اجتہاد و تقلید-9: صرف الفاظ ہی مراد نہیں ہوتے، مجتہد،

دیوان نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جولائی 19, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. دیوان

    دیوان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 4, 2015
    پیغامات:
    40
    صرف الفاظ ہی مراد نہیں ہوتے
    صحیح مسلم، کتاب الحدود میں ابو عبدالرحمان السلمی کی روایت کا مفہوم ہے کہ حضرت علی ؓنے خطبے میں یہ ذکر کیا کہ ان کو رسول اللہ ﷺ نے ایک بدکار لونڈی کو درے مارنے کا حکم فرمایا تھا۔ جب وہ اس حکم کو پورا کرنے کے لیے اس لونڈی کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ قریب ہی اس کے یہاں ولادت ہوئی ہے جس پر حضرت علیؓ نے اس اندیشے کی بنیاد پر کہ اس کو درے مارنے پر وہ جان ہی سے نہ چلی جائے اس کو درے نہ لگائے اور جاکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس بات کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا:
    احسنت
    بہت اچھا کیا۔
    فائدہ:
    · آپ ﷺ کے حکم میں صحت یا عدم صحت کی کوئی قید نہ تھی لیکن حضرت علیؓ نے اپنی اجتہادی صلاحیت کی بنا پر اس حکم کو قدرت تحمل (برداشت) سے مقید سمجھا اور اس پر عمل کیا جس کی رسول اللہ ﷺ نے تعریف فرمائی۔
    · صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے حکموں پر غور و فکر کرتے اور ان کی مراد سمجھ کر عمل کرتے تھے۔
    · مجتہد بھی کسی حدیث کو کسی شرط سے مقید سمجھ کر اس پر عمل کو موقوف (ترک) کرسکتا ہے۔
    حدیث 1
    عن معاذ بن جبل قال كنت رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم على حمار يقال له عفير فقال يا معاذ هل تدري ما حق الله على العباد ان يعبدوه ولا يشركوا به شيئا وحقهم على الله ان لا يعذب من لا يشرك به قال فقلت يا رسول الله افلا ابشر الناس قال لا تبشرهم فيتكلوا۔(صحیح البخاری، كتاب الجهاد والسير)
    حضرت معاذؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جس گدھے پر سوار تھے ، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالی کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے ؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالی پر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالی پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے۔
    فائدہ:
    · اس روایت میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذؓ کو اطلاع نہ دینے کی ہدایت فرمائی تھی لیکن حضرت معاذؓ نے اپنی اجتہادی صلاحیت سے یہ سمجھاکہ یہ ہدایت اطلاع دینے کو مانع نہیں یعنی یہ ہدایت روایت بیان کرنے سے نہیں روکتی۔ ورنہ صحابیؓ پر مخالفت رسول ﷺ کا الزام آئے گا۔
    · مجتہد صحابہ کرامؓ احکام کی علتوں اور دین کی دیگر نصوص پر غور کرکے اجتہاد کے ذریعے سے مراد رسول ﷺ کو پانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں حضرت معاذؓ نے کتمان علم (علم چھپانے کی وعید)کی حدیث کو سامنے رکھا اور اس بات کی اطلاع دے دی۔
    · اگر مجتہد کسی علت کی وجہ سے حدیث پر نہ عمل کرنے کا حکم لگائے (جیسا کہ حضرت معاذؓ نے کیا) تو ایسا کرنا جائز ہے۔ اس کو ترک حدیث نہیں کہا جائے گا۔
    حدیث 2
    عن ابي هريرة ان سعد بن عبادة الانصاري قال يا رسول الله ارايت الرجل يجد مع امراته رجلا ايقتله قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا قال سعد بلى والذي اكرمك بالحق فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمعوا الى ما يقول سيدكم۔ (صحیح مسلم، کتاب اللعان)
    حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے سعد بن عبادہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ ﷺ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے تو کیا وہ اس کو قتل کردے؟‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ سعدؓ بولے:’’کیوں نہ قتل کرے قسم اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو دین حق کے ساتھ مشرف فرمایا میں تو تلوار سے فورا اس کا کام تمام کردوں گا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے حاضرین سے فرمایا: ’’سنو! تمہارا سردار کیا کہتا ہے۔‘‘
    فائدہ:
    · بظاہر حضرت سعدؓ نے حدیث کا انکار کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قتل نہ کرنے کا حکم دے رہے ہیں لیکن حضرت سعدؓ اس پر اصرار کررہے ہیں۔ انؓ کے انکار کے باوجود رسول اللہ ﷺ ’سردار‘ کہہ کر ان کی تعریف فرما رہے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ حضرت سعدؓ رسول ﷺ کے ارشاد کا مطلب کچھ اور سمجھے اور آپ ﷺ کا ان کو سردار کہہ تعریف فرمانا اس کی تائید تھی۔
    · مجتہد اگر اپنی اجتہادی قوت سے حدیث کے کسی دقیق (گہرے) مفہوم کو سمجھتے ہوئے اس پر عمل کرے اور ظاہری مفہوم کو اختیار نہ کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔
    · یہیں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی مجتہد کا اجتہاد ظاہر حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ اس حدیث کے بیک وقت کئی معانی نکلتے ہوں اور اس نے ان مختلف معانی میں سے کسی ایک کو اختیار کرلیا ہے۔ اس کی مثال بنوقریظہ والی حدیث ہے (‏حدیث 24، ص 26)۔ یا وہ کسی اور حدیث کو اس حدیث کے مقابلے میں راجح (زیادہ ترجیح دینا) سمجھتا ہے جس کی وجہ سے اس نے اس حدیث کو ترک کردیا ہے۔
    مجتہد
    مجتہد اس شخص کو کہتے ہیں جو قرآن و سنت سے مسائل کو اخذ کرسکے یعنی مسائل کا حل ڈھونڈ سکے۔ مجتہد کی مثال ماہر قانون کی سی ہے جو قانون بنانے والا نہیں ہوتا بلکہ قانون کا شارح یعنی شرح کرنے والا ہوتا ہے۔ عام آدمی کو جب ضرورت پڑتی ہے تو اس سے پوچھ کر عمل کرتا ہے۔ مجتہد وہ عالم ہوتا ہے جس کو پانچ طرح کے علوم پر عبور ہوتا ہے۔ اول کتاب اللہ، یعنی قرآن مجید کا علم، دوم سنت رسول ﷺ کا علم، سوم علمائے سلف کے اقوال کا علم کہ ان کا اتفاق کس قول پر ہے اور اختلاف کس قول میں ہے۔ چہارم لغت عربی کا علم، پنجم قیاس کا علم۔ قیاس جو قرآن و حدیث سے حکم نکالنے کا طریقہ ہے۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جس کو پانچ لاکھ حدیثیں یاد ہوں ( سند و متن سے پوری طرح آگاہ ہو) اور صحابہ اور تابعین کے فتاوی میں بصیرت تامہ رکھتا ہو تب وہ اجتہاد کرسکتا ہے، یعنی مکمل علم، رکھتا ہو تو وہ اجتہاد کرسکتا ہے۔ یہ ہے وہ معیار جس کا حامل شخص ہی مجتہدین فقہا کی رائے پر کوئی بات کرسکتا ہے جو اس درجہ علمیت کا حامل نہ ہو تو ایسے کسی شخص کا کسی مجتہد کے اجتہاد کومخالف حدیث کہہ دینا بڑی جرات کی بات ہے۔ آج کل پانچ لاکھ حدیثیں یاد ہونا تو بڑی بات ہے، ایسا عالم جس کو صحیح بخاری سند و متن کے ساتھ یاد ہو ڈھونڈے نہیں ملتا جب کہ صحیح بخاری میں صرف 7275 احادیث ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ صرف فن کے ماہر کی تحقیق ہی مانی جائے گی۔ چنانچہ حدیث کے لیے علم حدیث کے ماہر اور فقہ کے لیے فقہ کے ماہر۔ اور جو ایسا نہ کرے وہ دین و دنیا دونوں میں نقصان اٹھائے گا۔رسولاللہ ﷺ جب بیعت لیتے تو اس میں ایک عہد یہ بھی لیتے تھے کہ ان لا ننازع الامر اھلہ یعنی اہل امر (حکام و علما) سے منازعت (حجت بازی) نہیں کریں گے۔
    یہاں اتنا اور جان لیجیے کہ کسی مجتہد کا قول کسی حدیث کے مخالف ثابت کرنے کے لیے تین باتیں ضروری ہیں:
    1) اس مسئلہ کی صحیح مراد معلوم ہو یعنی ہمیں معلوم ہو کہ مجتہد کے اس قول سے اس کی کیا مراد ہے۔ دوسرے لفظوں میں فقہ کے مسئلے کو پورا اور صحیح سمجھنا۔
    2) اس کی دلیل پر اطلاع ہو۔ یعنی ہمیں معلوم ہو کہ مجتہد نے کس آیت یا حدیث کی بنیاد پر اس قول کو اختیار کیا ہے۔
    3) اس کا طریقہ استدلال معلوم ہو۔ یعنی وہ اس نتیجے پر کس طور پہنچا ہے۔ اس لیے کہ بعض اوقات وہ مختلف آیات و احادیث کو سامنے رکھ کر ایک نتیجے پر پہنچتا ہے۔ جس طرح ایک ماہر ڈاکٹر کسی مرض کی تشخیص کرتا ہے تو مختلف علامتوں پر غور کرتا ہوا ایک نتیجے پر پہنچتا ہے۔ اب اگر کوئی نااہل اس سے دریافت کرے کہ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچا تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ اس چیز کو سمجھنا کسی ڈاکٹر کا کام ہے۔ اسی طرح مجتہد کسی نتیجے پر کیسے پہنچا یہ سمجھنا اہل علم کا کام ہے۔ اور غیراہل علم کو سمجھانا ناممکن سی بات ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ کسی مجتہد کی رائے پر اعتراض کرنا ایسے شخص کا کام ہے جو خود بہت بڑا عالم ہو، روایات اور درایت (فہم حدیث) کا ماہر ہو۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں