اجتہاد و تقلید-13:

دیوان نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جولائی 22, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. دیوان

    دیوان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 4, 2015
    پیغامات:
    40
    امت سنت پر عمل کرے گی
    سنن ترمذی کی ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ایک بلیغ خطبہ دیا جس کے انداز سے جاننے والے سمجھ گئے کہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کا وقت قریب ہے، چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ سے وصیت کی درخواست کی۔ رسول اللہ ﷺ نے جہاں اور وصیتیں فرمائیں وہیں یہ بھی فرمایا:
    حدیث 1
    و سترون من بعدي اختلافا شديدا فعليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ (سنن ابن ماجہ، صحیح)
    ترجمہ:تم لوگ میرے بعد بہت شدید اختلافات دیکھو گے پس تم لوگوں پر لازم ہے کہ تم میری سنت کو اورخلفائے راشدین و مہدیین (ہدایت یافتہ) کی سنت کو لازم پکڑنا اور ان کو اپنے اپنی داڑھوں سے پکڑلینا (یعنی مضبوطی سے تھام لینا)
    یعنی امت کو سنت پر عمل کا پابند کیا گیا ہے۔ یہ حدیث اس کی دلیل ہے۔
    حدیث 2
    اصوم و افطر واصلي وارقد واتزوج النساء فمن رغب عن سنتي فليس مني (صحیح البخاری، باب الترغيب في النكاح)
    ترجمہ: میں روزے رکھتا اور چھوڑتا بھی ہوں، تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور نکاح بھی کیے ہیں، جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ مجھ سے نہیں۔
    اس حدیث میں آپ ﷺ نے اپنے طریقہ کو سنت کے لفظ سے بیان فرمایا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ سنت اس لیے ہے کہ امت کے لیے نمونہ ہو اور وہ اسے سند سمجھیں، جو آپ ﷺ کے طریقے سے منہ پھیرے اور اسے اپنے لیے سند نہ سمجھے وہ آپ کی جماعت میں سے نہیں ہے۔
    حدیث 3
    رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال بن حارثؓ کو فرمایا:
    من احيا سنة من سنتي قد اميتت بعدي فان له من الاجر مثل من عمل بها من غير ان ينقص من اجورهم شيئا ومن ابتدع بدعة ضلالة لا ترضي الله و رسوله كان عليه مثل آثام من عمل بها لا ينقص ذلك من اوزار الناس شيئا(ترمذی، باب ما جاء في الاخذ بالسنة و اجتناب البدع، حسن)
    ترجمہ: جس نے میری کوئی سنت زندہ کی جو میرے بعد چھوڑ دی گئی ہو تو اسے ان تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا جو اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی ہو اور جس نے کوئی غلط راہ نکالی جس پر اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی موجود نہیں تو اسے ان تمام لوگوں کے گناہوں کا بوجھ ہو گا جو اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان کے بوجھ میں کمی آئے۔
    جس طرح حدیث میں آپ ﷺ نے اپنے طریقہ کو سنت کے لفظ سے بیان فرمایا ہے اسی طرح لفظ سنت دوسرے صحابہ کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ پھر صحابہ کرامؓ بھی اکابر صحابہ کے عمل و فیصلے پر سنت کا لفظ بولتے تھے۔
    حدیث 4
    ایک دفعہ حضرت معاذ بن جبلؓ کے ایک عمل کے بارے میں فرمایا (حاشیہ:[1]):
    ان معاذا قد سن لكم سنة كذلك فافعلوا (ابو داؤد، باب كيف الاذان، صحیح)
    ترجمہ:بے شک معاذؓ نے تمہارے لیے ایک سنت قائم کر دی ہے، اسی طرح تم اس پر عمل کرو۔
    یہی بات حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کے متعلق بھی آتی ہے۔
    یعنی سنت دین کا وہ پسندیدہ معمول و مروج طریق ہے جو خواہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو یا آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ سے ثابت ہو۔
    حدیث کی مختلف اقسام کی مثالیں
    قولی حدیث کی مثال

    بخاری کی پہلی حدیث ہے:
    انما الاعمال بالنیة
    عمل نیت کے موافق ہوتا ہے
    فعلی حدیث کی مثال
    رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو نماز پڑھنا سکھایا اور پھر سلام پھیرنے کے بعد ارشاد فرمایا:
    صلوا کما رایتمونی اصلی (صحیح البخاری، کتاب الادب)
    جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اسی طرح نماز پڑھو
    آپ ﷺ نے نماز پڑھ کر دکھائی ہے، یہ فعلی حدیث ہے۔
    تقریر نبوی کی مثال
    تقریر نبوی یعنی وہ امور جن کو آپ ﷺ نے برقرار رکھا۔ مثلا جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو مدینہ میں بیع سلم کا رواج تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ کے علم میں یہ بیع آئی تو آپ ﷺ نے صحابہ کو اس بیع سے منع نہیں کیا، بلکہ فرمایا:
    في كيل معلوم ووزن معلوم الى اجل معلوم (صحیح البخاری، کتاب السلم فی وزن معلوم)
    مقررہ وزن اور مقررہ مدت تک کے لیے (بیع سلم) ہونی چاہئے
    رسول اللہ ﷺ نے بعض شرائط تو بڑھائیں، مگر سلم سے منع نہیں فرمایا۔ یہ تقریری حدیث ہے۔
    اوصاف نبوی کی مثال
    رسول اللہ ﷺ کے ذاتی حالات اوصاف کہلاتے ہیں، مثلا: آپ ﷺ کے بالوں کا بیان کہ نہ بالکل سیدھے تھے، نہ بالکل گھونگھریالے، درمیانی کیفیت لیے ہوئے تھے۔ یا آپ ﷺ کے دندان مبارک کا بیان کہ سامنے کے اوپر کے دانتوں میں ذرا کشادگی تھی۔ یہ سب حدیثیں ہیں۔
    سنت کےمعنی
    سنت کا لفظ قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے، احادیث میں بھی آیا ہے اور فقہ میں بھی، اور تینوں جگہ اس کے معنی الگ الگ ہیں۔
    سنت کے معنی قرآن کریم میں
    قرآن پاک میں ہے:
    ولن تجد لسنة اللٰہ تبدیلا (الاحزاب 62)
    تم اللہ تعالی کی سنت کو بدلتا ہوا نہیں پاؤ گے
    اللہ تعالی نے کائنات کی چیزوں میں کچھ صلاحیتیں رکھی ہیں، اور ان صلاحیتوں سے جو نتائج وجود میں آتے ہیں اس کا نام قرآن میں سنت اللہ ہے۔ جیسے آگ میں جلانے کی صلاحیت ہے تو وہ ہمیشہ جلائے گی، اس کے برعکس نہیں ہوگا۔ البتہ کبھی معجزے کے طور پر اللہ تعالی اس صلاحیت کے خلاف بھی کردیتے ہیں جیسے ابراہیمؑ کو آگ نے جلایا نہیں بلکہ آگ کو انؑ کے لیے سلامتی کا ذریعہ بنا دیا۔
    سنت کے معنی حدیث میں
    حدیث میں ہے:
    ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللہ و سنۃ رسولہ (مشکوۃ المصابیح، حسن)
    میں نے تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک تم ان دونوں کو مضبوط پکڑے رہوگے ہرگز گمراہ نہیں ہوؤگے (وہ دو چیزیں) اللہ تعالی کی کتاب اور میری سنت (طریقہ) ہے
    سنت کے معنی فقہ میں
    فقہ میں سنت، احکام کا ایک درجہ ہے جو اس پسندیدہ عمل پر بولا جاتا ہے جو فرض یا واجب نہیں ہے۔
    پیچھے ذکر کیا گیا کہ حدیث اور سنت بعض اعتبار سے ایک ہیں اور بعض اعتبار سے مختلف۔ ذیل میں اس کی تفصیل پیش خدمت ہے۔
    وہ روایات جو صرف حدیث ہیں سنت نہیں
    تین قسم کی روایتیں صرف حدیث ہیں، سنت نہیں۔
    i) پہلی قسم وہ حدیثیں ہیں جو منسوخ ہیں۔
    ii) دوسری قسم وہ حدیثیں ہیں جو رسول اللہ پاک ﷺ کے ساتھ خاص ہیں۔
    iii) تیسری قسم وہ حدیثیں ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے، کسی مصلحت سے یا کوئی مسئلہ سمجھانے کے لیے کوئی ارشاد فرمایا ہے یا کوئی عمل کیا ہے۔
    ذیل میں ہر ایک کی وضاحت اور مثالیں پیش خدمت ہیں۔
    پہلی قسم
    وہ حدیثیں جو منسوخ ہیں، وہ سنت نہیں ہیں، مسلمانوں کو ان پر نہیں چلنا، بعد میں جو ناسخ احادیث آئی ہیں مسلمانوں کو ان پر چلنا ہے۔
    پہلی مثال: حدیث شریف میں آتا ہے:
    عن زيد بن ثابت قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الوضوء مما مست النار (صحیح مسلم، کتاب الحیض)
    ترجمہ:زید بن ثابت بتاتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا جس چیز کو آگ چھولے (یعنی آگ پر پکائی جائے) (اس کے بعد) وضو کرنا ہے
    یہ صحیح حدیث ہے، مگر بعد میں یہ حکم نہیں رہا، بعد میں رسول اللہ ﷺ، خلفائے راشدینؓ اور سب صحابہؓ آگ پر پکی ہوئی چیز کھاتے تھے، اور وضو کیے بغیر نماز پڑھتے تھے، اس لیے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کی روایات حدیث تو ہے لیکن سنت نہیں اس لیے کہ ایک اور روایت میں آتا ہے:
    حدیث 5
    عن جابر قال كان آخر الامرين من رسول الله صلى الله عليه وسلم ترك الوضوء مما مست النار (سنن ابوداود،کتاب الطھارۃ،، صحیح)
    ترجمہ: جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ ﷺ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے
    دوسری مثال: حدیث شریف میں آتا ہے:
    حدیث 6
    عن زيد بن ارقم قال كنا نتكلم خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة يكلم الرجل منا صاحبه الى جنبه حتى نزلت وقوموا لله قانتين فامرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام (سنن الترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی نسخ الکلام فی الصلاۃ، صحیح)
    ترجمہ: حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز میں اپنے ساتھ والے سے بات کر لیتے تھے یہاں تک کہ (آیت) نازل ہوئی کہ اللہ کے سامنے فرمانبرداری سے کھڑے رہو اور ہمیں نماز میں بات کرنے سے روک دیا گیا
    یعنی پہلے نماز میں آپس میں باتیں کرتے تھے لیکن بعد میں اس کو منع کر دیا گیا۔ اس دور کی حدیثیں کہ نمازی نماز میں باتیں کرتے تھے، حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں مگر یہ حدیثیں منسوخ ہوگئی ہیں، وہ سنت نہیں ہیں۔ سنت وہ حکم ہے جو بعد میں آیا ہے، اسی پر مسلمانوں کو چلنا ہے۔
    دوسری قسم
    وہ حدیثیں ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص ہیں، وہ اگرچہ حدیثیں ہیں، مگر سنت نہیں۔
    مثال
    صحیح بخاری میں عبد اللہ ابن عباسؓ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تہجد کی نماز ادا کی جس کے بعد رسول اللہ ﷺ سو گئے۔ روایت کے الفاظ ہیں:
    فصلى ثلاث عشرة ركعة ثم نام حتى نفخ وكان اذا نام نفخ ثم اتاه المؤذن فخرج فصلى ولم يتوضا
    ترجمہ: پھر تیرہ رکعت (نماز) پڑھی اور سو گئے، یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے اور رسول اللہ کریم ﷺ جب سوتے تو خراٹے لیتے تھے ، پھر مؤذن آیا تو آپ ﷺ باہر تشریف لے گئے، آپ ﷺ نے اس کے بعد (فجر کی) نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
    رسول اللہ ﷺ کا سوجانا اور بیدار ہو کر وضو نہ کرنا اس فعل کی حدیث تو ہے لیکن یہ سنت نہیں۔ امت کے لیے سنت یہی ہے کہ سوجانے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔
    رسول اللہ ﷺ کے لیے نکاح کے باب میں چار کی قید نہیں تھی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں نو بیویاں جمع ہوئی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ فعل حدیث تو ہوئی، مگر سنت نہیں، امت کو جس راستہ پر چلنا ہے وہ یہ ہے کہ چار ہی بیویاں ایک ساتھ جمع ہوسکتی ہیں۔ امت کا اجماع ہے کہ امت کے لیے چار سے زیادہ بیویاں جمع کرنا جائز نہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کا فعل رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔
    سورۃ احزاب میں ایک لمبی آیت ہے:
    یایہا الرسول اللہ انا احللنا لک ازواجک
    اس میں آگے ہے:
    خالصة لک من دون المؤمنین
    ترجمہ: یہ حکم خاص آپ ﷺ کے لیے ہے، مؤمنین کے لیے نہیں ہے۔
    امت کے لیے بیویوں کے بارے میں یہ حکم ہے:
    فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنٰی وثلٰث ورباع (النساء)
    ترجمہ: پس نکاح کرو تم ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں، دو دو سے، تین تین سے اور چار چار سے
    تو یہ عمل رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص ہوا۔
    تیسری قسم
    رسول اللہ ﷺ نے کسی مصلحت سے کوئی بات فرمائی یا کوئی عمل کیا تو وہ حدیث ہے مگر سنت نہیں۔
    پہلی مثال
    عن عبد الله المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال صلوا قبل صلاة المغرب قال في الثالثة لمن شاء كراهية ان يتخذها الناس سنة(صحیح البخاری، کتاب التہجد، باب الصلاۃ قبل المغرب)
    ترجمہ: عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے رسول اللہ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مغرب (کے فرض) سے پہلے (نفل) نماز پڑھو (یہ بات دو مرتبہ فرمائی)، پھر تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے یوں فرمایا کہ جس کا جی چاہے اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ لوگ اس نماز کو سنت بنالیں
    آپ ﷺ کا یہ ارشاد یہ مسئلہ سمجھانے کے لیے ہے کہ عصر کے فرض پڑھنے کے بعد جو نفلوں کی ممانعت ہے وہ سورج ڈوبنے تک ہے، سورج چھپتے ہی کراہیت ختم ہوجاتی ہے، اب کوئی نفلیں پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے مغرب سے پہلے کبھی نفلیں نہیں پڑھیں اس لیے یہ سنت نہیں۔
    دوسری مثال
    صحیح بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زندگی میں ایک مرتبہ ایک قوم کی کوڑی پر کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا۔ روایت یوں ہے:
    عن حذيفة ان النبي صلى الله عليه وسلم انتهى الى سباطة قوم فبال قائما (صحیح بخاری، کتاب الوضوء)
    ترجمہ: حضرت حذیفہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ پاک ﷺ کسی قوم کی کوڑی پر تشریف لائے (پس) آپ ﷺ نے وہاں کھڑے ہو کر پیشاپ کیا۔
    یہ حدیث ہے، مگر سنت نہیں، آپ ﷺ ہمیشہ بیٹھ کر پیشاپ فرماتے تھے، اور وہی سنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا کھڑے ہو کر پیشاپ فرمانا بیان جواز کے لیے تھا اس لیے کہ کبھی انسان کو ایسی مجبوری پیش آتی ہیں کہ بیٹھ نہیں سکتا، مثلا کوڑی ہے، گندگی کی جگہ ہے، ایسی مجبوری میں کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے۔
    حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں :
    من حدثکم ان رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کان یبول قائما فلا تصدقوہ ماکان یبول الا قاعدا(سنن الترمذی، كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، حسن)
    ترجمہ:اگر تم سے کوئی بیان کرے کہ آپ ﷺ کی عادت کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی تھی تو ہرگز اس کی بات نہ ماننا، آپ ﷺ ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیشاب فرمایا کرتے تھے۔
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف کسی واقعہ کا حدیث میں آجانا اس کو سنت کا درجہ نہیں دے دیتا۔ اس کی اور بھی کئی مثالیں ہیں۔ مثلًا: قبلہ رخ ہو کر رفع حاجت کرنا حدیث میں آتا ہے لیکن یہ سنت نہیں۔ بچی کو اٹھا کر نماز پڑھنا حدیث سے ثابت لیکن یہ سنت نہیں۔ یا مثلا رسول اللہ ﷺ سے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ جوتا پہن کر نماز پڑھتے تھے۔
    کان یصلی فی نعلیہ (صحیح البخاری)
    جب کہ ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ بغیر جوتوں کے نماز پڑھتے تھے۔ لیکن امت کا عملی تواتر پہلی حدیث کے بجائے دوسری حدیث پر ہے۔ ساری امت کا اتفاق ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا آپ ﷺ کا نادر عمل تھا۔
    کچھ چیزیں سنت ہیں مگر حدیث نہیں
    اوپر ‏حدیث 1 میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی سنت کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین کی سنت کو بھی مضبوطی سے تھامنے کا حکم فرمایا ہے۔ اس لیے خلفائے راشدینؓ نے جو طریقے رائج کیے ہیں وہ اگرچہ حدیث نہیں ہیں، مگر مذکورہ حدیث کے مطابق سنت ہیں، اور حجت ہیں۔ مثلًا:
    · حضرت ابوبکرؓ نے اپنے بعد خلیفہ نامزد کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ آپؓ کی سنت ہے۔
    · حضرت عمرؓ کا نماز تراویح پر امت کو جمع کرنا آپؓ کی سنت ہے۔
    وہ روایتیں جو حدیثیں بھی ہیں اور سنت بھی
    وہ سب روایتیں ہیں جن پر امت نے ہمیشہ عمل کیا ہے ، وہ حدیث بھی ہیں اور سنت بھی، اور ایسی روایتیں بے شمار ہیں۔ مثلا وضو میں کلی کرنا، جوتے اتار کر نماز پڑھنا وغیرہ۔
    اس تمام تفصیل سے جو اوپر پیش کی گئی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث اور سنت ایک نہیں، دونوں میں فرق ہے۔ یہ نہ بالکل ایک ہیں نہ بالکل جدا جدا بلکہ اس میں تفصیل ہے جو اوپر بیان کی گئی۔
    ---------------------------------------
    [1]
    : پہلے نماز میں آپس میں باتیں کرسکتے تھے۔ پہلے طریقہ یہ تھا کہ مسبوق (دیر سے نماز میں شامل ہونے والا) آکر نمازی سے پوچھتا کہ کتنی رکعتیں ہوگئیں؟ وہ بتا دیتا۔ چنانچہ مسبوق تکبیر تحریمہ کہہ کر چھٹی ہوئی رکعتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہوتا۔ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبلؓ دیر سے آئے، ان کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ رسول اللہ ﷺ الگ نماز پڑھ رہے ہوں اور وہ اپنی چھٹی ہوئی نماز پڑھیں۔ چنانچہ وہ نیت باندھ کر نماز میں شامل ہو گئے، جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی باقی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے اس کو پسند فرمایا۔ چنانچہ اس دن سے مسبوق کی نماز کا طریقہ بدل گیا۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں