تاریخ فرضیت حج از ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ

ابوعکاشہ نے 'ماہ ذی الحجہ اور حج' میں ‏اگست 31, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,925
    تاریخ فرضیت حج از ابوالکلام آزاد

    اہل عرب نے اگرچہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مجموعہ تعلیم ہدایت کو بلکل بھلا دیا تھا لیکن انہوں نے بیت اللہ کے کنگرے پر چڑھ کر تمام دنیا کو جو دعوت دی تھی اس کی صداے بازگشت اب تک عربوں کے درودیوار سے آرہی ہے ـ

    وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَ‌اهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِ‌كْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ‌ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّ‌كَّعِ السُّجُودِ ـ وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِ‌جَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ‌ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ﴿٢٦،٢٧سورة الحج﴾
    "اورجب ہم نے ابراہیم کے لیے ایک معبد قرار دیا اورحکم دیا کہ ہماری قدوسیت وجبروت میں اور کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا اور اس گھر کو طواف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے ہمیشہ پاک ومقدس رکھنا ـ نیز ہم نے یہ حکم دیا کہ دنیا میں حج کی پکاربلندکروـ لوگ تمہاری طرف دوڑتے چلے آئیں گے ـ ان میں پیادہ پا بھی ہوں گے اور وہ بھی جنہوں نے مختلف قسم کی سواریوں پر دور درازمقامات سے قطع مسافت کی ہوگی"
    بدعات و محدثات جاہلیہ
    لیکن سچ کے ساتھ جب جھوٹ مل جاتا ہے تو وہ اور بھی خطرناک ہوجاتا ہے ـ اہل عرب نے اگرچہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس سنت قدیمہ کو اب تک زندہ رکھا تھا ـلیکن بدعات و اختراعات کی آمیزش نے اصل حقیقت کو بلک گم کردیا تھا
    1-اللہ نے اپنے گھر میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو قیام کی اجازت صرف اس شرط پر دی تھی کہ:

    أَن لَّا تُشْرِ‌كْ بِي شَيْئًا
    "کسی کو اللہ کا شریک نا بنانا "﴿٢٦،٢٧سورة الحج﴾
    لیکن اب اللہ کا یہ گھر تین سو ساٹھ بتوں کا مرکز بن گیا تھا ـ اور ان کا طواف کیا جاتا تھا
    2-اللہ نے حج کا مقصد یہ قراردیا تھا کہ دنیوی فوائد کے ساتھ اللہ کا ذکر قائم کیا جائے ـ لیکن اب صرف آباو اجداد کے کارنامہائے فخروغرور کے ترانے گائے جاتے تھے ـ
    3-حج کا ایک مقصد تمام انسانوں میں مساوات قائم کرنا تھا ـ اسی لیے تمام عرب بلکہ تمام دنیا کو اس کی دعوت دی گئی ـ اور سب کو وضع و لباس میں متحد کردیا گیا ـ لیکن قریش کے غرور و فضیلت نے اپنے لئے بعض خاص امتیازات قائم کرلیے تھے جو اصولِ مساوات کے بلکل منافی تھے ـ مثلا تمام عرب عرفات کے میدان میں قیام کرتا تھا لیکن قریش مزدلفہ سے باہر نکلتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم متولیانِ حرم ، حرم کے باہر نہیں جا سکتے ـ جس طرح آج کل کے امراء فسق والیانِ ریاست عام مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں آکر بیٹھنے اور دوش بدوس کھڑے ہونے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں ـ
    4- قریش کے سوا عرب کے تمام مردوزن برہنہ طواف کرتے تھے ـ سترعورت کے ساتھ صرف وہی لوگ طواف کرسکتے تھے جن کو قریش کی طرف سے کپڑا ملتا تھا ـ اورقریش نے اس کو بھی اپنی اظہارِسیادت کا ایک ذریعہ بنا لیا تھا ـ
    5- عمرہ گویاحج کا ایک مقدمہ یا جزو تھا لیکن اہل عرب ایامِ حج میں عمرہ کو سخت گناہ سجھتے تھے ـ اور کہتے تھے کہ جب حاجیوں کی سواریاں کے پشت کے زخم اچھے ہوجائیں اور صفر کا مہینہ گزرجائے تب عمرہ جائز ہو سکتا ہے
    6-حج کے تمام اجزاء وارکان میں یہودیانہ رہبانیت کا عالمگر مرض جاری ہو گیا تھا ـ اپنے گھر سے پیادہ پا حج کرنے کی منت مانتا ـ جب تک حج ادا نہ ہوجائے ، خاموش رہتا ـ قربانی کے اونٹوں پر کسی حالت میں سوار نہ ہوتا ـ ناک میں نکیل ڈال کر خانہ کعبہ کا طواف کرتا ـ زمانہ حج میں گھرکے اندر دروازے کی راہ سے نہ گھستا ـ بلکہ پچھواڑ کی طرف سے دیوار پھاند کے آتا ـ درودیوار پر قربانی کے جانوروں کے خون کا چھاپہ لگانا ـ عرب کا عام شعار یہی تھا

    ظہورِ اسلام اور تزکیہ نفس
    اسلام درحقیقت دین ابراہیمی کی حقیقت کی تکمیل تھی ـ اس لیے وہ ابتداء ہی سے حقیقت گم شدہ کی تجدید واحیاء میں مصروف ہوگیا ـ جس کا قالب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں نے تیار کیا تھا ـ اسلام کا مجموعہ عقائد و عبادات صرف توحید،نماز ، روزہ ، حج اور زکواتہ سے مرکب ہے ـ لیکن ان تمام ارکان میں حج ہی ایک ایسا رکن ہے جس سے اس تمام مجموعہ کی ہئیت ترکیبی مکمل ہوتی ہے ـ اور یہ تمام ارکان اس کے اندر جمع ہو گئے ہیں ـ یہی وجہ ہے کی نبی کریمﷺ نے اسلام کو صرف بیت اللہ ہی کے ساتھ معلق کردیا :
    إِنَّمَا أُمِرْ‌تُ أَنْ أَعْبُدَ رَ‌بَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّ‌مَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ ۖ وَأُمِرْ‌تُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ (91،النمل﴾
    "مجھ کو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اس کو عزت دی ـ سب کچھ اسی اللہ کا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اسی کا فرمانبردار مسلم ہوں (النمل91/27)اور یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے ہرموقع پرحج کے ساتھ اسلام کا ذکر بطور لازم و ملزوم کے کیا " اور ہرامت کے لیے ہم نے قربانی قرار دی تھی ـ تاکہ اللہ نے ان کو جو چوپائے بخشے ہیں ان کی قربانی کے وقت اللہ کا نام لیں ـ
    فَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا ۗ وَبَشِّرِ‌ الْمُخْبِتِينَ ﴿الحج،34﴾
    "پس تم سب کا اللہ ایک ہی ہے اسی کے تم سب فرمانبردار بن جاؤاور اللہ کے خاکسار بندوں کو حج کے ذریعہ حق کی بشارت دو "
    اسلام اللہ کا ایک فطری معاہدہ تھا ـ جس کو انسان کی ظالمانہ عہد شکنی نے بلکل چاک کردیا تھا ـ اس لیے اللہ تعالی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ناخلف اولاد کو روزازل ہی سے اس کے ثمرات سے محروم کردیا ـ

    وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّ‌يَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ﴿سورة البقرة،١٢٤﴾
    "جب اللہ نے چند احکام کے ذریعہ ابراہیم کو آزمایا اور وہ اللہ کے امتحان میں پورے اترے تو اللہ نے کہا کہ اب میں تمہیں دنیا کی امامت اور خلافت عطا کرتا ہوں ـ اس پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے عرض یا:اور میری اولاد کو بھی ؟ ارشاد ہوا کہ ہاں ، مگر اس قول وقرار میں ظالم لوگ داخل نہیں ہوسکتے ـ
    امت مسلمہ
    اللہ تعالی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جن کلمات کے ذریعہ آزمایا اور جن کی بنا پر انہیں دنیا کی امامت عطا ہوئی وہ اسلام کے اجزائے اولین یعنی توحید الہی ، قربانی نفس و جذبات ، صلاتہ الہی کا قیام اور معرفت دین فطری کے امتحانات تھے ـ اگرچہ ان کی اولاد میں سے چند ناخلف لوگوں نے ان ارکان کو چھوڑ کر اپنے اوپر ظلم کیا ـ اور اس مورثی عہدے سے محروم ہو گئے ـ قال لا ینال عھدی الظالمین ـ لیکن سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذات کے اندر ایک دوسری امت بھی چپھی تھی ـ جس کے لیے خود انہوں نے اللہ سے دعا کی تھی ـ ان ابراہیم کان امتہ واحد ـ سیدنا ابراہیم علیہ السلام گو بظاہر ایک فرد واحد تھے ـ مگر ان کی فعالیت روحانیہ و الہیہ کے اندر ایک پوری قوم قانت و مسلم پوشیدہ تھی
    اجزائے حج
    اب اس " امت مسلمہ " کے ظہور کا وقت آگیا ـ اور وہ رسول مزکی و موعودہ غارحرا کے تاریک گوشوں سے نکل کر منظر عام پر نمودار ہوا تاکہ اس نے خود اس اندھیرے میں جو روشنی دیکھی ہے ـ وہ روشنی تمام دنیا کو بھی دکھلادے ـ
    يُخْرِ‌جُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ‌ ۖ (البقرہ 257)
    "وہ پیغمبر ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے "

    قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ‌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿المائدہ١٥﴾
    "بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور ہدایت اور ایک کھلی کھلی ہدایتیں دینے والی کتاب آئی"
    وہ منظر عام پر آیا تو سب سے پہلے اپنے باپ کے مورثی گھرکوظالموں کےہاتھوں سے واپس لینا چاہا ـ لیکن اس کے لیے سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہی کی طرح بتدریج چند روحانی مراحل سے گزرنا ضرور تھا ـ چنانچہ اس نے ان مرحلوں سے بتدریج گزرنا شروع کیا ـ اس نے غارحرا سے نکلنے کے ساتھ ہی توحید کا غلغلہ بلند کیا کہ اللہ تعالی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے جو عہد لیا تھا اس کی پہلی شرط یہ تھی کہ

    ۚ فَمَن فَرَ‌ضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَ‌فَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ ( البقرة،197)
    " جس شخص نے ان مہینوں میں حج کا عزم کرلیا تو اس کو ہرقسم کی نفس پرشتی ، بدکاری اور جھگڑے تکرار سے اجتناب لازم ہے "
    روزہ کی حقیقت یہی کہ وہ انسان کو غیبت ،بہتان ، فسق وفجور ، مخاصمت ، تنازعات اور نفس پرستی سے روکتا ہے جیساکہ احکام صیام میں فرمایا
    ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُ‌وهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ۗ(البقرة،187)
    " پھررات کو روزہ پورا کرو اور روزہ کی حالت میں عورتوں کے نزدیک نہ جاؤاور اگرمساجد میں اعتکاف کرو تو شب کو بھی ان سے الگ رہو ـ"
    اس نے زکواتہ بھی فرض کردی کہ وہ بھی حج کا ایک اہم مقصد تھا ـ

    فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ‌ ﴿27،الحج﴾
    "قربانی کا گوشت خود کھاؤ اور فقیروں محتاجوں کو بھی کھلاؤ "

    بشکریہ مجلہ ضیائے حدیث
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جزاک اللہ خیرا۔ عمدہ شئرنگ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت خوب، جزاک اللہ خیرا۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں