کیا قیاس کے مقابلے میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے

قرطبی نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏جنوری 15, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. قرطبی

    قرطبی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 23, 2015
    پیغامات:
    59
    کیا قیاس کے مقابلے میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے۔
    چنانچہ امام احمد کا قول خود ان کے فرزندِارجمند حضرت عبداللہ نقل کرتے ہیں کہ ضعیف حدیث کو قیاس پر ترجیح حاصل ہوگی۔
    (اصول امام احمد بن حنبل:۲۷۲۔ المسودہ فی اصول الفقہ:۲۷۵)
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,940
    قیاس کے مقابلہ میں ضعیف حدیث کو ترجیح والا اصول ، مطلق طور پہ درست نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. قرطبی

    قرطبی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 23, 2015
    پیغامات:
    59
    ذرہ واضاحت فرمائیں کہ کیوں قبول نہیں کیا جا تا یعنی دلیل بتائیں ۔مثلا حنفی ۔نمازی حالت صلوٰۃ میں قہقہہ لگادے توقیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے؛ کیونکہ قہقہہ میں خروجِ نجاست کا تحقق نہیں ہوتا ہے؛ مگراس سلسلہ میں ایک ضعیف حدیث ہے جویہ بتلاتی ہے کہ ایسے شخص کا وضوٹوٹ جاتا ہے؛ لہٰذا قیاس کو ترک کرکے احناف نے یہاں ضعیف حدیث پر عمل کیا اور قہقہہ کوناقض وضو قرار دیا۔
    سوال 2 امام احمد کے قول کا کیا جواب دیا جائے
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,940
    قہقہہ لگانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا کیونکہ اسکی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ البتہ نماز ٹوٹ جاتی ہے اسکی دلیل اللہ تعالى کا فرمان "وقوموا للہ قانتین" ہے۔
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول جیسا کہ میں نے پہلے کہ مطلق طور پر درست نہیں ہے ۔
    یاد رہے کہ امام احمد کے زمانہ تک حدیث کی صرف دو تقسیمات تھیں صحیح اور ضعیف۔ اسکے بعد ایک تیسری تقسیم بھی سامنے آئے جسے حسن کہا جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. قرطبی

    قرطبی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 23, 2015
    پیغامات:
    59
    امام مالک کا کلمہ حسن کا استعال
    ان ھذا الحدیث حسن ( تقدمہ الجرح و التعدیل لابن حاتم ص31-32 )
    امام شافی کا کلمہ حسن کا استعال
    حافظ عرقی فرماتے ہیں
    میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جو خطابی سے قبل اس مذکورہ
    تقسیم سے واقف ہواگر متقدمین کے کلام میں حسن کا ذکر ملتا ہے تو امام
    شافی ،بخاری اور جماعت کے کلام میں موجود ہے(تقیید والا یضاح العراقی)
    ابن عمر کی حدیث لقدار تقیت ظرہیت لنا نکل کرنے کے بعد اختلاف ذکر کیا اور فرماتے ہیں ابن عمر کی حدیث حسن السناد ہے۔اسی طرح اس اصلاح کے بارے میں نہ بھی فرمایا میں نے سنا ہے ابابکرہ نے نبیٖٖٖٖٖصلی علیہ وسلم
    کے متلق باسناد حسن روایت بیان کیا ہےآںصلی علیہ وسلم نے بدون صف
    رکوع فرمایا(تدریب الراوی1۔ص166)
    امام احمد بن حنبل کا کلمہ حسن کا استعال
    ابن سحاق کے متلق آپ فرماتے ہیں حسن الحدیث ہے(مزان الاعتدال 3 ص 469)یہ نہی کہا کہ ثقہ صیحح الحدیث ہے
    امام ابن قیم امام احمدکی سحسین فرماتے ہیں وقدصحح الامام احمدھذاالاسناد
    و حسنہ (اعلام الموقین 3 ۔ص43۔42 )
    امام بخاری اور کا کلمہ حسن کا استعال
    امام ترمذی فرماے ہیں اسیک حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں میں نے امام بخاری اس کے متلق سوال کیا تو آپ نے فر مایا یہ حدیث حسن ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  6. قرطبی

    قرطبی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 23, 2015
    پیغامات:
    59
    کوئی جواب
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں