خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کے فضائل کا بیان

عبد الرحمن یحیی نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏مئی 1, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,312
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام المومنین
    سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کی فضیلت کابیان


    1 ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی وحی کے نزول کے بعد غارحراء سے واپس لوٹے توآپ کپکپاتے ہوۓ اپنی بیوي خدیجہ رضي اللہ تعالی عنہا کے پاس آۓ اورانہیں سارا قصہ سنایا اورکہنے لگے مجھے تواپنی جان کاخطرہ محسوس ہورہا ہے
    تووہ انہیں اطمنان دلاتے ہوۓ کہنے لگيں :
    اللہ تعالی کی قسم اللہ تعالی آّپ کوکبھی بھی رسوا نہیں کرے گا ۔
    اللہ کی قسم آپ توصلہ رحمی اور سچی بات کرتے ہیں ، اورآپ کمزوراور ضعیف لوگوں کا بوجھ اٹھاتے اورفقیر کی مدد کرتے اورمہمان کی مہان نوازی کرتے اور حق کی مدد کرتے ہیں ۔

    توخدیجہ رضي اللہ تعالی عنہا انہں لے کر چچازاد ورقہ بن نوفل کے پاس گئيں جو کہ جاھلیت میں نصرانی ہوگیا تھا ، جب انہوں ورقہ سے سارا قصہ بیان کیا تواس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوخوشخبری دیتے ہوۓ کہا :
    یہ تووہی پاکباز ناموس ہے جو موسی علیہ السلام پرنازل ہوا کرتا تھا ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کوتلقین کہ جب انہیں ان کی قوم اذيت دیں اورانہیں وہاں سے نکال دیں تو وہ صبر سے کام لیں ۔ صحیح بخاری کتاب بدء الوحی

    2 ۔ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوفہ میں سنا ،وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے :’’(زمین وآسمان کے اندر) جتنی عورتیں ہیں سب میں مریم بنت عمران علیھا السلام افضل ہیں اور (آسمان اور زمین کے اندر )جتنی عورتیں ہیں سب میں خدیجہ بنت خویلد ( رضی اللہ عنھا ) افضل ہیں۔
    ابوکریب نے کہاکہ وکیع نے آسمانوں اور زمین کی طرف اشارہ کیا۔

    3 ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ یارسول اللہ! یہ خدیجہ ایک برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آرہی ہیں ، اس میں سالن ہے یا کھانا ہے یا شربت ہے۔ پھر جب وہ آئیں تو آپ ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام کہیے اور میری طرف سے بھی اور ان کو ایک گھر کی خوشخبری دیجیے جو جنت میں خولدار موتی کا بنا ہوا ہے ، جس میں کوئی شور ہے اور نہ کوئی تکلیف ہے۔

    4 ۔ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی پر رشک نہیں کیا، البتہ خدیجہ رضی اللہ عنھا پر کیا حالانکہ میں نے ان کونہیں پایا (دیکھا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے :’’اس کا گوشت خدیجہ کی سہیلیوں کو بھیجو۔‘‘ ایک دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کیا اور کہا کہ خدیجہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے (دل میں ) اس کی محبت ڈال دی گئی ہے۔‘‘

    5 ۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیحہ رضی اللہ عنھا پر دوسرا نکاح نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں۔

    6 ۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ خدیحہ رضی اللہ عنھا کی بہن ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ رضی اللہ عنھا کا اجازت مانگنا یاد آگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا: ’’یا اللہ ! ہالہ بنت خویلد۔‘‘ مجھے رشک آیا تو میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یاد کرتے ہیں قریش کی بوڑھیوں میں سے سرخ مسوڑھوں والی ایک بڑھیا کو (یعنی انتہا کی بڑھیا جس کے ایک دانت بھی نہ رہا ہو، صرف سرخی ہی سرخی ہو، دانت کی سفیدی بالکل نہ ہو)جو مدت گزری فوت ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بہتر عورت دی (جوان باکرہ )۔(جیسے میں ہوں۔‘‘

    قاضی نے کہا کہ عورتوں کو ایسا رشک معاف ہے کیونکہ یہ ان کی طبعی عادت ہے اور اسی واسطے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنھا کو ایسا کہنے سے منع نہیں کیا اور میرے نزدیک اس کی وجہ یہ تھی کہ عائشہ رضی اللہ عنھا کمسن تھیں اور اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر خفا نہ ہوئے)۔

    صحیح مسلم کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ
    بَابٌ: فِيْ فَضَائِلِ خَدِيْجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ ،رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم


     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں