کیا دجال کے حوالےسے بخاری کی یہ حدیث ضعیف ہے ؟

محمّد علی جواد نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏مئی 14, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمّد علی جواد

    محمّد علی جواد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    14
    http://www.urdumajlis.net/index.php...ی-پیدائش-اور-معجزات-کا-ذکر.34866/#post-475460 ..

    السلام علیکم و رحمت الله -

    دجال سے متعلق ایک حدیث میں ہے کہ :
    یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے نبی ﷺ نے دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان کی اس میں یہ بھی بیان کیا کہ دجال مدینہ کی ایک کھاری زمین پر آئے گا اور اس پر مدینہ کے اندر داخل ہوناحرام کر دیا گیا ہے۔ اس دن اس کے پاس ایک شخص آئے گا جو بہترین لوگوں میں سے ہوگا۔ اور کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی دجال ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے۔ دجال کہے گا اگر میں اس شخص کو قتل کر کے پھر وہ زندہ کر دوں تو پھر میرے معاملہ میں تجھے شک تو نہ ہوگا، لوگ کہیں گے نہیں، چنانچہ وہ اس کو قتل کرے گا اور پھر وہ زندہ کرے گا جب وہ اس کو زندہ کرے گا تو وہ شخص کہے گا واللہ آج سے پہلے مجھے اس سے زیادہ متعلق حال معلوم نہ تھا تو وہی دجال ہے پھر دجال کہے گا میں اسے قتل کرتا ہوں لیکن اسے قدرت نہ ہوگی۔ (صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1808 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 55 متفق علیہ 22)

    اس پرایک صاحب نے اعتراض کرتے ہوے لکھا ہے کہ مذکورہ بالا صحیح بخاری کی اس حدیث میں اضطراب ہے اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے-

    مذکورہ حدیث میں دجال کے بارے میں بیان ہے کہ وہ وہ امّت کے ایک بہترین شخص کو قتل کرے گا اور پھرزندہ کردے گا- جب کہ قرآن کریم میں اس آیت کے مطابق کہ: وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ (الله کے حکم سے مردے میں جان ڈال دیتا ہوں)- الله کے برگزیدہ نبی حضرت عیسی علیہ سلام کا معجزہ بیان ہوا ہے جو انہی کے ساتھ خاص ہے - اور معجزہ کسی غیر نبی کو عطا نہیں ہو سکتا - معجزہ الله کے انبیاء کا ہی وہ مافوق العادت یا خرق عادت فعل ہے جسکو اللہ تعالیٰ کسی نبی کی صداقت کے لئے دنیا پر ظاہر کرتا ہے- الله رب العزت کا ارشاد ہے کہ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ سوره غافر ٧٨ (اور کسی رسول کے لئے یہ ممکن نہیں کہ کوئی معجزہ اذنِ الہیٰ کے سوا ظاہر کر سکے)- اب اگر یہی کام یعنی مردوں کو زندہ کرنا ایک غیر نبی (دجال ) سے ثابت ہو گیا توحضرت عیسی علیہ سلام کے فعل کو کیا کہا جائے گا؟؟؟ - ظاہر ہے کہ پھر ان کا مردوں کو زندہ کرنے والا فعل معجزہ نہ رہا؟؟-

    اس پررہنمائی فرمائیں -
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 14, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,940
    مختصر یہ کہ
    خرق عادت کام کسی نبی سے ظاہر ہو
    نبوت سے قبل تو ارھاص
    نبوت کے بعد تو معجزہ
    کسی ولی اور نیک شخص سے ظاہر ہو تو کرامت
    کہلاتا ہے ۔
    اور اس سے انکی عزت افزائی مقصود ہوتی ہے اللہ کو

    اور اگر کسی بد آدمی سے ظاہر ہو اور اس میں عبرت ہو تو وہ اہانت کہلاتا ہے ۔
    اس میں اس شخص کی ذلت مقصود ہوتی ہے

    اور اگر کسی بد شخص سے ظاہر ہو لیکن اس میں بظاہر اس شخص کی اہانت نہ ہو بلکہ عزت ہو تو وہ استدراج کہلاتا ہے
    اس سے اس شخص کی بھی اور دیگر اسے دیکھنے والوں کی بھی آزمائش مقصود ہوتی ہے اور بالآخر اس شخص کو ذلیل ورسوا کیا جاتا ہے

    مزید تفصیل اور دلائل و مثالیں جاننے کے لیے یہ سماعت فرما لیں

    http://www.rafeeqtahir.com/ur/play-dars-42.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  3. محمد علی جواد

    محمد علی جواد -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 30, 2012
    پیغامات:
    1
    السلام و علیکم و رحمت الله -

    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ہی طرح کا خرق عادت کام دوانسان کررہے ہوں تو ان میں نیک و بد یا نبی و غیرنبی کا امتیاز کس بنیاد پر ہوگا ؟؟؟ یعنی حق و باطل کا فیصلہ کس طرح ہو گا ؟؟ - ظاہرہے اگر ایسی صورت میں عوام دھوکہ کھا جاتی ہے تو وہ معذور ہو گی؟؟ کیوںکہ خرق عادت فعل کے معاملے میں معجزہ اور استدراج میں امتیاز کرنا آسان کام نہیں ؟؟

    مثال کے طور پر جادوگروں نے جب فرعون کے دربارمیں رسیاں پھینکی تو لوگوں کی آنکھوں پر سحرکردیا- لوگ حقیقت میں ان رسیوں کی سانپ سمجھ بیٹھے - لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ سلام نے اپنا عصاء پھینکا تو وہ حقیقی اث دھا بن گیا -یہ دیکھ کر جادوگرسجدے میں گر پڑے -کیوں کہ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ کام کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں- اب ظاہر ہے کہ اگرجادوگر بھی اسی طرز پر کوئی استدراجی فعل کر گذرتے جس طرح کا حضرت موسیٰ علیہ سلام کا فعل تھا- تو حق و باطل میں کیسے امتیاز ہوتا ؟؟
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,940
    کیا آپ نے محولہ بالا درس سن لیا ؟
    اگر نہیں تو پہلے اسے سن لیں اسکے بعد جو اشکالات ہوں وہ پیش کیجئے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. محمّد علی جواد

    محمّد علی جواد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    14
    ابھی نہیں سنا -
    جی ضرور اپنے اشکالات پیش کروں گا-
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں