مملکت خدادا د پاکستان میں حج کے امیدواروں کےارمانوں کے ساتھ کھلواڑ

طالب علم نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏فروری 3, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    السلام علیکم،
    محترم قارئین، یہ پوسٹ سراسرمیرے ذاتی جذبات پر مبنی ہے جو کہ بہر حال غلط بھی ہو سکتے ہیں،
    ۔
    اپنی بات کا آغاز کرنے سے پہلے کچھ حقائق آپ کے مدنظر رکھنا چاہوں گا

    سعودی حکومت ملکی آبادی کا 1 فی صد حج کوٹہ الاٹ کرتی ہے، جو کہ ابھی تک 179،210 ہے۔
    جنرل پرویز مشرف کے دور سے پہلے 100 فی صد کوٹہ وزارت مذہبی امور یعنی سرکاری ہوتا تھا اور عازمین حج کا فیصلہ بذریعہ قرعہ اندازی ہوتا تھا،
    ناکام ہونے والوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ آپ پیسے مت نکلوائیں اگلے سال آپ کو بغیر قرعہ اندازی بھجوایا جائے گا یا گذشتہ اتنے سالوں میں ناکام ہونے والے کو بغیر قرعہ اندازی کے حج بھجوایا جائے گا۔
    جنرل پرویز کے دور میں حج کو بھی پرائیویٹائز کیا گیا اور 50 فی صد کوٹہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کو دے دیا گیا۔
    ہماری آبادی اب قریبا 22 کروڑ ہو چکی ہے لیکن ہمارا حج کوٹہ کئی سال سے ایک لاکھ اناسی ہزار ہی ہے۔
    27دسمبر 2017 کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے حج 2018 (1439ہجری) کے لیے حج پالیسی کا اعلان کیا ، اس میں کئی نئی شرائط عائد کی گئی تھیں، لیکن قابل ذکر یہ ہے کہ ایک بار سرکاری حج سکیم کے ذریعےحج کرنے والا دوبارہ سرکاری سکیم کے ذریعے اپلائی نہیں کرسکتا اور سرکاری عازمین حج کا کوٹہ 67 فیصد کر دیا گیا۔ جبکہ پچھلے سال یہ ساٹھ فیصد تھا، پرائیویٹ حج والوں کے مقابلے میں۔

    سرکاری اسکیم کے ذریعے درخواستیں وزارت مذہبی امور کے منظور شدہ بینکوں کی برانچوں میں 15 سے 24 جنوری تک جمع کی گئی تھیں۔ قریبا 3لاکھ 74 ہزار افراد نے سرکاری سکیم کے ذریعے 10 دن میں اپلائی کیا۔
    سرکاری حج سکیم قربانی کے ساتھ دو لاکھ 93 ہزار یا 2لاکھ 83 ہزار ہے، شہروں کی مناسبت سے ہے، قربانی کے بغیر 13 ہزار کم فیس ہے
    یہ بات واضح رہے کہ 'کامیاب' عازمین حج کا جو پیسہ بنکوںمیں ہوتا ہے،اس پر باقاعدہ معاہدے کے تحت 'نفع' بنکوں اور وزارت کے درمیان شئیر کیا جاتا ہے۔
    واضح رہے کہ سرکاری کوٹہ قریبا 1 لاکھ 20 ہزار کے قریب ہے، جبکہ قرعہ اندازی میں ہارڈشپ کوٹہ وغیرہ کو شامل نہیں کیا جاتا ۔
    وزارت حج نے سرکاری اسکیم والے حاجیوں کی قرعہ اندازی کی تاریخ 26 جنوری مقرر کی تھی۔
    لیکن لاہور ہائیکورٹ، سندھ ہائیکورٹ کراچی و سکھر بینچز میں پے در پے درخواستیں آئیں، سکھر بینچ نے قرعہ اندازی سے روک دیا، جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کی بنا پر ہائیکورٹ (س) نے 50 فی صد تک سرکاری کوٹہ محدود کردیا اور دوسری نے 60 فیصد تک کوٹہ محدود کردیا
    اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بینکوں کے پاس ایک کھرب پاکستانی روپے سے زائد جمع ہے، قرعہ اندازی ملتوی ہو چکی ہے، 26 جنوری سے اب تک آٹھ روز گذر چکے ہیں،

    واضح رہے کہ جب کبھی قرعہ اندازی ہو گی تو قریبا 2لاکھ 60 ہزار حاجی ناکام قرار پائیں گے،
    ان ناکام حاجیوں کا پیسہ(سود) کس کی جیب میں جائے گا؟ خود ہی حساب لگا کر دیکھ لیں کے کتنے کروڑ روپے ملائے جائیں تو ایک کھرب بنتا ہے۔۔۔۔

    پرائیویٹ حج والے 425000 سے لے کر 1،800،000تک حج کا خرچہ لیتے ہیں اور ایک ٹور آپریٹر کے بقول کم از کم ایک لاکھ نف کماتے ہیں وہ فی حاجی کے حساب سے، اسی لیے پرائیویٹ حج والوں کو تکلیف ہوتی ہےکوٹہ کم ہونے پر اور وہ کورٹ میں چلے جاتے ہیں۔ 6 لاکھ سے اوپر والےپرائیویٹ حج کو ہی کسی قدر سرکاری حج سے بہتر کہا جا سکتا ہے ورنہ سرکاری سکیم میں کہیں زیادہ سہولتیں ہوتی ہیں تین لاکھ سےکم ر وپوں میں

    تو قارئین آپ جان گئے ہوں گے کہ اسلام کے بنیادی رکن 'حج' کو اس مملکت خداداد میں نفع کمانے کا ایک ذریعہ بنا لیا گیا ہے، عازمین حج کی آرزو اور تمناوں کی کسی کو پرواہ نہیں۔ خیر اللہ تو دیکھ رہا ہے،

    بابا رحمتے یا شوخا میڈیااس معاملے کو اٹھائے گا کیا ؟
     
    Last edited: ‏فروری 3, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    بہت اچھا تجزیہ ہے۔ مگر روپے کی گردش سے نفع تو ہونا ہی ہوتا ہے۔ بنکوں کو، ائر لائنز کو، ہوٹلز کو ، ٹرانسپورٹرز کو وغیرہ وغیرہ۔
    بس اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ منافع خوری حد سے نا بڑھنے پائے تاکہ حاجی پر بوجھ نا پڑے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

    جیسا کہ سعودی حکومت پاکستانی حجاج کے کوٹے میں اضافے پر رضامند نہیں ہوسکی۔ جس کی وجہ سے نظر ثانی کی امید پر قرعہ اندازی ملتوی کی گئی ہے۔ اچھے کی امید رکھتے ہیں جیسا کہ درج ذیل خوش آئند اقدامات ہیں:
    ایک بار سرکاری حج سکیم کے ذریعےحج کرنے والا دوبارہ سرکاری سکیم کے ذریعے اپلائی نہیں کرسکتا اور سرکاری عازمین حج کا کوٹہ 67 فیصد کر دیا گیا۔
    باقی حج کی فرضیت تو ایک بار ہی ہے اور وہ بھی صاحب استطاعت پر، تو پرائیویٹ سکیم کو بھی یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
     
    • مفید مفید x 1
  4. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    • متفق متفق x 1
  5. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    جن حاجیوں کے پیسے بینکوں میں جمع ہیں ۔۔۔۔۔"وہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے" کے مصداق پرائیویٹ حج کے لیے بھی اپلائی نہیں کر سکتے جبکہ پرائیویٹ والے officially quota الاٹ نہ ہونے کے باوجود بکنگ کیے جا رہے ہیں، سرکاری اسکیم میں اپلائی کرنے والے حاجیوں کی غالب اکثریت اس معاملے میں منسٹری کی ملی بھگت مان رہی ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
  6. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    غالبا یہ کوئی سیاسی نوعیت کا کیس نہیں ہے ، اس لیے حکومت وقت، عدالت و میڈیا کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔۔۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  7. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    https://www.dawnnews.tv/news/1074011
    حج کی معیشت اور بندر بانٹ کے مسائل
    ------------
    -------------------------
    --------------------------------
    آخر حج کوٹے پر اتنا جھگڑا کیوں ہے؟
    سعودی حکومت نے حرم کے اطراف بلند و بالا اور مہنگی عمارتیں کھڑی کردی ہیں۔ ان عمارتوں میں لگژری ہوٹلز بھی بنائے گئے ہیں اور شاپنگ سینٹرز بھی، مکہ کلاک ٹاور اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ اس کے علاوہ حرم کے قریبی علاقے میں موجود تمام قدیمی عمارتوں کو گرا کر جدید ہوٹلز قائم کردیے گئے ہیں، ایک ایک مغربی ہوٹل کی کئی کئی شاخیں کھل گئی ہیں۔

    اس مہنگے انفرااسٹرکچر میں لوگوں کو لانے کے لیے سعودی حکومت نے سرکاری اسکیم کے علاوہ ہر حکومت پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ نجی شعبے کو بھی حجاج لانے میں سہولت دے۔ پاکستانی حج ٹؤر آپریٹرز نے سعودی عرب میں معلم کمپنیوں سے معاہدے کرلیے ہیں۔ واقفان حال کہتے ہیں جحاج کو پاکستان سے سعودی عرب میں معلم کے حوالے کرنے پر ہر حاجی کو 80 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے اور سیون اسٹار حج میں 2 لاکھ روپے تک کی بچت ہورہی ہے، اسی لیے حاجی کوٹہ حاصل کرنے کے لیے ایک ایک دفتر میں کئی کئی ٹؤر کمپنیاں مختلف ناموں کے ساتھ کام کررہی ہیں، ان میں سے اکثر کا تو پیڈ اپ کیپٹل بھی صفر ہے یا بہت ہی کم ہے۔ اس سال وزارتِ مذہبی امور نے ایک آڈٹ کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں مگر وہ بھی اسی رنگ میں رنگ گئی ہے۔
     
    Last edited: ‏فروری 27, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  8. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    [​IMG]
    عوامی عدالت کے عوامی فیصلے ۔۔۔۔۔ کیا سستا حج عوام کے فائدے میں نہیں ہے یا پرائیویٹ حج آپریٹر عدالت پر بھی بھاری ہیں؟؟؟
    [​IMG]
     
  9. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
  10. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    وزارت حج ومذہبی امورکی طرف سے 17 فیصد عازمین حج کے لیے دوسری قرعہ اندازی کروائے جانے کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں عازمین کی درخواستیں اوررقوم بینکوں میں پڑی ہیں جبکہ عازمین شدت سے فیصلے کے منتظرہیں۔

    وزارت حج ومذہبی امورنے حج 2018 کے لیے 50 فیصد درخواستوں میں سے 89 ہزار 6 سو پانچ خوش نصیبوں کے ناموں کی قرعہ اندازی مارچ میں کی تھی، وزارت حج ومذہبی امورکے ترجمان کے مطابق عدالت سے اجازت موصول ہونے کے بعد حج 2018 کے لیے موصول ہونے والی 3 لاکھ 74 ہزار 857 درخواستوں کی قرعہ اندازی کی گئی تھی، منظور شدہ حج پالیسی 2018 کے تحت کُل سرکاری حج اسکیم کا کوٹہ 1 لاکھ 19 ہزار 4سو 73 ہے جس میں سے 89 ہزار 6 سو 5 کی قرعہ اندازی کی جاچکی ہے، حج 2018 سرکاری اسکیم کے تحت 80 سال سے زائد 10 ہزار درخواست گزاروں (بمعہ ایک معاون) بغیر قرعہ اندازی کے کامیاب قرار دیا جاچکا ہے، اسی طرح وہ افراد جو گزشتہ تین یا چار سالوں سے مسلسل ناکام ہو ئے ان کے لیے بھی 10 ہزار کا خصوصی کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق قرعہ اندازی میں جن درخواست گزاروں کے نام نہیں آئے انہیں عدالتی فیصلے سے مشروط کوٹے کے تحت دوبارہ کامیاب ہونے کا موقع فراہم کیا جائے گا علاوہ ازیں عدالتی فیصلے کی روشنی میں اگر مزید 10 ہزار نشتیں بڑھائی گئیں تو اُن درخواست گزاروں کے نام بھی خوش نصیبوں میں شامل ہوں گے جنہوں نے بینکوں سے رقم نہیں نکلوائی ہوگی،قرعہ اندازی میں 3 لاکھ 74 ہزار 857 درخواستیں شامل تھیں جن میں سے 89 ہزار 605 خوش نصیبوں کے ناموں کو منتخب کیا گیا۔ حج کے لئے ایسے عازمین جن کے نام پہلی قرعہ اندازی میں نہیں آئے وہ اب اس بات کے منتظرہیں کہ اعلان کب کیاجاتا ہے۔

    وزارت حج کے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے وزیراعظم کو سمری بھیجی جاچکی ہے تاہم ان کی مصروفیات کی وجہ سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے، وزارت حج ومذہبی امورکا موقف ہے کہ مزید 17 فیصد عازمین کوسرکاری اسکیم کے تحت حج کے لئے بھیجا جائیگا تاہم یہ اقدام عدالتی فیصلے سے مشروط ہے۔

    واضح رہے کہ ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق رواں سال پاکستان سے کل ایک لاکھ اناسی ہزار دو سو دس (179,210)عازمین فریضہ حج ادا کریں گے، جن میں سے ایک لاکھ بیس ہزار عازمین سرکاری اسکیم کے تحت جبکہ انسٹھ ہزار دو سو دس ( 59,210) افراد نجی حج اسکیم کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے۔
    ۔
    بحوالہ ایکسپریس اخبار
     
  11. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    اللہ آسانی فرمائے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں