ایک چھوٹی سی "ایم آئی ٹی پاکستان کے لیے"

عفراء نے 'ميرى درس گاہ' میں ‏دسمبر 21, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    ایک چھوٹی سی "ایم آئی ٹی پاکستان کے لیے"
    ڈاکٹر عمر سیف

    یہ سن ۲۰۰۲ کی بات ہے، بوسٹن شہر بھاری برفباری کے سبب مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ میرے نئے کورس کا لیکچر جو میں ماساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی MIT میں پڑھا رہا تھا، بھی ملتوی ہوگیا تھا۔میں نے اپنی رہائش گاہ میں رہ کر ہی اس وقت کو اپنے خوابوں کے منصوبے ؛ پاکستان میں ٹیکنالوجی کی ایسی تحقیقی جامعہ کا قیام جو ایم-آئی-ٹی کے تعلیمی ڈھانچے کا عکس ہو، کے ابتدائی لائحہ عمل کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنے خواب کو بہت چاہت سے "پاکستان کا ایم -آئی-ٹی" کا عنوان دیا۔

    اگلے تین سال میں نے ان گنت گھنٹے پاکستان کے صاحب اقتدار طبقات کو اس نوعیت کی جامعہ کے قیام عمل کے لیے قائل کرنے کی کوشش میں لگائے۔حیرت انگیز طور پر، ایک ایسا ملک جس میں ایک بھی جامعہ ایسی نہیں جو دنیا کی چوٹی کی 700 جامعات میں شمار کی جاتی ہو، اس کے باسی تشویشناک حد تک پاکستان کے اعلی تعلیم کے معیار پر خوش اور مطمئن نظر آئے۔ میں نے بہت سارے مجوزہ خاکے اور تجاویز ، قانون ساز اداروں، سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور جامعات کو بھجوائے لیکن کامیابی نہ ہوئی۔میرے جوش و خروش کو اس قسم کے جعلی ریمارکس سے نوازا گیا مثلا: "پاکستان کو مزید پی ایچ ڈیز کی ضرورت نہیں" یا "ایم آئی ٹی ہماری جوتی، پاکستان عظیم ہے" یا "آپ پاکستان کے تعلیمی نظام کو کتنا جانتے ہیں؟"
    اس سب کے باوجود میں پاکستان واپس آیا اور اپنی مادر علمی لمز LUMS میں فیکلٹی پوزیشن سنبھال لی۔

    بعد ازاں سن ۲۰۱۱ میں، مجھے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویوTR35 کی جانب سے دنیا کے صف اول کے ۳۵جدت طراز نوجوانوں میں شمار کیا گیا۔ چونکہ یہ موقع پہلی بار آیا تھا کہ کسی پاکستانی کا نام اس لسٹ میں آیا ہو لہذا یہاں کے میڈیا نے اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا اور مجھے پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے ناشتے پر مدعو کیا۔

    وزیر اعلیٰ نے مجھے پنجاب حکومت کے لیے کام کرنے اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ PITB کا سربراہ بنانے کی پیشکش کی۔شومئی قسمت، انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ وہ پنجاب میں بین الاقوامی طرز کی آئی ٹی یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف کے بے پناہ جوش و خروش کی بدولت ۲۰۱۳ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی ITU کا قیام عمل میں آیا۔ مجھے اس کا پہلا وائس چانسلر بنایا گیا جو کہ اس وقت پاکستان کی کسی بھی جامعہ کا کم عمر ترین وائس چانسلر تھا۔

    "پاکستان کی چھوٹی سی ایم آئی ٹی " کو تحقیق اور کاروبار کے ملے جلے رجحان کے ساتھ چلایا جارہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، اور انجینیرنگ کے میدان میں جدت اور تحقیق کا معیار بلند کیا جائے۔ ہم فیکلٹی، تحقیق سٹاف اور طلبہ بھرتی کرنے میں نہایت احتیاط برتتے ہیں۔رواں سال ہمارے طلبہ کے داخلے کا ریٹ محض ۲اشاریہ۲۸ رہا۔ وظائف چاہے وہ ضرورت کی بنیاد پر ہوں یا میرٹ کی بنیاد پر، اس یقین دہانی کے ساتھ نوازے جاتے ہیں کہ داخلہ خالصتا میرٹ پر ہو, قطع نظر اس کے کہ طالبعلم فیس ادا کر سکتا ہے یا نہیں۔

    آئی ٹی یو کی اصل طاقت اس کے مقررہ مدت کے لیے بھرتی کیے گئے اساتذہ ہیں۔ اساتذہ کو بھرتی کرنے کا انحصار اس پر ہے کہ امیدوار میں بین الاقوامی معیار کی تحقیق کروانے کی کتنی صلاحیت ہے۔فیکلٹی ممبران کو اعلی معیار کی جامعہ سے پی ایچ ڈی ہونا اور تحقیق میں ثابت شدہ ہونا لازم ہے۔

    اپنے قیام کی تین سالہ مختصر مدت میں ہمارے فیکلٹی ممبران نےتحقیق کے لیے ۷۰۰ ملین روپے کی مسابقتی گرانٹ حاصل کی، چوٹی کی کانفرنسز اور مجلات میں ریسرچ پیپرز شائع کروائے اور ایسی ٹیکنالوجی وضع کی جو پاکستان کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر مجیب الرحمن نے کم قیمت وینٹیلیٹر تیار کیا جو ہسپتالوں میں ہاتھ سے چلنے والے پمپ کا متبادل ہے اور یہ ہر سال ہزاروں جانیں بچانے کا کام کر سکتا ہے۔ڈاکٹر توصیف الرحمن نے فین موٹر بنایا جو گوجرانوالہ میں پنکھے بنانے کے لیے انتہائی کم انرجی استعمال کرتا ہے ۔ ڈاکٹر علی آغا نے بول چال پر مبنی سسٹم ترتیب دیا ہے جس سے ان پڑھ لوگوں کے لیے انٹرنیٹ سروسز کا استعمال ممکن ہے۔ ڈاکٹر یعقوب بنگش پنجاب کے تاریخی مسودات کو ڈیجیٹائز کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ آئی ٹی یو اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اشتراک کی بدولت پنجاب حکومت نے ایسا سسٹم ترتیب دیا ہے جو ڈینگی کی وبا پھیلنے سے پہلے وارننگ جاری کرے، اور ویکسینیشن سے رہ جانے والے بچوں کی شرح پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں کمی کرے۔ اس کے علاوہ ڈیٹا جمع کرنے کا ایسا پلیٹ فارم بنانے پر کام کیا جا رہا ہے جو موبائل اطلاقیوں کی مدد سے پنجاب حکومت کے کام میں مدد دے۔

    کاروبار پر خصوصی توجہ کے تحت ہم نےابتدائی لائحہ عمل میں ایک انکیوبیٹر ترتیب دیا ہے جو پلان 9 کہلاتا ہے۔ یہ بھی پنجاب آئی ٹی بورڈ کے اشتراک سے چلایا جا رہا ہے۔اس سے اب تک نئے کھلنے والے ۱۳۰ اداروں کو کھڑا ہونے میں مدد دی گئی ہے جو کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے اداروں کا کلچر متعارف کروانے میں مفید ہے۔پلان 9 فی الحال ۱۷ انکیوبیٹر سٹارٹ اپس کو سپورٹ کر رہا ہے۔اس کے علاوہ تمام فیکلٹی ممبران کو ایک ہفتہ وار تعطیل دی جاتی ہے جس میں وہ اپنے تحقیقی پراجیکٹس کو کمرشلائز کر سکیں۔ پاکستان میں معتبر سائنسی اشاعات کے لیے آئی ٹی یو نے ، ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو سے لائسنس یافتہ میگزین کا اجراء بھی کیا ہے جو ہر دو ماہ بعد شائع ہوتا ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان میں ٹیکنالوجی ریسرچ، سٹارٹ اپس، اور مصنوعات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

    ابھی ہم نے منصوبہ بندی کے تحت ۱۸۳ ایکڑ پر مشتمل برکی روڈ لاہور پر کیمپس بنایا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہم(ایم آئی ٹی اور ہارورڈ کا آنلائن کورسز کا مرکز) edx کے ساتھ اشتراک کرنے جا رہے ہیں تاکہ اپنے کلاس رومز میں آنلائن پڑھائی کا نظام متعارف کروا سکیں۔ مجھے امید ہے کہ ہماری چھوٹی سی "پاکستان کی ایم آئی ٹی " سائنسی تحقیقات، جدیدیت اور کاروباری ترقی کا مرکز بن جائے گی۔
    ـــــــــــ​
    اردو ترجمہ برائے اردو مجلس : عفراء
    اصل مضمون کا لنک: http://tribune.com.pk/story/1266461/little-mit-pakistan/
     
    • مفید مفید x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    ماشاءاللہ ایک تو خبر بہت امید افزا ہے دوسرا آپ کا ترجمہ کمال کا ہے!
    اللہ آپ کی صلاحیتوں کو مزید نکھار دے۔ اتنی محنت سے ہمارے لیے یہ تھریڈ شروع کرنے کا شکریہ۔میں سوچ رہی تھی کب ہم ایسا نظام بنائیں گے کہ باصلاحیت لوگ خود ہی درست جگہ پہنچ جائے نہ کہ ان کو خصوصی توجہ دے کر سامنے لانا پڑے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا ۔
    یہ کالم پڑھنے کے بعد کافی دیر میں ڈاکٹر صاحب کے بارے میں ہی پڑھتی رہی ۔ اتنے قابل لوگ کم ہی نظر آتے ہیں جو اتنی کم عمری میں ہی اپنے خوابوں کو حقیقت بنا لیں۔ اللہ تعالی انہیں مزید ترقی دے۔
    ایک مزیدار بات بھی بتاتی چلوں جب پہلی مرتبہ کالم پڑھا تو اس میں انکیوبیٹر کا ذکر تھا ۔ کچھ عجیب سا لگا کہ آئی ٹی کے ساتھ بزنس تو سمجھ میں آتا ہے ۔ یہ آئی ٹی پڑھتے پڑھتے میڈیکل انکیوبیٹر میں کیسے جا پہنچے۔انکیوبیٹر تو اس لیے کام آتا ہے کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو ان میں رکھا جا سکا۔
    دل مطمئن نہیں ہوا تو پلان 9 کے متعلق مزید تحقیق کی اور بہت دلچسپ باتیں سامنے آئیں ۔ یہ دراصل بزنس انکیوبیٹر ہیں۔ اور انڈسٹری میں قدم رکھنے والوں کی زندگیاں بدل سکتے ہیں ۔ پہلی مرتبہ ایسے بزنس انکیوبیٹر میں نےاپنے کالج میں منعقد ہوتے دیکھے تھے ۔ ہوتا یہ ہے کہ طلبہ کو نفرادی طور پر یا 2-3 کے گروپ میں اپنے کسی آیڈیا کو پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے ۔ وہ منصوبہ ٹیکنالجی کو استعمال کرتے ہوئے کسی بزنس شروع کرنے کے متعلق ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر جیسے ای کامرس ویب سائٹس ہیں (amazon , ebay ) وغیرہ ۔ اگر پینل کو آپ کا بتایا ہوا منصوبہ پسند آجاتا ہے تو پھر وہ آپ کو بہت سی سہولیات فراہم کرتے ہیں جس کی مدد سے آپ اپنے منصوبہ کو مکمل کر سکیں ۔
    پلان 9 بھی اسی طرح کے بزنس انکیوبیٹر فراہم کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ اگر آپ کاپلان منظور ہو جاتا ہے تو آپ کومفت ایک آفس دیا جائے گا جہاں پر بیٹھ کر آپ اپنا کام کر سکیں ۔ ہر مہینے غالبا 20،000 روپے دیے جائیں گے کہ آپ کو باقی اخراجات کی فکر نہ ہو ۔ اور مکمل توجہ سے اپنے منصوبہ پر کام کر سکیں ۔ آپ کے کام کو مکمل کرنے کے لیے ماہرین اپنی نگرانی میں اس منصوبے کو مکمل کرنے میں آپکی مدد کریں گے۔

    مزید تفصیلات اس ویب سائٹ سے لی جا سکتی ہیں۔
    http://plan9.pitb.gov.pk/
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • تخلیقی تخلیقی x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    بہت خوب ۔ واقعی ایسے قابل لوگ نایا ب ہیں ۔ اللہ عزوجل بڑی "ایم آئی ٹی" کی طرف راہ ہموار کرے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں