شکر کی اہمیات،فضیلت، افادیت، اورتقاضے" خطبہ جمعہ مسجد نبوی 17ربیع الثانی 1436

بابر تنویر نے 'خطبات الحرمین' میں ‏فروری 7, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,320
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    " شکر کی اہمیت، فضیلت، افادیت اور تقاضے"

    فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 17 ربیع الثانی 1436 کا خطبہ جمعہ بعنوان " شکر کی اہمیت، فضیلت، افادیت اور تقاضے" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے شکر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی نعمتیں بار بار اس لئے یاد کرواتا ہے تا کہ ہم اسکا شکر کریں، اور مصیبت میں بھی شکر کرنے والوں کو جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے کا موقع دیا جائے گا، انہوں کتاب و سنت کی روشنی میں شکر کرنے کیلئے کچھ دعائیں بھی ذکر کیں۔پہلا خطبہ:تمام تعریفیں بلند و بالا اللہ کیلئے ہیں، وہی علم اور قدرت رکھنے والا ہے، میں ظاہری اور باطنی تمام نعمتوں پر اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں، نیز اس کی نعمتوں پر دائمی شکرانے کی توفیق بھی مانگتا ہوں، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں وہ یکتا ہے ، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، رسول ، اور اسکے خلیل ہیں، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد جو کہ بشیر و نذیر اور سراج منیر ہیں ان پر ، انکی اولاد اور اپنے مال و جان کیساتھ غلبہ دین کیلئے جد وجہد کرنے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما، انکی جد جہد سے سر زمین ہدایت و نور سے چمک اٹھی ۔حمد و صلاۃ کے بعد:تقوی الہی اختیار کرو؛ تو رضائے الہی اور جنت پا لوگے، اور غضب و عذاب الہی سے بچ جاؤ گے۔اللہ کے بندو!اللہ تعالی تمہیں اپنی خاص و عام نعمتوں کی یاد دہانی اس لئے کرواتا ہے کہ تم اسکا شکر ادا کرو، فرمانِ باری تعالی ہے:

    {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ}
    ایمان والو! تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو، کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے رزق دے؟ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے؛ تو تم کہاں بہکتے جا رہے ہو؟[فاطر : 3]

    اسی طرح فرمایا:
    {وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُمْ بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ}
    تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت اور اس عہد کو یاد کرو جو اللہ نے تم سے لیا تھا، جب تم نے کہا تھا: "ہم نے سن لیا اور عہد کی پاسداری کی"، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی سینے کے رازوں کو جاننے والا ہے۔[المائدة : 7]

    ایک مقام پر فرمایا:
    {أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً}
    کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی سب چیزیں تمہارے لئے مسخر کر دی ، اور تم پر ظاہری و باطنی نعمتیں بہا دی!۔[لقمان : 20]

    اللہ تعالی نے یہ بھی بتلا دیا کہ سب نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں، تا کہ ہم اللہ کا حق ادا کرنے کیلئے اسی کی عبادت اور شکر بجا لائیں، اور اللہ تعالی سے مزید نعمتوں کی چاہت رکھیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ}
    تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے، وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے[النحل : 53]

    اسی طرح فرمایا:
    {مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ}
    آپکو جو بھی بھلائی ملے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو بھی برائی پہنچے تو وہ آپ کے نفس کی طرف سے ہے۔[النساء : 79]


    چنانچہ ہر اعتبار سے نعمتیں انسان کو فضل اور رحمت الہی کی وجہ سے ملتی ہیں، جبکہ نقصانات انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں، اگرچہ اللہ تعالی نے انہیں ہمارے مقدر میں لکھا ہوتا ہے، تاہم اللہ تعالی کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں فرماتا، فرمانِ باری تعالی ہے:
    { وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ}
    لیکن اللہ تعالی جہان والوں پر فضل کرنے والا ہے۔ [البقرة : 251]

    لوگوں کو کافی نعمتوں کا ادراک ہوتا ہے، لیکن اکثر نعمتوں سے نابلد رہتے ہیں! اے انسان! کتنی ہی نعمتوں سے اللہ تعالی نے تمہیں نوازا ہے؟ تم ان نعمتوں سے لا شعوری میں لطف اندوز ہوتے ہو، اور کتنی ہی مصیبتیں اللہ تعالی نے تم سے دور کیں، اور تمہیں علم ہی نہیں ؟!اللہ تعالی نے انسان کی حفاظت کے بارے میں فرمایا:
    {لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ}
    ہر شخص کے آگے اور پیچھے اللہ کے مقرر کردہ نگراں ہوتے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں [الرعد : 11]

    اسی طرح فرمایا:
    {وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ}
    اس نے زمین و آسمانوں اور تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے اور سب کچھ اسی کی طرف سے ہے اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرنے والے ہیں [الجاثیہ : 13]

    جسم کے اکثر اعضاء انسان کے ارادے کے بغیر بدن اور زندگی کے مفاد کیلئے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں،
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ}

    اور تمہاری جانوں میں بھی [نشانیاں ہیں]، کیا تم دیکھتے نہیں؟[الذاريات : 21]


    ایسے ہی فرمایا:
    {وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ}
    اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو گن نہیں سکو گے، بیشک انسان ہی ظالم اور نا شکرا ہے۔[إبراہیم : 34]


    بلکہ نعمتوں کے اعداد و شمار سے عاجز اکثر نعمتوں کے بارے میں تو جانتے بھی نہیں ہیں!اللہ تعالی ہمیں نعمتیں اس لئے عنائت کرتا ہے کہ ہم انہیں عبادت و اطاعتِ الہی ، اور زمین کی آباد کاری و اصلاح کیلئے صرف کریں،
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ}
    وہ تم پر اسی طرح اپنی نعمتیں مکمل فرماتا ہے، تا کہ تم سلامتی پیدا کرو۔[النحل : 81]

    اسی طرح فرمایا:
    {وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ}
    اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے بالکل نابلد پیدا کیا اور اس نے تمہارے کان ،آنکھیں اور دل بنا دیئے ، تاکہ تم شکر کرو ۔ [النحل : 78]

    نعمتوں کا شکر ادا کرنے کیلئے ان چیزوں کو جمع کرنا ضروری ہے کہ: نعمتیں عطا کرنے والے سے محبت، نعمتوں کی نوازش پر اللہ تعالی کیلئے انکساری، ہر اعتبار سے یقین محکم کہ حاصل شدہ تمام نعمتیں اللہ کی طرف سے محض فضل و احسان ہیں، بندے کا اللہ تعالی پر کوئی حق نہیں ، زبان کے ذریعے ان نعمتوں پر ثنائے الہی بجا لائے، انہیں اللہ کا فقیر و محتاج بن کر قبول کرے، نعمتوں کی قدر کرتے ہوئے انہیں ایسی جگہوں میں استعمال کرے جنہیں اللہ تعالی پسند فرماتا ہے۔چنانچہ جو شخص اللہ تعالی کی نعمتوں کو رضائے الہی کی جگہوں پر استعمال کرے، انہیں اقامتِ دین کیلئے بروئے کار لائے، ان کے ذریعے فرائض و واجبات ادا کرتے ہوئے مخلوق کیساتھ اچھا برتاؤ رکھے تو ایسا شخص نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں کامیاب ہے۔اور جو شخص اللہ تعالی کی نعمتوں کو غضبِ الہی کی جگہوں میں استعمال کرے، یا ان نعمتوں سے متعلق واجب حقوق ادا نہ کرے تو ایسا شخص ناشکری کا مرتکب ہوگا۔ان نعمتوں کی وجہ سے غرور و تکبر نہیں کرنا چاہیے، شیطان کسی کے دل میں یہ وسوسہ نہ ڈالے کہ وہ ان نعمتوں کی وجہ سے دوسروں پر فوقیت رکھتا ہے، اور اسے یہ نعمت اس لئے عنائت کی گئی ہے کہ اس میں دوسروں کے مقابلے میں امتیازی صفات ہیں!یہ بات ذہن نشین رہے کہ اللہ تعالی خیر و شر کیساتھ شاکر و صابر لوگوں کو ممتاز کرنے کیلئے آزمائش کرتا ہے، کیونکہ نصف ایمان صبر اور نصف شکر پر مشتمل ہے۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے: {
    أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُمْ مِنْ آيَاتِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ}
    کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالی کی نعمت سے سمندر میں کشتی چلتی ہے تاکہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے، اس میں ہر صابر و شاکر کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں [لقمان : 31]

    عائشہ رضی اللہ عنہا نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب لکھ بھیجا کہ: "نعمت عطا کرنے والے کا لوگوں پر کم از کم یہ حق ہے کہ اس کی نعمت کو معصیتِ الہی کے راستے میں استعمال نہ کیا جائے"نعمتوں پر شکر کرنے سے بڑا مقام یہ ہے کہ مصیبتوں پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے، ایک مسلمان تکالیف پر حمد الہی کا دامن مت چھوڑے، اس مرتبے کے لوگوں کو سب سے پہلے جنت میں داخلے کیلئے بلایا جائے گا، اس لئے کہ ان لوگوں نے ہر حالت میں اللہ کی حمد خوانی کی تھی۔اللہ تعالی نے ہمیں اسکا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

    {فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ}
    چنانچہ تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، تم میرا شکر ادا کرو، اور ناشکری مت کرو۔[البقرة : 152]

    ایسے ہی فرمایا:
    {وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ}
    لیکن اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کر دے، اور اپنی نعمت تم پر مکمل فرما دے، تا کہ تم اسکے شکر گزار بن جاؤ۔[المائدة : 6]
    ایک مقام پر فرمایا:
    {وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ}
    اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔[النحل : 114]

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں پر اللہ تعالی سے محبت کرو) ترمذی نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ، اور اسے صحیح کہا ہے۔اور شکر کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ اللہ تعالی پر ایمان ہو، اور یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا شکر بھی ہے، جنہیں اللہ تعالی نے سب لوگوں کیلئے رحمت بنا کر ارسال فرمایا۔اس کے بعد ہر چھوٹی سے چھوٹی نعمت کا الگ الگ شکر کرنا ضروری ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں میں کوئی نعمت چھوٹی نہیں ہے۔نعمتوں کی سب سے بڑی ناشکری؛ قرآن و سنت کا انکار ہے، اسلام کا انکار کرنے کی صورت میں کسی بھی نعمت کا شکر سود مند ثابت نہیں ہو سکتا،
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    { وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ}
    اور جو ایمان سے انکار کر دے تو اسکے سارے اعمال ضائع ہوگئے، اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔[المائدة : 5]

    جبکہ اللہ تعالی نے شکر گزاروں کیساتھ مسلسل نعمتوں، اور وافر خیر و برکت کا وعدہ کیا ہوا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    {وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ}
    اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا: اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دونگا اور اگر ناشکری کرو گے تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے ۔[ابراہیم : 7]

    شکر گزار ہی دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کر کے کامیاب ہو نگے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    {وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ}
    اور اللہ تعالی شکر کرنے والوں کو عنقریب بدلہ دے گا۔[آل عمران : 144]

    اسی طرح فرمایا:
    { وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ}
    جو دنیا کا بدلہ چاہے ہم اسے دنیاوی بدلہ دیتے ہیں، اور جو آخرت کا بدلہ چاہے تو ہم اسے اخروی بدلہ دیتے ہیں، اور عنقریب ہم شکر گزاروں کو جزا دینگے۔[آل عمران : 145]

    شکر گزار ہی دنیاوی سزاؤں اور نقصانات سے نجات پائیں گے، اسی طرح آخرت کی تکالیف سے محفوظ رہیں گے، اللہ تعالی نے قومِ لوط کے بارے میں فرمایا:
    {إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَجَّيْنَاهُمْ بِسَحَرٍ (34) نِعْمَةً مِنْ عِنْدِنَا كَذَلِكَ نَجْزِي مَنْ شَكَرَ
    }ہم نے ان پر پتھر برسائے، صرف آل لوط کو ہم نے سحری کے وقت بچایا [34 ] یہ ہماری طرف سے نعمت تھی، اور ہم شکر کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ [القمر : 34 - 35]

    شکر کرنا انبیا، رُسل، اور اللہ کے مؤمن بندوں کا مقام ہے، اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

    { إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا}
    بیشک وہ شکر گزار بندہ تھا۔[الإسراء : 3]

    ایسے ہی فرمایا:
    {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (120) شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
    } بلاشبہ! ابراہیم ایک امت ، اللہ کے فرمانبردار اور یکسو رہنے والے تھے، وہ ہرگز مشرک نہ تھے [120] وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ نے انھیں منتخب کر لیا اور سیدھی راہ دکھائی [النحل : 120 - 121]

    ایک مقام پر فرمایا:
    {قَالَ يَا مُوسَى إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ}
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا: موسیٰ ! میں نے تجھے اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لئے تمام لوگوں پر ترجیح دیتے ہوئے منتخب کر لیا ہے جو کچھ میں تجھے دوں اس پر عمل پیرا ہو اور میرا شکر گزار بن[الأعراف : 144]

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ : "آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے" تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: "اللہ کے رسول! آپ اتنا لمبا قیام کرتے ہیں کہ قدم سوج جاتے ہیں! حالانکہ اللہ تعالی نے آپکے گزشتہ اور پیوستہ تمام لغزشیں معاف کر دی ہیں!" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں!) بخاری ومسلم

    شکر گزار لوگوں پر اللہ تعالی خصوصی کرم نوازی فرماتا ہے، جو دوسروں پر نہیں ہوتی، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ}
    اس طرح ہم نے بعض لوگوں کے ذریعہ دوسروں کو آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ [وہ انہیں دیکھ کر] کہیں کہ: ''کیا ہم میں سے یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہے؟'' [دیکھو] کیا اللہ تعالیٰ اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ؟ [الأنعام : 53]

    اللہ کی مخلوق میں سے شکر گزار لوگ اللہ کے مقرب بندے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انکی تعداد کم ہے، فرمانِ باری تعالی ہے :

    {وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ}
    میرے بندوں میں شکر گزار کم ہیں ۔[سبأ : 13]

    شکر گزار بندے! ہمیشہ شکر کرو، اور اسی عمل پر کار بند رہو، کیونکہ جو اللہ کے ساتھ وفا کرتا ہے، اللہ تعالی اسکے ساتھ وفا فرماتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ}
    تم میرا عہد پورا کرو، میں تمہارا عہد پورا کرونگا، اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو[البقرة : 40]

    شکر گزار بندے! تمہیں شیطان پھسلانے میں کامیاب مت ہو؛ کہ کہیں تم شکر گزاری میں کمی کا شکار ہوجاؤ، یا شکر گزاری سے ناشکری میں پلٹ جاؤ، اور تمہارے حالت بہتر سے ابتر ہو جائے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ وَمَنْ يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}
    آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے کہ ہم نے کتنی ہی کھلی کھلی نشانیاں انہیں دی تھیں ، پھر جو قوم اللہ کی نعمت کو پا لینے کے بعد اسے بدل دے تو یقینا اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سخت سزا دینے والا ہے [البقرة : 211]

    چنانچہ جو شخص دائمی شکر گزاری کرتا رہے تو اللہ تعالی اسے مزید عنائت فرمائے گا، اور جو معصیت سے اطاعت میں آ جائے تو اللہ تعالی بھی اس کے حالات ابتری سے بہتری میں تبدیل فرما دیتا ہے۔جو شخص نیکیاں کرے، اور برائیوں سے دور رہے تو اللہ تعالی اس کے تمام معاملات اپنے ذمہ لے کر کامیابی کیلئے راستہ ہموار فرما دیتا ہے، اسی طرح اس کے تمام معاملات بخوبی انجام پاتے ہیں، چنانچہ انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ جبریل سے اور وہ اللہ تعالی سے بیان کرتے ہیں کہ: (جو میرے کسی ولی کی اہانت کرے، اس نے میرے خلاف اعلانِ جنگ کیا، مجھے اپنے کسی بھی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مجھے موت سے ڈرنے والے میرے بندے کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے، مجھے اس کی ناگواری پسند نہیں، لیکن روح قبض کرنا بھی ضروری ہے، اور میرے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کوئی نیکی کرنا چاہتے ہیں لیکن میں انہیں نیکی سے اس لئے روک دیتا ہوں کہ وہ اس نیکی کی وجہ خود پسندی میں مبتلا ہو جائیں گے، چنانچہ خود پسندی کی وجہ سے انکی نیکی برباد ہو جائے گی، میرا بندہ فرائض پر عمل کر کے سب سے زیادہ میرا قرب حاصل کرتا ہے، اور میرا بندہ اتنی نفل عبادت کرتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، اور جس سے میں محبت کروں تو میں اسکی سماعت، بصارت[اپنے کنٹرول میں کر کے] اسکا معاون، حامی و ناصر بن جاتا ہوں، جس وقت وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اسکی دعا قبول کرتا ہوں، وہ مجھ سے مانگتا ہے تو عنائت کرتا ہوں، وہ میری خیر خواہی چاہتا ہے تو میں اسکی خیر خواہی چاہتا ہوں، میرے کچھ بندوں کے ایمان کیلئے تونگری ہی مناسب ہوتی ہے، اگر میں اسے فقیر بنا دوں تو وہ بگڑ جائے گا، جبکہ میرے کچھ بندوں کیلئے فقیری ہی مناسب ہوتی ہے، اگر میں اسے امیر بنا دوں تو وہ بگڑ جائے گا، اور میرے کچھ بندوں کیلئے بیماری ہی مناسب ہوتی ہے، اگر میں اسے صحت مند بنا دوں تو وہ بگڑ جائے گا، میرے کچھ بندوں کیلئے صحت ہی مناسب ہوتی ہے، اگر میں اسے بیمار بنا دوں تو وہ بگڑ جائے گا، یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ میں بندوں کے معاملات انکے سینوں میں چھپے رازوں کے مطابق چلاتا ہوں، کیونکہ میں جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہوں) اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے، اور اس کے کچھ الفاظ کے شواہد صحیح [بخاری] میں موجود ہیں۔اللہ کے بندے! تم ایسے شکر گزار بنو جن پر اللہ تعالی اپنی خیرات خوب برساتا ہے، اور انہیں سزاؤں بلاؤں سے محفوظ فرماتا ہے۔امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اللہ تعالی کا ایک مقولہ ذکر کیا ہے کہ: "میرا ذکر کرنے والے میری مجلس کے حقدار ہیں، میرا شکر کرنے والے زیادہ خیرات کے مستحق ہیں، میرے اطاعت گزار ہی میرے ہاں با عزت ہیں، نافرمان لوگوں کو میں کبھی بھی اپنی رحمت سے مایوس نہیں کرتا، چنانچہ اگر گناہگار توبہ کریں تو میں انکا حبیب ہوں، اور اگر توبہ نہ کریں تو میں انکا طبیب ہوں، میں انہیں مصائب سے دوچار کرتا ہوں تا کہ معایب سے پاک صاف کروں"اللہ تعالی نے تمہیں کامیاب ہونے والے ان لوگوں میں شمولیت کا حکم دیا ہے،
    فرمانِ باری تعالی ہے:
    {بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ}
    بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرو، اور شکر گزاروں میں شامل رہو[الزمر : 66]

    اللہ تعالی نے قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ نعمتوں کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا ہے، کیونکہ انکی خیر و برکت امت پر قیامت تک جاری رہے گی۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مفید نصیحتوں میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس لئے تم ہر نماز کے بعد کہا کرو: "اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبادَتِكَ"[یا اللہ! تیرے ذکر، شکر، اور اچھی طرح تیری عبادت کیلئے میری مدد فرما]) ابو داود، نسائی نے اسے روایت کیا ہے، اور یہ وصیت ساری امت کیلئے ہے۔حمد و شکر کے کچھ معانی ایک دوسرے میں شامل ہیں، تاہم ان دونوں میں سے ہر ایک کے مخصوص جزوی معانی بھی ہیں۔اللہ تعالی کی ہر وقت عام و خاص نعمتیں موجود رہتی ہیں۔قومی اتحاد بھی پوری قوم کیلئے بہت بڑی نعمت ہے، جو کہ دینِ الہی ، اور دنیاوی مصلحتوں کیلئے بہت ضروری ہے۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ کی بیعت کچھ دن پہلے ہوئی، اسی طرح ولی عہد امیر مقرن بن عبد العزیز حفظہ اللہ اور نائب ولی عہد امیر محمد بن نایف حفظہ اللہ کی بیعت سے ملک و قوم کو دینی اور دنیاوی فائدہ حاصل ہوا، اور اس کے ذریعے ہمارے ملک کے خلاف شیطانی مکاریاں خاک میں مل گئیں، ماضی کی مجلس بیعت سے بھی اسی طرح کے فوائد حاصل ہوئے تھے۔اللہ تعالی ہمیں اتفاق و اتحاد کی نصیحت کرتے ہوئے اختلافات سے بچنے کی تلقین فرماتا ہے،
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا}
    سب کے سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور اختلافات سے بچو۔[آل عمران : 103]

    اہل حل و عقد ، امراء، علماء، اور بااثر شخصیات کی طرف سے یہ ایسی بیعت ہے جو کہ ہر شاہد و غائب، اور تمام ہم وطنوں کیلئے ضروری ہے، اور جو ہم وطن شخص اس بیعت کو لازم نہیں سمجھتا تو وہ خود ساختہ نظریات کا حامل ہے، اس نظریے سے اُسی کا نقصان ہوگا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}
    اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں ۔[آل عمران : 102]

    نعمتوں کی قدر کا اجر دونوں جہانوں میں شکر گزاروں کو ملے گا، چنانچہ نعمتوں کا شکر کرنے سے غفلت برتنے کا نقصان بھی غافل لوگوں کو ہی ہوگا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    { وَمَنْ يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ}
    جو شکر کریگا وہ اپنے لئے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرے تو اللہ تعالی بے پرواہ اور تعریف کے لائق ہے۔[لقمان : 12]

    اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اسکی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کواسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

    دوسرا خطبہ
    تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، وہ جسے چاہتا ہے نیکی کی توفیق دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے اپنے عدل و حکمت کے باعث رسوا فرماتا ہے اور وہ خواہش پرستی میں ڈوب جاتا ہے، میں اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں ، اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، اور بخشش طلب کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اسکے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے ، وہ آسمان و زمین کا پروردگار ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی و سربراہ محمد اسکے بندے اور رسول ہیں ، آپ ہی عزت و تکریم کا قبلہ ہیں، یا اللہ !اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی آل، اور تمام نیکو کار صحابہ کرام پر اپنی رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔حمد و صلاۃ کے بعد:شکر الہی ادا کرتے ہوئے تقوی الہی اختیار کرو، اور اسکا ذکر ایسے کرو جیسے ذکر کرنے کا حق ہے۔اللہ کے بندو!اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ}
    اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے پرواہ ہے، وہ اپنے بندوں سے کفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے ۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی آخر کار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ، وہ تو دلوں کا حال جاننے والا ہے [الزمر : 7]

    یہ بات ذہن نشین کرلو کہ: انسان جتنی بھی اللہ کی عبادت و ریاضت کر لے کسی بھی صورت میں اللہ کا کما حقہ شکر ادا نہیں کر سکتا، تاہم اسے فرائض کی ادائیگی کرنی چاہیے اور ممنوعات سے دور رہے، اور یہ بات سمجھ لے کہ اگر اللہ تعالی کی رحمت نہ ہوتی تو وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہوتا، اسی طرح اپنی کمی کوتاہی پر استغفار کرتا رہے، اللہ تعالی سے اپنی مدد اور کامیابی کیلئے دعا گو رہے، اور ذکر الہی کرتا رہے، کیونکہ ذکر کے ذریعے انسان جلیل القدر مقام و مرتبہ پا لیتا ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے: ("رَبِّ اجْعَلْنِيْ لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذََكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مُطَاوِعًا لَكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيْبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِيْ وَاغْسِلْ حُوْبَتِيْ وَأَجِبْ دَعْوَتِيْ وَثَبِّتْ حُجَّتِيْ وَسَدِّدْ لِسَانِيْ وَاهْدِ قَلْبِيْ وَاسْلُلْ سَخِيْمَةَ صَدْرِيْ" یا اللہ! مجھے اپنا بہت زیادہ شکر اور ذکر کرنے والا بنا، تجھ سے بہت زیادہ ڈرنے والا، تیری اطاعت کرنیوالا، تیرے لئے مر مٹنے والا، اور تیری ہی جانب رجوع اور انابت کرنیوالا بنا، میرے پروردگار! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول فرما، میری حجت ثابت کر دے، میرے دل کو ہدایت دے، میری زبان راست فرما، اور میرے سینے سے کینہ نکال باہر کر) ابو داود نے روایت کیا ہے، اور ترمذی اسے حسن صحیح حدیث قرار دیا۔اللہ کے بندو!

    }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
    { یقینا اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]،

    اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود پڑھو۔اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيرا۔
    یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا،یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہوجا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہوجا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، اورکرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! کفر ، کفار اور منافقین کو ذلیل کر دے ، یا رب العالمین!یا اللہ! اپنے دین، قرآن، اور سنت نبوی کو ساری دنیا میں غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اپنے دین، قرآن، اور سنت نبوی کو ساری دنیا میں غلبہ عطا فرما، یا اللہ! سنت نبوی کا ساری دنیا میں بول بالا فرما دے، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔یا اللہ! ہمیں حق بات اچھی طرح دکھا دے، اور پھر اتباعِ حق کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں باطل بات اچھی طرح دکھا دے، اور پھر باطل سے بچنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ، ہمارے لئے باطل کے بارے میں ابہام مت رکھنا ، کہ کہیں گمراہ نہ ہوجائیں، یا ارحم الراحمین!یا اللہ! سب معاملات کا انجام ہمارے لئے بہتر بنا، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔یا اللہ! ہمیں ہمارے نفسوں ،برے اعمال اور ہر شریر کے شر سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال، اچانک پکڑ، عافیت کے خاتمے ، اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!یا اللہ! تیرے ذکر، شکر، اور اچھی طرح تیری عبادت کیلئے ہماری مدد فرما، یا اللہ! تیرے ذکر، شکر، اور اچھی طرح تیری عبادت کیلئے ہماری مدد فرما۔یا اللہ! ہمیں شکر گزاروں میں شامل فرما لے، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمیں شکر گزاروں میں شامل فرما لے، یا ارحم الراحمین!یا اللہ! تمام فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! ہمارے فوت شدگان کو بخش دے۔یا اللہ! امت محمدیہ پر اپنا رحم فرما، یا اللہ! اس امت پر اپنا رحم فرما، یا اللہ! ہماری اور سب مسلمانوں کی توبہ قبول فرما۔یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں دین کی سمجھ عطا فرما، یا ارحم الراحمین! یا اکرم الاکرمین!یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ رکھ، یا رب العالمین! ، یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ رکھ، یا رب العالمین! ، یا اللہ! مسلمانوں کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ رکھ، یا رب العالمین!یا اللہ! مسلمانوں کو ہر شریر کے مقابلے میں کافی ہو جا، یا اللہ! مسلمانوں کو جادو گروں کی مکاریوں سے محفوظ فرما۔یا اللہ! جادو گروں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! انکی مکاریوں کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! انکے شر کو انہی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔یا اللہ! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دلوں کی رہنمائی فرما۔یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ہر نیکی کے کام میں انکی مدد فرما، اُسکی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور اسکے تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، یا اللہ! اسے ہدایت یافتہ اور رہبر بنا، اسکے دونوں ولی عہد کو بھی تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور انکی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما ، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اور انہیں اپنی رحمت کے صدقے اسلام اور مسلمانوں کے حق میں اچھے فیصلے کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!یا اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ : ہمیں ایک لمحے کیلئے بھی ہمارے حوالے مت فرمانا، اور ہمارے تمام معاملات درست فرما دے، اور ہمارے تمام اعمال خالص تیری رضا کیلئے بنا لے، یا رب العالمین!اللہ کے بندو!
    }إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (90) وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ{
    اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو[90] اور اللہ تعالی سے کئے وعدوں کو پورا کرو، اور اللہ تعالی کو ضامن بنا کر اپنی قسموں کو مت توڑو، اللہ تعالی کو تمہارے اعمال کا بخوبی علم ہے [النحل: 90، 91]

    ا
    للہ کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنائت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

    مترجم شیخ ابن مبارک
    رکن مجلس علماء اردومجلس
    زیر تعلیم جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,322
    جزاک اللہ خیرا
    ماشاء اللہ اچھی کمپوزنگ کی ہے۔
    بارک اللہ فیک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں