حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ ترک رفع الیدین کی تحسین امام ترمزی اور آل دیوبند کا دوغلہ پن۔۔۔

عتیق الرحمن سلفی نے 'نقطۂ نظر' میں ‏جولائی 20, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عتیق الرحمن سلفی

    عتیق الرحمن سلفی نوآموز

    شمولیت:
    ‏جون 17, 2017
    پیغامات:
    2
    ترک رفع الیدین کی حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ کا جائزہ

    احناف کی ترک رفع الیدین کی سب سے مضبوط دلیل حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث ہے

    ’’قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَحْمَدُ بْنُ شُعَیْبِ النِّسَائِیُّ اَخْبَرَ نَا سُوَیْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ رضی اللہ عنہما قَالَ اَلَااُخْبِرُکُمْ بِصَلٰوۃِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم قَالَ؛ فَقَامَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ثُمَّ لَمْ یُعِدْ۔‘‘(سنن النسائی ج۱ص۱۵۸،سنن ابی داؤدج۱ص۱۱۶ )
    اسکو امام ترمزی رحمہ اللہ نے حسن کہا
    باقی اس حدیث پر جرح کے بغیر امام ترمزی کی تحسین پر بات کرتے ہیں کہ
    کیا احناف امام ترمزی کی تحسین کو مانتے ہیں یا صرف دعوہ کرتے ہیں اگر کوی حدیث اپنے مسلک کے موافق ھو تو امام ترمزی کی تحسین قابل قبول اور اگر مخالف ھو تو اسکو رد کردیتے ھیں,
    آئیے ہم وہ اقوال پیش کرتے ھیں جن میں احناف نے امام ترمزی کی تحسین کو قبول نہیں کیا
    مثال کے طور پر فاتحہ خلف الامام کی حدیث کو امام ترمزی رحمہ اللہ نے حسن کہا اور ایک محدثین کی جماعت نے حسن یا صحیح کہا ھے تفصیل کے لیے دیکھیں (توضیح الکلام ۲۲۲)
    اس کے باوجود مولانا سرفراز صفدر لکھتے ھیں کہ اس حدیث کا وجود اور عدم وجود برابر ہے
    احسن الکلام ۷۰;۷۷
    محمود الحسن نے لکھا ھے کہ یہ حدیث اول تو انکے مدعا پر نص نہیں اگر اس سے بھی درگزر کیا جاے تو قوی نہیں اگر چہ ترمزی اسکو حسن کہتے ہیں
    تقاریر شیخ الہند ۶۸
    سعید احمد پالنپوری دیوبندی نے لکھا ہے کہ امام ترمزی کا حسن•حسن لزاۃ سے فروتر ھے معمولی ضعیف حدیث کو بھی حسن کہہ دیتے ھیں
    تسہیل ادلہ کاملہ ص ۶۵
    سرفراز خان نے لکھا ہے کہ امام ترمزی حدیث کی تحسین وتصیح میں بڑے متساہل ہیں
    الکلام المفید ۳۲۹
    سنن ترمزی میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں پر مسح کیا
    مفتی تقی عثمانی اس حدیث کے متعلق لکھتے ھیں کہ
    اس حدیث میں امام ترمزی کو تسامح ھوا ھے
    درس ترمزی ج۱ ۳۳۶
    اسی حدیث کے متعلق امین اوکاڑوی نے لکھا ہے کہ امام ترمزی اس بارےمتساہل ہیں
    تجلیات صفدر ج۲ ص۱۷۶
    اسکے علاوہ حضرت ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث جو انہوں نے دس صحابہ کرام کی موجودگی میں بیان کی اس میں چار مقامات پر رفع الیدین کا ثبوت ہے اور امام ترمزی نے اسکو حسن کہا ھے اور صحہح بھی کہا ھے
    سنن ترمزی ص ۶۷
    اسکے باوجود امین اوکاڑوی نے اسکو ضعیف کہا
    تجلیات صفدر ج۲ ص ۲۹۷
    مزکورہ تفصیل سے واضح ھوگیا کہ آل دیوبند کے نزدیک امام ترمزی کا حدیث کو حسن یا صحیح کہنا حجت نہیں ھے اور نہ صحابہ کے وہ اقوال جو انہوں نے بلا سند صحابہ سے نقل کیے ھیں
    مثلا امام ترمزی نے حضرت عبادہ بن صامت کی حدیث حسن ہے اور یہ روایت زہری نے محمود بن ربیع سے نقل کی اور انہوں نے عبادہ بن صامت سے نقل کی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی کہ اس شخص کی نماز نہی جو نماز میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اور یہ روایت بہت صحیح اور اسی پر عمل ہے امام کے پیچھے قرآن پڑھنے کے باب میں اکثر صحابہ وتابعین کا یہی قول ہے مالک بن انس ابن مبارک امام شافعی واحمد واسحاق کا بھی یہی قول وعمل ہے
    ترمزی مترجم از بدیع الزماں ج۱ ص۱۵۴
    لیکن آل دیوبند اسکو صحیح ماننے کے لیے تیار نہیں اسی طرح نماز جنازہ کی تکبیرات میں رفع الیدین کے بارے امام ترمزی نے فرمایا
    اکثر اہل علم صحابہ کرام اور دیگر حضرات کا خیال ہے کہ ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنی چاہیے
    ترمزی ج۱ ص۲۴۴
    لیکن آل دیوبند اسکو ماننے کے لیے تیار نہیں ھے
    اسی طرح ماسٹر امین اوکاڑوی نے لکھا ھے کہ امام بخاری نے نہ کسی صحابی کا زمانہ پایا ہے نہ کسی تابعی کا اس لیے صحابہ کرام کے بارے اور تابعین کے بارے انکے بے سند اقوال قابل قبول نہیں
    جزءرفع الیدین ۳۰۷
    جب دیوبند کے نزدیک امام بخاری کے اقوال حجت نہیں تو امام ترمزی کے اقوال کیونکر حجت ہوسکتے ہیں?
    امام ترمزی سے پہلے کسی بھی محدث نے اس حدیث کو صحیح نہیں کہا بلکہ اکثر محدثین نے اسے ضعیف یا معلول قرار دیا ہے تفصیل کے لیے دیکھیے نورالعینین ص ۱۳۰
    اسکے علاوہ امین اوکاڑوی نے ابن حزم کے حوالے سے لکھا کہ امام ابن حزم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے
    تجلیات صفدر ج۲ ص ۳۵۳
    ماسٹر امین اوکاڑوی نے اور جگہ لکھا کہ کسی امتی کی رائے سے کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف کہنا اہل الرائے کا کام ہے نہ کہ اہل حدیث کا•اور یہ تقلید ہے
    تجلیات صفدر ج۷ ص۱۷۱
    ماسٹر امین اوکاڑوی لکھتے ہیں کہ
    ابن حزم تو جھوٹا ہے(استغفراللہ)
    فتوحات صفدر ج۲ص۶۳
    اب جب اوکاڑوی صاحب کے نزدیک امام ابن حزم جھوٹے ھیں تو جھوٹے کی بات کیسے مان لی اور ایک جھوٹے کے مقلد بن گئے....
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. عتیق الرحمن سلفی

    عتیق الرحمن سلفی نوآموز

    شمولیت:
    ‏جون 17, 2017
    پیغامات:
    2
    لسلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    پوسٹ میں ایک غلطی ھوگئ ھے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نہیںِ بلکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ھے یہ تبدیلی کس طرح ھوگی?
    جزاک اللہ خیرا
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    ترمیم کردی گئی ہے.
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں