کیا تکفیر ہر صورت ممنوع ہے؟

خطاب نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏مارچ 21, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. خطاب

    خطاب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 1, 2015
    پیغامات:
    74
    السلام علیکم:
    ۱۔ کیا یہ حدیث : " جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا ، تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گا " ہر حالات میں کلمہ گو کو کافر کہنے سے منع کرتی ہے ، یا صرف بغیر دلیل سے تکفیر کرنے سے روکتی ہے نیز کیا شرکیہ اور کفریہ اقوال و افعال کا کھلم کھلا ارتکاب کرنے والے بھی " اپنے بھائی " کے حکم میں آتے ہیں ۔۔۔ ؟؟؟

    ۲۔ اگر ہم کسی کو دلیل کی بیناد پر کافر کہہ دیں اور وہ دلیل صحیح نہ ہو تو کیا اس حدیث کے مطابق متکل کافر ہو جائے گا؟ ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کفر پلٹے گا نہیں کیونکہ وہ بندہ متاول ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو منافق کہنے پر یہ کلمہ ان پر نہیں پلٹا ۔اور جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح بخاری میں اس پر باب قائم کیا ہے جس کا ذکر حافظ ابن حجر نے فتح الباری اور علامہ عینی حنفی نے عمدۃ القاری میں ذکر کیا ہے نیز امام نووی نے بھی اس حدیث کی شرح میں متکلم کے ساتھ عقیدہ کی قید لگائی ہے!۔ امام بخآری کے قول کو دیگر علماء نے بھی نقل کیا ہے ۔ ۔ جن میں ابن تیمیہ ، ان بطال کرمانی سرفہرست ہیں اس مواقف کی تائید میں ابن تیمیہ ، ابن حزم ، ابن قیم کے اقوال موجود ہیں ۔


    ۳۔ شیخ صالح العثیمین ؒ نے علامہ یوسف القرضاوی کو ایک کفریہ فعل کی بیناد پر توبہ نہ کرنے کی وجہ سے واجب القتل کہا اور تکفیر کی تو کیا شیخ صاحب پر ایک کلمہ گوہ کی تکفیر کی وجہ سے کفر پلٹا ۔؟ کیا انہوں نے اسکے موانع پورے کئے؟ اور اگر نہیں تو وہ اس فعل کی وجہ سے خارجی تکفیری کیوں نہ بنے ؟

    ۴۔ اگر غلط دلیل کی بنیاد پر کسی کی تکفیر کرنے والے پر کفر نہیں پلٹتا تو موجودہ حکام کی دلیل کی بنیادپر تکفیر کرنے والوں کو " خارجی " کیوں کہا گیا جب کہ خوارج کو نبی ﷺ نے اسلام سے خارج قرار دیا ہے ۔؟

    ۵۔ حامد کمال الدین کہتے ہیں کہ "مسلمان بھائی کو کافر کہنے کی ممانعت والی حدیث کا مصداق صرف وہ شخص ہے جو نواقص الاسلام کا واضح طور پر مرتکب نہ ہو جونواقض الاسلام کا ارتکاب کر لیا تو ان احادیث کے حواالے دینا درست نہیں " اس بات میں کس حد تک صداقت ہے ؟
     
    Last edited: ‏مارچ 21, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    ۱۔
    ہر "مسلمان" کو کافر کہنے سے منع کرتی ہے ۔
    بغیر دلیل کے تکفیر کرنے سے "بھی" منع کرتی ہے ۔
    جب تک انکی تکفیر معین نہ ہو وہ بھی اپنے بھائی کے حکم میں ہی ہیں۔
    اس رامی متکلم کو کافر قرار دینے کے بھی وہی اصول ہیں جو مرمی کے لیے ہیں۔
    دونوں کے لیے اصول ایک ہی ہیں ، تکفیر کرنے والے اور جس کی تکفیر کی جارہی ہے دونوں پر وہ قوانین لاگو ہونگے ۔
    اگر تکفیر کرنے والے کو تأویل کی رخصت دی جائے گی تو جس کی تکفیر کی جا رہی ہے وہ بھی اس رخصت کا حقدار ہے ۔ فتدبر !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. خطاب

    خطاب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 1, 2015
    پیغامات:
    74
    تو کیا موجودہ حکام متاولین میں شمار ہونگے....؟؟ اگر ہاں تو کس تاویل کی بنیاد پر....

    اور موجودہ خوارج بھی انکی تکفیر پر دلائل دیتے ہیں... تو کیا انکو تاویل کی رخصت نہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    اسکے بارہ میں شیخ نے یہ الفاظ کہے تھے :
    [TRADITIONAL_ARABIC]أعوذ بالله، يجب أن يتوب، يتوب من هذا وإلا فهو مرتد؛ لأنه جعل المخلوق أعظم من الخالق فعليه أن يتوب إلى الله، والله يقبل التوبة من عباده، وإلا وجب على ولاة الأمور أن يضربوا عُنقَه "ا- هـ.
    [/TRADITIONAL_ARABIC]

    اور ان کلمات میں اسکی تکفیر نہیں ہے ۔ بلکہ تکفیر کو مشروط کیا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو وہ مرتد ہے ۔ اور ولاۃ امور پر اسکی گردن کاٹنا واجب ہے ۔ یعنی انہوں نے تکفیر کی ہی نہیں ہے ۔ بلکہ تکفیر کو معلق کیا ہے ۔
    اب سوال یہ ہے کہ کیا قرضاوی نے اس قول سے توبہ نہین کی تھی ؟
    پھر تکفیر معین کے مراحل اس سے توبہ طلب کرنے کے باوجود توبہ نہ کرنے کے بعد شروع ہوتے ہیں مثلا وہ اس قول میں متأول ہے یا ۔۔۔ الخ۔
    لہذا شیخ کے اس قول کو قرضاوی کی تکفیر قرار دینا ہی نادانی اور کم فہمی ہے ۔
    موانع پورے ہونے کی باری اسکے بعد آئے گی جیسا کہ وضاحت کر چکا ہوں ۔
    یہ کہنے سے کہ اگر اس نے ایسا کیا یا ایسا نہ کیا تو وہ کافر ومرتد ہو جائے گا ، تکفیر نہیں ہوتی ۔ بلکہ تکفیر معین یہ ہوتی ہے کہ کہا جائے فلاں کافر ہو چکا ہے یا کافر ہے ۔
    اسکا جواب سابقہ سطور میں موجود ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    صرف حکام کی تکفیر کی بناء پر خارجی نہیں کہا گیا بلکہ صرف اس بناء پر تکفیری بھی نہیں کہا گیا ۔ بلکہ مسلسل تکفیر اور اس پر اصرار کی بناء پر تکفیری کہا گیا ۔ (یاد رہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حاطب بن ابی بلتعہ کی تکفیر پر اصرار نہیں کیا تھا)
    اور حکمرانوں کے خلاف بغاوت وخروج اور مسلمانوں کی تکفیر کرکے انکے بے دریغ قتل کی بناء پر خارجی کہا گیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    حامد صاحب کی یہ بات غیر ممدوح یعنی مذموم ہے ۔
    کیونکہ
    نواقض اسلام کا واضح طور پر مرتکب ہونے والا بھی تأویل ، جہالت ، اکراہ وغیرہ کا شکار ہوسکتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    موجودہ حکام جہلاء بھی ہیں اور متأولین بھی ۔ اور پھر ان پر کسی نے حجت تمام بھی نہیں کی !
    موجودہ خوارج وتکفیریین کو انہی دلائل کی بناء پر صرف تکفیری کہا جاتا ہے ۔انکی تکفیر نہیں کی جاتی ۔
    ہاں جب یہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور انکی تکفیر کرکے انکا قتل کرتے ہیں تو انہیں خارجی کہا جاتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں