اجتہاد و تقلید-8: فتوے کی دلیل، واجب الذات واجب بالغیر،ایک حدیث مختلف معنی، تقلید، مختلف فتوے

دیوان نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جولائی 19, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. دیوان

    دیوان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 4, 2015
    پیغامات:
    40
    فتوے کی دلیل بتانا ضروری نہیں ہے
    حدیث 1
    عن سالم بن عبد الله عن عبد الله بن عمر انه سئل عن الرجل يكون له الدين على الرجل الى اجل فيضع عنه صاحب الحق ويعجله الآخر فكره ذلك عبد الله بن عمر ونهى عنه۔ (موطا مالك، كتاب البيوع، صحیح)
    حضرت سالم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص کا دوسرے شخص پر کچھ میعادی قرض ہے (یعنی کوئی ادائیگی کا وقت مقرر ہے)۔ اب قرض خواہ کچھ قرض معاف کرنے کو راضی ہے بشرطیکہ قرض دار قبل از وعدہ قرض لوٹا دے۔انہوں (عبداللہ بن عمرؓ) نے اس کو ناپسند فرمایا۔
    فائدہ:
    · حضرت عبداللہ بن عمر کا جواب ان کا اپنا اجتہاد تھا۔ اس پر کوئی دلیل موجود نہیں تھی۔
    واجب بالذات اور واجب بالغیر
    اللہ تعالی نے اطاعت رسول ﷺ کا حکم دیا ہے یعنی ہم پر ان کی اطاعت واجب ہے۔ لیکن اس حکم اطاعت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں احادیث کے مجموعوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ احادیث کے مجموعوں کی طرف رجوع کرنا بھی واجب ہوا(حاشیہ: [1])۔ اطاعت رسول ﷺ واجب بالذات ہے۔ جب کہ احادیث کے مجموعوں کی طرف رجوع کرنا واجب بالغیر ہے۔ اسی طرح حدیث کا علم ہے جو واجب الذات ہے۔ پھر خود حدیث کی صحت مقرر کرنے کے لیے سند کی تحقیق بھی ضروری ہے۔ لیکن اس کی سند کی تحقیق واجب بالغیر ہے۔ واجب بالذات کے لیے دلیل کی ضرورت پڑتی ہے، واجب بالغیر کے لیے نص (دلیل) کی ضرورت نہیں ہوتی صرف علمائے کرام کا اتفاق درکار ہوتا ہے۔
    صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
    من علم الرمي ثم تركه فليس منا او فقد عصى
    جو شخص تیراندازی سیکھ کر چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں یا( یہ فرمایا کہ) وہ گناہگار ہوا۔
    اصل مقصود تو دشمنان دین سے دین کی حفاظت ہے جو واجب ہے لیکن اس کے لیے تیراندازی (یا ہمارے دور کے ہتھیاروں کا استعمال) سیکھنا بھی واجب ہوا جس کو ترک کرنے پر اس حدیث میں وعید آئی ہے۔ یعنی مقدمۃ الواجب بھی واجب ہوتا ہے۔ یعنی واجب کو پورا کرنے کا ذریعہ بھی واجب ہوتاہے۔ایک اور مثال یہ ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب بالذات ہے اس پر نص (حدیث) موجود ہے، لیکن عام لوگ اس کو بغیر اعراب کے صحیح نہیں پڑھ سکتے چنانچہ اس کوصحیح پڑھنے کے لیے اس پر اعراب لگانا واجب بالغیر ہے۔ چنانچہ سورۃ فاتحہ کی تلاوت واجب بالذات ہے جو واجب بالغیر (اعراب) کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح تقلید بھی ہے کہ دین پر عمل کرنا واجب بالذات ہے لیکن یہ عمل بھی واجب بالغیر یعنی فقہائے امت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ فقہائے امت ہی حدیث کی مراد سمجھنے کے لیے واسطہ ہیں اس لیے ہمیں فقہ کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں فقہا کی تقلید کرنی پڑتی ہے۔ یہ اسی طرح کی تقلید ہے جس طرح سند کی صحت کے لیے ہم محدثین کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ گو اس کو اصطلاحی پر تقلید نہ کہا جائے لیکن عملا تو یہی ہے۔
    تقلید
    تقلید ایک اصطلاحی لفظ ہے۔ اس کی تعریف یوں کی گئی ہے: تسلیم القول بلادلیل یعنی کسی عالم کی بات کو دلیل کے مطالبے کے بغیر مان لینا تقلید ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں کسی عالم کا قول اس حسن ظن پر قبول کرلینا کہ وہ جو بتارہا ہے وہ حق ہے اور دلیل کی تحقیق نہ کرنا۔
    اس کا تعلق اجتہادی مسائل سے ہے۔ جو خود اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو اس کو مجتہد کہتے ہیں اور خود اجتہاد نہ کرسکے اور مجتہد کی تقلید کرے اس کو مقلد کہتے ہیں۔اس کی دلیل قرآن پاک کی آیت ہے:
    فاسئلو اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون (النحل: 43)
    اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل ذکر (علم والے) سے پوچھ لو
    گو تقلید کا تعلق فقہی مسائل ہے لیکن روح تقلید تو ہر فن میں جاری ہے۔ علم کی دنیا میں یہ عام ہے۔ مثلا، صحت حدیث کے بارے میں امام بخاریؒ کا قول ان کا علمی اجتہاد ہے اور ان کے اجتہاد کو تسلیم کرنا ان کی تقلید یا اتباع ہے۔ اسی طرح فقہائے کرام نے شرعی مسائل کے حل کے سلسلے میں اجتہادات کیے ہیں۔ ان کے اجتہادات کو تسلیم کرنا ان کی تقلید یا اتباع ہے۔ یہی حال تمام دینی علوم کا ہے۔ فہم لغت (عربی) کے لیے اہل لغت اور اہل صرف و نحو و کی تحقیق کو مانا جاتا ہے یہ اس علم میں ان کی تقلید ہے۔ یا مثلا تفسیر میں ابن کثیر ؒکی رائے کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس میدان میں ان کی رائے کو ماننا یہ ان کی تقلید ہے۔
    حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو خلیفہ نامزد فرمایا، اس حکمنامے میں نہ آیت سے دلیل بیان کی نہ حدیث سے، محض اپنی رائے یعنی اجتہاد سے ایسا کیا۔ تمام صحابہ نے ابوبکرؓ کی رائے کی تقلید میں حضرت عمرؓ کو خلیفہ تسلیم کرلیا۔ تلاوت قرآن میں بھی ہر مسلمان تقلید ہی کرتا ہے کیونکہ نہ وہ اعراب سے واقف ہے نہ اوقاف کے دلائل سے واقف ہے۔ صرف اس حسن ظن پر وہ قبول کرتا ہے کہ لگانے والے نے بادلیل لگائے ہیں۔ دلیل سے آگہی نہیں ہے۔ اس کے باجود اس کی تلاوت باعث اجر اور مقبول ہے۔
    ایک حدیث سے مختلف معنی مراد ہوسکتے ہیں
    حدیث 2
    عن عبد الله قال نادى فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم انصرف عن الاحزاب ان لا يصلين احد الظهر الا في بني قريظة فتخوف ناس فوت الوقت فصلوا دون بني قريظة وقال آخرون لا نصلي الا حيث امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وان فاتنا الوقت قال فما عنف واحدا من الفريقين۔ (صحيح مسلم، كتاب الجهاد والسير)
    عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جنگ خندق کے دن میں صحابہؓ سے فرمایا کہ عصر کی نما بنی قریظہ (کی بستی) میں پہنچنے سے پہلے کوئی نہ پڑھے۔ لیکن صحابہ( کو تاخیر ہوگئی اور) عصر کا وقت ختم ہونے کا اندیشہ ہوگیا اس پر بعض صحابہ ؓ نے بنی قریظہ پہنچے سے پہلے ہی نماز پڑھ ڈالی اور بعض دوسروں نے کہا کہ نے کہا ہم نماز نہیں پڑھیں گے جب تک رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق (بنی قریظہ) نہ پہنچ جائیں چاہے وقت ختم ہوجائے، (پھر یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش ہوئی تو) آپ ﷺ نے کسی پر بھی ملامت نہیں کی۔
    فائدہ:
    · بعض حدیثوں کا مفہوم ایک سے زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔
    · بعض صحابہ ؓالفاظ کے ساتھ مراد حدیث پر بھی غور کرتے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے۔
    · بعض دیگر صحابہ کرام ؓحدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کرتے تھے۔
    · حدیث صرف سند کا نام نہیں بلکہ متن بھی اس میں شامل ہے۔ سند کے صحیح ثابت ہونے کے بعد حدیث کے متن کا معنی یعنی مراد کا متعین کرنا بھی ضروری ہے۔
    · مراد رسول ﷺ سمجھ کر اس پر عمل کرنا ترک حدیث نہیں ہے۔
    · مجتہدین نے بھی اپنی اجتہادی صلاحیتوں کے ذریعے مراد رسول ﷺ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔
    · جن صحابہ نے نماز پڑھی انہوں نے ’’نماز اپنے وقت پر ادا کرو‘‘ کے قرآنی قاعدے پر عمل کیا جب کہ جنہوں نے نماز قضا پڑھی ان کے فہم کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے حکم کے سبب آج کی نماز اس قاعدے سے مستثنی تھی۔
    · یہ فرق مجتہدین کے درمیان بھی پایا جاتا ہے۔کوئی ایک قاعدے کی بنیاد پر فتوی دیتا ہے اور دوسرا مجتہد کسی اور قاعدے کی بنیاد پر فتوی دیتا ہے۔
    ایک ہی صورتحال میں فتوے مختلف ہوسکتے ہیں
    حدیث 3
    عن ابي هريرة ان رجلا سال النبي صلى الله عليه وسلم عن المباشرة للصائم فرخص له واتاه آخر فساله فنهاه فاذا الذي رخص له شيخ والذي نهاه شاب۔ (مشکوۃ المصابیح، صحیح ، سنن ابی داؤد، کتاب الصوم، حسن)
    ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپ ﷺ نے اجازت دی تھی ، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔
    حدیث 4
    عن ابي سعيد الخدري قال خرج رجلان في سفر فحضرت الصلاة وليس معهما ماء فتيمما صعيدا طيبا فصليا ثم وجدا الماء في الوقت فاعاد احدهما الصلاة والوضوء ولم يعد الآخر ثم اتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرا ذلك له فقال للذي لم يعد اصبت السنة واجزاتك صلاتك وقال للذي توضاواعاد لك الاجر مرتين۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الطھارۃ، صحیح)
    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک سفر میں نکلے تو نماز کا وقت آ گیا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر وقت کے اندر ہی انہیں پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے نماز اور وضو دونوں کو دوہرایا، اور دوسرے نے نہیں دوہرایا، پھر دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو ان دونوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی : ’’ تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہیں کافی ہو گئی ‘‘، اور جس شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی تھی اس سے فرمایا:’’ تمہارے لیے دوگنا ثواب ہے۔‘‘
    [1]: اس کو اصطلاح میں مقدمۃ الواجب واجب کہتے ہیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں