" آخری عشرہ نیکیوں کا مقابلہ،،، خطبہ جمعہ مسجد نبوی23- رمضان- 1436

بابر تنویر نے 'خطبات الحرمین' میں ‏جولائی 23, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,320
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 23- رمضان- 1436کا خطبہ جمعہ " آخری عشرہ نیکیوں کا مقابلہ،،، اور عید کیلئے تعلیمات" کے موضوع پر ارشاد فرمایا جس کے اہم نکات یہ تھے:
    ٭ آخری عشرہ کی فضیلت ٭نیکیوں کی دوڑ٭ ابتدا اچھی نہیں تو اختتام اچھا بناؤ٭ آخری عشرہ اور نبوی منہج٭ اہل خانہ کو عبادت کیلئے ترغیب دلائیں٭ آخری عشرہ اور بازار٭ شب بیداری کا مفہوم٭ لوگوں کی نظروں سے اوجھل مناجات٭ قبولیت کیلئے خلوص نیت شرط ہے٭ عمل سے زیادہ نیت اہم ہے٭ عیدین کی تکبیرات٭ فطرانہ کی مقدار اور مقصد٭ نماز عید کی تیاری٭ خواتین اور عید گاہ٭ عید گاہ آنے سے پہلے طاق کھجوریں کھائیں٭ عید کی مبارک باد دینا مستحب ہے۔
    پہلا خطبہ:
    تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے ماہ رمضان کو اجر و ثواب اور فضیلتوں سے بھر پور بنایا، میں اسی کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے ہمیں آخری عشرہ نصیب کیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، تمام مخلوقات اور انکا کنٹرول اسی کے ہاتھ میں ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے اور رسول ہیں، آپ نے کمر کس کر لیلۃ القدر تلاش کی ، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک چاند دمکتا رہے، اور پو پھوٹتی رہے ۔
    حمد و صلاۃ کے بعد:
    میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}
    اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، جیسے اختیار کرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔ [آل عمران : 102]

    بہاروں کی بہار، فضیلتوں کا خزانہ، غنیمتوں کی تجوری؛ یہی بابرکت آخری عشرہ ہے، جو ہمارے درمیان سے گزرتا جا رہا ہے، اس میں پاکیزہ دلوں کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کا احساس ہوتا ہے، بارگاہِ الہی میں سربسجود جسموں سے گناہ جھڑتے ہیں، دعائیں ، صدائیں بلند اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، اور جنتوں کو نیک لوگوں کیلئے تیار کیا جاتا ہے۔
    اس عشرے میں رضائے الہی کیلئے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور میدان اطاعت میں مقابلے کا سماں ہوتا ہے، عقلمند اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے، اور موت کا کسی کو علم نہیں ہے، چنانچہ مسابقتی فضا اور مقابلے میں حصہ لینے پر مسلمان اپنے سے بڑے متقی، پرہیز گار، عبادت گزار، اور دعائیں کرنے والے سے بھی آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ }
    نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہی آگے ہی ہوں گے [10] یہی لوگ مقربین ہیں۔[الواقعہ : 10 - 11]

    ایسے ہی فرمانِ باری تعالی ہے:
    {فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ}نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو۔ [البقرة : 148]

    چنانچہ جو شخص دنیا میں نیکیوں کیلئے بازی لے جائے گا وہ آخرت کے دن جنتوں میں بھی آگے گا۔

    ابتدائے رمضان میں کمی کوتاہی کا شکار ہو کر رمضان کے آخری حصہ میں حق ادا کر دینے والا شخص اس سے بہتر ہے جو ابتدا میں حق ادا کر دے لیکن آخر میں سستی کا شکار ہو جائے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (بیشک اعمال کا دارو مدار اختتام پر ہوتا ہے) بخاری۔
    رمضان کا آخری عشرہ رمضان کے ابتدائی پورے 20 دنوں سے افضل ہے۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں بقیہ رمضان سے بڑھ کر محنت اور جدو جہد کرتے تھے اسی عشرے میں لیلۃ القدر کی تلاش کیلئے اعتکاف بھی بیٹھتے۔
    عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : "جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیتے، شب بیداری کرتے، اور اپنے اہل خانہ کو بھی بیدار رکھتے" بخاری
    یہ مختصر ترین تین جملے آخری عشرے میں نبوی مصروفیات کی خوبصورت تعبیر کر رہے ہیں؛ چنانچہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری امت کی ذمہ داریاں، دینی واجبات، اور گھریلو حقوق ہونے کے باوجود ، آخری عشرے میں آپ کی کیفیت کچھ اور ہی ہوتی تھی، آپ قیام و قعود، نماز و سجود اور ذکر و تسبیح میں مشغول رہتے تھے؛ آپ یہ سب کچھ کرتے تھے، حالانکہ آپ کی گزشتہ پیوستہ سب لغزشیں بھی معاف کر دی گئی ہیں۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم "اپنے اہل خانہ کو بھی بیدار رکھتے" یہاں والدین کیلئے تربیتی نقطہ بھی ہے، کہ اپنی اولاد کی عبادت کیلئے ہمت باندھیں، پورے گھرانے کو ترغیب دلائیں، چنانچہ جس طرح ہم انکی دنیاوی ضروریات کا اہتمام کرتے ہیں اسی طرح ان کی آخرت کی فکر کرنا اس سے بھی ضروری ہے۔
    گھر والوں کو عبادت کی ترغیب اور انہیں بیدار رکھنے کیلئے بڑے صبر و تحمل ، جانفشانی ، اور احساس ذمہ داری کی ضرورت ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم میں سے ہر ایک فرمان روا ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا بھی جائے گا)

    یہ بہت ہی محرومیت اور غفلت کی علامت ہے کہ خیر و برکت سے بھر پور بابرکت گھڑیوں کو انسان بازاروں، لہو و لعب اور سونے میں گزار دے، بلکہ یہ شیطان کے دھوکہ میں پڑنے کی دلیل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلًا}
    بیشک میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں ہے، اور تیرا رب کار سازی کیلئے کافی ہے۔[الإسراء : 65]

    "کمر کس لیتے" عبادت کیلئے مکمل چوکس ہونے کی طرف اشارہ ہے، جو اس بات کی غمازی بھی کرتا ہے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم معمول سے زیادہ عبادت کرتے تھے۔
    آخری عشرے کا وقت قیمتی ہے، اس میں بڑے ہی نفیس اور انمول لمحات ہیں؛ عین ممکن ہے رحمت کی کوئی برکھا تم پر برسے اور ابدی سعادت مند بن جاؤ، یا تمہاری کوئی دعا قبول ہو جائے اور تم جنتوں کی نعمتوں اور نہروں میں غوطہ زن ہو جاؤ۔
    "شب بیداری" کا مطلب ہے کہ آپ رات کا اکثر حصہ قیام کرتے، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : "میرے علم میں نہیں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں قرآن ختم کیا ہو، یا کبھی ساری رات فجر تک قیام کیا ہو، اور رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں" مسلم
    آخری عشرے میں لوگوں کی نظروں اور کانوں سے اوجھل ہو کر اللہ تعالی کیساتھ مناجات کی اپنی ایک مٹھاس ہے، کیونکہ ان مناجات میں دل کا تعلق مکمل طور پر اللہ کیساتھ ہوتا ہے، بلکہ کامل بندگی کیساتھ پوری شد و مد کے ذریعے اللہ تعالی سے معافی اور مغفرت کا طلبگار بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہی معاف کرنے والا اور مغفرت دینے والا ہے، ان مناجات میں دل رحمان و رحیم سے رحمت کا متمنی ہوتا ہے، انہی مناجات میں اللہ تعالی کیلئے حمد و ثنا، شکر و دعا، اور تقدیس و تعظیم کی جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (بیشک اللہ تعالی ایسے بندے سے محبت کرتا ہے جو متقی اور فراخ دل ہو لیکن شہرت پسند نہ ہو) صحیح مسلم

    یہ بات سب کیلئے عیاں ہے کہ اعمال کی قبولیت کیلئے اخلاصِ نیت بنیاد ہے، اور خصوصاً اس بنیاد پر اس عشرے میں عمل کرنا از بس ضروری ہے، کیونکہ نیت کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے، اور نیت اعمال کو بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے، چنانچہ سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں: "میں نے اپنی نیت سے بڑھ کر کسی چیز کا مقابلہ نہیں کیا، کیونکہ یہ پل میں بدل جاتی ہے"
    چنانچہ خالص نیت کا یہ تقاضا ہے کہ انسان کا عمل ، صدقہ، نمازیں، تلاوت قرآن سب کچھ اللہ کیلئے ہو، ان کے بدلے میں دولت، عزت ، شہرت یا کوئی اور دنیاوی غرض و غایت مقصود نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالی وہی قبول فرماتا ہے جو صرف اللہ وحدہ لا شریک کیلئے کیا جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ}
    خبردار! خالص عبادت ہی اللہ کیلئے ہے۔[الزمر : 3]

    اور یہ بات ذہن نشین کر لو کہ: نیت عمل سے زیادہ اہم ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی فرماتا ہے : میں کسی بھی شریک کو خاطر میں نہیں لاتا، چنانچہ جس شخص نے کوئی عمل میرے ساتھ کسی کو شریک بناتے ہوئے کیا تو میں اس کے عمل اور شریک دونوں کو چھوڑ دیتا ہوں)
    اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:
    تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں ، وہ بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، وہی بدلے کے دن کا مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، وہی گزشتہ و پیوستہ لوگوں کا معبود حقیقی ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے اور رسول ہیں، آپ متقی لوگوں کے ولی ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپکی آل ، تمام صحابہ کرام پر رحمت نازل فرمائے ۔
    حمدو صلاۃ کے بعد:
    میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے:
    {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ}اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، اور ہمیشہ سچے لوگوں کیساتھ رہو۔ [التوبہ : 119]
    چند دنوں کے بعد ماہِ رمضان کی تکمیل پر امت مسرور و شادمان ہوگی اور عید کی خوشیاں منائے گی، چنانچہ عید کا چاند نظر آنے سے لیکر نماز عید تک تکبیرات پڑھنا شرعی عمل ہے۔

    ابن مسعود رضی اللہ عنہ تکبیرات کیلئے کہا کرتے تھے: " اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ"
    اور ابن عباس رضی اللہ عنہما تکبیرات کیلئے کہا کرتے تھے: " اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ،وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، اَللهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اَللهُ أَكْبَرُ عَلَى مَا هَدَانَا" بیہقی
    اور سلمان رضی اللہ عنہ تکبیرات سکھاتے ہوئے کہتے تھے: " اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ كَبِيْرًا"
    مساجد، بازاروں، اور گھروں میں بلند آواز سے تکبیرات کہنا مسنون ہے، حقیقت میں یہ عظمت الہی کا اعلان اور اس کی عبادت پر اظہار شکر ہے۔
    اللہ تعالی نے ہمارے لیے فطرانہ کی ادائیگی شرعی عمل قرار دیا ہے، حقیقت میں فطرانہ روزے دار کی لغویات اور بیہودگی کا کفارہ ، اور مساکین کیلئے کھانے پینے کا بندو بست ہے، اس کی مقدار ایک صاع جو، کھجور، کشمش، چاول یا کوئی بھی علاقائی غذا ہو سکتی ہے، جو کہ ہر چھوٹے بڑے، مر د و زن، آزاد یا غلام تمام مسلمانوں کی طرف سے ادا کیا جائے گا، افضل یہ ہے کہ نماز عید سے قبل اسے ادا کیا جائے، تاہم عید سے ایک دو دن قبل بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔
    نماز عید کی تیاری میں مرد حضرات کیلئے غسل کر کے خوشبو کا استعمال مستحب ہے، چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ : "عید کی تین سنتیں ہیں: پیدل جانا، غسل کرنا، اور جانے سے پہلے کچھ کھانا"
    اسی طرح اچھے سے اچھے لباس کا اہتمام کرنا مستحب ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مخصوص جبہ تھا جو آپ عید اور جمعہ کے دن زیب تن فرماتے تھے۔
    جبکہ خواتین کو نماز عید کیلئے آتے ہوئے زیب و زینت سے احتراز کرنا چاہیے، کیونکہ انہیں اجنبی مردوں کے سامنے اظہار زینت سے منع کیا گیا ہے، اسی طرح نماز عید کیلئے خوشبو لگا کر نکلنا ، یا مردوں کو فتنہ میں ڈالنا بھی حرام ہے۔
    ایسے ہی عید گاہ جاتے ہوئے طاق عدد میں کھجوریں کھانا ، اس کی دلیل بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوریں کھانے سے پہلے عید گاہ کیلئے گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے"
    اس طرح عید کی مبارک باد دینا بھی مستحب ہے، کیونکہ یہ عمل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، اس کیلئے آپ : " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ" یا اسی طرح کے دیگر شرعی طور پر جائز الفاظ استعمال کر سکتے ہیں۔
    فرمانِ باری تعالی ہے:
    {وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ}
    تا کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ تعالی کے بتلائے ہوئے طریقے پر اس کی کبریائی بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ [البقرة : 185]
    اللہ کے بندو!
    رسولِ ہُدیٰ پر درود وسلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے:
    }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{
    اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

    یا اللہ! محمد پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر رحمت و سلامتی بھیج، جیسے کہ تو نے ابراہیم کی آل پر رحمتیں بھیجیں، اور محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر برکتیں نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔
    یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہوجا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہوجا، اور اپنے رحم و کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا، یا ارحم الراحمین!
    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، اور کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور سارے اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔
    یا اللہ! جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بری نیت رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاریاں اسی کی تباہی و بربادی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء! یا اللہ! جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بری نیت رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاریاں اسی کی تباہی و بربادی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!
    یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت اور نصرت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت اور نصرت فرما، یا اللہ! قرآن نازل کرنیوالے! بادلوں کو چلانے والے! اتحادی افواج کو شکست دینے والے! تمام لشکروں کو شکست سے دو چار فرما، اور مسلمانوں کو ان پر غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین!
    یا اللہ! مسلمانوں کی مدد، نصرت اور پشت پناہی فرما، یا اللہ! مسلمان بھوکے ہیں ان کے کھانے کا بند و بست فرما، پاؤں سے ننگے ہیں انہیں جوتے عطا فرما، تن پر کپڑے نہیں ہیں انہیں کپڑے عطا فرما، وہ مظلوم ہیں ان کا انتقام لے، یا قوی! یا متین! یا عزیز! یا جبار!
    یا اللہ! ہم تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اور ہمیں ہر ایسے قول و فعل کی توفیق دے جو ہمیں جنت کے قریب کر دے، یا اللہ ہم جہنم کی آگ سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اور ہر ایسے قول و فعل سے بھی جو ہمیں جہنم کے قریب کرے۔
    یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لئے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!
    یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر آخر تک ، اول سے آخر تک ، ظاہری ہو یا باطنی اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!
    یا اللہ! ہم تجھ ہدایت، تقوی، عفت، اور غنی کا سوال کرتے ہیں۔
    یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کوغلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔
    یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا، تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔
    یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے، ہماری زبان کی حفاظت فرما، اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں ختم کر دے۔
    یا اللہ! ہم پر اپنی برکت، رحمت، فضل، اور رزق کے دروازے کھول دے۔
    یا اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو ایمان اور ثواب کی امید سے رمضان میں روزے رکھتے ہیں، اور قیام کرتے ہیں، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں لیلۃ القدر تلاش کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!
    یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، بیماروں کو شفا یاب فرما ، قیدیوں کو رہائی نصیب فرما، ہمارے تمام امور اپنی تحویل میں لے لے، اور ہماری نیکیوں کا انجام اچھا فرما، یا رب العالمین!
    یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، اور تیری راہنمائی کے مطابق انہیں توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے یا رب العالمین!
    یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری شریعت نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!
    }رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ { ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23]

    }رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ{
    اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے, اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10]

    }رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ{
    ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

    }إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ {
    اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

    تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی چیز ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

    مترجم شیخ ابن مبارک
    رکن مجلس علماء اردومجلس
    زیر تعلیم جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
    ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں