ازدواجی زندگی کے کامیاب اصول

ابو حسن نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏جنوری 27, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ===================
    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )

    ايک بھائی کی پوسٹ پڑھی تو سوچا کیوں نہ اپنا ازدواجی تجربہ بھی آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کروں تاکہ اس میں جو فائدہ مند باتیں ہوں انسے آپ اپنی شادی شدہ زندگی میں فائدہ اٹھا سکیں " إن شاءالله " اور جوفائدہ مند باتیں آپ کے پاس وہ آپ جواب میں شیئر کریں ،جزاک اللہ خیرا

    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ مجھے سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور جھوٹ سے حفاظت فرمائے اور ریا و دکھلاوے سے محفوظ رکھے اور ہر لگ جانی والی نظر سے حفاظت فرمائے ،آمین یا رب العالمین

    میرا نکاح حرم مکہ میں 2010 کے رمضان المبارک میں ہوا الحمدللہ، نکاح میں شمولیت کرنے والوں کی عجوہ کھجوروں اور دودھ سے میں نے خود تواضع کی دلہا ہونے کے باجود ، ہم دونوں میاں و بیوی کو اپنا
    " شھر عسل " پہلا ازدواجی مہینہ حرم مکہ اور حرم مدینہ میں گزارنے کی توفیق ملی الحمدللہ حمداً کثیرا

    پہلی مرتبہ جب ملے تو میاں و بیوی کے درمیان کچھ ازدواجی زندگی کے بارے میں اصول قائم کئے ، اور جو 12 سال دین پڑھتے اور سیکھتے ہوئے علم حاصل ہوا اسکو عملی زندگی میں عمل پر لانے کی سعی کرنے کی کوشش کی اور ابھی تک کر رہے ہیں الحمدللہ


    سیدالاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ وسلم کے سبھی صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین آسمان پر چکمتے ستاروں کی ماند ہیں جیسے کہ آسمان پر کچھ ستارے دور دکھائی دیتے اور کچھ نزدیک پر ہیں سبھی روشن اور بے شک سبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منور سنتوں پرعمل پیرا تھے ، انہی میں سے ایک ابو دردا رضی اللہ عنہ کے عمل کو لیا اور اپنی زوجہ کو انکا واقعہ سنایا

    سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ نے پہلی رات اپنی زوجہ کو بتایا " دیکھو ہم دونوں انجان ہیں اور ایک دوسرے کی عادات و اطوار کو نہی جانتے تو میں تمہیں کچھ بتاتا ہوں اور اس پر دونوں نے " إن شاءالله " عمل پیرا ہونا ہے ، جب بھی میں غصہ میں آؤں تو مجھے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی ہے اور میرے ساتھ مقابلہ نہیں کرنا اورجب تم غصہ میں ہوگی تو یہی معاملہ میں تمہارے ساتھ کروں گا " إن شاءالله " اور جب غصہ دور ہوجائے تو جو غلطی پر ہو وہ معافی مانگ لے اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو جلد ہی ہم دونوں میں جدائی پیدا ہوجائے گی ، الحمدللہ دونوں نے اس پر عمل کیا اور بہت اچھی زندگی گزاری

    اور یہی عمل میں نے اپنی ازدواجی زندگی میں کیا اور ابھی تک الحمدللہ بہت اچھا وقت گزر رہا ہے

    1- جب کبھی ناراضگی ہو تو 15 منٹ وقت ناراضگی کی حد ہوگی اور اسی میں ہم نے صلح کرنی ہوگی چاہے ہمارے درمیان لڑائی کتنی بھی شدت کی ہوجائے

    2- جب کبھی بھی ہمارے درمیان ناراضگی ہو جائے تو یہ بات ہم دونوں اور اللہ تعالی کے سوا کسی اور کے سامنے نہيں ذکر کرنی ہے

    3- ہم نے اپنی ناراضگی کو خود ہی ختم کرنا ہے افہام و تفہیم سے کسی تیسرے شخص کو اس معاملہ میں شامل نہیں کرنا ہے


    جب اپنی بات کسی دوسرے کے سامنے کی جائے گی ، ایک تو نظریں جھکانی پڑیں گی دوسرا شرمندگی بھی اٹھانی پڑے گی ، میری طبیت غصہ والی ہے اور اسی لیئے میری ساس میری زوجہ سے شروع شروع میں پوچھتی رہیں کہ تمہیں کیسا رکھتے ہیں ؟ میری زوجہ نے بتایا کہ الحمدللہ بہت اچھے سے رکھتے ہیں

    مجھے کھانا بھی اچھے سے پکانا آتا ہے تو اس سے مشکل وقت میں بہت آسانی ہوگئی ، ویسے تو میں وقت فوقتا کھانا پکاتا رہتا تھا لیکن بڑی مشکل اس وقت آن پڑی جب میری زوجہ پہلی مرتبہ "حاملہ ہوئیں" اسکو ادرک لہسن کی بو سے اور کھانا پکنے کی سمیل بہت پریشانی کرتی اور تقریبا ہر قسم کی سمیل بھی ، میں نے اپنی زوجہ کو تسلی دی کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے کھانا میں بنالیا کروں گا تم صرف روٹیاں پکالینا پکاسکو تو ورنہ بازار سے روٹیاں لے آیا کرونگا ،اب اس وقت میری کھانا پکانے کی صلاحیت نے مجھے بہت فائدہ دیا ،میں کھانا پکاتا اور زوجہ ناک کو لپیٹ کر کمرہ بند کر کے بیٹھ جاتی (
    لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا)

    اکثر برتن بھی میں دھولیتا


    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
    " تم ميں سے سب سے اچھا اور بہتر وہى ہے جو اپنى گھر والوں كیلئے اچھا ہے، اور ميں تم ميں سے اپنے گھر والوں كیلئے سب سے بہتر اور اچھا ہوں "

    بہت اچھے سے وقت گزرا اور اللہ تعالی نے ایک خوبصورت اور جسمانی عیوب سے پاک بیٹی عطاء کی الحمدللہ

    پھر یہی معاملہ میری دوسری اور تیسری بیٹی کی پیدائش پر ہوا اور بے شک یہ سارا وقت بہت خوش اسلوبی سے گزرا، ابھی تک کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ کھانا بنا رہا ہوتا اور کوئی سسرالی رشتہ دار ملنے آتے اور میں کچن ہوتا علیک سلیک کے بعد پوچھتے سعید بھائی کھانا پکا رہے ہو ؟ مذاقا کہتا ہاں بھائی کیا کروں تمہاری بہن تو کھانے پکانے پر لگائے رکھتی ہے ،

    مولانا ذوالفقار نقشبندی کے ایک خلیفہ میرے جاننے والے ہیں تو انکی دعوت تھی میرے گھر میں کھانا کھانے کے بعد ساتھ میں بھی دے دیا گھر لے جانے کیلئے تو بھابی کا فون آیا اور میری زوجہ سے کہاکہ سعید بھائی سے چکن بنانے کی ترکیب پوچھ کر بتانا بیٹے کو بہت اچھا لگا ہے میں نے زوجہ کو کہا کہ کہہ دو آپ بنائیں گی تو ایسا ذائقہ نہیں آئے گا ہاں اگر قاری صاحب پکائیں تو پھر ہوسکتا ہے کہ ویسا ہی ذائقہ بنے



    اب کئی حضرات کے ذہن میں شیطان کی طرف سے یہ باتیں آئیں گی کہ " واہ کیسا زبردست رن مرید ہے " تو بھا ئی دوسروں کو رن مرید کے القاب دینے والے احباب سے گزارش ہے کہ کی سیرت کا مطالعہ اچھی طرح سے کریں تاکہ جان سکیں گھر کی معاشرت کیسی تھی رسول اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آج ہمارے اندر وہ عمل ہے یا نہیں ؟ یا پھر ہم خالی سنت کانعرہ لگانے والے ہیں


    اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے، انہوں نے بتایا کہ گھر والوں کے کام میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آجاتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔(صحیح بخاری )

    اور پھر كئى ايک احاديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى عورتوں كے ساتھ بہتر سلوک كرنے كى وصيت فرمائى ہے، اس ليے خاوند كو اللہ سبحانہ و تعالى كا ڈر اور تقوى اختيار كرتے ہوئے بيوى سے حسن سلوک كرنا چاہيے، اور ہر ايک كو اس كا مقرر كردہ حق دينا چاہيے، كيونكہ والدين كے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمى، بيوى كے ساتھ حسن سلوک اور اس كى تكريم كے منافى و متعارض نہيں

    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا درج ذيل فرمان ہے


    " تم ميں سے سب سے اچھا اور بہتر وہى ہے جو اپنى گھر والوں كیلئے اچھا ہے، اور ميں تم ميں سے اپنے گھر والوں كیلئے سب سے بہتر اور اچھا ہوں "

    سنن ترمذى حديث نمبر ( 3895 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1977 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.


    چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بہترى اور خير كا معيار بيوى كا اكرام بنايا ہے، اس ليے جو كوئى بھى مسلمانوں ميں سب سے بہتر اور اچھا بننا چاہتا ہے تو وہ اپنى بيوى سے حسن سلوک كرے، اور يہ حسن سلوک بيوى بچوں اور عزيز و اقارب سب كو شامل ہے.

    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا كہ


    " تم جو كچھ بھى اللہ كى رضا كے ليے خرچ كرو گے اس كا اللہ كے ہاں اجروثواب پاؤ گے، حتى كہ وہ لقمہ جو تم اپنى بيوى كو كھلاؤ گے اس كا بھى اجرملےگا "
    صحيح بخارى حديث نمبر 56

    تو اس میں میرا کوئی ذاتی کمال نہیں بلکہ یہ سب اولاد آدم کے سردار سیدالاولین و الاخرین
    صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک اسوہ کا کمال ہے

    اس عرصہ کے درمیان کئی بار ناراضگی ہوئی کیونکہ ہر دن ایک جیسا نہیں ہوتا تو جب بھی ناراضگی ہوتی ہم نے سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ والا عمل دوہرایا اور کئی بار غلطی زوجہ کی ہوتی اور صلح کیلئے پہل میری طرف سے ہوتی کیونکہ میری زوجہ ہے تو مجھے صلح کرتے ہوئے یا مناتے ہوئے انا کو آڑے لانے کی ضرورت نہیں مجھے اپنے رب سے اس پر بھی اجر کی امید ہے

    اس دوران بہت عجیب پہلو بھی سامنے آئے ، جیسا کہ میری پہلی بیٹی جب چھوٹی تھی تو سوتے میں ڈر جاتی تھی تو اب کسی رشتہ دار نے یہ کہا کہ اس کے بستر کے نیچے چھری رکھیں پھر یہ ڈرے گی نہیں ،میں نے دو تلواریں کمرے سے لاکر دیکھائیں اور پوچھا کہ کیا خیال ہے یہ مناسب رہیں گی ؟ اوریہ سب دیکھ کرسامنے والے کے چہرے تاثرات جو دیکھے تو مجھے ہنسی آگئی اور اسکے وہم و گمان میں بھی یہ سب نہ تھا۔ جاہلیت کی بھی حد ہوتی ہے


    بڑی بیٹی ساڑھے تین سال اور چھوٹی بیٹی ڈھائی سال دونوں نے ایک ساتھ پہلی حدیث یہ یاد کی عربی متن میں اور اردو ،انگلش ترجمہ کے ساتھ

    قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (
    لا تغضب ولك الجنه ) أو كما قال , رواه طبراني

    رسول الله صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا
    غصہ نہ کرو تو تمہارے لیے جنت ہے


    اس حدیث کے عربی متن سکھانے کے دوران ایک مزاحیہ واقعہ ہوگیا وہ یہ کہ میں یاد کروا رہا تھا "
    رواہ طبرانی " اور بڑی بیٹی جلدی میں بولی " رواہ بریانی " میری زوجہ کے تو ہنسی کے ساتھ آنسوں بھی نکل آئے اور اللہ کی طرف سے یہ ہوا کہ اسی دن ہم نے بریانی کھائی تھی جو کہ میرے دوست جو کہ عالم ہیں انکے گھر سے آئی تھی اب زوجہ بولی کہ مولانا کے سامنے اسکو حدیث سنانے کا نہ کہنا ورنہ گڑ بڑ ہوجائے گی

    ،
    اور اس حدیث کو اس انداز میں گھر کے اصولوں میں شامل کیا کہ بیوی اور بیٹیوں کو سکھایا کہ جب بھی ہم میں سے کوئی غصہ میں آئے تو یہ حدیث پڑھ دینی ہے اب یہ حال ہے کہ میں یا میری بیوی غصہ میں آئیں یا بات کرتے وقت آواز تیز ہوجائے تو فورا بیٹیاں یہ حدیث پڑھ دیتی ہیں اور غصہ جاتا رہتا ہے یا فورا چہرے کے تاثرات سختی سے نرمی میں تبدیل ہوجاتے " قول رسول صلى اللہ عليہ وسلم کی تعظیم کی بدولت "
     
    Last edited: ‏اپریل 15, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    و علیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ

    بہت خوب ۔ ہمارے گھر کے بھی یہی اصول ہیں ۔ ہم دونوں کو ہی نہیں پسند کے ہمارے آپس کے معاملات تیسرے فرد کے پاس جائیں۔ اسی طرح ہمارا 15 منٹ کا تو نہیں لیکن شروع کے 1-2 سال تک دن ختم ہونے سے پہلے ناراضگی ختم کر دینے کا اصول برقرار رہا ۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ اب 5 منٹ کے بعد بات یہ کہہ کر ختم ہو جاتی ہے کہ صلح تو کرنی ہے اور پورا دن ختم کر کے اور وقت ضائع کر کے جو کرنی ہے تو ابھی فورا کر لیتے ہیں۔

    زن مرید کا لقب میرے میاں کو بھی مل چکا ہے اور قریبا انہی باتوں پر ہی ملا ہے ۔

    اللہ تعالی آپ کے گھر میں مزید برکت دے ۔ آمین۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  3. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    السلام علیکم



    سمائل! ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا تھا ابوظہبئی میں، دوسرے نمبر پر بیٹی ہوئی تو ان دنوں رات کے وقت بلیاں بہت روتی تھیں جس پر کسی نے کہا کہ اس کے تکیہ کے نیچے چھڑی رکھیں جس پر میں بھی عربی خنجر خرید کر لایا اور اس کے تکیہ کے نیچے رکھ دیا، ایک دن اہلیہ اسے دودھ پلانے لگی تو کوئی حرکت نہ ہوئی جس پر اہلیہ نے لائٹ جلائی تو اس کے جسم پر نیلے رنگ کے دائرے جیسے نشان تھے اس نے چیخیں ماری اور سب اکٹھے ہو گئے والد محترم نے کہا ہسپتال لے لاؤ، 10 منٹ میں میں ہسپتال پہنچا اور لبنان نرس سے بیٹی اہلیہ سے لی اور امرجینسی وارڈ کی طرف شور ڈالتی ہوئی بھاگی، خیر اس کی اتنی ہی زندگی تھی ٹریٹمنٹس جاری رہا اور وہ انتقال فرما گئی، اب ہونا کیا تھا چھڑی کے حوالہ سے وہی بیان کرتا ہوں۔ پولیس انکوئری ٹیم والوں نے پہلے افسوس کیا اور انکوئری کے لئے کہا کہ ہمیں آپ کے گھر جا کر اس کا بسترہ دیکھنا ہے کہ موت کی وجہ کیا ہوئی باقی میڈیکل رپورٹ سے 3 دن بعد پتہ چلے گا، میرے لئے تو یہ بڑی مصیبت کھڑی ہو گئی کہ سب گھر والے ہسپتال میں ہی تھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اتنا بڑا چھڑا اس کے بیڈ کے تکیہ کے نیچے ہے اور پولیس ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتفاق سے چھوٹی بہن گھر میں تھی جس پر اسے فون کر کے چھڑی وہاں سے ہٹوائی اور پولیس کو گھر لائے۔۔۔۔۔۔ اف

    والسلام
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    بہت ہی عمدہ اور سبق آموز اصول آپ نے شیئر کئے۔ جزاک اللہ خیرا۔ بے شک میاں بیوی باہمی افہام و تفہیم، سمجھ بوجھ سے کام لیں تو بہت بڑی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں