صحیح مسلم میں مسنون رفع الیدین کے ترک کی دلیل ؟۔ مباحثہ

عبدالرحمن بھٹی نے 'نقطۂ نظر' میں ‏مئی 11, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    آپ کے محولہ تھریڈ پر وہیں لکھوں یا کہ اس تھریڈ میں؟

    صحیح مسلم میں مسنون رفع الیدین کے ترک کی دلیل کیا ہے ۔۔۔؟؟
    http://www.urdumajlis.net/threads/.15408/
    سے پوسٹس نئے تھریڈ میں منتقل کی گئی ہیں ۔ مزید گفتگو یہی جاری رہے گی ۔۔ شکریہ ۔ انتظامیہ ۔
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    یہیں جواب دیں ۔ شکریہ
     
  3. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    آئیے دیکھتے ہیں کہ مذکورہ حدیث میں ہاتھ اٹھانے کا موقعہ محل مذکور ہے کہ نہیں۔
    حدیث کا متعلقہ عربی متن یہ ہے؛
    خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ»
    (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں) ہمارے پاس آئے اور ہمیں (نمازمیں رفع الیدین کرتے دیکھ کر) فرمایا کہ یہ کیا ہے کہ میں تمہیں شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح رفع الیدین کرتے دیکھ رہا ہوں نماز میں سکون اختیار کرو ـــــــــ الحدیث۔
    اس حدیث میں لفظ ”فِي الصَّلَاةِ“ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام نماز کے اندر رفع الیدین کر رہے تھے۔
    رفع الیدین کا نماز کے اندرہونا مذکور ہؤا لہٰذا موقعہ محل متعین ہوگیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    صحیح مسلم کی حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو ”رَافِعِي أَيْدِيكُمْ “ رفع الیدین کرتے دیکھااور اس سے منع فرمادیا۔ اس کی کیفیت جاننے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟
    قرائن سے یہ دن کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔دن میں نماز میں صحابہ کرام کے ہاتھ اٹھانے کی ممکنہ کیفیات کیا ہوسکتی ہیں؟ یہ کیفیات جو بھی ہوں جیسی بھی ہوں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔ سعادت مند امتی کو رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیئے نہ کہ قیل و قال۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    جناب کیفیت تو بالکل واضح تھی. اسکو آپ لوگوں نے ھی مبہم بنا لیا ھے. جب دوسری احادیث سے اسکی تفسیر ھوتی ھے کہ وہ کونسا رفع الیدین تھا تو عقلی گھوڑے دوڑا کر من مانی تشریح کرنے کا کیا مطلب؟؟؟؟
    وھی تو ھم آپ سے کہ رھے ھیں لیکن شاید آپ کے حلق سے بات اتر ھی نہیں رھی. محترم ویسے تو آپ کو بخوبی معلوم ھے لیکن پھر سے بتا دیتا ھوں:
    یہ حدیث کس باب کے تحت ذکر کی گئ ھے:
    باب الأمر بالسكون في الصلاة والنهي عن الإشارة باليد ورفعها عند السلام وإتمام الصفوف الأول والتراص فيها والأمربالاجتماع

    مزید امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کے ضمن میں لکھتے ھیں:
    قوله - صلى الله عليه وسلم - : ( ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس ) هو بإسكان الميم وضمها وهي التي لا تستقر بل تضطرب وتتحرك بأذنابها وأرجلها ،والمراد بالرفع المنهي عنه هنا رفعهم أيديهم عند السلام مشيرين إلى السلام من الجانبين كما صرح به في الرواية الثانية . (لنک)
     
    Last edited: ‏مئی 13, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث اور اس سے جن احادیث سے مناقشہ کیا جارہا ہے وہ تمام پیش کی جاتی ہیں۔ اب کو بغور پڑھیں اور سمجھنے سمجھانے کی کوشش کریں۔
    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ
    خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ
    و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لائے تو کچھ صحابہ نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ صحابہ کرام نماز میں رفع الیدین کر رہے تھے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ میں فرمایا کہ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔ پھر ان کو تلقین کی کہ نماز میں سکون سے رہا کرو۔
    اب وہ احادیث ملاحطہ ہوں جن سے شبہ ہورہا ہے۔
    نمبر ایک؛
    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْقِبْطِيَّةِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ
    كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَامَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ

    اس کاخلاصہ یہ ہے کہ صحابی جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھتے ہم ”السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ“ کہتے وقت اطراف میں ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا۔
    نمبر دو؛
    و حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ فُرَاتٍ يَعْنِي الْقَزَّازَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ
    صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ وَلَا يُومِئْ بِيَدِهِ
    اس کاخلاصہ یہ ہے کہ صحابی جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھتے ہم ”السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ“ کہتے وقت اطراف میں ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا کرتے دیکھ کر ایسا کرنے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہسلام کرتے وقت صرف منہ ساتھی کی طرف کیا کرو۔
    مؤخر الذکر دونوں احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولم کی معیت میں نماز باجماعت پڑھنے کے موقعہ کی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کی تشریح کرتی ہیں۔ مگر صحیح مسلم کی مدلولہ حدیث صحابہ کرام کیانفرادی نماز سے متعلق ہے۔ اس کا متن بالکل الگ مضمون کا ہے۔ جو مشترک چیزیں ہیں (جن سے اشتباہ پیدا کیا جا رہا ہے) وہ یہ ہیں کہ؛
    راوی جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
    شریر گھوڑوں کی دموں سے مشابہت دی گئی ہے۔
    یاد رہے کہ کسی بھی مذکورہ حدیث میں ہاتھوں کی حرکت (رفع الیدین ہو یا سلام کا اشارہ ہو) گھوڑون کی دموں کی حرکت کے مشابہ نہیں۔ رفع الیدین اور سلام کے اشارہ میں ہاتھ اوپر نیچے ہاتے ہیں اور دم دائیں بائیں ہلتی ہے۔
    تنبیہہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دموں سے تشبیہ دی ہے اس کو حقیقی حرکت سے گڈمڈ نہ کریں۔
     
  7. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    ابواب حدیث نہیں ہوتے۔ محدث اپنے فہم کے مطابق مزوجہ باب میں احادیث جمع کرتا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ ایک ہی حدیث کو بعض اوقات کئی کئی ابواب میں ذکر فر مادیتے ہیں۔

    نووی رحمۃ اللہ کیا سمجھنے میں خطا نہیں کرسکتے؟ یہاں ان سے کھلم کھلا خطا ہوئی ہے کہ جو عمل سلام سے متعلق ہے ہی نہیں اسے دوسری حدیث پر محمول کرتے ہوئے سلام سے خلط کر رہے ہیں۔ مذکورہ حدیث صحابہ کے منفرد نماز کی ہے اور جس سے دھوکہ کھا رہے ہیں وہ باجماعت نماز کی ہے۔
     
  8. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    جناب یہ اشتباہ نہیں ھے. اور یہ سلام کے تعلق سے ہی ھے.
    چلۓ اب آپ یہ بتا دیں کہ شریر گھوڑا کس طرح دم ہلاتا ھے؟؟؟
    وضاحت کریں.
    وضاحت کریں
    اسکی بھی وضاحت کریں.
    جزاک اللہ خیرا
     
  9. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    اتنے سارے محدثین نے اس حدیث پر سلام کا باب باندھا ہے کیا وہ سب غلطی پر ہیں؟؟؟
    محترم بھٹی صاحب!
    آپ تو علامہ بن گۓ. مبارک ہو. کچھ سوچ سمجھ کر بولا کریں.
    افسوس کا مقام ہے. جناب عالی اتنے بڑے محدث پر رد وہ بھی بنا دلیل کے؟؟؟
     
  10. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ بات کو سمجھنے کے موڈ میں نہیں بلکہ خلط مبحث کر رہے ہیں۔ میرے اس تھریڈ کے تمام مراسلوں کو دوبارہ ملاحظہ فرمالیں۔
     
  11. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    محدثین کا باب باندھنا اپنے فہم سے ہوتا ہے یا کبھی حدیث کے حوالہ سے۔ سلام سے متعلق دو احدیث تھیں اس لئے محدثین سلام کا باب باندھ دیتے ہیں اور اس ایک کے لئے الگ باب نہیں باندھتے۔ واللہ اعلم
    محقق کا کام عنوان دیکھنا نہیں بلکہ حدیث کا متن دیکھنا ہونا چاہیئے۔ کیونکہ اصل حدیث ہے عنوان نہیں۔ مجتہدین کے اختلاف کی صورت میں ان کے باندھے گئے عنوانات کو نہیں دیکھ جاتا اصل کو دیکھا جاتا ہے۔

    خط کشیدہ فقرہ آپ نے کس حیثیت سے لکھا ہے؟

    محدث چھوٹا ہو یا بڑا اس کے فہم کا رد کوئی معیوب چیز نہیں۔ مگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تضحیک (گھوڑا کیسے دم ہلاتا ہے جیسے فقرات کسنے سے)سلب ایمان کا خطرہ ہے ۔
     
  12. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    محترم آپ سمجھائیں گے تو ضرور سمجھوں گا ان شاء اللہ

    سنن ابی داؤد: باب فِي السَّلاَمِ
    سنن نسائ: بَاب السَّلَامِ بِالْيَدَيْنِ
    امام طحاوی، شرح معانی الآثار: باب السلام في الصلاۃ کیف ھو
    امام شافعی، کتاب الأم: باب السلام في الصلاۃ
    بیہقی، السنن الکبری: باب کراھة الإیماء بالید عند التسلیم من الصلاۃ
    یہ صرف کچھ حوالے ہیں. میرے پاس اتنے ہی اور حوالے ھیں.
    حدیث کے کسی بھی ٹکڑے سے اس سے ترک رفع الیدین یا نسخ ثابت نہیں ھوتا. یہ صرف آپ کا وہم ھے.
    امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت تو تشہد کے بارے میں ہے ، قیام کے بارے میں نہیں ہے۔ بعض لوگ (نماز میں) دوسرے لوگوں کو(ہاتھ کے اشارے سے ) سلام کہتے تھے تو نبیﷺ نے تشہد میں ہاتھ اٹھانے سے منع فرمادیا۔ جس کے پاس علم کا تھوڑا سا حصہ ہی ہے ، وہ اس روایت سے (ترک رفع یدین پر) حجت نہیں پکڑتا۔ یہ بات (تمام علماء میں) مشہور ہے اوراس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (جزء رفع الیدین بنام قرۃ العینین برفع الیدین في الصلاۃ، ص: 31، طبع: دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت، 1983۔ مترجم، ص: 62-61، طبع:مکتبہ اسلامیہ)
    اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ جو صحیح مسلم کے شارح ہیں، فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے(ترک رفع الیدین عند الرکوع والرفع منہ پر) استدلال عجیب ترین چیزوں ، اور سنت سے جہالت کی قسموں میں سے قبیح ترین قسم ہے۔ کیونکہ یہ حدیث رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت کے رفع الیدین کے بارے میں نہیں ہے بلکہ سلام کے وقت ان کے اشارے کے بارے میں ہے۔ (المجموع شرح المہذب للنووی، ج: 3، ص: 403۔ طبع: دارالفکر۔ دوسرا نسخہ: ج: 3، ص: 373۔ طبع: مکتبۃ الارشاد، جدہ سعودی عرب)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    خط کشیدہ الفاظ دیکھ لیں.
    اتنے بڑے بڑے محدث گزر گۓ اب یہ چودہویں صدی ھجری کے ایک عام سے انسان اس طرح کی عبارت لکھیں اور دعوی کریں؟؟؟
    واہ جناب.
    بہت خوب.
    آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو شریر گھوڑوں سے تشبیہ دیں اور دعوی کریں کہ
    جس نے بھی یہ حدیث سنی پھر بھی رفع الیدین کیا تو وہ شریر گھوڑا ہے
    تو آپ کے ایمان کو خطرہ نہیں؟؟؟ جناب یہ دو طرفہ پالیسی کیوں؟؟!
    ہم نے تو وضاحت طلب کی تھی کہ گھوڑا دم کیسے ہلاتا ھے تو اس سے ہمارے ایمان کے سلب ہونے کو خطرہ؟!!
    آپ حکم لگائیں فتوی لگائیں اور دعوی کریں تو آپ کا ایمان سلامت؟
    میرا سوال اب بھی باقی ھے کہ شریر گھوڑا دم کیسا ہلاتا ھے؟؟!
    اور رفع الیدین میں ہاتھ کیسے اٹھاتے ھیں.
     
    • متفق متفق x 2
  14. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    اس فقرہ میں آپ نے جس ”تہذیب“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکم دیا اس کے بارے پوچھا تھا کہ یہ حکم آپ کس حیثیت سے دے رہے ہیں۔
     
  15. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    اس حدیث سے زیرِ بحث حدیث کی تفسیر سراسر غلط ہے۔ اس کے دلائل یہ ہیں؛
    نمبر ایک؛
    صحیح مسلم کی پہلی حدیث صحابہ کرام کی انفرادی نماز (خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) کی ہے۔
    جب کہ صحیح مسلم کی دوسری حدیث (جس کو زبردستی اس کی تفسیر بنایا جارہا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باجماعت نماز (صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) پڑھتے کی ہے۔
    نمبر دو؛
    صحیح مسلم کی پہلی حدیث میں صحابہ کرام نماز میں رفع الیدین (رَافِعِي أَيْدِيكُمْ) کررہے تھے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا (مَا لِي أَرَاكُمْ) ۔
    صحیح مسلم کی دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےسلام کے وقت (فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا) دیکھا۔
    نمبر تین؛
    صحیح مسلم کی پہلی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کرتے ہوئےفرمایا اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ نماز میں سکون سے رہو فرمایا۔
    جب کہ صحیح مسلم کی دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےسلام کے وقت ہاتھ سے اشارہ (تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ) سے منع کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو دائیں بائیں اپنے بھائی کی طرف منہ کرکے السلام علیکم ورحمُاللہ کہنا کافی ہے (يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ)۔
    یہ دو احادیث ہیں۔ ایک انفرادی نماز کی ہے اور دوسری باجماعت نماز کی۔ ہیں بھی یہ الگ الگ موقعہ کی۔ ایک نماز کے اندر رفع الیدین کی ہے اور دوسری سلام کے وقت ہاتھ سے سلام کا اشارہ کرنے کی۔ نہ تو یہ ایک دوسرے کی مفسر ہیں اور نہ یہ ایک ہی واقعہ سے متععلق ۔ واللہ اعلم بالصواب
     
  16. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    لو جی کر لو بات.
    محترم جناب بھٹی صاحب!
    آپ مجھے بتا دیں کہ کیا اس فقرے سے آپ کو تکلیف پہونچی ھے؟؟؟؟
    اور جناب عالی!
    ایک عام مسلمان کی حیثیت سے کہ رھا ھوں.
     
    • متفق متفق x 1
  17. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    کیا امام نووی رحمہ اللہ کے بارے میں آپ کا قول درست تھا؟؟؟
    کس حیثیت سے آپ نے وہ جملے استعمال کۓ؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مئی 6, 2016
    پیغامات:
    123
    یہ حدیث صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث کی تشریح نہیں کرتی بلکہ صحیح مسلم کی اُس حدیث کی مفسر ہے جس میں سلام کے وقت اشارہ کی بات لکھی ہے۔ البتہ جو لوگ گھوڑے کے دم ہلانے کی بات کرکے اور اس کی وڈیوز پیش کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے روگردانی کرنا چاہتے ہیں ان کو تنبیہ بلیغ ضرور ہے۔ وہ اس طرح کہ صحیح مسلم کی جس حدیث میں نماز میں رفع الیدین کو گھوڑوں کی دموں کو ہلانے سے تشبیہ دی اس میں بھی ہاتھ اسی طرح ہلتے ہیں جس طرح سلام کے وقت اشارہ یا رفع الیدین کرنے سے ہلتے ہیں۔
    گھوڑا دم دائیں بائیں ہلائے یا اوپر نیچے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ ہمیں تو اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے غرض ہے کہ انہوں نے ان دونوں مواقع پر اس سے منع فرمایا اور ہماری سعادت اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں ہی ہے۔ وما علینا الا البلاغ
     
    • قدیم قدیم x 2
  19. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    جناب عالی!
    دلیل پیش کریں کہ یہ روایت دوسری روایت سے الگ ھے.
    «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» [مسلم: 430] اور «كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»[مسلم: 431]دو مختلف روایتیں ہونے کی وجہ سے اس واقعہ کے دو دفعہ ہونے پر دلالت کی وجہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ دونوں موقعوں پر رفع الیدین جدا جدا ہو۔ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے، وہ اس کی دلیل پیش کرے۔اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ پہلی روایت میں سلام کے وقت رفع الیدین مراد نہیں ، تو اس سے یہ کس طرح ثابت ہوگا کہ اس سے رکوع والا رفع الیدین مراد ہے؟ «ومن ادعی فعلیہ البرھان»
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    پہلے میرے سوال کا جواب دیں:
    سرکش گھوڑا اپنی دم کس طرح ہلاتا ھے؟؟؟؟!
    رفع الیدین میں ہاتھ کس طرح اٹھاتے ھیں؟؟؟!
     
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں