خود اعتمادی قرآن کی نظر میں

عفراء نے 'نقطۂ نظر' میں ‏دسمبر 1, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    السلام علیکم
    مجھے یہ جاننا ہے کہ قرآن کی نظر میں خود اعتمادی یا کانفیڈنس کیا ہے اور اس کو انسان کی شخصیت میں کیا مقام حاصل ہے؟
    قرآن انسان کی تربیت کے لیے خود اعتمادی کو کس طرح پیش کرتا ہے؟ (کوئی آیت یا واقعہ؟)
    وہ کونسے مقامات ہیں جن سے ہم خود اعتمادی کے لیے استدلال کر سکتے ہیں؟

    مختصرا یہ کہ قرآن و سنت انسان میں خود اعتمادی کیسے پیدا کرتے ہیں اور کیوں؟ اور اس کے دلائل کیا ہیں؟

    اہل علم سے گزارش ہے کہ اپنے فہم سے مستفید کروائیں۔
    اس موضوع پر مستقل کوئی کتاب یا کسی اہل علم کا کام نظر میں ہو تو شئیر کیجیے۔
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • مفید مفید x 2
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ تھریڈ صرف اہل علم کیلئے ہے یا طالب علم بھی کچھ پیش کرسکتے ہیں (تاکہ کم از کم اپنی اصلاح ہو)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    چونکہ مجلس طلاب العلم میں موضوع شروع کیا ہے لہذا دلائل اگر علمی ہوں تو کوئی بھی حصہ لے سکتا ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ان شاء اللہ اس موضوع پر کچھ لکھنے کو دل چاہ رہا ہے بس نئی تھریڈ میں لکھ کر یہاں پر لنک ڈال دوں گا ان شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    Last edited: ‏دسمبر 2, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  6. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    خود اعتمادی کا ایک واقعہ، واقعہ ظہار اور سورۃ مجادلہ کی ابتدائی آیات سے بھی لیا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے خولہ پر اعتماد انداز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہی تھیں.
    اشارتا بتایا مراجعہ فرمالیں.

    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  7. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,718
    وعلیکم السلام
    صرف قرآن ہی میں کیوں احادیث رسول صلی اللہ علیہ و سلم آپ کی سیرت مبارکباد سے ہمیں درس ملے گا ۔

    نصر اللہ بھائی براہ مہربانی واضح کر کے بتلائیں
     
    • متفق متفق x 1
  8. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,718
    اسلام میں خود اعتمادی اور اللہ پر توکل اللہ پر بھروسہ کرنا الگ نہیں ہے
    مومن خود پر نہیں بلکہ اللہ پر اعتماد کرتا ہے۔ خود پر بھروسہ کرنے والے کو کبھی کبھار خود پر یقین نہیں ہوتا اللہ پر ایمان رکھنے والے کے اندر کانفڈنس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • متفق متفق x 2
  9. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    دلائل دونوں ہوسکتے ہیں۔
    شروع میں قرآن کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ میں موضوع کو تفسیری نقطہ نظر سے سمجھنا چاہ رہی تھی، اور تفسیر میں سیرت طیبہ سے استدلال شامل ہو ہی جاتا ہے لازمی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بارک اللہ فیک بھائی
    دراصل جب انسان اللہ تعالی کی کامل صفات پر ایمان رکھتا ہے، اس کی اطاعت کرتا ہے تو وہ کسی سے نہیں ڈرتا اس سے انسان کے اندر خود اعتمادی فطری طور پر پیدا ہوتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  11. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بارک اللہ فیک.
    توکل علی اللہ اور خود اعتمادی میں بسیط سا فرق سمجھ لیں.
    خود اعتمادی کام کرنے کے حوصلے اور جذبے کا نام ہے جو انسان کو کچھ کرنے پر ابھارتا ہے اس یقین کے ساتھ کہ وہ اس کو کر لے گا، جب انسان میں خود اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے تو بطور مسلمان وہ اللہ کی ذات پر خود پر اعتماد کے بعد توکل کرتا ہے.
    بھت سے مسلمان اللہ کی ذات پر کامل توکل کے باوجود بھی کام کرنے کی ہمت نہیں رکھتے،بس اسی ہمت کا نام کانفیڈنس ہے.
    یہ بات بالکل بجا ہے کہ توکل میں خود اعتمادی ضرور ہے لیکن ہر خود اعتمادی میں توکل نہیں ہوتا یہ توکل کی نعمت فقط کامل فرائض وسنن کے پابند مسلمان یا جس پر اللہ کی خاص رحمت ہو اس کو حاصل ہوتی ہے.

    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • مفید مفید x 1
  12. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  13. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    میرے خیال میں الگ مضمون سے بہتر ہے کہ یہی پر چند نکات پیش کروں۔
    ایک طالب علم کی حیثیت سے خود اعتمادی کی عمدہ مثال قرآن میں موسی علیہ السلام کے قصے میں موجود ہے۔ قرآنی آیات میں کچھ اسطرح ہمیں معلومات ملتی ہے۔

    والدہ موسی علیہ السلام
    خود اعتمادی کی عمدہ مثال دیکھیں جب موسی علیہ السلام پیدا ہوتے ہیں تو اللہ تعالی ان کی والدہ کو موسی علیہ السلام کو تابوت میں ڈالنے کا حکم دیتا ہے اور وہ ساتھ میں یہ والدہ موسی علیہ السلام کا اعتماد بڑھانے کیلئے اللہ جل جلالہ یہ خوشخبری بھی دیتا ہے کہ وہ موسی علیہ السلام کو ضرور واپس لوٹائے گا۔
    وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي ۖ إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ (القصص: 7)

    موسی علیہ السلام اور فرعون
    خود اعتمادی اور اللہ پر توکل کی عمدہ مثالیں قصہ موسی علیہ السلام میں بہت ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر

    جب موسی علیہ السلام کی چھڑی کا معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو وہ فطری طور پر ڈر جاتے ہیں اللہ رب العزت ان کا اعتماد ان الفاظ میں بحال کرتے ہیں:
    وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ أَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ ۖ إِنَّكَ مِنَ الْآمِنِينَ (القصص:31)

    جب موسی علیہ السلام سے غلطی سے قتل ہوتا ہے اور ان کی زبان میں لقنت کی وجہ وہ فرعون کے پاس جاتے ہیں تو اللہ تعالی موسی علیہ السلام کی تربیت کس خوبصورت انداز میں کرتے ہیں۔
    جب موسی علیہ السلام قتل اور زبان میں لقنت کی وجہ سے اپنی بے بسی کا اظہار کرتا ہے تو اللہ رب العزت فرماتا ہے۔
    قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ (33) وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي ۖ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ (34) قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَانًا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا ۚ بِآيَاتِنَا أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَالِبُونَ (35) القصص

    دوسری جگہ سورۃ الشعراء میں اسطرح اللہ رب العزت اس کو بیان فرماتے ہیں:
    وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰ أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (10) قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۚ أَلَا يَتَّقُونَ (11) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ (12) وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَارُونَ (13) وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ (14) قَالَ كَلَّا ۖ فَاذْهَبَا بِآيَاتِنَا ۖ إِنَّا مَعَكُم مُّسْتَمِعُونَ (15) الشعراء

    جب جادوگر اپنی رسیاں ڈالتے ہیں تو موسی علیہ السلام خوف محسوس کرنے لگتے ہیں اللہ تعالی ان کی خود اعتمادی میں اس انداز میں فرماتے ہیں:
    قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ (65) قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ (66) فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ (67) قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ (68) طہ

    اس تربیت کا ثمرہ پھر دیکھیں جب اللہ رب العزت موسی علیہ السلام کو سمندر کے درمیان گزرنے کا حکم دیتے ہیں تو موسی علیہ السلام کی قوم کو خوف محسوس ہوتا ہے کیوں کہ آگے سمندر اور پیچھے فرعون اور اس کی فوج۔
    فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ (61) قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (62) طه

    موسی علیہ السلام اپنی قوم کا مورل بلند کرنے کیلئے ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کیلئے ان کو یقین دلاتا ہے کہ ہرگز نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
    لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ انسان کو اللہ تعالی پر کامل یقین رکھنا چاہیے اور اللہ تعالی سے حسن ظن رکھنا چاہیے نیز مناسب اسباب اختیار کرکے اللہ تعالی پر توکل کرنا چاہیے خود اعتمادی فطری طور پر اس کے اندر پیدا ہوگی جس کو ہم لوگ موسی علیہ السلام کے اندر دیکھتے ہیں جو ہر وقت اللہ تعالی پر کامل یقین کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور کامیاب ہوتا ہے۔

    یہ چند باتیں لکھنے کے بعد گذارش ہے کہ ایک طالب علم کی حیثیت سے یہاں اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے اور غلطی کی گنجائش موجود ہے لہذا اہل علم میری اصلاح میں بخیلی کا مظاہرہ نہ کریں۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 3, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. T.K.H

    T.K.H رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2014
    پیغامات:
    234
    بسم اللہ الرحٰمن الرحیم
    میری دانست میں یہ قرآنی آیات خود اعتمادی کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتی ہیں۔
    إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿آل‌عمران: ١٢٢﴾
    یاد کرو جب تم میں سے دو گروہ بزدلی د کھانے پر آمادہ ہوگئے تھے، حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے (۳: ۱۲۲)

    وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ ﴿آل‌عمران: ١٥٩﴾
    اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں (۳: ۱۵۹)

    إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿آل‌عمران: ١٦٠﴾
    اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے (۳: ۱۶۰)

    الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ﴿آل‌عمران: ١٧٣﴾
    اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ، "تماررے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، اُن سے ڈرو"، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسا ز ہے (۳: ۱۷۳)

    وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا ﴿النساء: ١٣٢﴾
    ہاں اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کاجو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور کار سازی کے لیے بس و ہی کافی ہے (۴: ۱۳۲)

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿المائدة: ١١﴾
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے اُس احسان کو یاد کرو جو اُس نے (ابھی حال میں) تم پر کیا ہے، جبکہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کر لیا تھا مگر اللہ نے اُن کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، ایمان رکھنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے (۵: ۱۱)
    قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿المائدة: ٢٣﴾
    اُن ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا اُنہوں نے کہا کہ "ان جباروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر گھس جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو" (۵: ۲۳)

    ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ﴿الأنعام: ١٠٢﴾
    یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے (۶: ۱۰۲)

    قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّهُ مِنْهَا وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ ﴿الأعراف: ٨٩﴾
    ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لیے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ خدا ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا اے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے" (۷: ۸۹)

    إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿الأنفال: ٢﴾
    سچّے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں (۸: ۲)

    إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰؤُلَاءِ دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿الأنفال: ٤٩﴾
    جب کہ منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں کو روگ لگا ہوا ہے، کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں کو تو اِن کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے (۸: ۴۹)

    قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿التوبة: ٥١﴾
    ان سے کہو "ہمیں ہرگز کوئی (برائی یا بھلائی) نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے اللہ ہی ہمارا مولیٰ ہے، اور اہل ایمان کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے" (۹: ۵۱)

    فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ﴿التوبة: ١٢٩﴾
    اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبیؐ، ان سے کہدو کہ "میرے لیے اللہ بس کرتا ہے، کوئی معبود نہیں مگر وہ، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا" (۹: ۱۲۹)

    وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللَّهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنظِرُونِ ﴿يونس: ٧١﴾
    اِن کو نوحؑ کا قصہ سناؤ، اُس وقت کا قصہ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ “اے برادران قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سنا سنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے، تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کر لو اور جو منصوبہ تمہارے پیش نظر ہو اس کو خوب سوچ سمجھ لو تاکہ اس کا کو ئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے، پھر میرے خلاف اس کو عمل میں لے آؤ اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو (۱۰: ۷۱)

    وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ ﴿يونس: ٨٤﴾
    موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ “لوگو، اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو" (۱۰: ۸۴)

    فَقَالُوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿يونس: ٨٥﴾
    انہوں نے جواب دیا “ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا (۱۰: ۸۵)

    إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿هود: ٥٦﴾
    میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو بے شک میرا رب سیدھی ر اہ پر ہے (۱۱: ۵۶)

    قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ﴿هود: ٨٨﴾
    شعیبؑ نے کہا "بھائیو، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا (تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہارا شریک حال کیسے ہوسکتا ہوں؟) اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں (۱۱: ۸۸)

    وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴿هود: ١٢٣﴾
    آسمانوں اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے پس اے نبیؐ، تو اس کی بندگی کر اور اسی پر بھروسا رکھ، جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو تیرا رب اس سے بے خبر نہیں ہے (۱۱: ۱۲۳)

    قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلَّا أَن يُحَاطَ بِكُمْ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ﴿يوسف: ٦٦﴾
    ان کے باپ نے کہا "میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اِسے میرے پا س ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ" جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا "دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے" (۱۲: ۶۶)

    وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ﴿يوسف: ٦٧﴾
    پھر اس نے کہا "میرے بچو، مصر کے دارالسطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرے" (۱۲: ۶۷)

    كَذَٰلِكَ أَرْسَلْنَاكَ فِي أُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَا أُمَمٌ لِّتَتْلُوَ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِالرَّحْمَٰنِ قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ ﴿الرعد: ٣٠﴾
    اے محمدؐ، اِسی شان سے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے، ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں، تاکہ تم اِن لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے، اِس حال میں کہ یہ اپنے نہایت مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں اِن سے کہو کہ وہی میرا رب ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا ملجا و ماویٰ ہے (۱۳: ۳۰)

    قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَمَا كَانَ لَنَا أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿ابراهيم: ١١﴾
    ان کے رسولوں نے ان سے کہا "واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں سند تو اللہ ہی کے اذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے (۱۴: ۱۱)

    وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَيْتُمُونَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ﴿ابراهيم: ١٢﴾
    اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے" (۱۴: ۱۲)

    الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿النحل: ٤٢﴾
    جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں (کہ کیسا اچھا انجام اُن کا منتظر ہے) (۱۶: ۴۲)

    إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿النحل: ٩٩﴾
    اُسے اُن لوگوں پر تسلط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں (۱۶: ۹۹)

    وَآتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا مِن دُونِي وَكِيلًا ﴿الإسراء: ٢﴾
    ہم نے اِس سے پہلے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور اُسے بنی اسرائیل کے لیے ذریعہ ہدایت بنایا تھا، اِس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا (۱۷: ۲)

    إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا ﴿الإسراء: ٦٥﴾
    یقیناً میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا، اور توکل کے لیے تیرا رب کافی ہے" (۱۷: ۶۵)

    وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ وَكَفَىٰ بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا ﴿الفرقان: ٥٨﴾
    اور اے محمدؐ، اُس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے (۲۵: ۵۸)

    وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ﴿الشعراء: ٢١٧﴾
    اور اُس زبردست اور رحیم پر توکل کرو (۲۶: ۲۱۷)

    فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ ﴿النمل: ٧٩﴾
    پس اے نبیؐ، اللہ پر بھروسا رکھو، یقیناً تم صریح حق پر ہو (۲۷: ۷۹)

    قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ وَاللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ﴿القصص: ٢٨﴾
    موسیٰ نے جواب دیا "یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گئی ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے" (۲۸: ۲۸)

    الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿العنكبوت: ٥٩﴾
    اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (۲۹: ۵۹)

    قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ﴿السجدة: ١١﴾
    اِن سے کہو "موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لے گا اور پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹا لائے جاؤ گے" (۳۲: ۱۱)

    وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا ﴿الأحزاب: ٣﴾
    اللہ پر توکل کرو، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے (۳۳: ۳)

    وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا ﴿الأحزاب: ٤٨﴾
    اور ہرگز نہ دبو کفار و منافقین سے، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کر لو اللہ پر، اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اُس کے سپرد کر دے (۳۳: ۴۸)

    وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ ﴿الزمر: ٣٨﴾
    اِن لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے اِن سے کہو، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، مجھے اُس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اُسی پر بھروسہ کرتے ہیں (۳۹: ۳۸)

    اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ﴿الزمر: ٦٢﴾
    اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے (۳۹: ۶۲)

    وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ﴿الشورى: ١٠﴾
    تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے وہی اللہ میرا رب ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں (۴۲: ۱۰)

    فَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿الشورى: ٣٦﴾
    جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سر و سامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائدار بھی وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (۴۲: ۳۶)

    إِنَّمَا النَّجْوَىٰ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿المجادلة: ١٠﴾
    کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے، اور وہ اس لیے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اُس سے رنجیدہ ہوں، حالانکہ بے اذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے (۵۸: ۱۰)

    قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ﴿الممتحنة: ٤﴾
    تم لوگوں کے لیے ابراہیمؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا "ہم تم سے اور تمہارے اِن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہو گئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ" مگر ابراہیمؑ کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اِس سے مستثنیٰ ہے) کہ "میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا، اور اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کر لینا میرے بس میں نہیں ہے" (اور ابراہیمؑ و اصحاب ابراہیمؑ کی دعا یہ تھی کہ) "اے ہمارے رب، تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسا کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کر لیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے (۶۰: ۴)

    اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿التغابن: ١٣﴾
    اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیے (۶۴: ۱۳)

    وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا ﴿الطلاق: ٣﴾
    اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو جو اللہ پر بھروسا کرے اس کے لیے وہ کافی ہے اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے (۶۵: ۳)

    قُلْ هُوَ الرَّحْمَٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿الملك: ٢٩﴾
    اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے (۶۷: ۲۹)

    رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا ﴿المزمل: ٩﴾
    وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنا لو (۷۳: ۹)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,718
    جی میں سمجھا صرف قرآن کا ذکر کیا ہے ۔
    نبی صلی اللہ و سلم کی سیرت ہم سب کے لیے اسوہ حسنہ ہے میرے ناقص علم کے مطابق خود پر اعتماد اور دیگر پیش آنے والے مسائل کے لیے سیرت کا مطالعہ ہی مفید رہے گا اس کے علاوہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں راہ راست پر جمے رہنے کے لیے مسلسل سیرت کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے۔
     
  16. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,718
    جزاک اللہ خیرا نصراللہ بھائی آپ نے پچھلی پوسٹ میں جن آیات کا ذکر کیا ہے اس کی تفصیل بھی بتا دیجیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    عفراء عقیدہ توحید کے انسانی زندگی پر اثرات کے متعلق جو کتابیں یا مضامین ہیں ان سے بھی مدد مل سکتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    ایک آدھ کا نام بھی بتا دیتیں۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    خود اعتمادی کی تفصیلات میں جانے سے پہلے ایک چھوٹی سی بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے ۔ وہ یہ کہ تمام اچھائیاں ایک چین کی طرح آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ اسی طرح تمام برائیاں ایک چین کی طرح آپس میں جڑی ہوئی ہیں ۔آپ پستی کی طرف جانا شروع کرو گے تو گہرائیوں میں گرتے چلے جاؤ گے ۔ اپنا سفر بلندی کی طرف رکھو گے تو کبھی نہ کبھی آسمانوں کی بلندیوں سے بھی آگے نکل جاؤ گے۔

    خود اعتمادی کی چین بھی مزید کئی صفات پر منحصر ہے ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ آپ نے قرآن کی کوئی آیت پڑھی اور آپ کے اندر فورا خود اعتمادی جاگ گئی۔ میرے نزدیک خود اعتمادی کی پہلی سیڑھی علم ہے۔ جہاں سے قرآن نازل ہونے کی شروعات ہوتی ہے۔اور ایسا علم جس کی بنیاد توحید ہو۔ اور توحید کے اقرار کے بعد دین و دنیا کا علم حاصل کرتے رہنے کا ایسا شوق جو کبھی رکے نہیں۔علم کے ساتھ آپ کے اندر شعور آتا ہے۔ اس بات کا شعور کہ ہر انسانی جان اہم ہے۔ہر نفس کا حساب ہونا ہے۔
    پھر کچھ آگے بڑھیں تو قرآن ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا سبق دیتا ہے ۔ جہاں پر سب سے زیادہ خود اعتمادی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ کتنا علم یا عمر درکار ہے کہ آپ کے اندر کی جھجک ختم ہو سکے۔ اسی سے متعلق ایک صحابی کے بچپن کے واقعہ ہے۔ جنہوں نے کم عمری اور جھجھک کے باعث کسی محفل میں جب کوئی سوال پوچھا گیا تو جواب معلوم ہونے کے باوجود خاموش رہے۔بعد میں ان کے والد کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ کاش کہ تم کہہ دیتے۔ (مجھےصحیح تفصیلات یاد نہیں-کوئی اور تصحیح کر دیں یا پھر میں بعد میں دیکھ کر مکمل کر دوں گی انشاللہ۔)
    تو اسی بات سے دو اور باتیں جو مزید معلوم ہوئیں وہ یہ کہ صرف علم سیکھنا کافی نہیں ہے۔ عالموں کی محفل میں جانا اور اچھی صحبت اختیار کرنا بے حد ضروری ہیں۔ اور پھر ان میں شرکت کے بعد اپنی رائے کا بلا جھجھک اظہار کرنا ۔ اس کی مزید مثال بھی ہمیں حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی محفلوں میں نظر آتی ہے جہاں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ بلا جھجک سیکھتے اور سیکھاتے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں