تازہ ترین خبریں اپ ڈیٹ ۔۔۔۔ 2016

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏جولائی 6, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اس تھریڈ میں جولائی 2015 تازہ ترین خبریں اپ ڈیٹ کی جائیں گی
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 8, 2015
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    تحریک انصاف نے رینجرز اختیارات میں توسیع کیلئے سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی

    کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف نے رینجرز اختیارات میں توسیع کیلئے سندھ اسمبلی سیکرٹریٹ میں قرارداد جمع کرا دی ۔سندھ اسمبلی میں قرارداد تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے جمع کرائی۔

    سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ رینجرز اختیارات میں توسیع کیلئے قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع کرا دی ہے ،حکومت جلد سندھ اسمبلی کا اجلاس بلائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ور کراچی میں رینجرز کی اشد ضرورت ہے ،ہم کراچی کوپولیس کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے ،کراچی پورے ملک کا 90فیصد ریونیو دیتا ہے ،رینجر کو ملزمان سے نمٹنے کیلئے اختیار ات دیئے جائیں۔

    خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ شہریوں کی خواہش ہے کہ رینجرز اختیارات میںتوسیع کی جائے ،رینجرز کے اختیار ات میں توسیع کےلئے ساتھ نہ دینے والی جماعتیں بھتہ خوری میںملوث ہیں۔

    http://dailypakistan.com.pk/karachi/08-Jul-2015/243488
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    دو روز قبل برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کے ایک کتب خانے سے دریافت ہونے والے ممکنہ طور پر قدیم ترین قرآنی نسخے نے کتاب اللہ کے بارے میں مستشرقین کی پھیلائی افواہوں اور اس میں تحریف کے من گھڑت دعوئوں کو جھوٹا ثابت کرتے ہوئے قرآن مجید کے ہرقسم کی تحریف سے پاک ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برمنگھم یونیورسٹی کے زیر اہتمام قدیم ترین قرآن نسخے کے کاربن ریڈیو ٹیسٹ نے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن پاک کا یہ نسخہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرما نے کے کوئی 13 سال بعد مرتب کیا گیا تھا۔ گویا قرآن کے اس نسخے کو لکھنے والے صحابی رسول ہیں جو نبی کے زمانے میں حیات تھے اور یہ قرآن خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تحریر کیا گیا تھا۔

    قرآن کریم کا یہ نسخہ بھیڑ یا بکری کی جلد پر تحریر کیا گیا۔ کاربن ریڈیو ٹیسٹ سے 95.4 فی صد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھیڑ یا بکری کی کھال 568ء سے 645ء کے درمیان اتاری گئی تھی۔ سیرت نبوی کی کتب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت 23 اپریل 571ء بتائی جاتی ہے اور بعث نبوی کا آغاز سنہ 610 اور وفات رسول 632ء میں مدینہ منورہ میں ہوتی ہے۔ ٹیسٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کی کھال پر قرآن پاک کا یہ نسخہ لکھا گیا وہ بھی نبی اکرم کے دور میں موجود تھا۔

    برمنگھم یونیورسٹی میں قدیم اسلامی اور مسیحی مخطوطات کے ماہر پروفیسر ڈیود تھامس کہتے ہیں کہ یہ قرآن پاک کا یہ نسخہ ہمیں نبی اکرم آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے بہت قریب لے جاتا ہے۔ حجازی رسم الخط میں لکھے اس قدیم قرآنی نسخے نے قرآن پاک کے بارے میں بہت سے شکوک وشبہات کو ختم کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ قرآن پاک جیسا کہ نبی کے دور میں تھا ایسا ہی چودہ سو سال بعد آج بھی امت کے پاس اپنی اصل حالت میں موجود ہے اور اس میں کسی قسم کی تحریف نہیں کی گئی ہے۔

    پروفیسر تھامس کہتے ہین قرآن نسخے کا کاتب کوئی صحابی رسول ہے جس نے آخری نبی کی صحبت اختیار کی یا کم سے کم وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذاتی طورپر جانتا بھی تھا۔ اگر یہ بھی نہیں تو اس نے آپ کو ایک بار ضرور دیکھا ہو گا۔ جس دور میں قرآن کا یہ نسخہ لکھا گیا اس دور میں قرآن اگرچہ کسی مربوط کتابی شکل میں نہیں تھا۔ کچھ حصہ کجھور کی چھال پر، جانوروں کی کھال اور اونٹوں کی ہڈیوں پر لکھا گیا تھا۔

    صفحات قرآن موجودہ نسخوں کے مماثل
    پروفیسر تھامس کا کہنا ہے کہ جس جانور کی کھال پر قرآن پاک کا وہ حصہ لکھا گیا ہے اس کے کاربن ریڈیو ٹیسٹ سےپتا چلتا ہے کہ وہ آخری نبی کے دور کے بہت قریب تھا۔ اس کھال ہی نے قرآن کے اس قدیم ترین نسخے کی قدامت پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ قرآن پاک کے صفحات کی ترتیب بھی وہی ہے جو آج کے قرآنی نسخوں کی ہے۔

    قرآن پاک کے تحریف سے پاک اللہ کی کتاب ہونے کے بارے میں یہی کافی ہے۔ اس نسخے نے مستشرقین کے اس دعوے کو غلط ثابت کیا ہے کہ [نعوذ باللہ] موجودہ قرآن وہ نہیں جو نبی پر نازل ہوا بلکہ بعد میں مسلمانوں نے فتوحات اسلامیہ کے تناظر میں اس میں تحریف کر ڈالی تھیں۔ قرآن پاک کے قدیم نسخے نے آج کے انسان کو تیرہ سو سال قبل نبی اکرم کے دور کے بہت قریب کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن جیسے نازل ہوا ایسے ہی امت کے پاس آج بھی اصل اور محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اس میں ایک نکتے کے برابر بھی تبدیلی نہیں ہوئی۔

    کاربن ریڈیو تحقیقات سے کم سے کم موجودہ نسخے کے قدیم ترین ہونے کی تصدیق ہوتی، بالفرض اگر یہ قرآن کریم کا قدیم ترین نسخہ نہیں تب بھی اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن پاک ہر قسم کی اغلاط اور تحریفات سے پاک کتاب ہے۔

    جامع صنعاء کا قدیم نسخہ
    برمنگھم یونیورسٹی کی لائبریری سے ملنے والا قرآن پاک قدیم نسخہ کتاب اللہ کا پہلا پرانا نسخہ نہیں بلکہ خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں تیار ہونے والے قرآنی نسخوں کی کچھ نقول آج بھی مختلف مقامات پرموجود ہیں۔ اُنہی میں 15 ہزار لفافوں کی شکل میں ایک نسخہ یمن کی جامع صنعاء کی ایک لائبریری میں ہے جسے "قرآن صنعاء" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    یہ نسخہ سنہ 1972ء کو دریافت کیا گیا۔ یہ بھی حجازی رسم الخط میں تحریر کردہ ہے۔ اس نسخے پر جرمن ماہرین نے پروفیسر گیرڈ بوین کی قیادت میں تحقیقات کیں اور اسے قدیم ترین قرآنی نسخہ قرار دیا گیا تھا تاہم برمنگھم یونیورسٹی سے دستیاب ہونے والے قرآنی نسخے نے یمن کے نسخے کے قدیم ترین ہونے کا اعزاز چھین لیا ہے کیونکہ برمنگھم والا نسخہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں لکھا گیا جب کہ صنعاء والا نسخہ ان کے بعد حضرت عثما بن عفان رضی اللہ عنہ یا خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں لکھا گیا تھا۔

    پروفیسر بوین نے صنعاء کے قدیم قرآنی مخطوطات پر چار سال تحقیقات کیں اور بتایا یہ نسخہ زیادہ سے زیادہ رحلت نبوی کے 90 سال بعد لکھا گیا ہے۔ اگر وفات رسول کے نوے سال بعد کا عرصہ مقرر کیا جائے تو یہ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کا دور بنتا ہے۔ اگرچہ صنعاء کا نسخہ ایک مکمل کتابی شکل میں نہیں تاہم اس کی 3500 تصاویر حاصل کرکے اسے نئے انداز میں محفوظ کیا گیا ہے۔

    سیرت ابن ھشام کے مطابق کاتبین وحی کی تعداد 43 تھی۔ یہ صحابہ قرآن کی نازل ہونے والی آیات کو لکھ لیا کرتے تھے۔ کاتبین وحی میں عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابو طالب، زید بن ثابت، حارث بن ہشام، خنظلہ بن الربیع، عبداللہ بن سعد بن ابو سرح اور انصاری صحابی ابی بن کعب جیسے جلیل القدر صحابہ کرام کے نام شامل ہیں۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/editor...-سے-پاک-قرآن،-مستشرقین-کے-منہ-پر-طمانچہ-.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    سپرپاور امریکا کے سیاہ فام صدر براک اوباما نے اپنے ملک اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے نہ معلوم کیا کچھ کیا ہوگا مگر وہ اپنے آنجہانی والد اور خاندان کو کچھ ایسے فراموش کر بیٹھے ہیں کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے مسلمان غریب والد کی کینیا میں موجود قبر کی 'رکھوالی ان دنوں کتے، بلیاں اور مرغیاں' کر رہی ہیں۔ صدر اوباما کو اپنے والد کی ٹوٹی پھوٹی قبر کا خیال نہیں آیا مگر بھلا ہو کینیا کی حکومت کا جس نے اپنی غربت کے باوجود امریکی صدر کے والد کی آخری آرام گاہ کی مرمت کے لیے 10 لاکھ شلنگ یعنی 10 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی رقم مختص کی ہے۔

    کینیا میں موجود امریکی صدر کے والد کی قبر کی خستہ حالی پر العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک ایسے وقت میں روشنی ڈالی ہے جب صدر اوباما آج جمعہ کو کینا کا دورہ کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بیٹے کی آمد پر والد باراک حسین اوباما کی روح قبرپرانتظار کرے لیکن امکان یہ ہے کہ صدر اوباما کینیا کے حکام سے ساتھ عالمی اور علاقائی اموربات چیت میں کچھ ایسے مصروف ہوں کہ اُنہیں والد کی قبر کو سلام کہنے کی فرصت نہ ملے کیوںکہ انہیں آخر عالمی مسائل کی گتھیاں سلجھانے کے لیے کل ہفتے کو ایتھوپیا بھی پہنچنا ہے۔

    براک حسین اوباما کی قبر کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے 400 کلو میٹر دور افریقی ملک یوگنڈا کی سرحد سے متصل "کوغیلو" قصبے میں ہے۔ قبر کیا ہے؟ محض ایک گڑھا ہے۔ اگر کوئی اجنبی دیکھے تو اسے یقین نہیں آئے گا کہ یہ دنیا کی سپرپاور امریکا کے حاضر سروس صدر باراک اوباما کے والد کی آخری آرام گاہ ہے۔

    اگرچہ صدر اوباما ارب پتی نہیں لیکن ان کا شمار امریکا کے متمول لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان کی دولت کے اور کئی مصرف ہوں گے۔ اس لیے وہ آج تک والد کی قبر کی خستہ حالی دور کرنے کے لیے ایک دھیلہ تک صرف نہیں کرپائے ہیں۔ دو ماہ قبل کینیا کے محکمہ سیاحت نے اوباما کے والد کی آخری آرام گاہ کی مرمت کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے 1 ملین کینی شلن مختص کیے ہیں۔

    کینیا کی حکومت کی جانب سے باراک حسین اوباما کی صرف قبر کی مرمت کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ حکومت اسے ایک سیاحتی مرکزبنانے کےلیے کوشاں ہے کیونکہ قبر کی زیارت کرنے روزانہ دنیا بھر سے کم سے کم 30 افراد وہاں آتے ہیں۔

    کینیا کے ایک مقامی اخبار"Daily Nation" کی رپورٹ کے مطابق صدر اوباما پہلی بار سنہ 1987ء میں والد کی قبرپرآئے۔ جہاں انہوں نے ایک خاتون عزیزہ "ماما سارہ" سے ملاقات کی۔ ماما سارہ رشتے میں صدر اوباما کی دادی ہیں جو ان کے دادا حسین اونیانگو کی تیسری اہلیہ ہیں۔ اوباما کے دادا کی قبر بھی والد کی قبرکے قریب ہے۔ باراک اوباما کے والد جن کا پورا نام باراک حسین اوباما تھا سنہ 1982ء میں نشے کی حالت میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ تب 21 سالہ باراک اوباما امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھے۔

    والد زمین میں والدہ سمندر میں
    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق باراک اوباما نے 28 سال قبل اپنے والد کی قبر کی زیارت کی۔ کسی کویہ معلوم نہیں کہ والد کی قبر پرانہوں نے ایک مسلمان کے طورپر فاتحہ خوانی کی تھی یا نہیں۔ وہ کتنی دیر کھڑے رہے۔ یا یہ کہ انہوں نے عیسائی مذہب کے مطابق والد کی قبر پرکچھ دیر تعزیتی کلمات کہے۔ "کوغیلو" قصبے کی مقامی آبادی کے 3700 نفوس میں کوئی نہیں جانتا کہ اوباما کے نزدیک ان کے والد کی قبر کی کتنی حیثیت ہے کیونکہ مقامی لوگوں نے تو ان کی قبر کے آس پاس ہروقت کتے، بلیاں اور مرغیاں ہی پھرتی دیکھی ہیں۔

    صدر اوباما دوسری مرتبہ سنہ 2006ء میں کینیا کے دورے پرآئے۔ تب وہ امریکی کانگریس میں سینٹر تھے۔ان کے اس دورے میں ان کی اہلیہ مشل اوباما اور دونوں بیٹیاں بھی ہمراہ تھیں۔ نیوز ویب پورٹل news 24 کے مطابق کینیا آمد پروہ اپنے والد کی قبر پرحاضری دینے آئے لیکن انہوں نے قبر کی خستہ حالی پرکوئی توجہ نہیں دی۔

    مقامی اخبارات نے اوباما کے والد کے انتقال کے بارے میں مختلف کہانیاں شائع کی ہیں۔ زیادہ مشہور روایت کے مطابق باراک حسین اوباما کو جب کینیا کی ایک آئل کمپنی نے نوکری سے نکال دیا تو وہ ذہنی اور نفسیاتی طورپر بری طرح متاثر ہوئے تھے اور اس کے بعد انہوں نے شراب نوشی شروع کردی تھی۔ 45 سال کی عمرمیں باراک حسین نیروبی کے قریب ایک شاہراہ عام پر نشے کی حالت میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ پسماندگان میں انہوں نے آٹھ بیٹے اور پانچ بیگمات چھوڑیں۔ ان میں ایک یہودی بیوی بھی تھی جس سے ایک بیٹا ہوا۔ صدر اوباما کا یہودی سوتیلی ماں سے ہونے والے سوتیلے بھائی کا نام "مارک اوباما نڈیسانگو ہے اور وہ اس وقت چین میں ہے۔

    اوباما کی والدہ "آن ڈونھام" کی کوئی قبر نہیں۔ وہ سرطان میں مبتلا ہوئیں۔ سنہ 1995ء میں اپنی وفات سے قبل انہوں نے وصیت کی انتقال کے بعد ان کی میت کو جلا دیا جائے اور راکھ سمندر میں بہا دی جائے۔ سنہ 2008ء میں ان کی وفات کے بعد وصیت پرعمل کرتے ہوئے ہوائی کے سمندر میں بہا دی تھی۔
    http://urdu.alarabiya.net/ur/editor...کے-صدر-کے-والد-کی-خستہ-حال-مرقد-کا-نوحہ-.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں کے خلاف گذشتہ ایک سال سے جاری فضائی حملوں میں چار سو انسٹھ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

    انتہا پسندوں کے خلاف بین الاقوامی فضائی حملوں کی تفصیل جمع کرنے والے ایک پراجیکٹ ''فضائی جنگیں'' (ائیر وارز) نے سوموار کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں یہ اعداد وشمار فراہم کیے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں میں ستاون فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ''دوستانہ فائرنگ'' کے اڑتالیس واقعات میں بھی عام شہری مارے گئے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق اور شام میں فضائی حملوں میں داعش اور دوسرے گروپوں کے پندرہ ہزار سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔تاہم ائیر وارز کا کہنا ہے کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات کی تصدیق میں اسے مشکلات درپیش رہی ہیں۔

    امریکا نے 8 اگست 2014ء کو عراق میں اور 23 ستمبر کو شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ بعد میں بعض مغربی اورعرب ممالک بھی داعش کے خلاف اس فضائی میں امریکا کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوگئے تھے۔گذشتہ سال سے اب تک امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے عراق اور شام میں اٹھاون سو سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔

    امریکا نے اب تک ان حملوں میں صرف دو شہریوں کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہے۔یہ دو بچے تھے جو شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ پر گذشتہ سال ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔امریکی فوج کی جانب سے اس واقعے سے متعلق مئی میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس حملے میں دو بالغ افراد زخمی ہوئے تھے۔

    ''فضائی جنگوں'' نے دونوں ممالک میں دو یا زیادہ قابل اعتماد ذرائع کی بنیاد پر یہ اعداد وشمار فراہم کیے ہیں۔اس نے بالعموم تصاویری اور ویڈیو شواہد پر انحصار کیا ہے۔اس گروپ نے فضائی حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد وشمار فراہم کرنے کے لیے صحافیوں کی خدمات حاصل کی تھیں۔اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک غیر منافع بخش شفاف منصوبہ ہے۔لیکن اس نے اپنی پالیسی کی وضاحت نہیں کی ہے۔

    عراق میں امریکا کی قیادت میں فرانس ،برطانیہ، بیلجیئم، نیدر لینڈز،آسٹریلیا ،ڈنمارک اور کینیڈا کے لڑاکا طیارے داعش کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں۔اردن نے بھی شام کے علاوہ عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں لیکن اس گروپ نے ان کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

    شام میں امریکا کی قیادت میں داعش مخالف فضائی مہم میں سعودی عرب ،اردن ،بحرین اور متحدہ عرب امارات شریک ہیں۔کینیڈا نے اپنے طور پرمارچ میں شام میں داعش پر فضائی حملے کیے تھے جبکہ برطانیہ کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے بھی شام کی فضائی حدود میں نگرانی کے لیے پروازیں کرتے رہتے ہیں۔

    اس گروپ کے علاوہ برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق بھی شام میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تفصیل جاری کی ہے۔یہ گروپ شام میں موجود اپنے نیٹ ورک اور حکومت مخالف رضاکاروں کی فراہم کردہ اطلاعات پر انحصار کرتا ہے۔شامی آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ شام میں داعش مخالف فضائی مہم کے آغاز کے بعد سے ایک سو تہتر شہری مارے گئے ہیں اوران میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے تریپن بچے بھی شامل ہیں۔

    شام کے شمالی صوبوں الحسکہ ،الرقہ ،حلب اور دیرالزور میں تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور تیل کے کنووں کے نزدیک فضائی حملوں میں شہریوں کی زیادہ تر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ سب سے تباہ کن بمباری 4 مئی کو داعش کے زیر قبضہ شمالی گاؤں بئیر محلی میں کی گئی تھی اور امریکی اتحادیوں کے فضائی حملے میں چونسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں اکتیس بچے تھے۔

    تب پینٹاگان کے ترجمان نے اس فضائی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سرے سے انکار ہی کردیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں جن سے یہ پتا چل سکے کہ اس گاؤں میں عام شہری موجود تھے۔شام میں موجود حزب اختلاف کے دوسرے گروپوں نے بھی ان ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

    آبزرویٹری کے مطابق 8 جون کو امریکا کی قیادت میں اتحاد نے شام کے شمالی علاقے میں واقع داعش کے زیر قبضہ ایک گاؤں دلِ حسن پر فضائی بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/editor...ں-کی-داعش-مخالف-فضائی-مہم،-459-شہری-ہلاک.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  11. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  12. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  13. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  14. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  16. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  17. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  18. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  19. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  20. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں