عافیہ کی استقامت اور خواب میں نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی بشارتیں :۔

غلام نبی نوری نے 'متفرقات' میں ‏مئی 2, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    عافیہ کی استقامت اور خواب میں نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی بشارتیں :۔
    عافیہ کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے ایک اپیل پوری دنیا کے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کی ۔اور یہ اپیل اس نے اپنی رہائی کے لیے نہیں کی بلکہ اس نے کہا کہ آپ لوگ میری یہ حالت دیکھ رہے ہیں مجھے برہنہ کرکے میرے سامنے قران کے اوراق ڈال دیئے جاتے ہیں اور مجھے ان پر (نعوذبالله) چلنے کا حکم دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کپڑے تب واپس ملیں گے جب تم قرآن کے اوپر چل کر آؤ۔۔۔ میں کیسے چلوں قرآن کے اوپر میں تو حافظ قرآن ہوں۔۔۔ پوری دنیا کے مسلمانوں !!! مجھے آزاد نہیں کروا سکتے تو کم از کم مجھے قرآن کی بے حرمتی سے تو بچا لو۔ اس کے بعد جج نے جب عافیہ کو 86سال کی سزا سنائی تو جج نے عافیہ کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر تم رحم کی اپیل کرنا چاہو تو میں کچھ سال کم کر دوں گا۔ لیکن اس عظیم بہن نے کہا کہ رحم کی اپیل تم سے نہیں کروں گی جج صاحب رحم کی اپیل تو میں اپنے رحیم و کریم رب سے کروں گی ۔ عافیہ کی گھر جب بھی فون پر کبھی رابطہ کروایا گیا تو اس نے ہمیشہ اپنی والدہ محترمہ کو حوصلہ دیا اور بتایا کہ میں پریشان نہیں ہوں مجھے اکثر خواب میں نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی زیارت ہوتی ہے اور حضرت امی عائشہ صدیقہ ؓ کے ساتھ تشریف لاتے ہیں اور مجھے انہوں نے بیٹی بنایا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں میری ملاقات ڈاکٹر فوزیہ صدیقی صاحبہ سے ہوئی تو انہوں نے ایک عجیب بات بیان فرمائی جس نے راتوں کی نیند چھین لی۔ انہوں نے بتایا کہ عافیہ سے امی کا رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میرے خواب میں نبی کرین صلی الله علیه وسلم تشریف لائے تھے اور میں نے ان سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی الله علیه وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے صرف اتنا ارشاد فرما دیں کہ میری آزمائش کب ختم ہوگی؟؟؟ تو آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ بیٹی یہ آپ کی آزمائش تو ہے ہی نہیں آپ تو آزمائشوں سے کئی اوپر جا چکی ہو ۔ یہ تو میری امت کی آزمائش ہے۔ میری امت کیا کرتی ہے ۔ یہ ان کی آزمائش ہے۔
    ہمیں سوچنا ہے اپنی اپنی ذات کو سامنے رکھ کر کہ ہم اس آزمائش پر کیسے پورا اتریں گے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    عافیہ کی گھر جب بھی فون پر کبھی رابطہ کروایا گیا تو اس نے ہمیشہ اپنی والدہ محترمہ کو حوصلہ دیا اور بتایا کہ میں پریشان نہیں ہوں مجھے اکثر[HIGHLIGHT]خواب میں نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی زیارت[/HIGHLIGHT] ہوتی ہے اور حضرت امی عائشہ صدیقہ ؓ کے ساتھ تشریف لاتے ہیں اور مجھے انہوں نے بیٹی بنایا ہوا ہے۔

    شیخ محترم رفیق طاھر صاحب اس کی وضاحت فرما دیں : تا کہ ھم سب کا رہنمائی ہو سکے :
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,876
    عافیہ کے علاوہ بھی امت مسلمہ کی بہت سی بیٹیاں ہیں ، انہی حالات سے دوچار ہیں ـ بعض اس سے زیادہ ہیں ـ لیکن ان کی استقامت ،ثابت قدمی کی طرف کسی کی توجہ نہیں ـ اس طرح کے مضامین اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنے کے لئے لکھتے جاتے ہیں ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    خواب میں نبیﷺ کی ”زیارت“ اسی کو ہوسکتی ہے جس نے خود نبیﷺ کو انکی ”زندگی“ میں دیکھا ہو۔ لہذا اس طرح کے ”واقعات و اقوال “کا کوئی وزن نہیں۔ اللہ تعالٰی ہماری ”حالت“ پر رحم کرے آمین ثم آمین !
     
  5. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    محترم ٹی کے ایچ صاحب مجھے یہ بتائیں کی کیا اگر اب کسی نو نبی اکرم ﷺ کی زیارت ہو جائے تو یہ بکواس ہے؟ اس طرح کے واقعات کا کوئی وزن نہیں؟
     
  6. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    محترم زرا اس امر کی وضاحت فرما دیں۔ کہ اللہ کا قرآن اشاد فرماتا ہے کہ
    النبی اولی بالمومنین من انفسھم (ـپاہ نمبر 21 سورہ 33 آیت نمبر 6)
    ترجمہ۔ کہ نبی اکرم ﷺ مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
     
  7. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    مکرمی ! ہمارے پاس نبیﷺ کو خواب میں پہچاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ہم خواب میں بھی اسی شخص کو پہچان سکتے ہیں جن کو ہم نے اپنی زندگی میں دیکھا ہو ۔اسی لیے میں نے کہا تھا کہ ان غلو پسندانہ باتوں کا کوئی وزن نہیں ہے۔
     
  8. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    استغفر اللہ۔آپ نے تو اس طرح ہزاروں رویات کی نفی کردی، جن محدیثن آئمہ اکرام ، مفسرین اور تبہ تابعین کو حضور ﷺ نے زیارت بخشی ہے بقول آپ کے وہ تو سب جھوٹ ہی روایت کرگئے نا؟
     
  9. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    اگر آپ وضاحت پسند فرمائیں تو میں آپ کو سینکڑوں ایسے دلائل پیش کر سکتا ہوں جن سے واضح ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ خواب میں تشریف لائیں تو نبی اکرم ﷺ بھی قصد ارادے کے ساتھ تشریف لاتے ہیں اور جس کے خواب میں تشریف لائیں اسے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ ہی ہیں
     
  10. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    باقی آپ کا اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھ کر بندے کو پہچان نہیں ہوتی تو آپ کی اس بات میں قبر کے آخر سوال کی بھی نفی ہے ، کیونکہ وہاں پر سوال ہوگا کہ( ما کنت تقولو فی حق ھذاالرجل) ھذا کا لفظ قریب کے لیے استمعال ہوتا ہے روایات میں آتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک پر نظر پڑے گی پھر پوچھا جائے گا کہ تو ان کے بارے میں کیا کہتا تھا،
    تو بقول آپ کے وہاں پہلی بار کیسے پہچانیں گےَ؟
     
  11. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    میرے خیال میں آپ سمجھ چکے ہیں؟
     
  12. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اللہ اعلم
     
  13. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    خواب میں دیدار نبی صلی اللہ علیہ وسلم

    شیخ مقصود الحسن فیضی

    حديث ۔۔۔

    عن أبي ھریرہ رضی اللہ عنہ قال: قال الرسول الله صلى الله عليه وسلم : من رآنی فی المنام فقد رآنی فان الشیطان لا یتمثل بی ۔

    صحیح البخاری : ۱۱۰ العمل ، صحیح مسلم : ۲۲۶۶ ا لرؤیا

    ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا ، اصلاً کہ شیطان میری مثال نہیں بنا سکتا میری صورت اختیار نہیں کر سکتا

    ﴿ صحیح بخاری و صحیح مسلم ﴾

    تشریح : ہر مسلمان کی یہ خواہش رہتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم کا دیدار کر لے ، اوریہ خواہش اسکے سچے محب ِرسول ہونے کی دلیل ہے -

    جیسا کہ نبی صلى الله عليہ وسلم کا ارشاد ہے:

    میری اُمت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میری وفات کے بعد آئیں گے اور ان کی خواہش ہوگی کہ وہ مجھے دیکھنے کے لئے اپنے اہل و مال سب کچھ صَرف کردیں

    ﴿ صحیح مسلم ، مسند احمد ﴾
    آپ صلى الله عليہ وسلم کا یہ فرمان اس بات کی غُمازی کر رہا ہے کہ اس اُمت میں ایسے بھی محبِ رسول پیدا ہوں گے جنکے نزدیک آپ صلى الله عليہ وسلم کی صحبت اور آپ صلى الله عليہ وسلم کے نورانی چہرے کی طرف نظرسے بڑھ کر کوئی اور چیز نہ ہوگی ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے انکے اس نیک جذبے کی قدر کی اور خود حبیب الہی رسول اکرم صلى اللہ عليہ وسلم بھی ان لوگوں سے ملاقات کے متمنی رہے جیسا کہ ایک بار آپ صلى اللہ عليہ وسلم قبرستان کی طرف نکلے ، اہل قبور کو سلام کیا اور صحابہ کرام سے فرمایا :ہماری خواہش ہے کہ اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ ہمارے ساتھی ہو ، ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے

    ﴿صحیح مسلم ، مسند احمد ﴾

    آپ صلى اللہ عليہ وسلم کے اس دنیا سے رُخصت ہوجانے کے بعد حالت بیداری میں تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم کا دیدار ممکن نہیں ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے اپنے محبوب نبی اکرم صلى اللہ عليہ وسلم کا دیدار خواب میں کرا دیتا ہے ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس خصوصیت سے نوازا کہ شیطان آپ صلى اللہ عليہ وسلم کی شکل اختیار نہیں کر سکتا جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ قدرت دی ہے کہ جس مخلوق کی شکل چاہے اختیار کر لے سوا ئے نبی صلى اللہ عليہ وسلم کے، تاکہ جو شخص بھی آپ صلى اللہ عليہ وسلم کو خواب میں دیکھے اسکا خواب سچا ہو، جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہوتا ہے لہذا جو شخص خواب میں نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کو دیکھتا ہے ، تو یہ سمجھا جائے گا کہ یقیناًوہ شخص رؤیت نبوی سے مشرف ہوا ہے ، البتہ اس سلسلے میں یہاں چند اہم باتیں دھیان میں رکھنا نہایت ضروری ہے۔

    • ضروری ہے کہ خواب میں نبی صلى اللہ عليہ وسلم کو اس شکل میں دیکھا جائے جس شکل میں آپ صلى اللہ عليہ وسلم دنیا میں موجود رہے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ شیطان کسی بزرگانہ شکل میں آئے اور اس مغالطے میں ڈال دے کہ یہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم ہیں درآں حالیکہ وہ صورت کسی اور بزرگ کی ہو کیونکہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے یہ فرمایا کہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا ۔ اسی لئے صحیح بخاری میں زیر ِبحث حدیث کے بعد امام محمدبن سیرین کا یہ قول مذکور ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کو آپ ہی کی صورت میں دیکھا جائے ۔ اسی طرح ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اورعرض کرتا ہے کہ میں نے آج رات نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے ، انھوں نے فرمایا کہ جسے دیکھا ہے اسکی صفت بیان کرو ، اس نے کہا کہ وہ شکل حسن بن علی رضي اللہ عنهما جیسی تھی تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنهما نے فرمایا : تم نے حقیقت میں دیکھا ہے

    ﴿ فتح الباری ۱۲ص ۳۸۴ ﴾

    • محبِ رسول کو چاہیے کہ آپ کے حلیہ مبارک کو یاد رکھے تاکہ شیطان اسکو دھوکہ میں نہ ڈال سکے ۔ کسی عالم سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے خواب میں اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی داڑھی بالکل سفید تھی وغیرہ ، اُس عالم نے اسے فوراً ٹوکا اور فرمایا کہ یہ خواب سچا نہیں ہے کیونکہ وفات تک نبی صلى اللہ عليہ وسلم کی داڑھی کے صرف چند بال ہی سفید ہوئےتھے ۔

    • علمائے اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ اگر خواب میں نبی صلى اللہ عليہ وسلم کسی کو کوئی ایسی بات بتلائںم یا کوئی ایسا حکم دیں جو شریعت کے خلاف ہے تو اس پر عمل جائز نہ ہوگا کیونکہ اولاً تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم کی وفات سے قبل دین مکمل ہو چکا تھا ، ثانیا آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا لیکن یہ نہیں فرمایا کہ شیطان میری طرف کوئی بات منسوب نہیں کرسکتا ۔

    • اگر کوئی شخص نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کو خواب میں دیکھتا ہے تو اس رؤیت کی وجہ سے وہ صحابی شمار نہ ہوگا اور نہ ہی یہ اسکے متقی وپرہیزگار ہونے کی دلیل ہے ۔

    • نبی صلى اللہ عليہ وسلم کے دیدار کی خواہش رکھنے والے کو چاہیے کہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم کو کثرت سے یاد رکھے ، آپ صلى اللہ عليہ وسلم کی سیرت و شمایل کا مطالعہ کرے ، آپ صلى اللہ عليہ وسلم کی محبت اپنے دل میں راسخ کرنے کی کوشش کرے ، آپ صلى اللہ عليہ وسلم پر بکثرت درود بھیجے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کا دیدار کرادے، آپ صلى اللہ عليہ وسلم کے دیدار کے حصول کا یہی سب سے بڑا اور کامیاب نسخہ ہے ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ خواب میں نبی صلى اللہ عليہ وسلم کو نہ دیکھتا ہوں ﴿ الشفا ﴾ البتہ اسکے لئے خصوصی نمازیں پڑھنا اور اس میں کچھ خاص قسم کے اذکار کا اہتمام کرنا غیر شرعی اور بدعی طریقہ ہے ۔

    فوائد :

    • نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کی خصوصیت کہ شیطان مردود آپ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔

    • آپ صلى اللہ عليہ وسلم کے دیدار کی تمنا ایک نیک خواہش اور محب رسول ہونے کی دلیل ہے ۔

    • سارے مسلمان بحیثیت ایک مسلمان نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کے بھائی ہیں ، البتہ بحیثیت مقام و مرتبہ کے کوئی بھی آپ کا ہم پلہ نہیں ہے ۔

    • صحابہ کرام کی فضیلت کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں صحبت نبوی سے نوازا ہے ۔

    http://forum.mohaddis.com/threads/خواب-میں-دیدار-نبی-صلی-اللہ-علیہ-وسلم.21276/
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  14. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    محمد عامر بھائی یہ اورپر اعتراض کرنے والا کوئی بچہ ہے جو اپنا سکہ جمانے کے لیے زہنی قیاس آرائی سے کام لیتا ہے،
     
  15. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    مکرمی ! میں صرف اتنا پوچھتا ہوں کہ کیا عافیہ صدیقی نے نبیﷺ کو اپنی زندگی میں دیکھا ہے ،یقیناً نہیں، تو پھر اس نے نبیﷺکو کیسے پہچان لیا ؟ دورِقدیم کی شخصیات کا ادب و احترام لازم ہے مگر ان کی کسی بات کو نہ ماننا کفر وایمان کا معاملہ ہرگز نہیں ہے۔ باقی رہا قبر کے متعلق نبیﷺ کی زیارت تو اس مخصوص معاملے کو دنیاوی معاملے پر قیاس کرنا غلط ہے۔عالمِ برزخ میں تو بہت سی ایسی باتیں جو انسان دنیاوی زندگی میں نہیں جان سکتا ،وہ بھی ظاہر ہو جائینگی۔آپکی بات اُن لوگوں کے لیے یقیناً حجت ہے جو اسلاف و روایت پرستی میں غرق ہو کر بزرگوں کے قصے کہانیوں کو وحیِ الہٰی سمجھتے ہیں۔
     
  16. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    یہی تو سوال ہے کہ ”حلیہ مبارک“ عافیہ صدیقی یا کسی غیر صحابی کیسے پہچان سکتا ہے جب کہ کسی نے نبیﷺ کو انکی زندگی میں نہیں دیکھا ؟
     
  17. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بھائی اصل بات یہ ہے کہ عافیہ صدیقی کے بارے میں یہ بات کیسے ہم تک پہنچ گئی جبکہ ان کو تو کافی عرصے سے بند رکھا گیا ہے۔ کیا آپ کے پاس اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت ہیں۔
    دوسری بات یہ ہے کہ کیا واقعی عافیہ صدیقی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھا ہے۔ اسطرح تو ہمارے ملک میں دھوکہ دینے والے کچھ پیر آئے روز یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا جیسے طاہر القادری کی مثال ہے ۔
    اس معاملہ میں احتیاط ضروری ہے۔ واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  18. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    بہت اچھی بات کہی آپ نے ۔المیہ یہ ہےکہ ہماری عوام اور بھیڑوں میں کوئی فرق نہیں۔ جہاں خواص چلائیں گے سو آنکھیں بند کر کے چلیں گے۔ اللہ تعالٰی ہم پر رحم کرے !
     
  19. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ممکن ہے۔

    از حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ

    سوال: آپ نے لکھا ہے کہ ’’یاد رہے کہ اس فانی دنیا میں نبی کریم ﷺ کا دیدار ہونا کسی صحیح حدیث یا آثار سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے۔ اگر اس طرح دیدار ہوتا تو صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کو ضرور ہوتا ، مگر کسی سے بھی اس کا کوئی ثبوت نہیں آیا۔ رہے اہلِ تصوف اور اہل خرافات کے دعوے تو علمی میدان میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔‘‘ (ماہنامہ الحدیث: ۶۲ص۱۱)

    اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ کیا خواب میں نبی کریم ﷺ کا دیدار ناممکن ہے؟ (اعظم المبارکی)

    الجواب:

    اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں عالَم بیداری میں نبی کریم ﷺ کا دیدار کسی صحیح حدیث یا آثار سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے لہٰذا شعرانی وغیرہ قسم کے مبتدعین جو دعوے کرتے رہے ہیں، وہ سارے دعوے غلط اور باطل ہیں، علمی و تحقیقی میدان میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

    شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا : بیداری میں نبی کریم ﷺ کی رویت محال (ناممکن) ہے۔ (التحذیر من البدع لابن باز ص ۱۸، الرؤی والا حلام فی سیرۃ خیرالانام لاسامۃ بن کمال ص ۹۸)
    رہا عالَم خواب اور نیند میں نبی ﷺ کا دیدار ہونا تو بالکل صحیح اور برحق ہے، بشرطیکہ دیدار کا دعویٰ کرنے والا ثقہ اور اہل حق میں سے ہو، اس نے نبی ﷺ کو آپ کی صورتِ مبارکہ پر ہی دیکھا ہواور یہ خواب دلائلِ شرعیہ کے خلاف نہ ہو۔

    بطور فائدہ عرض ہے کہ راقم الحروف نے کافی عرصہ پہلے لکھا تھا: [HIGHLIGHT]’’رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا جا سکتا ہے بشرطیکہ آپ ﷺ کو آ پ ﷺ کی صورت پر دیکھا جائے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کو خواب میں جو دیکھا تو یہ بالکل صحیح ہے وہ آپ ﷺ کی صورت مبارک پہچانتے تھے۔ ان کے بعد جو بھی دیکھنے کا دعویٰ کرے گا تو اگر اس کا عقیدہ صحیح ہے تو پھر اس کے خواب کو قرآن و حدیث و فہم سلف صالحین پر پیش کیا جائے گا، ورنہ ایسے خوابوں سے دوسرے لوگوں پر حجت قائم کرنا صحیح نہیں ہے۔[/HIGHLIGHT]

    [HIGHLIGHT]یہ بات بالکل صحیح ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شکل مبارک میں شیطان لعین ہرگز نہیں آ سکتا مگر کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ شیطان جھوٹ نہیں بول سکتا اور کسی دوسری شکل میں آ کر کذب بیانی سے اسے کسی مومن اور صالح شخص کی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔ [/HIGHLIGHT]

    بیداری میں دیکھنے کے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں:

    ۱۔ عہد نبوی میں جس نے آپ ﷺ کو خواب میں دیکھا تو وہ پھر بیداری میں بھی ضرور دیکھے گا لہٰذا یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خاص ہے:
    ۲۔ اگر اس حدیث کو عام سمجھا جائے تو پھر دیکھنے والا قیامت کے دن آپ ﷺ کو بیداری میں دیکھے گا۔ ‘‘ (دیکھئے ماہنامہ الحدیث: ۴۰ ص ۱۲-۱۳(

    فی الحال تین خواب پیش ِ خدمت ہیں، جن کی سندیں بھی صحیح ہیں اور خواب دیکھنے والے ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے:

    ۱: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ کو خواب میں دیکھا۔ دیکھئے مسند احمد (۲۴۲/۱و سندہ حسن لذاتہ) اور ماہنامہ الحدیث (عدد ۱۰ص ۱۴-۱۶(

    ۲: مشہور ثقہ امام ابو جعفر احمد بن اسحاق بن بہلول نے فرمایا: میں اہلِ عراق کے مذہب پر (یعنی تارکِ رفع یدین) تھا پھر میں نے نبی ﷺ کو خواب میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ پہلی تکبیر، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھا کر رفع یدین کرتے تھے۔ (سنن الدارقطنی ۲۹۳/۱ ح ۱۱۱۲، و سندہ صحیح)

    ۳: حافظ الضیاء المقدسی نے فرمایا کہ میں نے حافظ عبدالغنی (بن عبدالواحد بن علی المقدسی رحمہ اللہ) کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا، میں آپ کے پیچھے چل رہا تھا اور میرے اور آپ کے درمیان ایک دوسرا آدمی تھا۔ (سیر اعلام النبلاء 469/21)

    بہت سے لوگ جھوٹے خواب اور باطل روایات بھی بیان کرتے ہیں، مثلاً محمد زکریا دیوبندی نے لکھا ہے:

    ’’حافظ ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ باہر جا رہا تھا۔ میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ جب وہ قدم اٹھاتا ہے یا رکھتا ہے تو یوں کہتا ہے: اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد۔

    میں نے اس سے پوچھا کیا کسی علمی دلیل سے تیرا یہ عمل ہے؟ (یا محض اپنی رائے سے) اس نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا: سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ۔۔میں نے پوچھا یہ درود کیا چیز ہے؟ اس نے کہا، میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گیا تھا۔ میری ماں وہیں رہ گئی (یعنی مر گئی) اس کا منہ کالا ہو گیا اور اس کا پیٹ پھول گیا جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کوئی بہت بڑا سخت گناہ ہوا ہے۔ اس سے میں نے اللہ جل شانہ کی طرف دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو میں نے دیکھا کہ تہامہ (حجاز) سے ایک ابر آیا اس سے ایک آدمی ظاہر ہوا۔ اس نے اپنا مبارک ہاتھ میری ماں کے منہ پر پھیرا جس سے وہ بالکل روشن ہو گیا اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کون ہیں کہ میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تیرا نبی محمد ﷺ ہوں۔ میں نے عرض کیا مجھے کوئی وصیت کیجئے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی قدم رکھا کرے یا اٹھایا کرے تو اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد ۔ پڑھا کر۔ (نزہۃ) ۔ ‘‘ [فضائل درود ص ۱۲۳-۱۲۶، تبلیغی نصاب ص ۷۹۳، ۷۹۴)

    یہ بالکل جھوٹی حکایت ہے۔ (چاہے اس سے خواب مراد ہو یا عالم بیداری کا واقعہ)۔ جس میں نبی ﷺ کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپ نے غیر عورت کے چہرے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ اتنے شرم و حیا والے تھے کہ آپ نے اپنی ساری زندگی میں کسی غیر عورت سے ہاتھ تک نہیں ملایا تھا۔ یہ حکایت نزہۃ المجالس نامی کتاب میں نہیں ملی اور اگر اس کتاب میں مل بھی جائے تو بھی باطل ہے۔ عبدالرحمٰن صفوری (متوفی ۸۹۴ ھ) کی ( بے سند روایات والی) کتاب : ’’نزہۃ المجالس و منتخب النفائس‘‘ ناقابل اعتماد کتاب ہے ۔ برہان الدین محدث دمشق نے اس کتاب کو پڑھنے سے منع کیا اور جلال الدین سیوطی نے اس کے مطالعے کو حرام قرار دیا۔ دیکھئے کتاب: کتب حذر منھا العلماء (ج ۲ص ۱۹)

    تنبیہہ: اس قسم کا ایک ضعیف و مردود واقعہ ایک مرد میت کے بارے میں ابن ابی الدنیا کی کتاب المنامات (ح۱۱۸) میں لکھا ہوا ہے لیکن غیر عورت کے بارے میں اس طرح کا کوئی واقعہ کہیں بھی نہیں ملا اور نہ ابو نعیم کی کسی کتاب میں اس کا کوئی نام و نشان ہے۔ (۷/ ستمبر ۲۰۰۹ء)

    http://forum.mohaddis.com/threads/خ...-ممکن-ہے-از-حافظ-زبیر-علی-زئی-حفظہ-اللہ.3378/
     
  20. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    یہی تو سوال ہے بھائی ! کیا عافیہ صدیقی نبیﷺ کے دور میں موجود تھیں ؟ صحابہ کا دیکھنا تو یقیناً حق تھا کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں نبیﷺ کوانکے حلیے میں دیکھا تھاجبکہ ہم نے نہیں دیکھا ۔ پتہ نہیں جب دیوبندی حضرات ایسے قصے کہانیوں کو پیش کرتے ہیں تو انکی تو پُر زور تردید کی جاتی ہے مگر طبقہء اہلِ حدیث کے بزرگوں کے لیے سب جائز ہو جاتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ ثقہ راوی طبقہء اہلِ حدیث کی نظر میں معصوم عن الخطاء کے معنی میں مستعمل ہے گو وہ زبان سے کتنا ہی انکار کریں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں