قطع تعلقی کا حکم از شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ

بابر تنویر نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مارچ 23, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    سوال : میرے ایک رشتہ دار ہے جن سے ایک شرعی برائی پر جھگرا ہو گیا تھا وہ برائی ہم دونوں میں تھی اب میں نے وہ برائی دور کرلی لیکن اب بھی وہ مجھ سے ناراض ہے حالانکہ وہ مجھے یہ کہتا تھا کہ اللہ کے لیے دوستی اللہ کے لیے دشمنی۔ لیکن لگتا نہیں وہ ایسا کرتا ہے کیوں کہ میں پہلے جیسا نہیں رہا بہت دکھ ہوتا ہے ایک دفعہ صلح کی لیکن اب وہ مجھے گالیاں دیتا ہے بہت غصہ آتا ہے لیکن والدہ صاحبہ کی کوشش سے اب میں زیادہ توجہ نہیں دیتا وہ بہت سمجھاتی وہ کہتیں ہیں تم اسے سلام کیا کرو لیکن وہ جواب ہی نہیں دیتا کیا مجھے اس سے سلام لینا چاہیے؟ کیا ہر جمعرات اور سوموار کو میری بخشش ہوتی ہے؟ جب کہ حدیث میں ہے کہ جو دو بھائی تین دن سے زیادہ ایک دوسرے سے ناراض رہے ان کی بخشش نہیں ہوتی ہے کیا مجھے دوبارہ صلح کرنی چاہیے ؟
    الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب کسی بھی مسلمان کے لیے اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زائد قطع تعلق رہنا جائز نہیں ہے۔ لہذا آپ پہ لازم ہے کہ آپ صلح کا ہاتھ بڑھاتے رہیں اور اسے سلام کہتے رہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: " لاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ: فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ " کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین راتوں سے زیادہ (ناراضگی کی وجہ سے) چھوڑے رکھے۔ وہ دونوں ملتے ہیں تو یہ بھی منہ موڑ لیتا ہے اور وہ بھی رخ پھیر لیتا ہے۔ اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ صحیح البخاری: 6077 نیز فرمایا: «مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ» جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا تو وہ اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ سنن أبی داود: 4915 اور صلہ رحمی کا پتہ ہی اس وقت چلتا ہے جب کسی ایک طرف سے بار بار تعلق توڑا جائے اور دوسرا اسے جوڑے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: «لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا» جو صلہ رحمی کے بدلے صلہ رحمی کرے وہ کوئی صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے, بلکہ صلہ رحمی کرنے والا تو وہ کہ جب اس سے تعلق توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے۔ صحیح البخاری: 5991 اور اگر ٹوٹے تعلق کو نہ جوڑا جائے تو وہ اخروی نقصان کا باعث بنتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: " تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ، فَيَغْفِرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، لِكُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " ہر سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں ، اللہ ﷯ اس دن میں ہر اس شخص کو معاف فرما دیتے ہیں جو اللہ ﷯ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کرتا ہو، مگر وہ شخص جسکے اور اسکے بھائی کے درمیان بغض ہے (انہیں معاف نہیں کیا جاتا) ، کہا جاتا ہے ان دونوں کو رہنے دو، حتى کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو رہنے دو، حتى کہ یہ صلح کر لیں۔ صحیح مسلم: 2565

    لنک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    و ایاک
     
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاکم اللہ خیرا
    اللہ ہم سب کو ہر حال میں صلہ رحمی کرنے والا بنائے آمین
     
  5. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بارک اللہ فی علمک و عملک.

    Sent from my ALE-L21 using Tapatalk
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں