بابائے انٹرنیٹ کی جانب سے ڈجیٹل سیاہ دور کی وارننگ

dani نے 'اسلام ، سائنس اور جدید ٹیکنولوجی' میں ‏فروری 14, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    ونٹ سرف جنہیں ’بابائے انٹرنیٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے کا کہنا ہے کہ تمام تصاویر اور دستاویزات جو ہم اپنے کمپیوٹرز پر محفوظ کرتے رہے ہیں بالآخر ضائع ہو جائیں گے۔ونٹ جو گوگل کے نائب صدر ہیں کا کہنا ہے کہ یہ تب ہو گا جب ہارڈ ویئر یا سافٹ ویئر ناپید ہو جائیں گے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل کی نسلوں کے پاس 21ویں صدی کا بالکل معمولی یا کوئی ریکارڈ نہیں ہو گا جب اُن کے بقول ہم ’ڈیجیٹل دنیا کے سیاہ دور‘ میں داخل ہوں گے۔
    وہ ان دنوں ایک نئے مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں میں ہیں جس سے ہماری تاریخ کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ہماری زندگی، ہماری یادیں اور ہماری پسندیدہ خاندانی تصاویر اب معلومات کے ٹکڑوں میں موجود ہں ہماری ہارڈ ڈرائیوز پر اور ’کلاؤڈ‘ ڈرائیوز پر مگر جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ سب اس بدلتے ڈیجیٹل ارتقا میں ضائع نہ ہو جائیں۔
    ونٹ اس خیال کی ترویج میں مصروف ہیں کہ ہر سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کو محفوظ کیا جائے تاکہ وہ کبھی بھی ناپید نہ ہو جیسا کہ میوزیم میں ہوتا ہے مگر اس صورت میں ڈیجیٹل حالت میں کلاؤڈ سرورز پر۔

    اُن کے خیال میں اگر ایسا کیا جائے تو ہماری آنے والی کئی نسلوں تک ہماری پسندیدہ یادیں محفوظ رہ سکیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ ’اس کا حل یہ ہے کہ اس مواد، ایپلیکشن اور آپریٹنگ سسٹم سب کا ایک ایکسرے سنیپ شاٹ جس کے ساتھ اس مشین کا ڈسکریپشن ہو جس پر اسے چلایا جا رہا ہے اور اسے لمبے عرصے تک محفوظ رکھا جائے اور اس ڈیجیٹل سنیپ شاٹ کو مستقبل میں دوبارہ بنایا جا سکتا ہے۔‘
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    جس رفتار سے سیلفیز بن رہی ہیں ان کا صفایا ہی ہو جائے اچھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    عجیب سی بات لگتی ہے یا پھر پلے نہیں پڑی۔ کیونکہ ہر آنے والی ٹیکنالوجی جب مقبول ہونے لگتی ہے تو تمام ریسورسز کو اس کے مطابق ڈھالا جاتا ہے بتدریج۔ اور پھر ایسے ٹولز بنتے جاتے ہیں جو پرانی کو نئی شکل میں منتقل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تبدیلی کوئی اچانک تو نہیں آجاتی کہ ایک دم ہی سب کچھ ری پلیس ہوجائے۔
    اسی خبر کے ضمن میں ایک انگریزی بلاگ پر لکھا ہے:
    تو کیا فلاپی کے ناپید ہونےسے ڈیٹا ضائع ہوگیا؟
    یہ ایک دلچسپ حل معلوم ہوتا ہے۔

    جی مگر سیلفیز کے علاوہ بھی تو ڈیجیٹل ورلڈ میں بہت کچھ ہے نا! بلکہ سب کچھ ہے! :) اور لوگوں نے تو پرانے وقتوں کے تصویری البم اب سکین کرا کے محفوظ کر لیے ہوتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں