جو اللہ چاہے اور تو چاہے

ابوعکاشہ نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏مئی 12, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    بسم اللہ الرحمن الرحیم ​


    “قتیلہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ تم لوگ شرک کرتے ہو، کہتے ہو “ جو اللہ نے چاہا اور تم نے چاہا “ اور کہتے ہو “ کعبہ کی قسم “تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ جب وہ قسم کھانا چاہیئں تو کہیں “ رب کعبہ کی قسم “ اور کہیں “ جو اللہ نے چاہا اور پھر تم نے چاہا “
    سنن نسائی ، امام نسائی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے ۔

    عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا “ جو اللہ نے چاہا اور آپ نے چاہا “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کہا کہ “ کیا تم نے مجھ کو اللہ کا ہمسر بنا دیا ، صرف اللہ نے جو چاہا وہی ہوا “سنن نسائی

    ابن ماجہ نے طفیل سے روایت کی کہ جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے ( ماں کی طرف سے) بھائی تھے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے خوب میں دیکھا کہ جیسے میں یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس آیا ، اور ان سے کہا کہ : تم بڑے اچھے لوگ ہوتے اگر یہ نہ کہتے کے کہ عزیر اللہ کے بیٹے تھے ، تو یہودیوں نے کہا ،اور تم لوگ بڑے ہی اچھے ہوتے ، اگر یہ نہ کہتے کہ “ جو اللہ نے چاہا اور محمد نے چاہا “

    پھر میرا گذر نصاری کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا ، تو ان سے کہا کہ کہ : تم بڑے ہی اچھے لوگ ہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ کہ عیسیٰ مسیح اللہ کے بیٹے تھے ۔ تو انھوں نے کہا : اور تم لوگ بڑے ہی اچھےہوتے اگر یہ نہ کہتے کہ “ جو اللہ نے چاہا اور محمد نے چاہا “

    جب صبح ہوئی تو میں نے بعض لوگوں کو اپنے خواب کی خبر دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بھی خبر دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ، “ کیا تم نے کسی سے اپنا خواب بیان کیا ہے ، میں نے کہا : ہاں ۔ تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر کہا : امابعد :
    “ طفیل نے ایک خواب دیکھا ہے ، اور اسے بعض لوگوں سے بیان بھی کیا ہے ، اور تم لوگ ایک کلمہ کہا کرتے تھے جس کے استعمال سے میں نے اب تک فلاں فلاں اسباب کی وجہ سے تمہیں نہیں روکا تھا ، تو اب تم لوگ یہ نہ کہوکہ “ جو اللہ نے چاہا اور محمد نے چاہا “ بلکہ یوں کہو کہ “ وہی ہوا جو اللہ نے چاہا “ُُُ

    جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم " ماشاء اللہ وشئت " کہنے والے سے کہا کہ " کیا تو نے مجھے اللہ کا ہمسر بنا دیا ؟" تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہا جائے جس نے آپ کو یا پھر اپنے کسی پیر ، امام ، عالم کو مخاطب کر کے کہے کہ "آپ کے سوال کوئی نہیں جس کی جناب میں مین پناہ لوں "

    کتاب التوحید
    محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ
    محمد لقمان سلفی
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,394
    جزاک اللہ خیر،

    آجکل بھی کہیں جاتے ہوئے کسی کو اپنے مال یا عیال کی دیکھ بھال کا کہتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے اور تمھارے حوالے ۔ ۔ ۔ ہمیں ایسے کلمات ادا کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے شرک کا ذرا سا بھی عنصر شامل ہو یا صرف شبہ پڑتا ہو۔
     
  3. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    جزاک اللہ خیر
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں