کب طالب علم کو عالم کہا جائگا ؟

يوسف أظهر نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏مارچ 23, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
    س-1 شخص کو عالم کب کہا جائگا ، وہ کونسی کتب ہیں جنکو پڑھ کر شخص عالم کے درجے پر پہنچ جاتا ہے ؟
    س-2 کب شخص کو طالب علم کہا جائگا ؟ کیا مطلقا جب علم دین حاصل کرنے لگے یا کئے سال بعد ؟
    س-3 کونسی کتب طالب علم کو یاد کرنا ضروری ہیں ؟
    س-4 طلب علم کا طریقۃ ، أور اختیار کتب مناسبۃ ، أور وقت مناسب ، تقسیم الأوقات ۔ بتا دیں ۔
    س-5 تدرج علم کے کتب ذکر کر دیں ، تاکہ یہ طلاب علم کے لئے ، مجتہد بننے کا راستہ ہو ۔
    س-6 کیا کسی طالب علم کو " جاہل " کہنا درست ہے ، کیونکہ وہ عالم نہیں ۔ یا اس طرح کے ألقاب صحیح نہیں ہیں ؟
    س-7 کیا کسی کی عمر پوچھنا خوارم المروئۃ میں سے ہے ؟ أور اسکا کیا حکم ہے ۔ یاد رہے ایک شخص سے جب عمر پوچھی گئئ تو کہتا ہے ، یہ سوال خوارم مروئۃ میں سے ہیں ۔ اور کہتا ہے یے پوچھنا حرام ہے ۔ جب کہا گیا دلیل لاؤ حرم ہونے کے تو کہتا ہے ۔ عرف محکم ۔ جب نص نا ہو کسی چیز کا تو عرف کے وہ بات مانے جائگے جو کتاب سنت سے نہیں ٹکراتے ۔
    سائل من لیبیا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    عالم تب بنے گا جب علماء اسے عالم کہنے لگیں ، اسکے لیے کتابوں کا کوئی نصاب مقرر نہیں ہے ۔ بہت سے لوگ مدارس سے فارغ ہوکر بھی عالم نہیں بن پاتے !

    جب وہ طلب علم شروع کر دے ۔

    قرآن مجید ، اور ا حادیث نبویہ جتنی ہوسکیں ۔
    انکے سوا کسی کتاب کو یاد کرنے پر وقت کھپانے کی ضرورت نہیں ۔ بقدر ضرورت ہر کتاب سے اہم باتیں خود ہی یاد ہو جائیں گی ۔

    کسی ماہر شیخ کا تلمذ اور طول ملازمہ اختیار کرے ۔
    پہلے قرآن مجید اور اسکی بنیادی سمجھ حاصل کرے اور حدیث کے مختصر متون پڑھ لے اور مسائل کو خوب سمجھ لے اسکے بعد مطول کتب کا رخ کرے ۔
    مناسب وقت سحر وفجر کا ہوتا ہے ۔

    سب سے پہلے قرآن مجید کا ترجمہ صحیح سمجھے اور ساتھ ساتھ راسخ فی العلم لوگوں کے فتاوى بغور پڑھتا جائے ۔
    اسکے بعد بلوغ ا لمرام ریاض الصالحین اور مشکاۃ المصابیح بالترتیب پڑھ لے ۔ پھر کتب ستہ کی طرف آئے اور پہلے نسائی پھر ترمذی ابو داود مسلم اور بخاری بالترتیب پڑھے اسکے بعد کوئی سی بھی حدیث کی کتاب پڑھ لے ۔
    اصول فقہ کے لیے پہلے تسہیل الوصول پھر ارشاد الفحول پھر نخبۃ الأصول (تلخیص ارشاد الفحول) پڑھے ۔
    بدایۃ المجتہد پھر تحفۃ الأحوذی ،فتح الباری ، نیل الاوطار ، محلى ابن حزم ، ارشاد القاری بالترتیب پڑھ لے ۔

    درست نہیں!
    عمر پوچھنا خلاف مروت نہیں !
    بلکہ محدثین کے موالید ووفیات ہی تو سند کا انقطاع ووصل واضح کرتی ہیں ۔

    [TRADITIONAL_ARABIC]ألا لا تنالوا العلم إلا بستة ۔۔۔ سأنبيك عن مجموعها ببيان
    ذكاوة وحرص واصطبار وبلغة ۔۔۔ وإرشاد أستاذ وطول زمان
    [/TRADITIONAL_ARABIC]​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں