پشاور وارسک روڈ پر آرمی پبلک سکول پر حملہ فائرنگ سو سے زیادہ بچوں کا قتل عام

iqbal jehangir نے 'خبریں' میں ‏دسمبر 16, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    انا للہ وانا الیہ راجعون
     
  2. ام مطیع الرحمن

    ام مطیع الرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2013
    پیغامات:
    1,548
    ناقابل تلافی نقصان۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
    حکمرانوں برائے مہربانی مذمت سے دو قدم آگے بڑهیئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    بہت افسوسناک ۔ اس سانحہ پر افسوس کے لیے نہ کل کوئی الفاظ مل رہے تھے نہ آج ہیں۔ اللہ ان بچوں کے والدین کو صبر دے۔ حکمرانوں کو اور قوم کے ہر فرد کو عملی طور پر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ،اس کو روکنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    لال مسجد والے مولوی عبدالعزیز کا عجیب و غریب موقف
     
  5. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کا سب سے بڑے واقعہ پشاور میں ہوا، آرمی پبلک اسکول میں پڑھنے والے 132 بیٹے ماؤں سے چھین لیے گئے، عملے کے 9 ارکان بھی شہید اور 124زخمی ہوئے، اس سانحے پر پوری قوم غم سے نڈھال ہے۔دہشت گردی کے خلاف جاری پاک فوج کے آپریشن ضرب شروع ہونے کےبعد دہشت گردوں نے آگ و خون کی ہولی کے لیے اسکول کےبچوں کو نشانہ بنایا۔ ہولناک واقعے پر ملک بھر میں سوگ کاعالم طاری ہے،زندگی چپ ہے اور فضا سوگوار ہے۔ دہشتگردوں نے یہ حملہ پاکستان کے مستقبل پر کیا ہے۔معصوم بچوں کو مار کر مجاہد کہلانے والوں کو شرم آنی چاہئے، یہ صریحاً دہشت گردی ہے. بچوں اور عورتوں کے مارنے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے، اگر کوئی اسے اسلام کے ساتھ منسلک کرتا ہے تو یہ اسلام کے چہرے پر بدنما داغ لگانے والی بات ہے،اگر کوئی معصوم بچوں کو مار کر مجاہد کہلانا چاہتا ہے تو انہیں یہ لفظ کہتے ہوئے شرم آنی چاہئے یہ تو صریحاً دہشتگردی ہے۔طالبان اور پاکستان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، پشاور میں دہشتگردوںکے بدترین حملےنے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ جب تک طالبان کو مکمل طور پر شکست نہیں دیدی جاتی، پاکستان میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اقبال جہانگیر کا تازہ بلاگ:
    دہشتگردی کیخلاف جہاد جاری رہے گا
    https://awazepakistan.wordpress.com
     
  6. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    آمین
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    امید ہے کہ آپ کے شکوک رخصت ہو چکے ہوں گے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    محترم بھائی اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے یہ جن لوگوں نے بھی کام کیا ہے وہ شریعت سے جاہل ہیں اور جہاد کا انکو پتا نہیں اگر انکے ساتھ ظلم ہوا ہے تو میرا ان سے سوال ہے کہ کیا وہ خالی ظلم کا بدلہ چاہتے ہیں یا اپنے خیال میں جہاد کرنا چاہتے ہیں اگر جہاد کرنا چاہتے ہیں تو اسکے لئے دو شرائط کا خیال رکھنا تھا
    1-صرف اللہ کے دین اور شریعت کی سربلندی کے لئے ہو کسیاور مقصد علاقے، قوم وغیرہ کے لئے نہ ہو
    2-وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات اور طریقے کے مطابق ہو ورنہ جہاد کی بجائے وہ فساد بن سکتا ہے اور لوگوں کو جہاد اور اسلام سے متنفر کر سکتا ہے
    اس واقعہ کو میرے خیال میں کوئی بھی شریعت کی رو سے جسٹی فائی نہیں کرے گا ہر کوئی غلط ہی کہے گا

    البتہ محترم بھائی اوپر مولانا عبدالعزیز کا بیان بھی میرا خیال ہے اسی تناظر میں ہے شاید اسکو سمجھا نہیں گیا وہ اس واقعے کے بارے کہ رہے ہیں کہ یہ بالکل غلط واقعہ ہے البتہ وہ جو کہ رہے ہیں کہ اسکی مذمت ہی خالی کرتے رہنا عقل مندی نہیں بلکہ اسکے مستقبل میں مکمل تدارک کے لئے اسکے اسباب کو تلاش کر کے اسکا علاج سوچا جائے تو یہ بات غلط نہیں ہر عقل مند ڈاکٹر سب سے پہلے مریض کی تشخیص ہی کرتا ہے ورنہ کوئی بھی اسکو ڈاکٹر نہیں کہے گا پس میں اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ ٹی وی اینکرز کو خالی مذمت ہی نہیں کرنی چاہئے بلکہ اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ یہ پاکستان ملک کے اندر لڑائی کیسے ختم کی جا سکتی ہے کیونکہ میں الحمد للہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی لڑائی کے سخط خلاف ہوں مگر جیسا کہ انہوں نے کہا کہ خالی اندھیرے کو اندھیرا کہنے سے اندھیرا ختم نہیں ہو گا بلکہ سوچنا پڑے گا کہ کیا لائٹ خراب ہے یا یو پی ایس خراب ہے یا موم بتی کا سوچیں گے
    جہاں تک وہ کہ رہے تھے کہ وہ یک طرفہ مذمت نہیں کریں گے تو میں نے تو اگرچہ کر دی ہے مگر اگر کوئی یک طرفہ مذمت نہیں کرتا تو عقل اسکو بھی رد نہیں کرتی کیونکہ انکے نزدیک دونوں طرف کے لوگ غلط ہیں اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ جب سامنے میڈیا والے صرف ایک طرف کی مذمت کر رہے ہیں دوسری طرف کی مذمت نہیں کر رہے تو پھر مجھے بھی اپنا ہم خیال کیوں کرنا چاہتے ہیں یعنی جب میڈیا والے اسکی مرضی کی مذمت نہیں کر رہے تو وہ انکی مرضی کی مذمت کیوں کرے اور میرے خیال میں یہ جائز ہو سکتا ہے اگر وہ دوسرے کو غلط سمجھنے میں حق بجانب ہوں
    یعنی اگر وہ اس بات میں جائز ہیں کہ جامعہ حفصہ کو مارنے والوں کی مذمت کی جائے اور سامنے میڈیا والے اسکی مذمت نہیں کر رہے تو انکو بھی حق ہو سکتا ہے کہ میڈیا والے جس پشاور واقعہ کی مذمت کروانے میں جائز ہیں تو وہ ان کے کہنے کے باوجود اور انکے حق پر ہونے کے باوجود اس واقعہ کی مذمت نہ کریں
    البتہ اگر وہ جامعہ حفصہ کے واقعی پر مذمت کروانے میں ہی حق پر نہیں تو پھر وہ اوپر بیان دینے میں بھی غلط ہوں گے واللہ اعلم

    نوٹ: محترم بھائی میرا ایک اصول ہے کہ کوشش کرتا ہوں کہ دوسرے کو اپنی مرضی کا حق دوں جہاں تک کہ فتنہ اور فساد کا ڈر نہ ہو اصل میں کچھ فتنہ کا ہمیں خود ہی لاشعوری طور پر خوف ہوتا ہے مگر وہ فتنہ نہیں ہوتا بلکہ حق بات کرنے سے الٹا دوسرے کے لئے آپکی باقی باتوں کو ماننا آسان ہو جاتا ہے یہی میرا محدث فورم پر پچھلے ایک سال سے اصول رہا ہے اگر آپ کو برا لگا ہو تو آپ سے معذرت چاہتا ہوں اللہ تعالی آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو امین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    آج اسلام آباد میں لال مسجد کے ارد گرد اچھاخاصا مسئلہ بن گیا تھا، دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر مقدمے درج کروا دئیے ہیں۔
    http://www.dawnnews.tv/news/1013979/
    جمعے کے دن لال مسجد کے باہر احتجاج کی کوئی اچھی روایات نہیں بن رہیں۔ جمعہ ان کاموں کا دن نہیں تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    پتہ نہیں جامعہ حفصہ کا واقعہ کب تک جواز بنتا رہے گا حالاں کہ اس کا بدلہ کہاں کہاں نہیں لیا گیا ۔لڑکیوں کے کتنے سکول اڑا دئیے گئے، انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے میل اور فی میل کیمپس میں الگ الگ دھماکے ہوئے، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی طالبات کی بس پر حملہ ہوا، جب زخمیوں کو ہسپتل لایا گیا تو ہسپتال پر حملہ ہو گیا۔ ابھی بھی وہی رونا جاری ہے۔ خدا کے لیے اگر ہمت ہے تو جاؤ مشرف کے خلاف قانونی کارروائی کرواؤ اورقوم کی لڑکیوں کو بخش دو۔ مشرف کی حکومت ختم ہوتے ہی کہہ دیا کہ ہم نے معاملہ اللہ پر چھوڑا، تو پھر اتنا شور کیوں؟ صرف آپ کے مدرسے کی طالبات کی جانیں ہی قیمتی نہیں تھیں ، صرف وہی برقعہ نہیں پہنتیں، یونیورسٹیوں اور سکولوں کی لڑکیاں بھی پردہ کرتی ہیں، وہ بھی مسلمان ہیں، بلکہ انسان ہیں جن کی جان یکساں قیمتی ہوتی ہے ۔عجیب بات یہ ہے کہ ساری دنیا کی لڑکیوں کے مامے چاچے بننے والے ان "جہادیوں" کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی اپنی بیوی پردہ نہیں کرتی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    امام حرم شیخ صالح آل طالب حفظ اللہ کی جمعہ کے خطبہ میں آرمی پبلک سکول میں ہونے والے قتل عام پر شدید مذمت ـ انہوں نے کہا کہ "ابھی پاکستان میں ہونے والا حادثہ بہت تکلیف دہ ہے جس میں معصوم بچوں کو شہیدکردیا گیا ـ اس کا اسلام اور اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ـ اور ناہی عقل میں آنی والی بات ہے ، ایسے لوگ جو صبح وشام قتل کرتے ہی یہ لوگ اسلام سے بلکل جاہل اور غافل ہیں ـ اسلام کی بنیادی باتوں اور اصولوں میں ہے کہ وہ خون کی حفاظت کرتا ہے ـ لیکن آج خون بہانا ہی سب سے زیادہ آسان ہے ـ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام تو کفار کے بچوں کے خون کی حفاظت کرتا ہے ـ پھر مسلمان کے بچے کا خون تو اور زیادہ قیمتی ہے ـیہ خوارج کا طریقہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں ، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں ، کہ وہ مسلمانوں کوہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے ، مرنے والے پر رحم فرمائے ، اور جو زخمی ہیں انہیں جلد شفا عطا فرمائے اور جو بے اولاد ہوئے اللہ انہیں نعم البدل عطا فرمائے ـ
    http://sabq.org/k3tgde
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  12. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    مولوی عبدالعزیزکے زیادہ تر بیان سمجھ سے باہر ہوتے ہیں
     
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    خیبر پختونخواہ کے حکمرانوں نے دھرنے بند کر کے صوبے میں آنا جانا شروع کر دیا ہے۔ دو قدم ہو گئے۔
     
  14. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    http://urdu.alarabiya.net/ur/pakistan/2014/12/20/-آرمی-اسکول-حملے-کے-ماسٹر-مائنڈ-کی-شناخت.html
    پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر طالبان دہشت گردوں کے سفاکانہ حملے کے ماسٹر مائنڈ کی شناخت ہوگئی ہے۔اس کا عرفی نام سلم اور اصل نام عمر منصور ہے۔

    پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اس کو آرمی پبلک اسکول پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار نہیں دیا ہے بلکہ خود طالبان جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ اس نے بچوں کے قتلِ عام کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس نے یہ سب کچھ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کا بدلہ چکانے کے لیے کیا ہے۔

    پشاور میں پاک آرمی کے زیر انتظام اسکول پر مسلح دہشت گردوں کے حملے میں ایک سو بتیس بچوں سمیت ایک سو چالیس سے زیادہ افراد شہید ہوئے تھے ۔ان میں سے زیادہ تر کو قریب سے انتہائی سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سروں میں گولیاں ماری گئی تھیں۔سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرکے اسکول ہی میں تمام سات دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔

    طالبان کی ایک ویب سائٹ پر جمعہ کو ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے۔اس میں لمبی ڈاڑھی والا ایک جنگجو نظر آرہا ہے اور وہ 16 دسمبر کو اسکول پر حملے کا جواز پیش کررہا ہے۔کیپشن میں اس کا نام عمر منصور لکھا ہے۔

    وہ کَہ رہا ہے:''اگر ہماری خواتین اور بچے شہادت کی موت مریں گے تو آپ کے بچے بھی نہیں بچ سکتے۔ہم آپ کے خلاف اسی انداز میں جنگ لڑیں گے جس انداز میں آپ ہمارے خلاف لڑیں گے اور ہم بے گناہ لوگوں سے انتقام لیں گے''۔

    خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے چھے پاکستانی طالبان کے انٹرویوز کیے ہیں اور ان تمام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پشاور حملے کا ماسٹرمائنڈ منصور ہی ہے۔ان میں سے چار کا کہنا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کا قریبی ساتھی ہے۔

    ان میں سے ایک جنگجو کے بہ قول:''منصور سختی سے جہاد کے اصولوں کی پیروی کرتا ہے ۔وہ اپنے اصولوں میں سخت ہے لیکن اپنے جونئیر ساتھیوں پر بہت مہربان ہے اور جونئیر ساتھیوں میں اپنی دلیری اور بہادری کی وجہ سے بہت مقبول ہے''۔

    اب یہ طالبان ہی بتا سکتے ہیں کہ نہتے ،معصوم اور مسلمان بچوں کو بہیمانہ انداز میں قتل کرنا جہاد کا کون سا اصول ہے اور قرآن کی کس آیت اور حدیث کی کس کتاب میں یہ اصول درج ہے جس کی وہ اور ان کا یہ سنگ دل کمانڈر پیروی کررہے ہیں۔ان کی گفتگو سے واضح ہے کہ وہ اسلام اور جہاد کی اپنی ہی تعبیر وتشریح کررہے ہیں مگراس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    اس ماسٹر مائنڈ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی تھی اور اس کے بعد ایک دینی مدرسے میں زیر تعلیم رہا تھا۔ایک طالب کا کہنا تھا کہ ''عمر منصور اپنی نوعمری کے زمانے سے ہی سخت ذہن کا مالک ہے اور اس کی ہمیشہ دوسرے لڑکوں سے لڑائی ہوا کرتی تھی''۔

    اس کی عمر چھتیس ،سینتیس سال بتائی گئی ہے۔ وہ شادی شدہ ہے اور اس کے تین بچے ہیں۔ان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔اس کے دو بھائی ہیں اور وہ کچھ عرصہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی محنت مزدوری کرتا رہا تھا۔وہ 2007ء میں ٹی ٹی پی کے قیام کے بعد اس میں شامل ہوگیا تھا۔
    ایک طالبان کا کہنا تھا کہ ''منصور والی بال کھیلنا پسند کرتا ہے اور اس کا اچھا کھلاڑی ہے۔وہ جہاں کہیں بھی اپنا دفتر منتقل کرتا ہے،وہیں والی بال کا نیٹ لگا لیتا ہے۔طالبان کی ویڈیو میں اس کو پشاور اور اس کے نزدیک واقع قبائلی علاقے درہ آدم خیل کا ''امیر'' قرار دیا گیا ہے۔وہ حکومت کے ساتھ طالبان کے مذاکرات کا بھی سخت مخالف تھا۔ایک طالبان کے بہ قول اس نے ٹی ٹی پی میں شمولیت کے وقت سے ہی سخت رویہ اختیار کررکھا ہے اور حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے بہت سے کمانڈروں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    آمین
     
  16. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    لاہور: سانحہ پشاور میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ملوث ہونے کے اشارے ملے ہیں۔

    سانحہ پشاور کے حوالے سے ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں پہلی مرتبہ کچھ ایسے حقائق سامنے لائے گئے جن سے سانحہ پشاور میں افغان خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے کے اشارے ملتے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’’کیو ود احمد قریشی‘‘ کے میزبان احمد قریشی نے انکشاف کیا کہ افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس (نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی) پاکستان میں کام کررہی ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کو سپورٹ کر رہی ہے، شاید سانحہ پشاور میں اسکا ہاتھ ہے۔

    پاکستان کے پاس ثبوت تو کافی عرصے سے موجود تھے کہ افغانستان سے دہشت گردی کو کنٹرول کیا جا رہا ہے لیکن اس سانحے کے بعد فوری طور پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا دورہ افغانستان یہ ظاہرکرتا ہے کہ اس دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان میں جاملتے ہیں۔ این ڈی ایس کو 2002ء میں امریکا نے بنایا تھا، این ڈی ایس کے پہلے سربراہ امراللہ صالح تھے جو پاکستان کا سخت ترین مخالف تھا اسکی تربیت بھارت سے کرائی گئی۔ پاکستان کی طرف سے شکایات کی وجہ سے امراللہ صالح کو 2010 میں حامد کرزئی نے ہٹا دیا تھا، اب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں لیکن اب ایشو یہ ہے کہ کیا این ڈی ایس پاک افغان تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
    ابھی بھی کچھ اشارے مل رہے ہیں کہ این ڈی ایس، ٹی ٹی پی کے ساتھ رابطے میں ہے۔
    http://www.express.pk/story/320904/
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    اس کے اور بھی شواہد ہے کہ ایسے لوگوں کی تربیت پڑوس سے ہو رہی ہے ۔ بعض لوگ ایسے بھی ملے جنہوں نے یہ اقرار کیا کہ پاکستان میں شریعت نافذ کرنے کے لئے ناصرف ہندوستان بلکہ امریکہ سے بھی مدد لینا درست ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    کيوں میری پوسٹ بار بار ڈیلیٹ کر رہے ہو ،
    تصویرکا ایک رخ دیکھانے والوں ۔
     
  19. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    پرتشدد مود شئیر کرنے کی اجازت نہیں ۔
    تو پھر کیوں ایک طرف والی مواد شئیر کرتے ہو ؟ اوپر ایک پوسٹ میں بی بی سی کا لنک دیا ہوا ہے جس میں امریکن فرنٹ لائن اتحادی فوج کے بچوں کی تصایر ہیں ۔
    اور قبائیل میں جیٹ جہازوں کی بمباری کی وجہ سے مرنے والے بچوں کی تصاویر،یا ویڈیو یا اس کا لنک لگانا پرتشدد ہے ۔
    کیا دوغلی پالیسی نہیں ہے ۔؟
     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    حذف کرنے کا سبب آپ کو ملنے والی اطلاع میں موجود تھا جس سے آپ بخوبی واقف ہیں، مزید شکایات کے لیے شکایات سیکشن میں لکھیں ۔
    یہاں انسانی تصویر شئیر کرنے کی اجازت نہیں ، نہ ہی پرتشدد مناظر پوسٹ کرنے کی اجازت ہے۔ پشاور سکول کے بچوں کی تصاویر بھی فورم میں شامل نہیں کی گئیں۔
    ڈرون حملوں کی مذمت میں اردو مجلس پر کئی موضوعات موجود ہیں آپ کو ان کے متعلق جو کہنا ہے لکھ کر کہیے اور متعلقہ جگہ پر کہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں