ہم سے منگائی مہندی، بیاہ اس سے کر لیا اس شوخ نے دکھائے ہیںشادی رچا کے ہاتھ پامسٹری کی مسٹری تو جوںکی توں رہی وہ فیس لے چل دئے ہم کو دکھا کے ہاتھ
دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ابا سے کیا کہیں گے نتیجے کے باب میں دنیا و دین دونوں ہی برباد ہو گئے بارہ ہیں دینیات میں تیرہ حساب میں
پیش لاکٹ کیا تو فرمایا یہ تو مجھ سے بھی خوبصورت ہے جب دیا دل تو بولیں رہنے دو اس تکلف کی کیا ضرورت ہے:00002:
ستم ایجاد کہتے ھیں یہ کیوں معشوق کو شاعر ستم بھی کیا کوئی کل ھےجسے ایجاد کرتے ھیں بگولہ ھیں کوئی معشوق،آندھی ھیں کہ جھکڑ ھیں جو چل کر عاشقوں کی خاک کو برباد کرتے ھیں
خواہش ہو اگر تیری کہ ہو کام فٹا فٹ اے دوست مری میز پہ رکھ دام فٹا فٹ دولت بھی عجب چیز ہے اس دور میں بھیا محبوب بھی آتا ہے لب بام فٹا فٹ
ہم نے آئسکریم خریدی جو کھارہا تھا آفریدی آفریدی نے منائی عید اس کی خوشیوں میں شامل تھا سعید سعید نے لگائی آواز نیا ریکارڈ بناو اعجاز اعجاز کھا رہا تھا آم ساتھ دے رہا تھا انضمام
نظر سے اس نے مجھے جو کرنٹ مارا ہے بہت بلنٹ، بہت انٹ شنٹ مارا ہے سمجھئے بس ایسے جیسے دل کے رکشے کو ٹرک نے پورے کا پورا فرنٹ مارا ہے انعام الحق جاوید
بولے گی جھوٹ کیسے اب کے وہ برتھ ڈے پر مشکل یہ آپڑی ہے عورت کی زندگی میں جو بیسویں صدی میں تھی بیس کی مسلسل اکیس کی تو ہوگی اکیسویں صدی میں سرفراز شاہد