شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کا مسئلہ تکفیرکے پرانے موقف سے رجوع اور آل تکفیر سے برات کا اعلان

خطاب نے 'فتنہ خوارج وتكفير' میں ‏مارچ 28, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. خطاب

    خطاب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 1, 2015
    پیغامات:
    74
    السلام علیکم:
    شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کا اپنی فتاوی الدین الخالص کی جلد نو میں مسئلہ تکفیر کے حوالے سے چند اہم فتوؤں سے رجوع پیش خدمت ہے۔ شیخ کے جن فتوؤں سے آل تکفیر موجودہ حکام اور حکومتی اداروں کی تکفیر کرتے تھے انکی تفصیل ایک مختصر رسالہ میں بھی موجود ہے جس میں شیخ کا باقائدہ رجوع نامہ چھپا۔۔ رسالہ اس لنک سے ڈاؤنلوڈ کیا جا سکتا ہے۔

    فضیلۃ الشیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کا آل تکفیر سے برات کا فتوی:
    سوال:کچھ علماء ایک فتوی دے کر بعد میں اس سے رجوع کیوں کر لیتے ہیں؟

    الحمداللہ ولصلوٰۃ ولسلام علی رسولہ محمدوالہ واصحبہ اجمعین۔۔۔۔۔امابعد!

    جواب:اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر حق کی پیروی فرض قرار دی ہے خواہ وہ حق جہاں اور جب بھی ملے اور اس نے باطل کے آشکارا ہوجانے پر ، اسی پر جمے رہنے کو حرام ٹھہرایاہے۔اسی بناء پر نبیﷺ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور علماء سنت کا یہ شیوہ تھاکہ اپنی اجتہادی خطاءظاہر ہونے پر وہ اس سے رجوع کرلیا کرتے تھے اور حق کے مطابق دوبارہ فتویٰ دیتے اور اس پر انہیں لوگوں کی ملامت کی کوئی پروا ہ نہیں ہوتی تھی ،لہذا اللہ اور آخرت کا خوف رکھنے والے ہر مسلمان پر یہی فرض ہے۔

    رجوع کی مثالیں:

    1-نبی ﷺ نے انصار مدینہ کو کھجور کی پیوند کرتے دیکھا تو فرمایا: "تم اگر ایسا نہ کرو تو بہترہوگا پھر جب کھجور کی پیداوار گھٹ گئی تو فرمایا،تم اپنے دنیاوی(زرعی)معاملات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو"۔

    صحیح مسلم کی اس روایت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے اجتہادسے رجوع فرمایا۔

    2-آپﷺ نے حضرت ابو سعید خدری ﷛ کی بہن کو اس کے خاوند کی وفات پر،عدت گزارنے کے لیے نقل مکانی کی اجازت دی پھر دوبارہ سے حکم ارشادفرمایا کہ واپس جاکر اپنے خاوند کے گھر میں ہی عدت گزارے۔(مشکوۃٰ باب العدۃ)

    3-حضرت عمر ﷛ نے کئی ایک مسائل میں اپنے سابقہ قول سے رجوع فرمایا جیسا کہ ابن حزم  کی کتاب احکام الاحکام میں مذکور ہے۔

    4-حضرت عبداللہ بن مسعود ﷛ نے جوازِ متعہ کے اپنے مشہور فتوے سے رجوع فرمایا جیسا کہ قرطبی نے سورۃ المومنون کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔

    5-حضرت زید بن ثابت ﷛ نے حائضہ کے لیے طوافِ وداع کے مسئلے میں (اپنے قول سے)حضرت ابن عباس ﷛ کے فتوے کی طرف رجوع فرمایا(صحیح بخاری)

    6-حضرت ابن عباس ﷠ نے حاملہ بیوہ کی عدت کے مسئلے میں اپنا موقف چھوڑ کر حضرت ابی ہریرہ ﷛ کے فتوے کی طرف رجوع فرمایا(صحیح بخاری)

    7- امام ابو حنیفہ ؒ نے بہت سے مسائل میں اپنا قول ترک فرما کر اپنے دونوں شاگردوں کا فتوی قبول فرمایا۔

    8-اسی طرح فقہِ شافعی میں بکثرت امام شافعی ؒ کے ایسے اقوال ملتے ہیں جن میں ایک قول قدیم اور دوسرا جدید ہے جس کا معنی ہے کہ انہوں نے اپنا پرانا فتویٰ ترک کرکے نیا فتویٰ جاری فرمایا۔

    اسی قسم کی مثالیں بے شمار ہیں۔

    متاخرین علماء میں سے امام ابوالحسن اشعری اور ابن تیمیہؒ نے بھی مسئلہ تکفیر میں اپنے سابقہ مذہب سے رجوع کیا۔امام ذہبی نے امام بیہقی کے حوالے سےبیان کیا ہے کہ ابو حازم زاہدبن احمد سرخسی  فرماتے ہیں کہ امام اشعری ؒمیرے گھر واقع بغداد میں جب فوت ہونے لگے تو انہوں نے مجھے بلوایا اور فرمایا"گواہ رہنا کہ میں اہلِ قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں کہتا کیونکہ سب لوگ ایک ہی معبود کو مانتے ہیں اور (بظاہرنظر آنے والا اختلاف)صرف تعبیرات کے فرق کی وجہ سے ہے"

    میں (ذہبی)کہتا ہوں : میرا بھی یہی مسلک ہے اور اسی طرح ہمارے استاد امام ابن تیمیہ ؒ نے بھی اپنی زندگی کے آخری ایّام میں فرمایا تھا کہ"میں امت میں سے کسی کو کافر نہیں کہتا کیونکہ آپﷺ نے فرمایا: ]صرف مؤمن ہی وضوء کی حفاظت کرتا ہے[ لہذا جو بھی وضوء کے ساتھ نمازوں کی پابندی کرتا ہے وہ مسلمان ہے۔"

    امام ذہبی مزید فرماتے ہیں : ہمیں یہ خبر پہنچی کہ ابوالحسن اشعریؒ نے اپنے سابقہ موقف سے رجوع کیا اور بصرہ(کی مسجد)کے منبر پر چڑھے اور فرمایا: "میں قرآن کے مخلوق ہونے،(روز قیامت)اللہ تعالیٰ کی زیارت نہ ہونے اور شر(برائی)کے قدری کی بجائے فعلی ہونے کا عقیدہ رکھتا تھا،اب میں ان سب عقائد سے توبہ کرتا ہوں اور (ان عقائد کے حامل)معتزلہ کی تردید کرتا ہوں۔

    میں (امین اللہ پشاوری)بھی کہتا ہوں : ہم بھی اہل اسلام میں سے کسی کو کافر قرار نہیں دیتے جو"لاالہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ"کا اقرار کرتا ہو اور کسی ایسے علانیہ کفر کا ارتکاب نہ کرے جس (کے کفر ہونے)کی کھلی دلیل اللہ کی طرف سے موجود ہو،جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "(حکمرانوں کی اطاعت کرنا)سوائے اس کے کہ تمہیں (ان کا)ایسا علانیہ کفر نظر آجائے جس پر اللہ کی طرف سے کھلی دلیل موجود ہو۔

    جو لوگ محض گمانات،شبہات اور تسلسلات یا تاویلات کی بناء پر اہل اسلام کی تکفیر کرتے ہیں ،ہم ان سے برئ الذمہ اور بیزار ہیں اور ہم اہل اسلام میں سے حکام اور عوام اور علماء اور جہلاء،کسی کی بھی قطعاً تکفیر نہیں کرتے۔ہماری اس وضاحت کے بعد بھی ،جو کوئی بھی ہماری سابقہ تحریرات سے استدلال کرتےہوئے اہل اسلام کو کافر کہے وہ جھوٹا اور افتراء پر داز ہوگا۔

    اور میں اس بات پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا اور تائب ہوتا ہوں کہ ماضی میں مجھ سے ،بربناء خطاء(نہ کہ جان بوجھ کر)کسی مسلمان کی تکفیر ہوئی ہو اور اللہ کے فضل وکرم سے میری فتاویٰ جات میں کسی کی تکفیر معیّن موجود نہیں ہے،مسلمان پر واجب ہے کہ مسئلہ تکفیر میں بہت احتیاط سے کام لے کہ یہ بہت خطرناک معاملہ ہے،خصوصاً عوام کو اس سے بہت زیادہ بچنا چاہئے کیونکہ ان کے پاس واجبی علم موجود نہیں۔اپنی بات اسی پر ختم کرتا ہوں اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

    وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ صحبہ اجمعین

    کاتب السطور ابومحمد امین اللہ پشاوری

    26 ذی القعدہ 1434ھ​


    شیخ کے فتوی کا عکس:

    [​IMG]

    [​IMG]


    ّّّّّّّّّّ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    جزاک اللہ خیراـ اہل علم اپنی بات سے رجوع کرتے رہتے ہیں ـ یہ بات آل تکفیر کو معلوم نہیں کیونکہ ان کا علم سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ـ اللہ ان کے شر سے محفوظ رکھے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    جزاکم اللہ خیرا.
    بہت بڑی بات ہے رجوع کا ہونا علم کی علامت ہے جبکہ بات پر ڈٹ جانا اور غلط کے دلائل کا استعمال کرنا جہالت کی علامت ہے.
    اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ لو جو شیخ کے پہلے فتوی سے حکام پر کفر اور جہاد کا نا جائز استعمال کر رہے تھے وہ کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں اب ان کے علم کا امتحان ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں