زبردستی کی شادی : سرکتی بنیاد پر بنے گھر

عائشہ نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏جولائی 6, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    کامیاب شادی اگر اسے کہتے ہیں جو چلتی رہے تو پھر زیر بحث شادی بھی دو سال تک کامیاب ہی رہی۔کئی لوگ ساری عمر نفرت بھرے رشتے نبھا کر مرتے ہیں لیکن اس گھر میں پلنے والی اولاد کی زندگی کیسی حسرت بھری ہوتی ہے سب کو معلوم ہے۔ اصل میں کامیاب لوگ اپنی زندگی کو گھٹ گھٹ کر گزارتے ہیں نہ کسی کو اس بات کا حق دیتے ہیں کہ وہ ان کی زندگی میں گھٹن پیدا کرے۔ ان کو خلع، طلاق، جیسے راستوں کا استعمال سمجھداری سے کرنا آتا ہے اور وہ اسے ناک کامسئلہ نہیں بناتے۔ میرے نزدیک وہ سب لوگ اپنی ازدواجی زندگی میں کامیاب ہیں جو کسی دباؤ میں نہیں آتے، اپنے گھر کی فضا میں کسی گھٹن اور جبر کو قبول نہیں کرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اور اپنی اولاد کے دل سے واقف ہوتے ہیں اور اسلام کی حدود میں رہ کر اپنی اور ان کی خوشی کو پورا کرتے ہیں۔اصل اسلام یہی ہے کہ انسان اللہ اور بندوں کے حقوق پورے کرے۔
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,873
    ارینج میرج میں نے اس معنی میں لیا ہے کہ ولی الأمر کی اجازت کے ساتھ، اولاد کی پسند ناپسند کا خیال رکھا جائے. زبردستی نا کی جائے . یہ تو شرعی حق ہے. اگر وہ دے دیا جائے .پھر تو کوئی جبر نہیں رہے گا. ایک بحث کے دوران شیخ کفایت اللہ بھائی نے چند مفید پوسٹس کی تھیں.
    http://www.urdumajlis.net/threads/لَو-اور-ارینج-میریج-شرعی-حیثیت.15363/page-1
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    بہرحال ارینجڈ میرج ایک مبہم اصطلاح ہے جب تک کہ کہنے والا اس کی تعریف واضح نہ کرے جب کہ جبری نکاح میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
    پتہ نہیں اس موضوع میں محبت کی شادی کہاں سے گھس آئی۔ یہاں پسند کی شادی بمقابلہ جبری شادی زیربحث نہیں تھی بلکہ جبری نکاح بمقابلہ اسلامی نکاح زیر بحث تھا۔ یہ بحث کو غیر متعلقہ طرف لے جانے والی بات ہے۔ دین اسلام واضح الفاظ میں جبری شادی کو باطل قرار دیتا ہے تو اسے اس ظلم کے جواز کے لیے استعمال کرنا دو جرائم کے برابر ہے: ایک تو اولاد کے حقوق کی پامالی، دوسرا اسلامی تعلیمات کو توڑنا مروڑنا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    یہ تو باشعور یا رحم دل والدین سوچتے ہیں، پاکستان میں ایسے واقعات بھی ہیں کہ نکاح کو کئی سال ہو چکے ہیں لیکن رخصتی نہیں ہو رہی کیوں کہ لڑکا راضی نہیں اور دونوں طرف کے والدین بجائے عقل کے استعمال کے، دم تعویذ پر لگے ہیں کہ بچہ مان جائے۔ طلاق نہیں ہو سکتی کہ کزن میرج کی وجہ سے دونوں خاندان کئی کئی رشتوں میں بندھے ہیں جن سب کو خطرہ ہو جائے گا۔ یہ جہالت کی وہ قسم ہے جس میں انسان اپنے خوف کا اتنا قیدی ہو جاتا ہے کہ اس کو آپشنز نظر آنا بند ہو جاتے ہیں۔ میرے خیال میں دین کا علم اسی لیے ضروری ہے کہ دماغی صحت بحال رہتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. لبید غزنوی

    لبید غزنوی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 7, 2015
    پیغامات:
    19
    اس با ت متفق ہوں مگر یہ جبر کیوں ہے جبکہ زندگی بچے نے گزارنی ہوتی ہے ناکہ انہوں نے ۔۔۔انہوں نے اپنی گزار لی ہے ۔اب انکا انتخاب اپنے بیٹوں کے لیے اسکا ہونا چاہیے جس کے ساتھ اسکی زندگی پرسکون گزر سکے اور اسکے لیے محبت لازمی ہے ۔۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    والدین بیٹوں کا حق نہیں مانتے، بیٹے اپنے حق کا ذکر کرتے ہیں بیٹیوں کا نہیں۔ ہم سب اسلام کو اپنی نظر سے دیکھتے ہیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں