکڑتا ہے ، وہ اہل ِ حدیث کے برابر نہیں ہو سکتا ۔جو فرمان ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتا ہے ، وہ قطعی دلیل کا متبع ہے اورجو قوی و صحیح حدیث سے حجت لیتا ہے ، وہ کمزور و ضعیف روایت سے حجت لینے والے سے بدرجہا بہتر ہے ۔

    یو ں معلو م ہوا کہ صاحب ِ سنت صرف قوی و صحیح حدیث کی پیروی کرتا ہے ، جبکہ صاحب الرائے صرف اس حدیث کی پیروی کرتا ہے جو دل کو بھاتی ہے ۔[الحجۃ فی بیان المحجۃ وشرح عقیدۃ أہل السنۃ:۲؍۲۱۳]۔




    حافظ ابو یحییٰ نورپوری​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,320
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں