ماں کے نام.

نصر اللہ نے 'نثری ادب' میں ‏فروری 22, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    تحریر تو پتہ نہیں کس کی ہے لیکن سیدھی دل پہ لگی....
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ ایک دو مٹھی بچی ہوئی دالیں سل بٹے پر پسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دیا جاتا۔ حتیٰ کہ مزے دار حلیم سا بن جاتا اور ہم سب بچے وہ حلیم انگلیاں چاٹ کر ختم کر جاتے۔ امّاں کے لیے صرف دیگچی کی تہہ میں لگے کچھ ٹکڑے ہی بچتے۔ امّاں کا کہنا تھا کہ کھرچن کا مزہ تم لوگ کیا جانو۔
    اور امّاں ایسی سگھڑ تھیں کہ ایک دن گوبھی پکتی اور اگلے دن اسی گوبھی کے پتوں اور ڈنٹھلوں کی سبزی بنتی اور یہ کہنا مشکل ہوجاتا کہ گوبھی زیادہ مزے کی تھی یا اس کے ڈنٹھلوں کی سبزی۔
    امّاں جب بھی بازار جاتیں تو غفور درزی کی دکان کے کونے میں پڑی کترنوں کی پوٹلی بنا کے لے آتیں۔ کچھ عرصے بعد یہ کترنیں تکئے کے نئے غلافوں میں بھر دی جاتیں۔ کیونکہ امّاں کے بقول ایک تو مہنگی روئی خریدو اور پھر روئی کے تکیوں میں جراثیم بسیرا کر لیتے ہیں۔ اور پھر کترنوں سے بھرے تکیوں پر امّاں رنگ برنگے دھاگوں سے شعر کاڑھ دیتیں۔ کبھی لاڈ آجاتا تو ہنستے ہوئے کہتیں ’تم شہزادے شہزادیوں کے تو نخرے ہی نہیں سماتے جی، سوتے بھی شاعری پر سر رکھ کے ہو۔‘
    عید کے موقع پر محلے بھر کے بچے غفور درزی سے کپڑے سلواتے۔ ہم ضد کرتے تو امّاں کہتیں وہ تو مجبوری میں سلواتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں کسی کو سینا پرونا نہیں آتا۔ میں تو اپنے شہزادے شہزادیوں کے لیے ہاتھ سے کپڑے سیئوں گی۔ جمعۃ الوداع کے مبارک دن ابّا لٹھے اور پھول دار چھینٹ کے دو آدھے آدھے تھان جانے کہاں سے خرید کر گھر لاتے۔ لٹھے کے تھان میں سے ابّا اور تینوں لڑکوں کے اور چھینٹ کے تھان میں سے دونوں لڑکیوں اور امّاں کے جوڑے کٹتے اور پھر امّاں ہم سب کو سلانے کے بعد سہری تک آپا نصیبن کے دیوار ملے کوارٹر سے لائی گئی سلائی مشین پر سب کے جوڑے سیتیں۔
    آپا نصیبن سال کے سال اس شرط پر مشین دیتیں کہ ان کا اور ان کے میاں کا جوڑا بھی امّاں سی کے دیں گی۔ ہم بہن بھائی جب ذرا ذرا سیانے ہوئے تو ہمیں عجیب سا لگنے لگا کہ محلے کے باقی بچے بچیاں تو نئے نئے رنگوں کے الگ الگ چمکیلے سے کپڑے پہنتے ہیں مگر ہمارے گھر میں سب ایک ہی طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔ مگر امّاں کے اس جواب سے ہم مطمئن ہوجاتے کہ ایک سے کپڑے پہننے سے کنبے میں محبت قائم رہتی ہے۔ اور پھر ایسے چٹک مٹک کپڑے بنانے کا آخر کیا فائدہ جنھیں تم عید کے بعد استعمال ہی نہ کر سکو۔
    چھوٹی عید یوں بھی واحد تہوار تھا جس پر سب بچوں کو ابّا ایک ایک روپے کا چاند تارے والا بڑا سکہ دیتے تھے۔ اس کے انتظار اور خرچ کرنے کی منصوبہ بندی میں چاند رات آنکھوں میں ہی کٹ جاتی۔ صبح صبح نماز کے بعد ہم بچوں کی شاپنگ شروع ہوجاتی۔ سب سے پہلے ہر بہن بھائی کوڈو کے ٹھیلے سے ایک ایک پنی والی گول عینک خریدتا جسے پہن کر چال میں اتراہٹ سی آجاتی۔ پھر سب کے سب چاندی کے ورق لگی میٹھی املی اس لالچ میں خریدتے کہ رفیق افیمچی ہر ایک کو املی دیتے ہوئے تیلی جلا کر املی میں سے شعلہ نکالے گا۔
    پھر خانہ بدوشوں کے خوانچے میں بھرے مٹی کے کھلونوں اور رنگین کاغذ اور بانس کی لچکدار تیلیوں سے بنے گھگو گھوڑے کی باری آتی۔ آخر میں بس اتنے پیسے بچتے کہ سوڈے کی بوتل آ سکے۔ چنانچہ ایک بوتل خرید کر ہم پانچوں بہن بھائی اس میں سے باری باری ایک ایک گھونٹ لیتے اور نظریں گاڑے رہتے کہ کہیں کوئی بڑا گھونٹ نہ بھر جائے۔
    پیسے ختم ہونے کے بعد ہم دوسرے بچوں کو پٹھان کی چھرے والی بندوق سے رنگین اور مہین کاغذ سے منڈھے چوبی کھانچے پر لگے غبارے پھوڑتے بڑی حسرت سے دیکھتے رہتے۔ بندر یا ریچھ کا تماشا بھی اکثر مفت ہاتھ آ جاتا اور اوپر نیچے جانے والے گول چوبی جھولے میں بیٹھنے سے تو ہم سب بہن بھائی ڈرتے تھے اور اس کا ٹکٹ بھی مہنگا تھا۔
    بقر عید پر سب کے ہاں قربانی ہوتی سوائے ہمارے۔ مگر یہاں بھی امّاں کی منطق دل کو لگتی کہ جو لوگ کسی وجہ سے دنیا میں قربانی نہیں کر سکتے ان کے بکرے اللہ میاں اوپر جمع کرتا رہتا ہے۔ جب ہم اوپر جائیں گے تو ایک ساتھ سب جانور قربان کریں گے، انشااللہ!
    ایک دفعہ گڑیا نے پوچھا کہ امّاں کیا ہم جلدی اوپر نہیں جاسکتے؟ ہر سوال پر مطمئن کر دینے والی امّاں چپ سی ہوگئیں اور ہمیں صحن میں چھوڑ کر اکلوتے کمرے میں چلی گئیں۔ ہم بچوں نے پہلی بار کمرے سے سسکیوں کی آوازیں آتی سنیں مگر جھانکنے کی ہمت نہ ہوئی۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر گڑیا کی بات پر رونے کی کیا بات تھی۔
    کوئی چھ سات ماہ بعد ایک دن امّاں باورچی خانے میں کام کرتے کرتے گر پڑیں۔ ابّا نوکری پر تھے اور ہم سب سکول میں۔گھر آ کر پتہ چلا کہ آپا نصیبن امّاں کی چیخ سن کر دوڑی دوڑی آئیں اور پھر گلی کے نکڑ پر بیٹھنے والے ڈاکٹر محسن کو بلا لائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ امّاں کا دل اچانک ساتھ چھوڑ گیا ہے۔
    تدفین کے بعد ایک روز گڑیا نے میرا بازو زور سے پکڑ لیا اور یہ کہتے ہوئے پھوٹ پڑی کہ خود تو اوپر جا کر اگلی عید پر اکیلے اکیلے بکرے کاٹیں گی اور ہمیں یہیں چھوڑ گئیں۔


    میں یہ تحریر پڑھ رہا تھا اور آنکھیں نم ہوتی جا رہی تھیں یہ "ماں" اللہ نے کیا چیز بنائی ہے..
    رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 13
  2. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    891
    بہت خوب، ماشاء اللہ، ماواں ٹھنڈیاں چھاواں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    بہت پر اثر تحریر ہے۔ پڑھ کر آنکھیں بھر آئیں
    ماں کی محبت کا کوئ نعم البدل نہیں ہے۔ آج بھی جب ماں کی آواز سنتا ہوں تو اپنی ساری تھکن، ساری تکلیفیں بھول جاتا ہوں۔
    تحریر میں جس ماحول کی عکاسی کی گئ ہے ہم نے بچپن میں اسی ماحول اسی غربت کا مشاہدہ کیا ہے۔ گھر میں کوئ پھل یا مٹھائ وغیرہ آتی اور اگر وہ مقدار میں کم ہوتی تو میں دیکھتا تھا کہ والدہ کوشش کرتیں کہ اسے ہم بچوں میں بانٹ دیں۔ یا اپنے لیے بہت تھوڑی سی رکھ لیں۔ میں اکثر امی کے ہاتھوں کو دیکھا کرتا تھا۔ اور آخر مین ان سے ضرور پوچھا کرتا تھا کہ امی آپ نے اپنی لیے نہیں رکھی؟ اور جواب دینے کے بجاۓ وہ کہتیں کہ میرے اس بیٹے کو میرا بہت خیال ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 9
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
    بہت پراثر تحریر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  5. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    یہ ایک قطہ اور ماں کی خدمت میں.
    بہت عرصہ مجھے اس راز کا پتہ ہی نہ چل سکا کہ ماں کو میرے آنے کی خبر کیسے ہو جاتی ہے۔ میں سکول سے آتا تو دستک دینے سے پہلے دروازہ کھل جاتا۔ کالج سے آتا تو دروازے کے قریب پہنچتے ہی ماں کا خوشی سے دمکتا چہرہ نظر آ جاتا۔
    وہ پیار بھری مسکراہٹ سے میرا استقبال کرتی، دعائیں دیتی اور پھر میں صحن میں اینٹوں سے بنے چولہے کے قریب بیٹھ جاتا۔
    ماں گرما گرم روٹی بناتی اور میں مزے سے کھاتا ۔
    جب میرا پسندیدہ کھانا پکا ہوتا تو ماں کہتی چلو مقابلہ کریں۔
    یہ مقابلہ بہت دلچسپ ہوتا تھا۔
    ماں روٹی چنگیر میں رکھتی اور کہتی اب دیکھتے ہیں کہ پہلے میں دوسری روٹی پکاتی ہوں یا تم اسے ختم کرتے ہو۔ ماں کچھ اس طرح روٹی پکاتی ... ادھر آخری نوالہ میرے منہ میں جاتا اور ادھر تازہ تازہ اور گرما گرم روٹی توے سے اتر کر میری پلیٹ میں آجاتی۔
    یوں میں تین چار روٹیاں کھا جاتا۔
    لیکن مجھے کبھی سمجھ نہ آئی کہ فتح کس کی ہوئی!
    ہمارے گھر کے کچھ اصول تھے۔ سب ان پر عمل کرتے تھے۔
    ہمیں سورج غروب ہونے کے بعد گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے لاھور میں ایک اخبار میں ملازمت ایسی ملی کہ میں رات گئے گھر آتا تھا۔
    ماں کا مگر وہ ہی معمول رہا۔
    میں فجر کے وقت بھی اگر گھر آیا تو دروازہ خود کھولنے کی ضرورت کبھی نہ پڑی۔
    لیٹ ہو جانے پر کوشش ہوتی تھی کہ میں خاموشی سے دروازہ کھول لوں تاکہ ماں کی نیند خراب نہ ہو لیکن میں ادھر چابی جیب سے نکالتا، ادھر دروازہ کھل جاتا۔
    میں ماں سے پوچھتا تھا.... آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں آ گیا ہوں؟
    وہ ہنس کے کہتی مجھے تیری خوشبو آ جاتی ہے۔
    پھر ایک دن ماں دنیا سے چلی گئی !
    ماں کی وفات کے بعد ایک دفعہ میں گھر لیٹ پہنچا، بہت دیر تک دروازے کے پاس کھڑا رہا، پھر ہمت کر کے آہستہ سے دروازہ کھٹکٹایا۔ کچھ دیر انتظار کیا اور جواب نہ ملنے پر دوبارہ دستک دی۔ پھر گلی میں دروازے کے قریب اینٹوں سے بنی دہلیز پر بیٹھ گیا۔
    سوچوں میں گم نجانے میں کب تک دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا رہا اور پتہ نہیں میری آنکھ کب لگی۔ بس اتنا یاد ہے کہ مسجد سےاذان سنائی دی، کچھ دیر بعد سامنے والے گھر سے امّی کی سہیلی نے دروازہ کھولا۔ وہ تڑپ کر باہر آئیں۔
    انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور بولی پتر! تیری ماں گلی کی جانب کھلنے والی تمہارے کمرے کی کھڑکی سے گھنٹوں جھانکتی رہتی تھی۔ ادھر تو گلی میں قدم رکھتا تھا اور ادھر وہ بھاگم بھاگ نیچے آ جاتی تھیں۔
    وہ بولی پتر تیرے لیٹ آنے، رات گئے کچن میں برتنوں کی آوازوں اور شور کی وجہ سے تیری بھابی بڑی بڑ بڑ کیا کرتی تھی کیونکہ ان کی نیند خراب ہوتی تھی۔
    پھر انہوں نے آبدیدہ نظروں سے کھڑکی کی طرف دیکھا اور بولیں "پتر ھن اے کھڑکی کدے نیئں کھلنی"۔
    کچھ عرصہ بعد میں لاھور سے اسلام آباد آ گیا جہاں میں گیارہ سال سے مقیم ہوں۔
    سال میں ایک دو دفعہ میں لاھور جاتا ہوں۔
    میرے کمرے کی وہ کھڑکی اب بھی وہاں موجود ہے۔
    لیکن ماں کا وہ مسکراہٹ بھرا چہرہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا۔

    ماں باپ کے سایہ کی ناقدری مت کر اے نادان
    دھوپ بہت کاٹے گی جب شجر کٹ جائیگا.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  7. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻧﺎﺯﮎ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﮯ
    ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔۔۔ﺍﺳﮯ ﺑﺮﯾﻦ
    ﭨﯿﻮﻣﺮ ﺗﮭﺎ۔۔ﺳﺎﺭﮮ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ
    ﮨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ۔۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯿﮟ
    ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔۔ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻋﻮﺭﺕ
    ﻧﮯ ﺩﻡ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ۔۔۔
    ﺑﯿﭩﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺭﻭﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔۔۔ﺣﺘٰﯽ ﮐﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮ
    ﮔﯿﺎ۔۔ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ
    ﺁﯾﺎ۔۔ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ۔۔ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ
    ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﻣﻼ۔۔۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ
    ﺩﻭﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ
    ﺧﻂ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ،،
    "یہ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﮐﮭﺎ ﻟﻮ ﺑﯿﭩﺎ۔۔۔۔ ﺗﻤﮩﯿﮟ
    ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺨﺎﺭ ﭼﮍﮪ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
    ﺯﮐﺎﻡ ﮨﻮ جاتاہے
    ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ۔۔۔۔
    ‏( ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ
    ﻧﮯ ﺧﻮﺏ ﺭﻭﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ،،، ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ
    ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﺗﮭﯽ۔‏)
    ﺣﺎﻻﺕ ﺑﮭﻠﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﺎﮞ ﮨﻤﯿشہ
    ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ
    ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔۔۔
    ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﯾﮟ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ
    ﺭﮐﮭﯿﮟ ۔ﺟﻦ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ۔۔ ﻭﮦ
    ﺑﮭﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ۔۔۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻋﺎ
    ﮐﺮﯾﮟ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  8. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    آپ سب بہن بھائیوں سے گزارش ہے کہ ماؤں سے متعلق کسی ادیب کا قول، کوئی یاد یا یا کسی شاعر کا شعر وغیرہ جو آپ پسند کریں وہ اس تھریڈ کی زینت بنا دیں.
    بارک اللہ فیکم جمیعاً.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,868
    یوٹیوب چل رہا ہے تو یہ سنیں ـ شیخ ابراھیم الدویش کا اپنی والدہ کی وفات پر" ماں کے نام "
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
    بہت هی زبردست تحریر هے ماں کی قدر وهی جان سکتا هے جس کی ماں نہیں . اس کی ایک هی خواہش رهتی هے یارب کہیں سے ایک بار وہ خوبصورت چہرہ نظر آجائے جس جیسا کوی دوسرا چہرہ نہیں تها ..
    یارب جن کے ماں باپ هیں ان کو ایماں اور صحت کے ساته همیشہ سلا مت رکهنا اور جن کے اس دنیا سے جا چکے هیں اللہ تعالیٰ ان کے ماں باپ کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    جد دا پتر بار گیا اے خالی ہو کر بار گیا اے.
    گریٹ پنجابی نظم.
    Jad Da Putar Bahar Gya aa, Great Punjabi Poetry:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  12. مہربان

    مہربان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 24, 2015
    پیغامات:
    8
    بہت عمدہ،،،،کچھ تحریریں دل پر گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں آنکھیں نم کر جاتی ہیں اور جس نے ایسا خوبصورت تھریڈ لگایا ہوتا ہے
    اس کے لیے دل سے دعا نکل جاتی ہے ۔شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    جذبات کے اظہار پر شکریہ..
    آپ کے پاس اس سے متعلق کوئی تحریر ہو تو اسکی زینت بنا دیں.
    جزاکم اللہ.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
    بہت زبردست هے
    بهای بس ایک التجا هے کہ جس میں تصویر اور میوزک هو اس کو نہ لگایا کریں وہ کون سا دین هے وہ کون سا دین هے جو تصویروں اور میوزک سے پهیلتا هے میں ان شاءاللہ جلد وہ حدیث لکهو نگی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بانسری کی آواز سن کر دوڑ لگا دی اور ساته صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تهے دوڑتے گیئے .. اور ان کو کہتے رهے کہ بانسری کی آواز آرهی هے؟؟
    تصویر کے بارے میں بهی جانتے هیں کہ قیامت والے دن جان ڈا لنی پڑے گی اور اگر کسی سے کہا جتا هے تصور بنانی گنا هے لگانی گنا هے جواب ملتا هے کہ هاته سے بنی هوی تصویر کے بارے میں کہا جاتا هے اسی کو تصویر کہا جاتا اس کے بارے میں منع هے ج کهچوای جاتی هے وہ تو عکس هےتصویر بنانے جاتے هیں تو یہ کیوں کہتے هیں تصویر بنانی هے یہ کیوں نہیں کہتے هم نے عکس بنانا هے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کو کیوں کہا کہ سب تصویریں مٹا دیں اور اونچی قبروں کو مٹا دییں .یہ سب کیا تها اور کیئ شیخ سے پوچها کہ یہ سمائلی فیس لگانے بهی منع هیں براے مہربانی کوی غلطی هوی هے در گزر فرما دیجیئے ان سب گناهوں سے بچنے کہ کوشش کیجئے
    کسی گناہ کو چهوٹا مت سمجھئے
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  17. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بارک اللہ فیک آپا جی عمدہ بات کی طرف توجہ دلائی ہے.
    میں آئندہ ان شاء اللہ اس کی پابندی کی کو شش کروں گا.
    اور حق بات کہنے میں کوئی معذرت نہیں ہوتی اگر حق بات کسی کو بری لگتی ہے تو یہ اس کی کم ظرفی ہے.
    ایک بار پھر شکر گزار ہوں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  18. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    ❗ شائد کل تم جان سکو ❗
    ایک ❤ ماں ❤ كی فرياد

    میرے بچو❗ اگر تم مجھ کو بڑھاپے کے حال میں دیکھو
    اُکھڑی اُکھڑی چال می دیکھو
    مشکل ماہ و سال میں دیکھو!
    صبر کا دامن تھامے رکھنا
    کڑوا ہے یہ گھونٹ پر چکھنا
    "اُف" نہ کہنا، غصے کا اظہار نہ کرنا
    میرے دل پر وار نہ کرنا!
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    ہاتھ مرے گر کمزوری سے کانپ اٹھیں
    اور کھانا،مجھ پر گر جائے تو
    مجھ کو نفرت سے مت تکنا، لہجے کو بیزار نہ کرنا!
    بھول نہ جانا ان ہاتھوں سے تم نے کھانا کھانا سیکھا
    جب تم کھانا میرے کپڑوں اور ہاتھوں پر مل دیتے تھے
    میں تمہارا بوسہ لے کر ہنس دیتی تھی.
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    کپڑوں کی تبدیلی میں گر دیر لگا دوں یا تھک جاؤں
    مجھ کو سُست اور کاہل کہہ کر، اور مجھے بیمار نہ کرنا!
    بھول نہ جانا کتنے شوق سے تم کو رنگ برنگے کپڑے پہناتی تھی
    اک اک دن میں دس دس بار بدلواتی تھی!
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    میرے یہ کمزور قدم گر جلدی جلدی اُٹھ نہ پائیں
    میرا ہاتھ پکڑ لینا تم، تیز اپنی رفتار نہ کرنا!
    بھول نہ جانا، میری انگلی تھام کے تم نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھا
    میری باہوں کے حلقے میں گرنا اور سنبھلنا سیکھا!
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    جب میں باتیں کرتے کرتے رُک جاؤں، خود کو دھراوں
    ٹوٹا ربط پکڑ نہ پاؤں، یادِ ماضی میں کھو جاؤں
    آسانی سے سمجھ نہ پاؤں!
    مجھ کو نرمی سے سمجھانا
    مجھ سے مت بے کار اُلجھنا،
    اکتاکر، گھبرا کر مجھ کو ڈانٹ نہ دینا
    دل کے کانچ کو پتھر مار کے
    کرچی کرچی بانٹ نہ دینا
    بھول نہ جانا جب تم ننھے منے سے تھے
    ایک کہانی سو سو بار سنا کرتے تھے
    اور میں کتنی چاہت سے ہر بار سنایا کرتی تھی
    جو کچھ دھرانے کو کہتے، میں دھرایا کرتی تھی.
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    اگر نہانے میں مجھ سے سُستی ہو جائے
    مجھ کو شرمندہ مت کرنا، یہ نہ کہنا آپ سے کتنی بُو آتی ہے!
    بھول نہ جانا جب تم ننھے منے سے تھے اور نہانے سے چڑتے تھے
    تم کو نہلانے کی خاطر چڑیا گھر لے جانے میں تم سے وعدہ کرتی تھی
    کیسے کیسے حیلوں سے تم کو آمادہ کرتی تھی.
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    گر میں جلدی سمجھ نہ پاؤں، وقت سے کچھ پیچھے رہ جاؤں
    مجھ پر حیرت سے مت ہنسنا، اور کوئی فقرہ نہ کسنا
    مجھ کو کچھ مہلت دے دینا
    شائد میں کچھ سیکھ سکوں
    بھول نہ جانا❗
    میں نے برسوں محنت کر کے تم کو کیا کیا سکھلایا تھا
    کھانا پینا، چلنا پھرنا، ملنا جلنا، لکھنا پڑھنا
    اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اس دنیا کی، آگے بڑھنا.
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    میری کھانسی سُن کر گر تم سوتے سوتے جاگ اٹھو تو
    مجھ کو تم جھڑکی نہ دینا
    یہ نہ کہنا، جانے دن بھر کیا کیا کھاتی رہتی ہیں
    اور راتوں کو کُھوں کھوں کر کے شور مچاتی رہتی ہیں!
    بھول نہ جانا میں نے کتنی لمبی راتیں
    تم کو اپنی گود میں لے کر ٹہل ٹہل کر کاٹی ہیں.
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    گر میں کھانا نہ کھاؤں تو تم مجھ کو مجبور نہ کرنا
    جس شے کو جی چاہے میرا، اس کو مجھ سے دور نہ کرنا
    پرہیزوں کی آڑ میں ہر پل میرا دل رنجور نہ کرنا
    کس کا فرض ہے مجھ کو رکھنا
    اس بارے میں اک دوجے سے
    بحث نہ کرنا❗
    آپس میں بے کار نہ لڑنا
    جس کو کچھ مجبوری ہو اس بھائی پر الزام نہ دھرنا!
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    گر میں اک دن کہہ دوں، اب جینے کی چاہ نہیں ہے
    یونہی بوجھ بنی بیٹھی ہوں، کوئی بھی ہمراہ نہیں ہے
    تم مجھ پر ناراض نہ ہونا
    جیون کا یہ راز سمجھنا
    برسوں جیتے جیتے آخر ایسے دن بھی آ جاتے ہیں
    جب جیون کی روح تو رخصت ہو جاتی ہے
    سانس کی ڈوری رہ جاتی ہے!
    شائد کل تم جان سکو گے، اس ماں کو پہچان سکو گے
    گرچہ جیون کی اس دوڑ میں، میں نے سب کچھ ہار دیا ہے
    لیکن، میرے دامن میں جو کچھ تھا تم پر وار دیا ہے
    تم کو سچا پیار دیا ہے❗
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    جب میں مر جاؤں تو مجھ کو
    میرے پیارے رب کی جانب
    چپکے سے سرکا دینا
    اور، دعا کی خاطر
    ہاتھ اُٹھا دینا❗
    میرے پیارے رب سے کہنا،
    رحم ہماری ماں پر کر دے
    جیسے اس نے بچپن میں
    ہم کمزوروں پر رحم کیا تھا
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    بھول نہ جانا، میرے بچو❗
    جب تک مجھ میں جان تھی باقی❗
    خون رگوں میں دوڑ رہا تھا❗
    دل سینے میں دھڑک رہا تھا❗
    خیر تمہاری مانگی میں نے❗
    میرا ہر اک سانس دعا تھا❗
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    قالَ اللهُ تعالی
    اور تیرا رب صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا • اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے رب! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے (الإسراء: 23-24)
    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

    منقول..
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. صدف شاہد

    صدف شاہد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    دل کو چھو لینے والی تحریر

    ۱):
    بلا عنوان :
    میں ایک متوسط طبقے کا فرد ہوں
    ہر ماں کیطرح اماں بھی شفیق خاتون ہیں
    اُنکی کھانسی گھر میں اُنکے ہونے کا پتہ دیتی رہتی
    میں دوستوں کیساتھ عیاشی کے لئے اماں سے پیسے لیتا
    ابا سخت گیر تھے
    اُن سے مانگنے کا سوال پیدا نہ ہوتا
    آج اماں نے بھی انکار کیا
    تو اُن کے تکیے کے غلاف سے پیسے نکال لئے
    رات اماں کے کھانسنے پر ابا کو کہتے سنا
    کل تو تم نے دوائی کے لیے پیسے لے کر تکیے میں رکھے تھے
    ہاں ، آج دوائی تو لائی ہوں
    مگر کھانسی ہے کہ جان ہی نہیں چھوڑتی ۔۔۔اماں بولیں

    از فاخرہ گل

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۲):

    ماں :

    اور میں نے ممتا کو تب دیکھا جب اُسکی موت میں چند ساعتیں باقی تھیں
    وہ سرکاری ہسپتال کے بیڈ پہ پڑی تھی ، سانپ نے کاٹا تھا ،
    زہر چڑھنے سے دانت گِر چکے تھے ،
    ڈاکٹر آیا تو اُسے قریب ہونے کا اشارہ کیا،
    ڈاکٹر نے کان قریب کیا تو کہنے لگی !
    سستا ٹیکہ لگانا میرے بیٹےکی جیب خالی ہے ۔۔۔۔۔۔

    آنند بردہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۳):

    اپنی امی کی گودی میں سر رکھتے ھی
    ان کی خو شبو ،محبت ، دعا ؤ ں کی تا ثیر سے

    لطف و فرحت کے ابواب کھلتے گئے
    لمحہ بھر کے لیے مجھکو ایسا لگا
    میں بھی برگد کی ٹھنڈی گھنی طلسمی
    مہربا ں چھاؤں میں آگئی
    خا مشی ،خا ر بند راستے اور تنہا ئیا ں
    پر سش غم کی چہر ے پر پر چھا ئیا ں
    جسم و جا ن میں لہو کی دوڑتی

    غم کی شہنا ئیا ں
    کئی دیدہ و نا دیدہ مجبوریا ں
    اکتسا ب ھنر ایک شکتہ بدن
    درد کی کھا ئیا ں
    ان گنت گونگے دکھہ
    دربدر رائیگا ں
    مخزن حزن کی بزم آرائیا ں
    میری بے خواب آنکھوں کی ساری جلن
    مفلسی،خستگی،عمر بھر کی تھکن
    ما ں کی پا کیز ہ خو شبو کے احسا س نے

    میری بے نور آنکھوں کو بینائی دی

    ان کے ھا تھوں کو ھونٹوں سے مس کرتے ھی
    خا ک نے زخم دل کی مسیحائی کی
    میری امی نے ماتھے پر بو سہ دیا
    بس اسی ایک لمحے میں روتے ھوئے
    میں نے رب سے کہا
    اے خدا
    اے خدا
    اےخدا
    سا ری ما ؤ ں کو عمرخضر کر عطا

    نگہت نسیم


     
  20. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,849
    السلام علیکم

    یہ تحریر "امّاں کا دل ایسا ہی تھا" عنوان سے وسعت اللہ خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی سے 30 مارچ 2014 کو شیئر کی تھی۔

    ماں کا نعم البدل کوئی نہیں، ہماری امی جی بھی ہمیں چند ماہ پہلے گئے سال عید الاضہٰی سے کچھ روز پہلے چھوڑ کے جہان فانی سے رخصت ہو گئیں، جن کی مائیں چلی گئیں ان کی ماؤں کو اور ہماری ماں کو اللہ سبحان تعالی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین!

    والسلام
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں