اہل سنت کے ہاں تحقیق کا منہج کب شروع ہوا؟

ابوعکاشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جنوری 17, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,954
    اہل سنت کے ہاں تحقیق کا منہج کب شروع ہوا؟

    عموما لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ سے کہاں ثابت ہے کہ صرف صحیح حدیث ہی لینی ہے ، ضعیف نہیں لینی ؟ یا یہ کہ تحقیق کا منہج آپ ﷺ اور صحابہؓ کے زمانے میں نہیں تھا پھر اس کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟
    اس حوالے سے امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    "پہلے پہل لوگ سند نہیں پوچھا کرتے تھے ، جب فتنہ برپا ہوا تو وہ پوچھنے لگے کہ اس روایت کے راوی ذکر کرو ، تاکہ ان میں سے اہل سنت کی روایات لے لی جائیں اور اہل بدعت کو پہچان کر ان کی روایت مسترد کردی جائیں "(اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں میں اصل"ثقہ"ہونا ہے"(مقدمہ صحیح مسلم باب الاسناد من الدین)
    امام ابن سیرین کبار تابعین سے ہیں اور انہوں نے صحابہ کادور پایا ہے اور صغار کبار تابعین کے ساتھ زندگی بسر کی ہے اور فتنہ سے مراد شیعہ ، خوارج ، قدریہ جیسے بدعتی فرقوں کا ظہور ہے


    نوٹ:
    شیعہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو علیؓ اور ان کی اولاد سے وابستگی کادعوی کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ امامت کے حقدار وہی ہیں اور یہ لوگ اکثر صحابہ کرامؓ کی تکفیر کرتے ہیں
    خارجیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے جنگ صفین کے بعد علیؓ کے خلاف بغاوت کی اور علیؓ نے انہیں جنگ نہروان میں تہہ تیغ کیاـ
    قدریہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو تقدیر کی نفی کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ(بندہ اپنے افعال کا خالق ہے اور تقدیر وغیرہ کا اس میں کوئی دخل نہیں)اور تمام امور دنیا کسی سابقہ تقدیر کے بغیر پیدا ہوئے ـ
    آئینہ ایام تاریخ
    شیخ عثمان الخمیس حفظ اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں