گورنر پنجاب کے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی، مذہبی تنظیموں کی ہنگامہ آرائی

عائشہ نے 'خبریں' میں ‏فروری 29, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    باقی تو ٹھیک ہے لیکن کیپشن لکھنے والے نے یہ جو لکھا ہے
    اتنا بھی معزز نہیں تھا وہ ملعون، ساری زندگی دین اور دین والوں کا مذاق اڑاتے گزری۔ اتنے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والے کے لیے اتنی عاجزی اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    بالکل ویسے بھی اتنا نفع بخش کاروبار ہے مزار بنانا کہ لوگ گھوڑوں، گدھوں، بھینسوں کے مزار بنا کر مجاور بن جاتے ہیں، یہاں تو پھر انسان کا مزار ہے۔ سیاسی اور روحانی دکان بیک وقت چمکے اس سے زیادہ کیا چاہیے۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    اس کیس میں یہ بھی لگ رہا کہ ایک سلمان تاثیر نے ہی اس قانون کے خلاف بات کی تھی۔ حقیقت میں ماضی قریب میں کئی لوگوں نے قانون تحفظ رسالت کو discriminatory کہا تھا: سلمان تاثیر، فوزیہ وہاب، شیری رحمان، عاصمہ جہانگیر۔ فوزیہ وہاب کا وہ انگریزی انٹرویو آج بھی نیٹ پر موجود ہے، عاصمہ اور شیری کے بیان بھی ریکارڈ پر ہیں۔ ایسے میں بریلوی تنظیموں کا فتح کے شادیانے بجانا کہ جو بھی ہوا سلمان تاثیر انجام کو پہنچا بالکل سمجھ نہیں آتا۔ اگر ممتاز قادری کو خود یقین ہوتا کہ وہ قابل فخر کام کر چکا ہے تو رحم کی اپیل نہ کرتا۔
    اگریہ لوگ کوئی مفید کام کرنا چاہتے ہیں تو اتنی ساری تنظیمیں مل کر اتنا بھی نہیں کر سکتیں کہ قانونی اور علمی بنیادوں پر کام کر کے ایسے سب لوگوں کو دکھا دیں کہ سچی حب رسول اور غیرت ایمانی کیا ہوتی ہے۔ یہاں تو بس زبانی جمع خرچ ہے۔ خوابوں میں بشارتوں کا ہاؤ ہو کا میلہ ہے۔
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    ہمارے ملک میں روحانیت کی بنیاد پر کچھ بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔
    قادری کیس میں شروع سے اب تک آنے والی بریلوی من گھڑت بشارتیں
    1) غوث پاک نے ممتاز قادری کی ڈیوٹی لگائی تھی ۔۔۔۔یہ مت پوچھیں کہ پھر غوث پاک اس کی پھانسی کیوں نہ رکوا سکے۔ عقل کا یہاں کیا کام
    http://www.pukartv.com/news/captain-safdar-emotional-speech-in-favor-of-mumtaz-qadri/
    2)ممتاز قادری جانے اور اس کا غوث پاک جانے، جس کا بیٹا ہے وہ سنبھال لے گا۔
    3) جیل کا تالا ٹوٹے گا غازی ہمارا چھوٹے گا، غازی کے چاہنے والے میدان میں آگئے، ہم اس کو چھڑا کر دم لیں گے۔ یہ بظاہر امن پرست اہل تصوف کے علامہ صاحب کی شاعری ہے اور اس میں واضح دھمکی ہے کہ
    اعلان ہے اہل سنت کا سب گستاخوں کو ختم کرو
    گر وقت کے حاکم نہ بولے ہم خود ہی مٹا کر دم لیں گے
    یہ سب کچھ ان کے ٹی وی پر چلتا رہا، یعنی مذہبی میڈیا کو کھلی چھوٹ ہے کہ حکومت اور ریاست کو دھمکیاں دیتے رہیں۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ ان من گھڑت "اہل سنت" کے ہاں گستاخوں کی فہرست کتنی لمبی ہے اوراس میں کون کون شامل ہو سکتا ہے۔ ہر وہ شخص جو ان کی فاتحہ، کونڈوں، مزاروں، شب براتوں ، جمعراتوں کی کمائی پر بولے وہ گستاخ ہو سکتا ہے۔ان کی مسجد میں کوئی مسافر نمازی اونچی آواز میں آمین کہہ دے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہو سکتا ہے۔ ایک واقعے میں انہوں نے مسجد کے فرش کی وہ اینٹیں اکھیڑ دیں تھیں جہاں اس غیر مقلد نے نماز پڑھی تھی۔ بہرحال سنی عوام کو اس طرح بے وقوف بنایا جا رہا تھا۔ ہمارے پڑوسیوں نے یہ اتنا بجایا تھا کہ کان پک گئے تھے۔
    4) مزار پر بیٹھ کر مجاوروں کے بیچ "عینی شاہد" کا بیان، ممتاز قادری پھانسی کے لیے بھاگ کر جا رہا تھا۔۔۔ آپ اس عینی شاہد پر یقین کریں گے یا اس رحم کی اپیل پر جو ممتاز قادری نے جمع کروائی؟
     
    Last edited: ‏مارچ 6, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    کیپشن میں لکھنے والے سے میں نے اتفاق نہیں کیا. میں نے صرف مفتی تقی عثمانی کی بات کا حوالہ دیا تھا. بہتر ہے موضوع پر گفتگو کی جائے
     
  6. سلمان اعظم

    سلمان اعظم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2016
    پیغامات:
    26
    کاروبار بھی ایسا جس میں نہ انکم ٹیکس نہ سیلز ٹیکس نہ ود ہولڈنگ ٹیکس نہ زکوۃ نہ عشر نہ پوچھ نہ گیچھ
    فائدہ ہی فائدہ
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  7. سلمان اعظم

    سلمان اعظم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2016
    پیغامات:
    26
    حق و باطل کا فیصلہ جنازے سے نہیں کیا جا سکتا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں گنتی کے چندلوگ تھے
     
    • متفق متفق x 1
  8. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    Inter Barelvi Public Relations کی فخریہ پیشکش : مجھے غازی کا بدلہ لینے جانا ہے


    یا اللہ اس ملک میں شرک اور مشرکوں کو ذلیل کردے، آمین!
     
  9. ابن عادل

    ابن عادل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 17, 2008
    پیغامات:
    79
    اس سارے معاملے میں اگر ہم کسی پر حکم لگانے اور کسی کو کسی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس کا ایک معروضی جائزہ اسلام پسندی کی رو سے لیں تو شاید کہیں کچھ کہنے سننے کا موقع ملے ۔ آئیے ذرا اس معاملے کو ایک حادثے کے پہلو سے دیکھتے ہیں ۔ اب اگر حادثہ کسی کے مقاصد پورا کرنے کے لیے معاون ثابت ہورہا ہے تو اس سے قطع نظر اس میں اسلام پسندوں کے لیے کیا خیر چھپا ہے ۔ میں سمجھتا ہو کہ اس واقعے نے لبرلز کے راستے میں ایک ایسا بند باندھا ہے جس کو زائل ہونے میں ایک عرصہ لگے گا ۔ یہ زبانیں جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف دراز ہورہی تھیں انہیں اب اپنی آواز کو پست رکھنا پڑرہا ہے ۔ غور کیجیے کیا ہم ناموس رسالت کے حوالے سے غیر محتاط رویہ اختیار کرنے والے کے ساتھ وہی رویہ اختیار کریں جو بجلی چور کے ساتھ کریں جو اپنے عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے جری ہوجائے ۔ اور پھر یہ غیر محتاط رویہ کسی نہایت اہم سرکاری ذمہ دار کا ہو تو پھر اس کے معاشرتی اثرات کیا ہوں گے ۔ سوچیے اگر یہی بات وزیر اعظم چیف جسٹس کے بارے میں کہے کہ میں اس کے فیصلے کو نہیں مانتا تو معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔ بات الفاظ کی نہیں اس پورے منظر نامے کی ہے جو ان الفاظ کے استعمال سے پیدا ہوتا ہے ۔کیا ایک گورنر کو اس بات کا احساس دلانے والا کوئی نہ تھا ۔ مان لیجیے کہ وہ آسیہ مسیح کو ظلم سے بچانا چاہتا تھا تب بھی کیا اس کا یہی بھونڈا طریقہ تھا ۔ ہمارے ملک میں کتنے بڑے بڑے ماورائے عدالت کام ہوچکے ہیں سب کے علم میں ہے ۔ میرا یہ خیال ہے کہ سلمان تاثیر کی تمام حرکتیں ایک اسکرپٹ تھیں اور اس کی موت کے بعد ممتاز قادری کو تختہ دار پر لٹکانے تک کے تمام مراحل بھی ۔ممتاز قادری کی سزا درست بھی ہو تب بھی کیا یہ مناسب تھا کہ اسے ہی سزا دی جائے حالانکہ اس سے پہلے کئی مجرم سزا کے منتظر ہیں ؟کیا یہ سب کچھ معاشرے کو تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی نہیں ۔؟
    ان سارے پہلووں پر غور کرنے کے بعد میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس حادثے سے ہر ایک نے اپنے اپنے مقاصد حاصل کیے ۔ ہم کس کا حصہ بننے جارہے ہیں یہ ہم نے سوچنا ہے ۔
    میں نے یہ لکھنے کے پرتولے تھے کہ مجھے نیچے اپنا 2008 کا ایک مراسلہ نظر آیا ۔ جو سلمان تاثیر کے حوالے سے تھا ۔ میرا خیال ہے سلمان تاثیر کے پورے پس منظر کو جاننے میں معاون ثابت ہوگا ۔ اور شاید ہم اس حادثے کے حوالے سے بھی ایک مرتبہ اپنی رائے پر نظر ثانی کریں ۔
    [font="alvi nastaleeq v1.0.0"]
    کچھ عرصے قبل کراچی سے ایک نئے اخبار بنام '' آج کل '' کا افتتاح ہوا تو اس کی پالیسی سے آگاہی کے لیے میں نے دوچار دن اسے خریدا اور ایک دفعہ اتوار کے دن بھی بطور خاص ، مجھے اس سےواضح طور پر معلوم ہوا کہ اس کے مالکان اس معاشرے میں سوائے اباحیت پسندی اور جنسی انارکی پھیلانے کے اور کچھ نہیں چاہتے ۔ آج کل اس کا بڑا خوبصورت نام رکھ دیا گیا ہے یعنی '' اوپن سوسائٹی ''
    بہرحال کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ اس کے مالک یعنی'' سلمان تاثیرصاحب '' گورنر کے عہدے پر فائز ہوچکے ہیں ۔ مجھے وہ ''آج کل '' کے صفحات پر بھی بڑے ''کھلے ڈلے'' انداز میں نظر آتے رہے ۔ لیکن اندر کی کہانی کل ہی معلوم ہوئی موصوف بڑے ہی شوقین مزاج ہیں اور اپنی یہ تمام عیش وطرب کی محفلیں اور خرمستیاں بڑے اہتمام سے گورنر ہاؤس میں سجاتے ہیں ۔ اور المیہ یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ دوستوں اور پاٹنرز کے ساتھ نہیں بلکہ (انا للہ ) اپنی اہلیہ اور بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔ میں اس خبر کی مزید تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ۔ بخدا صرف اتنا جان کرہی دل کلیجے میں آجاتا ہے ۔
    میں یہاں پر مجلس کے قواعد وضوابط کے پیش نظر ان کی تصویر اور ویڈیو کے لنک نہیں دے رہا لیکن اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں گوگل تصویری تلاش پر موصوف کا نام لکھیے سارا کچا چٹھا سامنے آجائے گا ۔
    یو ٹیوب پر ان کی اولاد کی تصویری ویڈیو موجود ہے جس میں بہت سی تصاویر ایسی ہیں جو پاکستانی صحافت کے اعتبارسے ضابطہ اخلاق کے معیار سے بھی نیچے گری ہوئی ہیں ۔
    ممکن ہے بعض دوستوں کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہ ہو لیکن اس بات کو ماحول ومعاشرے کے پورے پس منظر میں دیکھا جائے تو اس کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے ۔
    سابق صدر پرویز مشرف بھی اپنے تمام تر روشن خیالی کے دعووں کے باوجود اس حد تک آگے بڑھے ہوئے نہ تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسا '' جری'' سپاہی مل سکا ۔یادش بخیر صرف ایک خاتون وزیر نے فضائی چھلانگ لگائی تھی اور انہیں بھی مستعفی ہونا پڑا تھا ۔لیکن یہ واقعہ میرے خیال میں ایسا ہے جس نے اباحیت پسندوں اور جنسی انارکی پھیلانے والوں کے سر فخر سے بلند کردیے ہیں ۔ اس کا تصور تو انہوں نے کچھ عرصے قبل تک کیا بھی نہ ہوگا ۔
    ممکن ہے کہ بعض دوست اس کو خاص اہمیت نہ دیں لیکن میرا خیال ہے کہ اپنے خاص پس منظر میں اس کی بہت اہمیت ہے دراصل معاشرے میں معیارات بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں آپ نہ سمجھیں لیکن گلوکاروں کا ایک معیار تو ہے سو نئی نسل ان کی دیوانی ہے بلکہ پچھلے کچھ عرصے سے تو '' بہادر(بولڈ) '' اداکارو گلوکار کو میڈیاخاص طور سے اہمیت دے رہا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ان کی اپنی کوئی بنیا د نہیں ۔
    ان معیارا ت کو معاشرے کی شناختیں (سمبلز ) بنیاد فرہم کرتے ہیں ۔ اور کسی معاشرے کا مقتدر طبقہ ایک بہت بڑا سمبل ہے ۔ لہذا اس کا عمل نہایت اہمیت رکھتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مغرب میں اب تک مقتدر طبقے کی غلطی برداشت نہیں کی جاتی چاہے وہ غلطی یا برائی معاشرے میں کتنی ہی عام کیوں نہ ہو ۔
    میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے اس ملک کو اپنی حفظ وامان مین رکھے ۔آمین[/font]

    ابن عادل, ‏نومبر 14, 2008
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    یہ آپ کی غلط فہمی ہے. کہ اس واقعہ نے لبرلز کے راستہ میں کوئی رکاوٹ ڈالی ہے. بلکہ اس واقعہ میں بیوقوفی کا پورا فائدہ لبریز لادین لوگوں کو پہنچا ہے..
     
  11. ابن عادل

    ابن عادل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 17, 2008
    پیغامات:
    79
    بظاہر اس واقعے کے تناظر میں جو بحث اٹھی اور بہت سوں کو بہت کچھ کہنے کا موقع ملا ۔ لبرلز نے بھی اس فکری آلودگی اور فکری غیر یکسوئی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بات کہی اور بظاہر جو صورتحال بنی اس کے باعث یہ احساس غلط نہیں کہ انہیں اس کا فائدہ ہوا ۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے میں عالمی سطح پر ناموس رسالت کو ایک اہم عالمی مسئلہ قرار دے کر اس کے خلاف مغرب نے محاذ بنایا ہوا ہے ۔ اور پھر پاکستان کو خاص ہدف بنا کر اس کی اسلامی شناخت پر ضرب لگانے کا سب سے آسان پہلو قانون توہین رسالت ہےکہ جس میں مغربی تصور انسانی حقوق کے پردے میں ضرب لگانا آسان ہے ۔ پاکستان (جو ہمارے نزدیک غیر وقیع ہے ۔)مسلم دنیا میں اپنا ایک کاخاص مقام رکھتا ہے ۔ جو واضح ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس واقعے کے بعد پاکستان میں ناموس رسالت کے قانون کو موضوع بحث نہیں بنایا گیا بلکہ موضوع شدت پسند رویہ بنا ۔ یہ بات واضح ہوئی کہ یہ معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے حوالے سے کوئی بھی قدم کوئی بھی اٹھا سکتا ہے سو ممتاز قادری کے جنازے کے بعد جو صورتحال بنی وہ سب کے سامنے ہے کہ میڈیا کو اس موضوع پر بات کرنے سے اس طرح منع کردیا گیا کہ معروف ترین صحافی اس پر شاکی نظر آئے ۔ اور اب بظاہر خاموشی ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ یہ خاموشی کب تک برقرار رہتی ہے ۔
    میرا نکتہ یہ تھا کہ اس تناظر میں ہمیں اپنا وزن کہاں ڈالنا ہے ؟ فائدہ تو اکثر دشمن بھی دے جاتے ہیں ۔ بس نظر صرف دشمن پر نہیں بلکہ پورے قضیے پر ہونی چاہے ۔ بعض اوقات مخالف کی حمایت اس کا حامی مطلق بن جانا نہیں ہوتا ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں