سعادتوں کے عظیم مسافر " من الظلمات إلى النور ": شیخ جو براڈفورڈ

ابو حسن نے 'نو مسلم اور تائب شخصيات' میں ‏فروری 3, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    سعادتوں کے عظیم مسافر " من الظلمات إلى النور ": شیخ جو براڈفورڈ

    تحریر و اردو ترجمہ، از ابو حسن ،میاں سعید!

    سعادتوں کے عظیم سفر " من الظلمات إلى النور " میں شامل ہونے والے محترم شیخ " جو براڈ فورڈ " جوکہ امریکہ کے شہر ہوسٹن کے رہنے والے ہیں

    فرماتے ہیں کہ میں بچپن میں ہنسی مزاح کرنے والا بچہ تھا اور بہت زیادہ مذاق کرتا تھا ہم 2 بہن بھائی اور والدین تھے ،میری بہن مجھ سے 2 برس بڑی تھیں اور میرے والدین کی علیحدگی ہوگئی تھی جب میں 2 سے اڑھائی سال کا بچہ تھا

    ہمارا گھرانہ مسیحی مذہبی گھرانہ تھا اور ہم اکثر چرچ جاتے تھے اور چرچ سکول میں پڑھتا تھا، میں اتوار کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بھی جاتا بائبل سکول میں اور اسطرح مجھے بائبل کا مزید علم حاصل ہوا اور میں نے اپنے مذہب کے
    بارے میں سیکھا

    میرا اسلام میں داخل ہونے کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن میں اپنی بہن کے کمرے میں داخل ہوا اسکو تھوڑا تنگ کرنے کیلئے اوروہ اپنا سکول کا کام کررہی تھی چھوٹا ہونے کی وجہ سے میں اسے ستاتا رہتا تھا

    تو اس نے مجھے اپنا میگزین دیا اور یہ کوئی مذہبی رسالہ نہیں تھا یہ قوموں کی عادات و اطوار اور رہن سہن کے متعلق تھا اور وہ مجھے بولی اسکو پڑھو اور کچھ جانو ، تو میں لیکر اس کے کمرے سے نکلنے لگا تو وہ بولی نہ نہ تم اسکو لیکر نہیں جاسکتے یہ میرا رسالہ ہے اوریہیں پر رہنے دو

    تو میں اسکے پلنگ پر بیٹھ گیا اور اسکو پڑھنے لگ گیا ، اور یہ رسالہ لڑکیوں کے مختلف قصوں پر مبنی تھا

    اور ایک قصہ جس میں مختلف لڑکیوں کے اسلام لانے کے واقعات تھے جسکا عنوان تھا "میری زندگی میں جو دلچسپ چیز مجھے ملی"

    یہ کہانی ایک لڑکی کی تھی جو اسلام لانے کے بعد " ارکان اسلام " ایمان اور مسلمان کو کن چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے پر بات کر رہی تھی اور میں اس کہانی سے بہت متاثر ہوا ، حالانکہ جہاں میں رہتا تھا ہمارے قریب عرب لوگ بھی رہتے تھے لیکن کبھی کسی نے اسلام کے بارے میں بات نہیں کی تھی

    اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں اسلام کے بارے میں پڑھا اور اس میں مسیحیت کا ذکر بھی تھا اور میری دلچپسی مزید بڑھ گئی اور اسلام کی جن باتوں نے مجھے متاثر کیا وہ یہ کہ تم کہیں پر بھی رہ رہے ہو تو عبادت کرسکتے ہو اور اسکے لیے تم کچھ خاص نہیں کرنا پڑتا بحثیت مسلم

    اور اسی بات نے مجھے کھینچ لیا جو کہ سادگی کی زندگی کا درس تھا اور میں نے دیکھا کہ اس میں نہ تو " تین ایک میں " (تھری ان ون ) اور نہ ہی کوئی حسابی کلیہ تھا

    اور اسلام ایک نہایت ہی آسان دین ، اللہ ایک ہے اسکی عبادت کرو ، رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کو اپناؤ اور ایک اچھے انسان بنو

    یہ ایک بہت آسان کلیہ تھا میرے لیے ،تو میں گھر سے سائیکل پرنکلا اور لائبریری پہنچا اور اسلامی کتابیں ڈھونڈنا شروع کیں ،ایک سے دوسری اور دوسری سے تیسری لائبریری لیکن کچھ خاطر خواہ کتابیں نہ ملیں سوائے ارکان اسلام کے

    پھر ایک جگہ مجھے ایک کتاب ملی " اسلام ہی سیدھا راستہ ہے " اور یہ بہت مفید کتاب تھی اور اسکے مؤلف رحمہ اللہ کو مختلف ادیان پرعبور حاصل تھا اور وہ بھی امریکی تھے ،

    بحرحال میں مزید کتابیں ڈھونڈتا رہا اور یہ بات 1991 کی ہے جس دور میں انٹرنیٹ نہیں ہوتا تھا اور ایک سال میں کتابیں ڈھونڈتا رہا اور اس کے پیچھے وقت لگاتا رہا ،

    اس دور میں " ڈائریکٹری " ہوتی تھی اور میں نے اس میں سے اپنے شہر کے مذہبی مقامات کے فون نمبر اور پتے ڈھونڈنا شروع کیے اور جگہ لکھا تھا " اسلامی چرچ " اور اسکے نیچے پتہ لکھا تھا اور یہ مسجد میرے گھر سے دو گھنٹے کی مسافت پر تھی یعنی گاڑی پر دوگھنٹے لگتے پہنچنے میں (تقریبا 200 کلومیٹر) اور اس ایک سال کے عرصہ میں اسلام میرے دل میں سرایت کرگیا تھا


    عصر کے بعد میں نے فون کیا اور کسی نے دوسری طرف سے فون اٹھایا (عبداللہ فرضی نام ہے راقم کی طرف سے )

    عبداللہ : جی بولیے ؟

    شیخ جو : میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں

    عبداللہ : ٹھیک تم مسجد آجاؤ

    شیخ جو : میں کم عمر نوجوان ہوں اور میرے پاس گاڑی بھی نہیں ہے

    عبداللہ : تو پھرمیں کیا کرسکتا ہوں ؟ اور پھرفون بند

    شیخ جو : اور میں تقریبا ہرروز فون کرتا اور مجھے اسی سے ملتا جلتا جواب ملتا ،ایک دن میں نے فون کیا اور میں غصہ میں آگیا اور کہا کہ میں ہرروز فون کرتا ہوں اور تم لوگ میری کوئی مدد نہیں کررہے تم یہ بتاسکتے ہو کہ میرے گھر کے قریب کوئی مسجد ہے ؟ چونکہ میرا گھر ساحل کے قریب تھا

    عبداللہ : نہیں ، لیکن ایک " اسلامی مرکز " فلوریڈا میں ہے


    شیخ جو : ٹھیک ہے ،آپ مجھے پتہ اور فون نمبر دے دیں ،میں نے فون کیا تو " خودکار ٹیپ ریکارڈ " سے جواب ملا کہ صرف اتوار کے دن مرکز کھلتا ہے

    اور یہ مرکز ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر تھا اور میں اکیلا سائیکل پر بھی نہیں جاسکتا تھا کم عمری اور دوری کی وجہ سے ،اب میں نے اپنی بہن کو کہا کہ کیا تم مجھے فلاں مقام پر پہنچا دو گی ؟

    بہن : تم جانتے ہو کہ پٹرول خرچ ہوگا اور اس کیلئے رقم درکار ہوگی

    شیخ جو : اس کیلئے میں نے دو ہفتے کام کیا اور رقم جمع کی اور پھر بہن سے کہا تو اسنے اتوار کے دن صبح ساڑھے 7 بجے وہاں اتار دیا

    اب میں باہر بیٹھا انتظار کر رہا تھا اور 1 گھنٹہ پھر 2 گھنٹے گزرے کوئی بھی نہیں آیا اور مرکز کو تالا لگا ہوا تھا ،اتنے میں ایک عورت آئی اور اس نے دروازہ کھولا اس کے ساتھ اسکا بچہ بھی تھا ،عورت بولی

    عورت : کیا میں تمہاری کوئی مدد کرسکتی ہوں ؟

    شیخ جو : السلام علیکم


    عورت : وعلیکم السلام ، تم مسلمان ہو ؟

    شیخ جو : نہیں

    عورت : تو پھر تم نے سلام کیوں کیا ؟


    شیخ جو : میں اسلام سیکھ رہا ہوں اسی لیے سلام کیا ہے اور اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں


    عورت : اچھا ٹھیک ہے تم باہر انتظار کرو

    شیخ جو : میں باہر بیٹھا رہا اور لوگ آتے جاتے رہے ( باہر سے مراد مرکز کے باہر سڑک پر انتظار) 1 گھنٹہ سے زیادہ گزر گیا اتنے میں ایک قدآور خاتون باہر نکلیں ( وفات پاچکی ہیں، اللہ انکی مغفرت فرمائے) اور مجھے مخاطب کیا

    خاتون : اے لڑکے یہاں آؤ

    شیخ جو : میں قریب گیا

    خاتون : تم کون ہو اور یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟

    شیخ جو : میں اسلام قبول کرنے کیلئے آیا ہوں اور اسلام سیکھنا چاہتا ہوں

    خاتون : اندر جاتے ہوئے میری نظر تم پر پڑی تھی ، کب سے تم یہاں بیٹھے ہو ؟

    شیخ جو : میں صبح ساڑھے 7 بجے سے یہانپر انتظار کر رہا ہوں

    خاتون نے عورتوں کی طرف کا دروازہ کھولا اور بولی

    خاتون : اے عورتو ! " حسبی اللہ " یہ بچہ اگر واپس چلا جاتا تو تم سب جہنم میں جاتیں ،

    شیخ جو : پھر مجھے کہا بیٹا میرے ساتھ اندر آؤ ،اندر میں ائیر کنڈیشن چل رہا تھا ،مزید گھنٹے تک انتظار کیا اور پھر امام صاحب آئے ظہر کی نماز کے بعد مجھے بلایا گیا اور مجھ سے " شھادہ " کہلاوائی عربی اور انگلش میں،

    یہ ایک چھوٹی مسجد تھی اور 100 سے 150 لوگ نماز پڑھ سکتے تھے اور ایک منظر نے مجھے متوجہ کیا وہ منظر کچھ یوں تھا

    ایک بڑھیا آوازیں نکال رہی تھی " او او آں آں " اور اسکا ہاتھ ہل رہا تھا اور وہ ایک شخص ( ڈاکٹر ایمن) کے کندھے پر ہاتھ رکھے میری طرف آرہی تھی سہارا لیتے ہوئے اور رو بھی رہی تھی تو میں نے پوچھا


    شیخ جو : انکو کیا ہوا ہے ؟ میں گھبرایا ہوا تھا

    ڈاکٹر ایمن : ڈرو نہیں ! یہ میری والدہ ہیں اور انہوں نے اپنی 70 سالہ زندگی میں آج سے پہلے کسی کو اسلام قبول کرتے ہوئے نہیں دیکھا

    شیخ جو : تو یہ رو کیوں رہی ہیں ؟

    ڈاکٹر ایمن : یہ خوشی سے رو رہی ہیں

    شیخ جو : میں چونکا ! اور کہا کہ تمہارے ہاں خوشی الگ ہے اور ہمارے ہاں الگ ( پہلی مرتبہ کسی کو خوشی سے روتے ہوئے دیکھا اور یہ میرے لیے تعجب سے کم نہ تھا )

    اور پھر میں اسلام کے متعلق مزید سیکھتا رہا اور کبھی دل میں خیال پیدا ہوتا کہ میں صحیح راستہ پر ہوں ؟ اور سوچا کہ ابھی پڑھائی طرف توجہ دیتا ہوں اور 12 پاس کرنے کے بعد مزید مطالعہ کروںگا اور ایک دن " سورۃ الانبیا " پڑھ رہا تھا تو جب ان آیات پر پہنچا

    " وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (105) إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ (106) وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (107) "

    ( 105 ) اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے

    ( 106 ) عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

    ( 107 ) اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے



    تو انکا رعب اور دبدبہ ایسا مجھ پر چھایا کہ بیان کرنے سے قاصر ہوں اور مجھے اس وقت اتنا شعور بھی نہیں تھا حتی کہ ابھی تک میں نے ان آیات سے بہت اثر لیا اور یہ آیات " أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ " زبور میں آج بھی موجود ہیں

    اور مجھے تقویت ملی کہ میں غلط کی بجائے صحیح راستہ پر ہوں اور " پوز نہیں بلکہ پلے " کرنا ہے ، اسلام لانے سے پہلے میری کوئی امیدیں نہیں تھی لیکن اسلام لانے کے بعد بہت سے امیدیں میری زندگی سے وابستہ ہوگئیں ہیں

    میں نے " جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ " سے تعلیم کیسے حاصل کی ؟


    جب میں مسلمان ہوگیا اور مسجد آتا جاتا رہتا تھا 2 برس کا عرصہ غالبا گزر گیا تو ایک عمر رسیدہ شخص نے مجھے کہا کہ کہ بیٹا تمہیں اب ہجرت کرنی ہوگی

    شیخ جو : میں نے حیرانی سے پوچھا کہ مجھے کیوں اور کس لیے ہجرت کرنی ہوگی ؟

    بڑے میاں : اسلامی علوم اور دینی تعلیمات حاصل کرنے اور یہ سب کرکے امریکہ میں واپس آکر لوگوں کو بتانے اور سکھانے کیلئے ،اور یہ اب تمہاری سب سے اہم مہم جوئی ہے

    شیخ جو : یہ پہلا شخص تھا جس نے مجھے یہ بات کہی اور پھر 95 میں مجھے حج پر لے کر گئے اور " شیخ بن باز رحمہ اللہ " سے ملاقات کروائی اور انہيں میرے بارے میں کہا ،

    شیخ نے اسی وقت خط لکھواکر " جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ " بھیج دیا اور ہم حج سے واپس آگئے کچھ عرصہ کے بعد ایک وفد " جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ " سے امریکہ آیا جنہوں نے آکر میرا امتحان لیا اور الحمدللہ مجھے قبول کرلیا گیا


    اور اسطرح میرا " جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ " میں علم حاصل کرنے کا سبب بنا اور واپس آکر میں نے دعوت و تبلیغ کو جاری و ساری رکھا اور ساتھ میں یہاں جامع ہوسٹن میں "علوم شرعیہ " پڑھاتا ہوں ،الحمدللہ

    قارئین کرام ! آپکو اس میں کئی مقامات پر اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے عجیب رویے محسوس ہوئے ہونگے اور آپ اندازہ لگائیں کہ ایک نوعمر اتنی بڑی طلب لیے پھر رہا ہے اور ہمیں اسکی کوئی قدر ہی نہیں اور نہ ہی ہمیں کوئی پرواہ ہے وہ دین حق کو پانے کیلئے مارا مارا پھر رہا ہے اور اسکی حالت شدید پیاسے کی سی تھی لیکن ہمیں اس سے کیا ؟ وہ اس مقام تک پنچنے کیلئے 2 ہفتہ تک مزدوری کر رہا ہے اور پھر وہاں پہنچ کر بھی ایک طویل انتظار وہ بھی گرمی میں مرکز کے باہر سڑک پر؟ اللہ اکبر

    پھرخاتون کا یہ کہنا اے عورتو ! " حسبی اللہ " یہ بچہ اگر واپس چلا جاتا تو تم سب جہنم میں جاتیں ، تو یہ اپنی طرف سے تنبیہ میں ایسے الفاظ کہہ گئیں " حالانکہ نصوص میں ایسا کچھ بھی نہیں"
    لیکن انہوں نے جس انداز میں اکرام کیا وہ قابل رشک ہے

    کیوں ہم نے رحمت اللعالمین ﷺ کی سیرت کو پس پشت ڈال دیا ؟ کیوں ہم نے آپ ﷺ کے اخلاق کو بھلا دیا ؟ کیوں ہم آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنانے کی کوشش نہيں کرتے (الا ماشاءاللہ)

    کل ہم نے اپنے رب کے سامنے اسکا جواب دہ ہونا ہے

    اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كى حالت درست كرے اور ہم سب كو صحيح راہ كى توفيق نصيب فرمائے، يقينا اللہ تعالى سننے والا اور قبول كرنے والا اور قريب ہے، اللہ تعالی ہمیں اس دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جس دین کو لیکر سیدالاولین و الاخرین ﷺ آئے اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو گزارا اور جنت کی بشارتیں پاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے اللہ تعالی ہمیں بھی ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    ما شاء اللہ بہت عمدہ اور ایمان افروز واقعہ تحریر کیا، بارک اللہ فیک۔

    ویسے میں پہلے عنوان کو دیکھ کر کنفیوژ ہوا کہ شاید نا مکمل ہے۔ شیخ جو ۔ ۔ ۔ ۔ پڑھنے پر پتہ چلا کہ ان کا نام شیخ جوبراڈ فورڈ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    118
    ماشاء الله.

    شیخ کا نام انگریزی تلفظ میں لکھ دیں.
    تاکہ ہمیں آسانی رہے.

    شکریہ.

    والسلام علیکم
     
  4. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    Joe Bradford
     
  5. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412

    اللہ یبارک، میں عنوان میں پورا نام ہی لکھ رہا تھا لیکن الفاظ پورے نہیں ہو پارہے تھے تو میں نے صرف اتنا نام ہی لکھ دیا اور اس بات پر بھی میں نے غور کیا کہ قاری کو ظاہری طور پر نامکمل عنوان لگے گا اور پھر ترمیم کرنے کیلئے دیکھا تو معلوم ہوا کہ عنوان کی ترمیم کی کوئی آپشن ہی نہيں تو ایسے ہی رہنے دیا اور پھر آپ نے مشورہ سے ترمیم کردی ، جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    اللہ ثابت قدم رکھے.طویل انتظار تو کرنا تھا.ان کو اللہ خود لایا تھا.اور وہ علیم خبیر ہے کہ موصوف صابر شاکر ہیں. اس لئے غیر اخلاقی رویہ برداشت کیا. کوئی داعی لے آتا تو شاید جلدی ہی واپس کی راہ پکڑتے. اس یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان خود تغیر کا فیصلہ کر لے تو اللہ کی مدد، توفیق، رہنمائی قدم قدم پر نظر آنے لگتی ہے.
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
  8. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412

    اس رب العزت کے احسان و کرم پر قربان جاؤں جس نے انہیں صرف اسلام کی دولت سے نہیں نوازا بلکہ " الانبیاء علیھم السلام کے ورثا " جیسی دولت سے مالا مال کیا اور پھر درس و تدریس کے منسب پر فائز کیا ،اللہ اکبر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    فہد الکندری کو دیا گیا انٹرویو ۔ تقریبا وہی باتیں ہیں ۔ جو اس تھریٰٰٰڈ میں ترجمہ ہوئی ۔
    اتنی اچھی عربی ہم نے آج تک کسی نومسلم یا غیرعرب سے بھی نہیں سنی ۔ کافی محنت کی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  10. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    میں نے اسی کے ترجمہ کی کوشش کرکے تحریر پیش کی تھی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    ماشاء اللہ. صاحب تحریر کے نام کے ساتھ "ترجمہ" کا بھی اضافہ کردیا ہے. تاکہ محنت ضائع نا ہو.
     
    • متفق متفق x 1
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    آمین. یہ شخص پہلی نظر میں کافی معقول، بھلے انسان لگے تھے . شاید کبھی کوئی ملاقات کی سبیل نکل آئے. اللہ سے امید یہی ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    ان شاء اللہ ، میرا جانا ہوا تو حتی الامکان کوشش ہوگی ان سے ملنے کی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  14. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    یہانپر ایک " اے کے شیخ " کے نام سے سابقہ قادیانی ہیں اور وہ تحفظ ختم نبوت پر کافی محنت کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ قادیانیوں کو دین حق کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور چونکہ وہ ان میں رہے ہیں اس لیے اندر کی سب باتیں جانتے ہیں ،اب ہمارے کچھ بے وقوف انکو قادیانیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں ، میں " اے کے شیخ " سے مل تو نہ سکا لیکن فون پر اچھی خاصی بات ہوئی

    اب ایسے جہلا کو کیا کہیں جو خود تو دین جانتے نہیں لیکن جو کوئی اسکی خدمت کررہا ہے اس پر الزام تراشیاں ، اللہ سمجھ عطا فرمائے
     
    Last edited: ‏فروری 8, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    118
    ماشاء الله.

    فجزاكم الله احسن الجزاء.

    تحریر میں شیخ الأزھر رحمہ اللہ کے حوالہ شائد بھولے سے رہ گئی تھیں.
    لیکن ویڈیو میں ان کے کسی تحریر کے بارے میں بتایا گیا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں