کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے پیارے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کا چہلم منایا تھا؟

عائشہ نے 'ماہِ صفر' میں ‏دسمبر 13, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    جی بالکل جیسے کسی مقروض شخص کے لئے قرضے میں نرمی کی درخواست کرنا اور براہ راست اس کا قرضہ ادا کرنا دو مختلف اعمال ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  2. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    میرے اسلامی بھائیو۔۔۔۔۔ایک ہی وقت میں اتنے سارے جوابات کو زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔ لیکن آپ لوگ اطمینان رکھیں انشااللہ سب کو جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حیات ظاھری سے لے کر قرون میں آج تک ایصال ثواب یعنی اپنے اعمال حسنہ کا ثواب مسلمانوں کی روح کو پہنچانا جاری و ساری ہے اور انشااللہ تاقیام جاری وساری رہے گا۔ ایصال ثواب کے جواز پر کئی قرآنی آیات اور بے شمار احادیث بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں جن میں سے کچھہ اس بحث میں پیش ہو چکی ہیں اور مزید آگے پیش ہوں گی۔ انشااللہ۔

    ایصال ثواب کسی بھی طرح بدعت نہیں ہے۔ بزرگان دین نے تو بہت پہلے ایصال ثواب کے بے شمار دلائل قرآن و حدیث سے تحریر کر دیئے ہیں۔ اگر کوئی پھر بھی انکار کرے تو اسے قرآن و حدیث سے ہی دلائل دے کر اپنا مؤقف ثابت بھی کرنا چاھیئے۔ کم سے کم ایک یا دو ایسی قرآنی آیات یا کوئی ایسی حدیث جس میں ایصال ثواب کی ممانعت ثابت ہوتی ہو۔


    مسلمانوں کی اکثریت کا مذھب یہ ہے کہ کوئی بھی زندہ مسلمان اپنے کسی بھی نیک عمل کا ثواب کسی بھی فوت شدہ مسلمان کو پہنچا سکتا ہے۔
    بدقسمتی سے آج کل کچھہ مسلمانوں نے ایصال ثواب کا انکار کرنا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ وہ قرآن و حدیث پر ایمان رکھنے کے مدعی ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ وہ قرآن و حدیث پر ایمان رکھنے کے دعویدار ہو کر ایصال ثواب اور اس کے مفید و نافع ہونے کے منکر ہیں۔ ایک طرف قرآن و حدیث پر ایمان و عمل کا دعوی اور دوسری طرف ایصال ثواب کا انکار۔۔۔۔۔!!!

    اس حدیث پر غور وفکر کریں:

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے جنت میں اپنے نیک بندے کا درجہ بلند فرمایا۔
    " فیقول یا رب انی لی ھذاہ ؟ فیقول باستغفار ولدک لک "
    ترجمہ: تو وہ عرض کرتا ہے اے میرے رب میرا درجہ کیونکر بلند ھوا۔؟
    ارشاد ہوا کہ تیرا بیٹا جو تیرے لیئے دعائے بخشش مانگتا ہے اسکے سبب سے۔

    (مشکواہ شریف ص 206 باب الاستغفار والتوبہ)

    محترم اسلامی بھائیو۔۔۔۔ زندہ مسلمان کی دعائوں میں بھی اتنا اثر ہوتا ہے کہ فوت شدہ کو فائیدہ پہنچ جاتا ہے۔
    بیشک زندہ انسان کے صدقہ کرنے سے بھی فوت شدہ مسلمان کو فائیدہ پہنچتا ہے۔ مختلف احادیث سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ زندہ مسلمان اپنا حج ، اپنی نمازیں بھی دوسرے مسلمان کو بخش سکتے ہیں۔

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیئے نماز پڑھنا۔۔۔۔!!!
    حضرت صالح بن درہم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حج کے واسطے مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ملے اور فرمایا تمہارے شہر بصرہ کے قریب ایک بستی ہے جس کا نام ابلہ ہے۔ اس میں ایک مسجد عشار ہے۔ لہذا تم میں سے کون میرے ساتھہ وعدہ کرتا ہے کہ اس مسجد میں میرے لیئے دو یا چار رکعتیں پڑھے۔۔؟
    " وہ یقول ھذہ لابی ہریرہ "
    اور کہے کہ یہ رکعتیں ابوہریرہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کے واسطے ہیں۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور اکرم ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالی عشار سے شہداء کو اٹھائے گا جو شہدائے بدر کے ساتھہ ہوں گے۔

    (مشکواہ شریف ص 468 باب الملاحم )

    میرے اسلامی بھائیو۔۔۔ اس حدیث شریف پر بھی غور فرمائیے کہ حضور اکرم ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی فرما رہے ہیں کہ میرے لیئے نماز پڑھنا اور یوں کہنا "ھذہ لابی ھریرہ " کہ یہ نماز ابو ہریرہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کے لیئے ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ عبادت بدنی کا ثواب بھی دوسرے شخص کو پہنچایا جا سکتا ہے خواہ زندہ ہو یا مردہ۔

    یہ بھی یاد رہے کہ نماز ایک خاص عبادت ہے جو صرف اللہ تعالی کے لیئے ہے اس کے متعلق بھی یہ فرمایا کہ یوں کہنا کہ یہ ابو ہریرہ کے لیئے ہے۔ یہاں معلوم ہوا کہ جس عبادت کا ثواب جس مسلمان کو پہنچانا ہو اس کا نام لینا بھی ضروری ہے۔ یعنی یوں کہے کہ یہ فلاں کے لیئے ہے تو جائز ہے اور حدیث سے ثابت ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ مقامات جو فضیلت و شرف رکھتے ہوں وہاں عبادت و نیکی کرنا بہت ہی باعث فضیلت اور موجب اجر و ثواب ہے۔

    اس حدیث پر پھر سے غور و فکر کریں:

    حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کی غیر موجودگی میں ان کی والدہ فوت ہو گئیں تو انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا ؛ یا رسول اللہ (ﷺ) میری والدہ کا انتقال ہوگیا اور میں ان کے پاس موجود نہیں تھا ، اگر میں ان کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کروں تو کیا انہیں اس کا فائیدہ ہوگا۔
    تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”ہاں“

    حضرت سعد نے عرض کیا ” میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔“
    (بخاری شریف کتاب الوصایا ، ترمذی ابواب الزکواہ ، سنن نسائی کتاب الوصایا)

    صحیح بخاری کی اس حدیث سے عبادات مالی کو ایصال ثواب کرنا ثابت ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مشکواہ شریف اور ابوداؤد میں بھی یہی واقع کچھہ اس طرح موجود ہے۔

    حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حاضر ہو کر عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے۔
    فائ الصدقتہ افضل قال الماء فحفر بئرا وقال ھذہ لام سعد
    تو کونسا صدقہ افضل ہے (جو ماں کے لیئے کروں) فرمایا: پانی۔ تو حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ سعد کی ماں کے لیئے ہے۔

    میرے اسلامی بھائیو۔۔۔۔ غور فرمایئے۔۔۔حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ جیسے جلیل القدر صحابی فرما رہے ہیں "ھذہ لام سعد" (مشکواہ شریف ، ابوداؤد ) کہ یہ کنواں سعد کی ماں کیلیئے ہے۔ یعنی انکی روح کو ثواب پہنچانے کے لیئے ہے۔ اس سے نہایت واضح طور پر ثابت ہوا کہ جسکی روح کو ثواب پہنچانے کی غرض سے کوئی صدقہ و خیرات کیا جائے تو اس صدقہ و خیرات اور نیاز وغیرہ پر مجازی طور اس مسلمان کا نام لیا جا سکتا ہے۔ یعنی یوں کہا جائے کہ یہ سبیل حضرت امام حسین اور شہداء کربلا رضی اللہ تعالی عنہ کیلیئے ہے ، یا یہ کھانا یہ نیاز صحابہ کرام یا اہل بیت اطہار ، یا غوث اعظم ، یا خواجہ غریب نواز کیلیئے ہے ، تو ہر گز ہرگز اس سبیل کا پانی اور وہ کھانا وغیرہ حرام نہ ہوگا۔ ورنہ پھر یہ کہنا پڑیگا کہ اس کنویں کا پانی حرام تھا۔۔۔!!! حالانکہ اس کنویں کا پانی نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعد میں تابعین ، تبع تابعین اور اہل مدینہ نے پیا۔ کیا کوئی مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ ان سب مقدس حضرات نے (نعوذبااللہ)حرام پانی پیا تھا؟
    معاذاللہ کوئی مسلمان ہر گز ایسا نہیں سکتا۔
    نوٹ اس پوسٹ سے غیر متعلق باتیں حذف کر دی گئ ہیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 12, 2016
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    اوپر جسطرح احادیث میں آپ نے ان چیزوں کو ثابت کیا ہے قرآن خوانی، رسم قل اور دیگر نئے ایصال ثواب کے طریقے بھی ثابت کرلیں تو بات ہی ختم !
    سادہ سی بات ہے کہ کسی صحابی نے قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور دیگر رسوم کو نہیں اپنایا کیوں کہ اس کا دین میں تصور ہی نہیں۔
    میرے خیال میں الگ تھریڈ میں بحث ہونی چاہیے یہاں پر موضوع سے باہر بات جارہی ہے !
     
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    ممتاز قریشی صاحب اسے آپ کی غلط بیانی کہیں یا ہٹ دھرمی؟ ہم نے آپ سے کہا کہ کوئ ایک مثال کسی صحیح حدیث سے دسویں، سوئم ، چالیسویں کے دے دیں لیکن اتنے کاپی پیسٹ کرنے کے بعد بھی آپ کوئ ایک مثال نہ دے سکے۔

    ہم نے اب تک آپ کو صرف قرآن و حدیث کے دلائل دیے ہیں اور یہ آپ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے بھی قرآن و حدیث کے دلائل ہی دیے ہیں لیکن ہم نے آپ پر دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ ان آیات اور احادیث سے آپ کا استدلال باطل ہے۔

    جہاں تک بدعت کا سوال ہے تو جناب کوئ ایک صحیح روایت کسی صحابی سے ثابت کردیجے کہ انہوں نے آج کے بدعتیوں کی طرح قرآن پڑھ کر یا کھانا آگے رکھ کر اس پر قرآن پڑھ کر اس کا ثواب کسی کو بخشا ہو۔

    جہاں تک ممانعت کی بات ہے تو اس کے لیے یہ حدیث ہی کافی ہے۔

    خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ

    اور جہاں تک ممانعت ثابت کرنے کی بات ہے تو جناب ثبوت "وجود" کا دیا جاتا ہے "عدم" کا نہیں۔ تو جب اس زمانے میں اس بدعت کا وجود ہی نہیں تھا تو اس کی ممانعت کے ثبوت کی طلب ہی غلط ہے۔ اور اگر پھر بھی آپ اصرار کرتے ہیں تو ہمارا آپ سے دوبارہ سوال ہے کہ آپ فجر کی نماز میں چار فرض کے ممانعت کسی صحیح حدیث سے ثابت کردیں۔ یا سال میں دو مرتبہ حج کی ممانعت ثابت کردیں۔

    عجیب بات ہے کہ آپ اکثریت کی بات کرتے ہیں۔ اور ہم آپ قرآن و حدیث کی دلیل مانگ رہے ہیں۔ اور جن اعمال کا ثواب مرنے والے کو پہنچ سکتا ہے ان کے بارے میں نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بتا دیا ہے۔ اور جو آپ نے نہیں بتایا وہ دین کا حصہ نہیں بن سکتا۔

    افسوس ہے آپ کی دین کی سمجھ پر۔ یہاں مرنے والے کے لیے دعا کا ذکر ہے ۔ ایصال ثواب کا نہیں۔ اور مغفرت کی دعا کرنا قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

    بات پھر وہی ہے۔ یہاں ایصال ثواب کا ذکر نہیں بلکہ میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا ہے۔ اگر قرآن پڑھ کے اس کا ثواب ایصال کرنا کوئ اچھا عمل ہوتا تو آپ اس کے ساتھ یہ بھی فرما دیتے کہ قرآن پڑھ کر اس کا ثواب اپنی ماں کو ایصال کر دیا کرو۔



    مجھے بہت افسوس ہے کہ آپ ہر بات بغیر تصدیق کے کاپی پیسٹ کر دیتے ہیں۔ اور آپ بھی کیا کریں کہ آپ کو صرف اندھی تقلید ہی سکھائ گئ ہے تحقیق نہیں۔ اس لیے آپ کو یہ معلوم نہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ اور اسے ضعیف کہنے والے آج کے اہل حدیث نہیں بلکہ امام بخاری اور دار قطنی اور دوسرے محدثین ہیں۔۔ لیجیے اس کی تحقیق پیش کردیتا ہوں۔ ترجمہ اپنے اس اہل علم سے کروا کر یہاں پیش کردیجیے گا جس آپ رجوع کرتے ہیں۔


    نطلقنا حاجِّين فإذا رجلٌ فقال لنا إلى جنبِكم قريةٌ – يقالُ لها الأُبُلَّةُ -؟ قلنا نعم قالمَنيضمنُليمنكمأنيصلِّيَفي مسجدِ العشارِركعتينِأو أربعًا ويقالُ هذه لأبيهريرةَ؟سمعت خليلِي أبا القاسمِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَأناللهَ عزَّ وجلَّ يبعثُمنمسجدِ العَشَّارِ يومَ القيامةِ شهداءَ لا يقومُ مع شهداءِ بدرٍ غيرُهم

    الراوي:- المحدث:محمد المناوي المصدر:تخريج أحاديث المصابيح الجزء أو الصفحة:4/487 حكم المحدث:[فيه] إبراهيم بن صالح بن درهم [قال البخاري] لا يتابع عليه [وقال] الدارقطني ضعيف

    عن صالحِ بن درهمٍ يقول : انطلقنا حاجّين ؛ فإذا رجلٌ، فقال لنا : إلى جنبكم قريةٌ - يقال لها الأبلَةُ - ؟ قلنا : نعم، قال : من يضمن لي منكم أن يصلي في مسجدِ العشَّارِ ركعتين أو أربعا ؛ ويقول : هذا لأبي هريرة ؟ ! سمعتُ خليلي أبا القاسمِ - صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ - يقول : إنَّ اللهَ - تعالى - يُبعث من مسجد العشَّارِ يومُ القيامة شهداءُ، لا يقوم مع شهداء بدرٍ غيرُهم

    . الراوي:أبو هريرة المحدث:الألباني المصدر:تخريج مشكاة المصابيح الجزء أو الصفحة:5361 حكم المحدث:إسناده ضعيف


    آخر میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ادھر ادھر سے کاپی پیسٹ کرنے کے بجاۓ۔ اپنی توجہ، سوئم، دسواں، چالیسواں منانے اور اسی مناسبت سے قرآن پڑھ کر اس کا ثواب مردے کو ارسال کرنے پر رکھیں۔
    آپ نے جتنی بھی روایات پیش کی ہیں ان میں سے کسی ایک سے بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 2
  5. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    محترم ممتاز قریشی صاحب.!
    آپ نے صدقہ اور دعا وغیرہ پر دلائل فراہم کیئے لیکن سوئم، پانچواں،ساتواں یا چالیسواں اور برسی وغیرہ پر نہ کوئی حدیث پیش کی نہ آثار صحابہ نہ ہی ان کے بعد کے ادوار میں سے کسی کا عمل،اگر ہے تو پیش کریں اگر آپ کے پاس ایسی کوئی حدیث نہیں ہے تو یہاں پر بات بے مقصد طول پکڑ رہی ہے.
    لہذا اس تھریڈ کو مقفل کر دیا جائے گا.



    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 13, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 2
  6. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم اسلامی بھائیو۔۔۔ میں نے اس بحث کے شروع میں ہی اس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ گیارھویں شریف ، ختم شریف ، قل ، دسواں ، چایسواں یا عرس وغیرہ سب ایصال ثواب کے مختلف طریقے ہیں ۔
    ہمیں سب سے پہلے ایصال ثواب کی حیثیت قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    ہمیں بحیثیت مسلمان یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ ایک مسلمان کے نیک اعمال کسی دوسرے مسلمان کو فائیدہ پہنچا سکتے ہیں یا نہیں۔۔۔۔؟؟
    قرآن پاک اس بارے میں کیا کہتا ہے۔۔۔۔؟؟
    احادیث اس بارے میں کیا کہتی ہیں۔۔۔۔؟؟

    جب قرآن و حدیث سے اس بات کی تائید یا رد ثابت ہوجائے تو ہی ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ گیارھویں شریف ، ختم شریف ، قل ، دسواں ، چایسواں یا عرس وغیرہ عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یا نہیں۔
    اس بحث میں کوئی ضد یا انا کی بات نہیں ہے۔ ہم یہاں قرآن و حدیث سے ہی اس مسئلے کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    آپ لوگ ایصال ثواب کا انکار کر رہے ہو۔۔۔۔!!
    ایک ایسی بات کا انکار جس کی تائید میں قرآن پاک میں ہی کافی آیات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ صحاح ستہ میں بھی بیشمار احادیث سے ایصال ثواب ثابت ہے۔

    اس مرحلے پر آپ سب دوستوں سے صرف ایک سوال
    ایک مسلمان کے نیک اعمال (مالی یا بدنی) کسی دوسرے مسلمان ( زندہ یا فوت شدہ) کو فائیدہ پہنچا سکتے ہیں یا نہیں۔۔۔۔؟؟
    ایصال ثواب کی حیثیت متعین ہونے کہ بعد میں گیارھویں شریف ، ختم شریف ، قل ، دسواں ، چایسواں یا عرس وغیرہ کی تائید میں مزید دلائل بھی پیش کروں گا۔ انشااللہ۔
     
  7. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    وعلیکم السلام جی اسلامی بھائی.!

    پہلی بات یہ کے آپ نے ایک سوال کیا (اس مرحلے پر آپ سب دوستوں سے صرف ایک سوال
    ایک مسلمان کے نیک اعمال (مالی یا بدنی) کسی دوسرے مسلمان ( زندہ یا فوت شدہ) کو فائیدہ پہنچا سکتے ہیں یا نہیں))
    جواب سیدھا سادا ہے کہ مرنے کے بعد جن چیزوں کا فائدہ مرنے والے کو پہنچ سکتا ہے وہ سب صحیح احادیث میں بیان کر دیا گيا ہے۔
    اور ان میں قران خوانی، کھانے پر فاتحہ پڑھ کر پھونک مارنا اور اس کا ثواب ایصال کرنا اور دسواں ، سوئم اور گیارھویں منانا شامل نہیں ہے۔
    اگلی بات یہ کہ جو دلائل بابر بھائی نے دیے ہیں ان کا ایک ایک کرکے جواب دیں۔ پھر اس کے بعد کچھ کہیں۔ شکریہ
    اور اگر آپ جواب کی بجائے سوال اور احادیث کی غلط تاویلات جو اس صدی کی پیدا شدہ ہیں جن پر کسی محدث یا اسلاف سے کچھ بھی منقول نہیں ہے، پیش کرتے رہے تو کوئی فائدہ نہیں چار و ناچار یہ تھریڈ مقفل کرنا پڑے گا.
    بارک اللہ فیک امید کی جاتی ہے کہ آپ درست دلائل اور احادیث کی درست تفسیر کے ساتھ حاضر ہوں گے.

    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
    • متفق متفق x 3
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    ایصالِ ثواب کے متعلق علامہ تمنا عمادی ؒکی کتاب ”مذاکرہ“ اور علامہ حبیب الرحمٰن کاندھلوی ؒکی کتاب ”ایصالِ ثواب قرآن کی نظر میں “ کا مطالعہ نہایت مفید رہے گا ۔ بعض حضرات کو ان شخصیات سے شدید اختلاف ہو سکتا ہے مگر چونکہ میں شخصیت پرستی کا قائل نہیں ،اس لیے صرف اُنہی نظریات کو ترجیح دیتا ہوں جو قرآن و سنت سے مطابقت رکھتے ہیں، چاہے محقق کسی بھی مکتبۂ فکر سے ہو۔
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    اچھا سوال
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں