مسلمان کون ہے؟

بابر تنویر نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏نومبر 21, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    Urdumajlis.net Musalman kon hy.png
    پچھلے دنوں شاہین ائر کی کراچی سے لاہور جانے والی ایک فلائٹ حادثے کا شکار ہوگئ تھی۔۔ اس جہاز سے میری والدہ اور چھوٹا بھائ بھی سفر کر رہے تھے اور اللہ کا کرم ہوا کہ اس حادثے میں سے کوئ جانی نقصان نہیں ہوا تھا. تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئ کہ جہاز میں کوئ تکنیکی خرابی نہیں تھی بلکہ جہاز کا پائلٹ نشے کی حالت میں جہاز اڑا رہا تھا۔ اور معاون پائلٹ نے اسے کہا کہ اس وقت لینڈنگ نہ کرو بلکہ دوبارہ صحیح طریقے سے جہاز کو رن وے پر اتارو لیکن اس نے معاون پائلٹ کی بات نہ مانی۔ اور تمام مسافروں کی زندگیوں کو خطرے سے دو چار کر دیا۔ آخری خبر یہ ہے کہ اس پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
    پاکستان میں قیام کے دوران شاہین ائر کے ذریعے سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ اس ائر لائن کی ایک خاص بات جو کہ میرے مشاہدے میں آئ وہ یہ ہے کہ اس کے تمام جہاز نۓ ہیں۔ اور دوسری بات جو کہ پچھلے 30 سال کے فضائ سفر سے مختلف نظر آئ وہ یہ کہ شاہین ائر کی طرف سے "مسلمان " نامی ایک رسالہ بطور تحفہ تقسیم کیا گیا۔ جس میں قرانی ایات کے حوالے سے مسلمان کی خصوصیات بیان کی گئیں ہیں۔ یہ رسالہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
    جاری ہے------​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • اعلی اعلی x 5
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    مسلمانوں کا معبود و مالک

    اللہ رب العالمین

    تمام جہانوں کا پرورش کرنے والا، پالنے والا

    مسلمان ہمیشہ اپنے حلقے میں حسب مقدور پرورش کرنے والا ہوتا ہے۔

    مسلمان کے آقا و قابل تقلید و اتباع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم

    محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین

    تمام جہانوں کے لیے رحمت

    مسلمان ہمیشہ اپنے حلقے میں ہر کسی پر رحم کرنے والا ہوتا ہے۔


    مسلمان کے لیے ہدایت نامہ – قیامت تک نہ بدلنے والا۔ "قرآن"

    ذکر للعالمین " تمام جہانوں کے لیے نصیحت

    مسلمان ہمیشہ اپنے حلقے میں نصیحت کرتا، حسد مقدور نیکی کی طرف دعوت دیتا اور برائ سے منع کرتا ہے۔
    جاری ہے------
     
    Last edited: ‏نومبر 21, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    اللہ کریم نے انسان کی ہدایت کے لیے اس دنیا میں اپنے نبیوں کے ذریعے مسلسل اور آخر میں اپنے نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم پن اپنا ہدایت نامہ، اپنا کلام برحق نازل فرمایا اور انسانوں کے لیے اسے رحمت قرار دیا، دلوں کی شفا قرار دیا اور خوشخبری بنیا، کہ یہ انسانوں کے لیے ایک لائحہ عمل ہوگآ، جس کے احکام و ہدایات کو مان کر ان پر عمل کرتے ہوۓ وہ خوف و حزن سے بیگآنہ رہتے ہوۓ صالحہ اعمال بروۓ کار لاتے ہوۓ واپس اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں گے۔ جہاں وہ اپنے رب سے اور ان کا رب ان سے راضی ہوگآ۔ یہ کتاب مبارکہ "قران کریم" ہے۔


    اللہ تعالی عزو جل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل کرکے فرمایا :
    سورہ الاعراف
    كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ﴿٢﴾اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴿٣
    "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئ ہے اس سے تم کو تنگ دل نہ ہونا چاہیے۔ (یہ نازل) اس لیے (ہوئ ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ (لوگو) یہ (کتاب) تم پر تمہارے پرودگار کے ہاں سے نازل ہوئ ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ )الاعراف 2-3)

    اس کتاب کے روشن اصولوں کی پیروی کرتے ہوۓ ، اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوۓ ، مسلمانوں کو دنیا میں سرفرازیاں، بلندیاں اور خوف و حزن سے بے گانہ زندگی نصیب ہوئ۔ پھر نجانے کب ہم نے ان احکام اور ان اصولوں سے منہ موڑا نتیجہ ، ہمارا معاشرہ اللہ تعالی کے عطا کردہ سیدھے راستے سے ہٹ گیا، جہالت اور گمراہی کے اندھیروں میں کھو گيا، لوٹ کھسوٹ، جھوٹ، مکرو فریب، د‏غابازی، جعلسازی، منافقت اور قول و فعل میں تضاد کا نمونہ بن گيا۔ لیکن کیا کیا جاۓ کہ :


    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔​

    ایک طرف تو ہم دن رات اللہ تعالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، قران اور سنت جیسے مقدس ناموں کا ورد سنتے ہیں اور دوسری طرف سوسائٹی میں اپنے ارد گرد مکرو فریب اور بے حسی کے مظاہرے دیکھتے ہیں تو ہمیں کسی بات پر یقین ہی نہیں رہتا، اور اس کے نتیجہ میں پورے کا پورا معاشرہ غیر شعوری طور پر ایک بے یقینی، بے اعتمادی اور منافقت میں مبتلا ہوگيا ہے، اس بے یقینی کی وبا میں ہمیشہ کی طرح قرآن حکیم ایک ایسی روشن ہدایت کی کتاب ہے، جو ہمیں واپس ایک صحت مند معاشرے اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ اللہ کے عطا کردہ اصل و قوانین اور محکم احکام ایسی قوت ہیں جو ہماری رہنمائ کرسکتے ہیں ان کی محکمیت کی شہادت خود اللہ تعالی نے ان الفاظ میں دی ہے۔

    سورہ الحاقہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
    فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ﴿٣٨﴾وَمَا لَا تُبْصِرُونَ﴿٣٩﴾إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ﴿٤٠﴾وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚقَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ﴿٤١﴾وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚقَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ﴿٤٢﴾تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ﴿٤٣﴾وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ﴿٤٤﴾لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ﴿٤٥﴾ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ﴿٤٦﴾فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ﴿٤٧﴾وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ﴿٤٨
    تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں(38)اور ان کی جو نظر میں نہیں آتیں(39)کہ یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے(40)اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔ مگر تم لوگ بہت ہی کم ایمان لاتے ہو(41)اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو(42)یہ تو) پروردگار عالم کا اُتارا (ہوا) ہے(43)اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے(44)تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے(45)پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے(46)پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا(47)اور یہ (کتاب) تو پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے(48)

    پھر سورہ فاطر میں ارشاد فرمایا

    وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ ۖفَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا﴿٤٢﴾اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚوَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚفَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚفَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا ۖوَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَحْوِيلًا﴿٤٣
    اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی(42)یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا (اختیار کیا) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ یہ اگلے لوگوں کی روش کے سوا اور کسی چیز کے منتظر نہیں۔ سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے۔ اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے(43)


    سورہ کہف میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

    وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَـٰذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚوَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴿٥٤﴾وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا﴿٥٥
    اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے(54)اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو(55)

    مسلمان اس کتاب ہدایت کی پیروی کرنے کا اقرار کرتا ہے، عہد باندھتا ہے اور اگر اس عہد کو توڑتا ہے تو اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔ سورہ البقرۃ

    الذينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّـهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴿٢٧
    وہ جو اللہ کے عہد کو پختہ باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن رشتوں کو اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں 27

    اس عہد کی پاسداری کیجیے کہ کہیں آپ کو آخرت میں یہ نہ سننا پڑ جاۓ

    " بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے تھے"​


    آپ سے یہ لوگ، یہ دنیا، اور اہل و عیال جتنے بھی خوش ہوجایں ، مگر یار رکھیے کہ :

    " بے شک اللہ تعالی نافرمان لوگوں سے کبھی راضی نہیں ہوتا۔​
    جاری ہے--------​
     
    Last edited: ‏نومبر 22, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    1- مسلمان وہ ہے جو جانتا ہے کہ تمام تعریفیں در حقیقت اللہ ہی کے لیے ہیں۔ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ الفاتحہ-1

    2- مسلمان وہ ہے جو صرف اللہ تعالی کی بندگي کرتا ہے اور صرف اسی سے استعانت کا طالب ہوتا ہے۔ الفاتحہ -4

    3- مسلمان ہمیشہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت کا طلب گآر رہتا ہے۔ الفاتحہ -5

    4- مسلمان اللہ تعالی پر بن دیکھے ایمان لاتا ہے، نماز قائم کرتا ہے اور اللہ تعالی کے عطا کردہ رزق سے خرچ کرتا ہے۔ جو کچھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا اور جو ان سے پہلے نازل کیاگیا اس پر ایمان لاتا ہے آخرت پر یقین رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ اپنے رب کی راہنمائ میں ہوگا اور فلاح پانے والوں میں ہوگا۔ البقرہ 3،4،5،

    ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا ہم واقعی بقائمی ہوش و حواس، اپنے اختیار و ارادے سے ایمان لاۓ ہیں یا صرف پیدائشی حادثے کی وجہ سے خود کو مسلمان سمجھتے ہیں اور کیا ہم ایسا ہی ایمان لاۓ ہیں جیسا کہ مطلوب و مقصود الہی ہے یا ہم نے اپنے ایمان کو بھی اپنی مرضی کے تابع کر رکھا ہے۔ کوئ آدمی سمجھ بوجھ کر اپنی عقل و خرد کی روشنی میں، یا کسی صادق القول کی بات تسلیم کرکے اللہ کریم اور اپنے پاس موجود لوگوں کو گواہ بنا کر یہ ایمان لے آتا ہے کہ:

    اللہ کے سوا کوئ معبود نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں،

    اور پھر تمام انبیاء پر، ان پر ناز کردہ تمام کتابوں پر، فرشتوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آتا ہے تو وہ مسلمان کہلاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جان لیا کہ وہ اپنے خالق کا ایک بندہ ہے، جسے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ بندگي کرے اور آزمایا جاۓ کہ وہ احسن اعمال کرتا ہے یا نہیں۔

    طریق بندگي سے روشناس کرانے والی، بہترین نمونے والی ذات اس کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو بندوں کے لیے اللہ کی نازل کردہ محفوظ کتاب "قران کریم" عطا کر گۓ ہیں اور اپنے طریقہ حیات سے اس کے لیے راہنمائ فرما گۓ ہیں۔

    تو اس طرح جو اللہ تعالی کو طاقت اعلی مان لیتا ہے۔ احکم الحاکمین مان لیتا ہے (زبردستی نہیں اپنی مرضی و اختیار کے ساتھ) تو پھر اگر وہ ماننے کے دعوی میں سچا ہے تو صرف اللہ ہی کی بندگي کرتا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوۓ انہی کے طریقہ زندگي کو اپنے لیے مشعل راہ بناتا ہے، جنہوں نے زندگي کا ہر لمحہ احکامات قران کے مطابق بسر کیا اور اگر وہ صرف زبانی اقرار کرتا ہے اور احکام الہی سے یا تو رو گردانی کرتا ہے یا انہیں جاننے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا یا پھر ان پر رو بہ عمل ہونے سے اجتتاب کرتا ہے تو اس کا دعوی ایمان بڑا عجیب ہوگآ. اور یوں محسوس ہوگا کہ وہ کسی معاشرتی بندھن، قید رسوم، معاشرے میں تنہائ کے خوف، سماجی بائیکاٹ یا فکر و خوف ردعمل کی وجہ اس بندھن اور ایمان کا اقرار تو کرتا ہے مگر دل سے بالکل نہیں مانتا۔

    ہم میں سے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم کسی کے دعوی ایمان کو جھوٹا کہیں مگر جاننے والوں اور ماننے والوں کے لیے یہ شناخت خاصی آسان ہوتی ہے کہ کون ان کا ساتھی اور ہم راہی منزل ہے۔

    ہمارے ملک میں موجود ہر مسلمان سمجھتا ہے کہ وہ اپنے عقائد میں پختہ ہے اور دنیاوی زندگي کی مجبوریوں اور خصوصا فکر معاش کی وجہ سے کما حقہ، نہ تو دینی تعلیم حاصل کر سکتا ہے نہ تدبر قران کے ذریعے احکام الہی کو سمجھ بوجھ حاصل کر سکتا ہے اور نہ بذات خود کاوش کرکے خالی خولی دعوی کرنے اور صحیع ایمان لانے میں فرق تلاش کر سکتا ہے تاکہ جان سکے کہ مومنوں کے لیے کس سوچ، کن رحجانات، کن عقائد، کس طرز زندگي اور کس رویے کو لازم قرار دیا گيا ہے۔

    ہم اگر کسی سے پوچھیں کہ سچا مسلمان کون ہے تو مختلف انواع مختلف قسم کے جوابات سے واسطہ پڑتا ہے مگر عموما دین کے پانچ ارکان تک محدود رہتی ہے۔

    یاد رکھیے، زندگي میں پیش آئند مجبوریوں کو مجبوریاں دینے والا خوب جانتا ہے اور نیتوں کا حال بھی اسی قادر مطلق پر ہی واضح ہے اسے لیے جنہیں واقعی کوئ مجبوری درپیش ہے وہ جانیں اور ان کا رب جانے لیکن یہ تحریر صرف اس لیے ہے کہ آپ ایمان لانے کا دعوی کرتے ہوۓ اللہ کریم کے احکامات کو مد نظر رکھ کر اپنا تجزیہ اور مبنی بر دیانت اپنی پرکھ کر سکیں اور اگر یہ تجزیہ آپ کو کچھ سمجھاۓ تو خود کو اپنے دعوے میں سچا اور مخلص بنانے کی کوشش کیجیے تاکہ جب آپ منزل پر پہنچ کر جواب دہی کے پیش ہوں تو آپ کا نام بھی کہیں ان بدنصیبوں میں شامل نہ کر لیا جاۓ جو اس عارضی مسافر خانے میں قیام کے دوران اسی کی جاہ و حشمت اور اسی کی زینت کو ہی تمام حقیقت سمجھ بیٹھے تھے اور صرف معاشرتی بہاؤ کا ساتھ دینے کے لیے خود کو مسلمان گردانتے رہے تھے اس لیے بھی توجہ کیجیے کہ وہاں سے واپس آ کر اس ابدی بھول کو صحیح کرنے کے لیے کوئ موقع نہیں دیا جاۓ گا۔

    تو بہنو اور بھائیو! اگر آپ خود کو سمجھ دار، عقل مند ، ہوشیار اور دانا خیال کرتے ہیں تو ادھر ضرور توجہ دیجیے اور خود کا تجزیہ کیجیے اور روزانہ رات کو سونے سے پہلے ان صفحات پر نظر دوڑا لیجیے اور خود کا احتساب کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت جلد ان شاء اللہ آپ کی زندگي اس روپ میں ڈھل جاۓ گي کہ آپ کی واپسی پر آپ کو خوش آمدید کہا جاۓ گآ اور آپ کو خود سے آپ کے رب کے راضی ہونے کی نوید سنائ جاۓ گی۔
    جاری ہے--------​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    5- مسلمان اپنے رب کی بندگي کرتا ہے جس نے اسے اور اس سے پہلے والے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ وہ پرہیز گار بن جائیں۔

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (21)
    ‏ لوگو! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

    (البقرۃ)
    6- مسلمان اللہ کے عہد کو پختہ باندھ کر کبھی نہیں توڑتا۔
    7- مسلمان جن رشتوں کو اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے انہیں کبھی نہیں کاٹتا۔
    8- مسلمان زمین میں فساد نہیں پھیلاتا تاکہ وہ نقصان اٹھانے والوں میں نہ ہو جاۓ۔

    الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَاللہ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (27) البقرۃ
    جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ‏


    9- مسلمان جان بوجھ کر سچ کو جھوٹ کے ساتھ گڈ مڈ نہیں کرتا اور نہ ہی سچ کو چھپاتا ہے۔

    وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ )42) البقرۃ
    اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ ‏


    10 مسلمان نماز قائم کرتا ہے، زکاۃ دیتا ہے اور اللہ کے حضور جھکنے والوں کے ساتھ جھکتا ہے۔

    وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ (43) البقرۃ
    اور نماز پڑھا کرو اور زکوۃ دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو ‏


    11 مسلمان لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتا ہوا خود کو کبھی نہیں بھولتا کیوں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت کرتا ہے اور اس کے احکامات پر عمل کرتا ہے۔

    أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (44) البقرۃ
    (یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تیئں فراموش کیے دیتے ہو حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو کیا تم سمجھتے نہیں؟ ‏


    12 مسلمان ہمیشہ صبر اور نماز سے مدد لیتا ہے اور جانتا ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

    وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ (45) البقرۃ
    ‏ اور (رنج وتکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، اور بیشک نماز گراں ہے مگر ان لوگوں پر (گراں) نہیں جو عجز کرنے والے ہیں


    جاری ہے--------​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    13- مسلمان صرف اللہ کی عبادت کرتا ہے

    14- مسلمان والدین، رشتے داروں ، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا برتاؤ کرتا ہے

    15- مسلمان لوگوں سے احسن طریقے سے بات کرتا ہے، نماز قائم کرتا ہے

    َإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللہ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ (83) البقرۃ
    اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا اور نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے رہنا تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہدسے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے



    16- مسلمان کتاب اللہ کو پورا پورا مانتا ہے یہ نہیں کرتا کہ ایک حصے کو مانے اور ایک کا انکار کرے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کا بدلہ دنیا کی زندگي میں صرف رسوائ ہے اور روز قیامت اسے سخت ترین عذاب کی طرف موڑ دیا جاۓ گآ۔ کیونکہ اللہ اس کے کام سے غافل نہیں ہے۔

    ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤُلَاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللہ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
    پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کر دیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کر کے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلا دے کر انکو چھڑا بھی لیتے ہو حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتاب (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں ان کو سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دئیے جائیں؟ اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے غافل نہیں ‏



    17- مسلمان جانتا ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ ہی کے ہے اور اس کے سوا اس کا کوئ حمایتی اور مدد گار نہیں۔

    أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللہ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللہ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ (`102) البقرۃ
    ]‏ تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ‏


    18- مسلمان کو ہر وقت علم رہتا ہے کہ مشرق و مغرب اللہ ہے کے ہیں و جدھر بھی رخ کرے ادھر اللہ موجود ہے ۔ اور وہ وسعت والا اور علم والا ہے

    وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللہ ۚ إِنَّ اللہ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (115) البقرۃ
    اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے تو جدھر تم رخ کرو ادھر خدا کی ذات ہے بیشک خدا صاحب وسعت اور باخبر ہے ‏


    19- مسلمان یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالی کی رہنمائ ہی اصل رہنمائ ہے اور دوسروں کو خوش کرنے کے لیے ان کے طریقوں کی پیروی نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے

    وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللہ هُوَ الْهُدَى ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللہ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ (120) البقرۃ
    اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی یہاں تک کہ ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے اور (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آجانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی مددگار


    20- مسلمان یہ جانتا ہے کہ جو انسان یا امتیں گزر گئيں ہیں ان کے بارے میں قران کریم فرماتا ہے کہ " یہ ایک امت تھی جو گزر گئ اس کے لیے تھا جو اس سے کمایا اور تمہارے لیےہوگا جو تم نے کمایا اور تم سے ان کے کاموں کی پوچھ گچھ نہ ہوگي" اسی لیے وہ گزر جانے والوں پر یقین کرکے اللہ کی راہ سے نہیں ڈگمگاتا اور زمین میں فساد نہیں پھیلاتا۔

    تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (134) البقرۃ
    یہ جماعت گزر چکی ان کو ان کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی ‏

    جاری ہے---------​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    21- مسلمان کو اللہ ہی کا رنگ پسند ہے اسی کو اختیار کرتا ہے اور جانتا ہے کہ اللہ سے بہتر کسی کا رنگ نہیں

    صِبْغَةَ اللہ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللہ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ(138) البقرۃ
    ]‏ (کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کرلیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے؟ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں ‏


    22- مسلمان اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اس کا انکار نہیں کرتا اسی کو یاد کرتا ہے تاکہ اللہ اسے یاد کرے

    فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (152) البقرۃ
    سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد کیا کرو نگا اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا ‏


    23- مسلمان جانتا ہے کہ اللہ کریم ضرور اسے کچھ خوف اور بھوک، اور مال و جان اور پھلوں کی کمی سے آزمائيں گے وہ اس پر ہمیشہ صبر کرتا ہے اور اپنے دین پر ثابت قدم رہتا ہے۔ اور اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ " اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کے جانے والے ہیں۔

    وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ(155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156)
    ‏ اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنادو ‏(155) ]‏ ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں(156)


    24- مسلمان کسی کو بھی اللہ کا ہمسر نہیں بناتا ار شدید محبت صرف اللہ ہی سے کرتا ہے۔

    وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللہ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللہ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللہ شَدِيدُ الْعَذَابِ (165) البقرۃ
    اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوست دار ہیں اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے


    25- مسلمان زمین میں سے حلال اور پاک چیزیں کھاتا ہے

    26- مسلمان کبھی شیطان کے نقش قدم پر نہیں چلتا اور جانتا ہے کہ وہ اس کا کھلا دشمن ہے

    27- مسلمان ہر بے حیائ سے بچتا ہے کیونکہ برائ اور بے حیائ کی تلقین تو شیطان کرتا ہے

    28- مسلمان کبھی اللہ کے بارے میں ایسی بات نہیں کہتا جووہ نہیں جانتا

    29- مسلمان مردار، خنزیر اور بہتا ہوا لہو جس پر غیر اللہ کا نام لیا گيا ہو اسے حرام مانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ اس کے لیے حرام ہے۔

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(168) إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللہ مَا لَا تَعْلَمُونَ(169) البقرۃ
    لوگو! جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‏(168) وہ تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں(169)



    30- مسلمان یہ جانتا ہے کہ نیکی مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلینا نہیں ، بلکہ نیکی اللہ ، اور روز قیامت پر ، فرشتوں پر، کتاب اللہ اور انبیاء پر ایمان لانا اور اپنے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوالیوں، گردن کو آزاد کرنے کے لیے اپنا مال خرچ کرنا، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اللہ تعالی سے اپنے عہد کو نبھانا، تنگدستی ، تکلیف اور جنگ کے وقت ثابت قدم رہنا ہے۔

    لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (177) البقرۃ
    نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب (کو قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائیں اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوۃ دیں اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کاراز کے وقت ثابت قدم رہیں یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں ‏
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    31- مسلمان کو علم ہے کہ رمضان کے روزے اس پر فرض ہیں وہ پورے رمضان کے روزے اللہ تعالی کہ حکم مان رکھتا ہے اور (اور بغیر کسی شرعی عذر کے) انہیں چھوڑتا نہیں۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ183 البقرہ
    مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔ ‏


    32- مسلمان صرف اللہ تعالی پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنی ہر حاجت کے لیے صرف اسی کو پکارتا ہے

    وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ186 البقرہ
    اور (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں


    33- مسلمان کسی دوسرے کا مال ناحق نہیں کھاتا۔

    وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ188 البقرہ
    اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو (رشوتاً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر نہ کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو ‏


    34- مسلمان دوسروں کا مال ناجائز طور پر حاکموں تک بھی نہیں پہنچاتا ۔

    وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ188 البقرہ
    اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو (رشوتاً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر نہ کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو ‏


    35- مسلمان ہر حالت میں تقوی اختیا کرتا ہے اور جانتا ہے کہ اللہ تعالی تقوی اختیار کرنے والوں کے ساتھ اور ان کا مددگار ہے۔

    الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللہ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللہ مَعَ الْمُتَّقِينَ 194 البقرہ
    ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں، پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے ‏


    36- مسلمان جانتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے وہ خود کو ہلاکت میں نہیں ڈالتا اور لوگوں سے نیک سلوک کرتا ہے۔

    وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللہ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللہ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ 195 البفرہ
    ‏ اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے


    37- مسلمان ہمیشہ گناہ کے کاموں سے بچتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ گناء گاروں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

    وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللہ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ ۚ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ 206 البقرہ
    اور جب اس سے کہاجاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسادیتا ہے سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے ‏


    38- مسلمان اسلام کا مکمل طور پر اپناتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ایسا نہ کرنا شیطان کے نقش قدم پر چلنا ہے

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ 208 البقرہ
    مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے ‏


    39- مسلمان اللہ تعالی کی راہ میں اپنا مال اللہ تعالی کے حکم کے مطابق ماں باپ، قرابت داروں پر، یتیموں، محتاجوں اور مسافرروں پر خرچ کرتا ہے۔

    يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ ۖ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللہ بِهِ عَلِيمٌ 215 البقرہ
    (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ کو اور قریب کے رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے ‏


    40- مسلمان ہر حالت میں اللہ تعالی کا حکم مانتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا کہ اس بات کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے کہ کونسی چیز اس کے لیے بھلی ہے اور کون سی بری۔

    كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ ۖ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۖ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ ۗ وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ 216 البقرہ
    (مسلمانو!) تم پر (خدا کے راستے میں) لڑنا فرض کر دیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو اور (ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے


    جاری ہے--------
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    41- مسلمان اللہ تعالی کے اس حکم کو اچھی جانتا ہے کہ اللہ تعالی کی راہ میں کون سا مال خرچ کیا جاۓ

    وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ۗكَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ﴿٢١٩﴾البقرۃ
    اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو(219)


    42- مسلمان اللہ کو اپنی قسموں کے ذریعے نیکی کرنے، تقوی کرنے اور لوگوں کے مابین صلح کرانے میں رکاوٹ نہیں بناتا،

    وَلَا تَجْعَلُوا اللَّـهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ ۗوَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴿٢٢٤﴾البقرہ
    اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے(224)


    43- مسلمان اللہ کی حدود میں رہتا ہے اور اس سے آگے بڑھ کر ظالم نہیں بنتا،

    وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴿٢٢٩﴾ البقرہ
    اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے(229)


    44- مسلمان کبھی بھی اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق نہیں بناتا

    وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّـهِ هُزُوًا ۚوَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ ۚوَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴿٢٣١﴾ البقرہ
    اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے(231)


    45- مسلمان ازدواجی تعلقات میں بھی ہمیشہ مہربانی کرتا ہے

    إِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۚوَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۚوَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚإِنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿٢٣٧﴾ البقرہ
    اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے(237)


    46- مسلمان اللہ کی اطاعت میں اللہ کے حکم مطابق کھڑا رہتا ہے۔ اور اپنی تمام نمازوں خصوصا نماز وسطی (عصر) کی حفاظت کرتا ہے۔

    حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ﴿٢٣٨﴾البقرہ
    (مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو(238)


    47- مسلمان جانتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے تمام احکام اس پر واضح کردیے ہیں اور وہ ان کی اطاعت کرتا ہے۔

    كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴿٢٤٢﴾البقرہ
    اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو(242)


    48- مسلمان جانتا ہے کہ اللہ تعالی ہی اس کا رزاق ہے وہی اس کی روزی روکتا اور پھیلاتا ہے اور اسے اللہ ہی کی طرف ل لوٹ کر جانا ہے۔

    مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚوَاللَّـهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴿٢٤٥﴾ البقرہ
    کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے(245)


    49- مسلمان جانتا ہے کہ اللہ تعالی نے گمراہی اور ہدایت کو واضح اور الگ الگ کردیا ہے۔ اور وہ شیطان کا انکار اور اللہ تعالی پر ایمان لاتا ہے۔

    لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖقَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚفَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّـهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗوَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴿٢٥٦﴾ البقرہ
    دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے(256)


    50- مسلمان اللہ تعالی کے دیے ہوۓ مال سے خرچ کرتا ہے اور اس دن کی تیاری کرتا ہے کہ جس دن خرید و فروخت کچھ کام نہ آۓ گی

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗوَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴿٢٥٤﴾ البقرہ
    اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں(254)


    51- مسلمان اللہ کی راہ میں خرچ کرکے احسان نہیں جتلاتا اور کسی کو دکھ بھی نہیں پہنچاتا۔

    الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙلَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿٢٦٢﴾البقرہ
    جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے(262)


    52- مسلمان اگر کسی کی مدد کرنے سے معذور ہے تو مناسب بات کہہ کر معافی مانگ لیتا ہے اور نہ ہی وہ اپنا مال دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے۔ 264

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖفَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗوَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴿٢٦٤﴾ البقرہ
    مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا(264)


    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    53- مسلمان ہمیشہ اچھی چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖوَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ ۚوَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ﴿٢٦٧
    مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے(267)البقرہ


    54- مسلمان شیطان کے بہکاوے میں آکر مفلسی سے نہیں ڈرتا اور نہ کوئ قدم بے حیائ کی حھف اٹھاتا ہے، جس کی تلقین شیطان کرتا ہے بلکہ وہ اللہ کی بخشش اور مہربانی کے وعدے پر یقین رکھتا ہے۔

    الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ ۖوَاللَّـهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗوَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴿٢٦٨
    (اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے(268)البقرہ


    55- مسلمان بظاہر اور چھپا کر اپنے صدقات مفلسوں کو دیتا ہے۔ تاکہ اللہ اس کی بدحالیاں دور کردے۔

    إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖوَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚوَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ ۗوَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴿٢٧١
    اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے(271)البقرہ


    56- مسلمان کبھی سود نہیں کھاتا وہ جانتا ہے کہ ایسا کرنے والے کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کا اعلان جنگ ہے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴿٢٧٨﴾فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۖوَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴿٢٧٩
    مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو(278)اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان(279)البقرہ


    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
     
    Last edited: ‏جنوری 3, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    57- مسلمان اللہ کے حکم کے مطابق لین دین کو لکھ لیتا ہے۔ اور اگر اس پر لین دین کے لکھنے کا اعتماد کیا جاۓ توہ اپنی امانت ادا کرتا ہے۔ اور کبھی گواہی نہیں چھپاتا۔

    وَإِن كُنتُمْ عَلَىٰ سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَّقْبُوضَةٌ ۖفَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّـهَ رَبَّهُ ۗوَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚوَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ ۗوَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴿٢٨٣
    اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے(283) البقرہ


    58- مسلمان جانتا ہے کہ لوگوں کے لیے صنف نازک ، بیٹوں، سونے، چاندی کے بڑے بڑے ڈھیروں، نشان لگے ہوۓ گھوڑوں، مویشیوں اور کھیتیوں کی محبت خوش نما بنائ گئ ہے۔ اور مسلمان یہ بھی جانتا ہے کہ یہ سب دنیا کا سامان ہے اور عمدہ ٹھکانہ تو اللہ ہی کے پاس ہے۔

    زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖوَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ﴿١٤
    لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے(14) آل عمران


    59- مسلمان ہمیشہ صبر کرتا ہے، سچ بولتا ہے، خاموش اطاعت کرتا ہے، اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور بوقت سحر اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوتا ہے۔

    الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ﴿١٧
    یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں(17) آل عمران


    60- اگر اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والے مسلمنا سے جھگڑا کریں تو وہ ہمیشہ کہتا ہے کہ میں نے تو خود کو اللہ کے تابع فرمان کردیا ہے۔

    فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّـهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗوَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ ۚفَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا ۖوَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ ۗوَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ﴿٢٠
    اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا کہ میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہو چکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے ہو) اور اسلام لاتے ہو؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بے شک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مانیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے(20) آل عمران

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  12. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    61- مسلمان سوائے اپنے بچاؤ کرنے کے مومنوں کو چھوڑ کر نہ ماننے والوں یا انکار کرنے والوں کو دوست نہیں بناتا۔

    لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖوَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّـهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗوَيُحَذِّرُكُمُ اللَّـهُ نَفْسَهُ ۗوَإِلَى اللَّـهِ الْمَصِيرُ﴿٢٨
    مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو (تو مضائقہ نہیں) اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے(28) آل عمران


    62- مسلمان ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے کیوں کہ وہ اللہ سے محبت کرتا ہے اور جانتا ہے کہ ایسا کرنے سے اللہ اس سے محبت کرے گا۔

    قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗوَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴿٣١
    (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے(31) آل عمران


    63- مسلمان اپنے رب کا کامل مطیع ہو کر سجدہ کرتا ہے اور جھکنے والوں کے ساتھ جھکتا ہے۔

    يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ﴿٤٣
    مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا(43)آل عمران


    64- مسلمان اپنے رب کو بہت یاد کرتا ہے صبح شام اس کی تسبیح کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ کتاب بر حق اللہ کی طرف سے سچ ہے اور وہ شک کرنے والوں میں سے کبھی نہیں ہوتا۔


    65- مسلمان اسلام کے سوا کوئ اور طریقہ کار نہیں ڈھونڈتا کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوگا۔

    وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴿٨٥
    اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا(85)آل عمران


    66- مسلمان اللہ کی راہ میں وہ چیز خرچ کردیتا ہے جس سے اسے محبت ہے۔

    لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚوَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ﴿٩٢
    (مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے(92) آل عمران

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    67- مسلمان جانتا ہے کہ جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے اسے سیدھا راستہ مل جاتا ہے۔

    وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّـهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ ۗوَمَن يَعْتَصِم بِاللَّـهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴿١٠١
    اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے رستے لگ گیا(101) آل عمران


    68- مسلمان اللہ کی رسی (یعنی کتاب اللہ اور اسوہ رسول) کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے۔

    وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚوَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗكَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴿١٠٣
    اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ(103)آل عمران


    69- مسلمان ہمیشہ نیک کاموں کی تلقین کرتا ہے اور ناپسندیدہ کاموں سے منع کرتا ہے اور اللہ ہی پر اعتماد کرتا ہے۔

    وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚوَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴿١٠٤
    اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں(104)آل عمران


    70- مسلمان فرقہ بندیوں میں پڑ کے ان لوگوں کی طرح نہیں ہو جاتا جو اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح نشان آچکے تھے بکھر کر اختلاف میں پڑ گۓ۔

    وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚوَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴿١٠٥
    اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہو گئے اور احکام بین آنے کے بعد ایک دوسرےسے (خلاف و) اختلاف کرنے لگے یہ وہ لوگ ہیں جن کو قیامت کے دن بڑا عذاب ہوگا(105)آل عمران


    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  14. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    71- مسلمان خوشحالی میں بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور تکلیف میں بھی
    72- مسلمان ہمیشہ غصہ کو ضبط کرتا ہے
    73- مسلمان لوگوں کو معاف کرنے والا ہوتا ہے۔

    الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗوَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
    جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے(134) آل عمران


    74- مسلمان اگر کبھی غلطی سے کوئ بے حیائ کا کام کر بیٹھے یا خود پر ظلم کرے تو فورا گناہوں کی بخشش مانگتا ہے

    وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ
    اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے(135) آل عمران


    75- مسلمان جانتا ہے کہ اسے اس کے مال اور نفس سے ضرور آزمایا جاۓ گا۔ وہ مشرکوں سے دکھ کی بات سن کر صبر کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے

    لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚوَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
    (اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ اور تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بڑی ہمت کے کام ہیں(186) آل عمران


    76- مسلمان اللہ تعالی کو کھڑے بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہمہ وقت یاد کرتا ہے۔ زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کرتا ہے اور جانتا ہے کہ یا کائنات اللہ نے نا حق پیدا نہیں کی اور آگ کے عذاب سے پناہ مانگتا ہے۔

    الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَـٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
    جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو 191 آل عمران


    77- مسلمان کو کافروں کا اس دنیا میں شان و شوکت سے چلنا پھرنا دھوکے میں نہیں ڈالتا، وہ جانتا ہے کہ یہ معمولی، عارضی فائدہ ہے اور اگر انہوں نے روش نہ بدلی تو ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا جو بری آرام گاہ ہے۔ 197

    لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ﴿١٩٦﴾مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚوَبِئْسَ الْمِهَادُ﴿١٩٧
    (اے پیغمبر) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے(196)(یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے(197) آل عمران


    78- مسلمان صبر کرتا ہے، ثابت قدم رہتا ہے اور اللہ سے ہی ڈرتا ہے۔ 200

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
    اے اہل ایمان (کفار کے مقابلے میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو(200) آل عمران


    79- مسلمان کو اگر کبھی یتیموں کے مال پر اختیار آ جاۓ تو وہ ان کے مال ان کو واپس کردیتا ہے، اچھے مال کو برے مال سے بدلتا نہیں اور ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہیں کھاتا۔

    وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖوَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖوَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚإِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا
    اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے(2) النساء


    80- مسلمان جانتا ہے کہ اللہ انہی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالت س بری حرکت کر بیٹھتے ہیں اور جلد توبہ کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی توبہ اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی جو برے کام کرتے رہتے ہیں اور موت آ موجود ہو تو توبہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور نہ ان کی توبہ قبول ہوتی ہے جو کفر کی حالت میں مریں۔

    إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّـهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ فَأُولَـٰئِكَ يَتُوبُ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ ۗوَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا﴿١٧﴾وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ ۚأُولَـٰئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴿١٨
    خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھے ہیں۔ پھر جلد توبہ قبول کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے(17)اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی موت آموجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے(18) النساء
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  15. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    81- مسلمان اللہ کی بندگي کرتا ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا اور بحکم ربی ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا ہے، قرابت داروں، مسکینوں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی سے، مسافر سے اور ان لونڈی ، غلاموں سے، جو اس کے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھتا ہے۔ 36

    82- مسلمان جانتا ہے کہ " اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں فرماتے۔ جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائ پر فخر کرنے والا ہو" 36

    وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖوَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗإِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا﴿٣٦
    اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا(36) النساء


    نوٹ:- یہ بڑی غور طلب بات ہے۔ اپنی زندگي اور اپنے ارد گرد نظر دوڑایے۔ ہر آدمی ہر موقع ملنے پر، اپنے حسب نسب، اپنی تعلیم، اپنے رنگ روپ ، اپنی شان، اپنی دولت، یا اپنی اونچی ذات پر اپنی حد تک مغرور نظر آۓ گا اور اپنی بڑائ اور اہمیت جتلانے کا کوئ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔ کسی کی بھی گفتگو کو غور سے سنیے، آپ کو پتہ چل جاۓ گا کہ ہم میں سے ہر آدمی، اپنی اچھائ اور اپنی سچائ کو ثابت کر رہا ہوگا۔ اللہ کریم کے فرمان پر غور کیجیے، اپنا تجزیہ خو ہی کیجیے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک، بہت مفید سلسلہ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  17. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    83- مسلمان کبھی نہ خود بخل کرتا ہے نہ دوسروں کو بخل کی ہدایت کرتا ہے ۔ اور جو کچھ اللہ نے اسے عطا کی ہے اسے کبھی نہیں چھپاتا۔

    الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۗوَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا﴿٣٧﴾ النساء
    جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے(37)


    84- مسلمان کبھی اپنی پاکیزگئ نفس کا دعوی نہیں کرتا

    أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚبَلِ اللَّـهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا﴿٤٩﴾النساء
    کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں (نہیں) بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا(49)


    85- مسلمان ہمیشہ امانتیں، اہل امانت کے سپرد کردیتا ہے، اور اگر موقع ملے تو لوگوں کے درمیان ہمیشہ عدل و انصاف سے فیصلہ کرتا ہے۔

    إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚإِنَّ اللَّـهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗإِنَّ اللَّـهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا﴿٥٨﴾النساء
    خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے


    86- مسلمان کو جو کوئ احترام کے ساتھ سلام کرے تو وہ بہتر طریقے سے اس کا جواب دیتا ہے۔

    وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗإِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا﴿٨٦﴾النساء
    اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو بےشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے(86)


    87- مسلمان کھڑے، بیٹھے ، لیٹے اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ جانتا ہے کو صلوۃ ایک ایسا فرض ہے جو پابندئ وقت کے ساتھ اہل ایمان پر فرض کیا گيا ہے۔

    فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚفَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۚإِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴿١٠٣
    پھر جب تم نماز تمام کرچکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بےشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے


    88- مسلمان کبھی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل نہیں کرتا۔ تاکہ اس پر اللہ کا غضب نازل نہ ہو اور اس کا ٹھکانہ جہنم نہ ہو۔

    وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴿٩٣﴾النساء
    اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے



    89- مسلمان جانتا ہے کہ اللہ کو خیانت کار اور گناہ گار پسند نہیں اس لیے وہ کبھی ایسا نہیں بنتا۔

    وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ ۚإِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا﴿١٠٧﴾النساء
    اور لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا (107)


    90- مسلمان کبھی کوئ خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی دوسرے پر نہیں تھوپتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر لے لے گا۔

    وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا﴿١١٢﴾النساء
    اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا


    91- مسلمان ہمیشہ نیک رویہ رکھتے ہوۓ اللہ کے آگے سر تسلیم خم کیے رکھتا ہے۔

    وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّـهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۗوَاتَّخَذَ اللَّـهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا﴿١٢٥﴾ النساء
    اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا


    92- مسلمان ہمیشہ انصاف کا علم بردار ہوتا ہے اور اللہ کے واسطے گناہ بنتا ہے خواہ اس کے انصاف اور سچی گواہی کی زد اس کے والدین یا رشتہ داروں پر ہی کیون نہ پڑتی ہو۔ وہ نہ لگی لپٹی بات کہتا ہے اور نہ سچائ سے پہلو بچاتا ہے اور نہ ہی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز رہتا ہے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚإِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّـهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖفَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚوَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴿١٣٥﴾النساء
    اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو خواہ (اس میں) تمہارا یا تمہارےماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچیدا شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  18. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    آج کل یہ فیشن بن چکا ہے کہ چند احکام الہیہ، جن کی نفع رسانی ہماری عقل یا مروجہ معیار سے بلند اور ماوراء ہے ان کے بارے میں ایک مخصوص طبقہ استہزاء کا رنگ اپنا لیتا ہے۔ اللہ جل جلالہ کا حکم ہے کہ:

    93- مسلمان کبھی وہاں نہیں بیٹھتا جہاں اللہ کی آيات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہو یا ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو جب تک لوگ دوسری باتوں میں نہ لگ جائيں۔ تاکہ اسے بھی انہی کی طرح نا جانا جاۓ
    وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّـهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚإِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗإِنَّ اللَّـهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا﴿١٤٠﴾ النساء
    اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے(140)


    94- مومن ظاہر و باطن میں صرف بھلائ ہی کیے جاتا ہے یا کم از کم براۓ سے درگذر کرتا ہے اور سوائے مظلوم ہونے کے کبھی بدگوئ پر زبان نہیں کھولتا۔

    لَّا يُحِبُّ اللَّـهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚوَكَانَ اللَّـهُ سَمِيعًا عَلِيمًا﴿١٤٨﴾إِن تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَن سُوءٍ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا﴿١٤٩﴾ النساء
    خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے(148)اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنے والا (اور) صاحب قدرت ہے(149)


    95- مسلمان اپنے عہدوں اور بندشوں کی پوری پابندی کرتا ہے اور اپنے اقراروں کو پورا کرتا ہے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ۚأُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۗإِنَّ اللَّـهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ﴿١﴾ المائدہ
    اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے


    96- مسلمان نیکی اور پرہیزگآری کے کاموں میں تعاون کرتا ہے۔
    97- مسلمان گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہیں کرتا

    وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖوَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚوَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖإِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴿٢
    اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے(2)


    98- مسلمان جانتا ہے کہ اللہ کریم صرف متقیوں کی ہی نذریں قبول کرتے ہیں ( یہ بات ہمارے لیے قابل غور ہے کہ ہم دنیا بھر کی غلط کاریاں کرتے ہیں اور پھر صدقہ یا قربانی نے کر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ قبول ہوگي)

    وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖقَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴿٢٧﴾ المائدہ
    اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے(27)


    99- اللہ پر ایمان لانے والا کبھی اہل کتاب کو جنہوں نے دین اسلام کو مذاق اور تفریح کا سامان بنا لیا ہو یا دوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہیں بناتا۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ ۚوَاتَّقُوا اللَّـهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴿٥٧﴾ المائدہ
    اے ایمان والوں! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو(57)
     
    Last edited: ‏مارچ 2, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  20. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    100- مسلمان شراب (یا ہر وہ چیز جو اس کے حواس کو مختل کردے) اور پانسے ان سب کو بحکم ربی ناپاک اور شیطان کے اعمال سمجھتا ہے اور ان سے اجتناب برتتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ شیطان چاہتا ہے کہ جوئے اور شراب کے ذریعے مسلمانوں میں رنجش اور دشمنی ڈلوادے تاکہ انہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴿٩٠﴾المائدہ
    اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ(90)


    101- مسلمان جانتا ہے کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں۔ چاہے ناپاک کی بہتاب اسے کتنا ہی فریفتہ کرنے والی کیوں نہ ہو وہ اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔

    قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ ۚفَاتَّقُوا اللَّـهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴿١٠٠﴾ المائدہ
    کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو(100)


    102- مسلمان ہمیشہ تقوی اختیار کرتے ہوۓ اللہ کے قرب کا ذریعہ تلاش کرتا رہتا ہے اور اللہ کی راہ میں جد و جہد کرتا رہتا ہے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴿٣٥﴾ المائدہ
    اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ(35)


    103- مسلمان اپنے باپ دادا کی تقلید نہیں۔ صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی اطاعت کرتا ہے۔

    وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚأَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴿١٠٤﴾ المائدہ
    اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟)(104)


    104- ایمان لانے والا جانتا ہے کہ اسے اپنی فکر کرنی ہے۔ کسی کی گمراہی سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا۔ جب کہ وہ بذات خود راہ راست پر ہوگا۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ ہی طرف اس کو لوٹ کر جانا ہے اور اللہ انہیں بتلا دے گا کہ جو کچھ وہ یہاں کرتے رہے ہیں۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖلَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۚإِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴿١٠٥﴾ المائدہ
    اے ایمان والو! اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا میں) کئے تھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے گا)(105)


    105- مسلمان جاتا ہے کہ اگر اللہ اسے کوئ سختی پہنچآئيں تو اللہ کے سوا کوئ اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر اللہ کوئ نعمت و رحمت عطا کرے تو کوئ اس کو روکنے والا نہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

    وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖوَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿١٧﴾ الانعام
    اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے(17)
     
    Last edited: ‏مارچ 4, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں