ایران: غریب عوام کے پیسوں سے مزار کی تزئین پر9 ملین ڈالر خرچ

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏فروری 8, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    [​IMG]
    ایران میں کرپشن، بدعنوانی، دھوکہ دہی اور عوامی املاک کی لوٹ مار کی خبروں کی جلومیں ایک حیران کن خبر سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک ’بزرگ‘ شخصیت کے مزار کی تزئین و آرائش پر 30 ارب ایرانی تومان پھونکے گئے ہیں۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 9 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں اس پرلگژری ’مزار‘ سے متعلق خبر پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران میں ’وَنک‘ کے مقام پر واقع مزار میں بھاپ کمرہ[بھاپ غسل خانہ]، سوئمنگ پول اور ایک لگژری حمام بھی تیار کیا گیا ہے جس کی تیاری پر نو ملین ڈالر کی رقم خرچ کی گئی ہے۔

    ایرانی اصلاح پسند صدر حسن روحانی کے ایک قریبی رکن پارلیمنٹ قاسم میرزائی کا اس مزار سے متعلق بیان ’خبر آن لائن‘ ویب سائیٹ نے نقل کیا ہے۔ اس بیان میں ان کا کہنا ہے کہ اعلانیہ بجٹ سے ماورا دینی اداروں کے ذریعے مساجد، مذہبی مراکز، مزارات اور دیگر مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر رقم خرچ کرنا ایک سربستہ راز ہے۔ یہ رقوم کہاں سے آتی ہیں اور انہیں کس کے کہنے پرمزاروں کی تزئین و آرائش پر خرچ کیا جاتا ہے جب کہ ایران میں بسنے والے لاکھوں زندہ لوگوں کو دو وقت کا کھانا بھی مسیر نہیں۔ قاسم میرزائی نے اپنے بیان میں تہران کے موجودہ میئر محمد علی نجفی کی تیار کردہ رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس رپورٹ میں بلدیہ کی جانب سے ماضی میں خرچ کردہ بجٹ کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

    رپورٹ میں محمد علی نجفی نے تہران میں مذہبی تقریبات، امام بارگاہوں اور دیگر ثفاتی اور مذہبی اداروں اور ان میں ہونے والی تقریبات کے بجٹ پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
    اصلاح پسند رکن پارلیمنٹ قاسم میرزائی نےدارالحکومت تہران میں علی نجفی کے دور سے قبل تیار ہونے والے ایک مزار کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سابق میئر باقر قالیباف کے دور حکومت میں تہران میں ونک کے مقام پر ایک مزار کی تزئین وآرائش پر نو ملین امریکی ڈالر کے برابر رقم کرچ کی گئی۔

    اس منفرد مزار کے حجرے میں بھاپ غسل خانہ، سوئمنگ پول اور جدید سہولیات سے آراستہ ایک کھلا حمام بھی تیارکیا گیا ہے۔
    یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں مہنگائی، معاشی عدم مساوات اور بے روزگاری کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔ دوسری طرف حکومتی اداروں کی شہ خرچیوں کا عالم یہ ہے کہ وہ گم نام شخصیات کے مزاروں پر بوریاں بھر پر پیسے خرچ کر رہے ہیں۔
    خیال رہے کہ تہران کے سابق میئر محمد باقر قالی باف سخت گیر سابق فوجی جنرل ہیں۔ انہیں تین بار صدارتی انتخابات کے لیے بھی امیدوار نامزد کیا گیا مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ ان کا آخری بار مقابلہ حسن روحانی کے ساتھ تھا جس میں انہوں نے 2017ء کے انتخابات میں شکست دے دی تھی۔

    قاسم میرزائی نے تہران میں مزار پر خرچ کی گئی خطیر رقم سے متعلق سوال ایرانی پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے دوران اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں عوام کو دو وقت کا کھانا میسر نہ کیا وہاں پر مزارات کی تزئین کے لیے اتنی بھاری رقم کیسے خرچ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مزار پر خرچ کی گئی رقم کی انتظامی اور عدالتی سطح پر ضرورت تحقیقات کی جائیں گی۔
    تاہم میرزائی نےسوئمنگ پول، بھاپ غسل خانےاور حمام والے اس لگژری مزار کی نشاندہی نہں کی اور صرف اتنا بتایا ہے کہ وہ مزار ’ونک‘ کے مقام پر واقع ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے حوالے سے اس مزارکی نشاندہی کی کوشش کی ہے۔ فارسی ویب سائیٹس کے مطابق ’وَنک‘ کے مقام پر صرف ایک ہی مزار موجود ہے۔ یہ مزار امام سجاد علی بن الحسین کے ایک پوتے ابو القاسم علی بن محمد المعروف ’قاضی صابر‘کا بتایا جاتا ہے۔ قاضی صابر 897 سال قبل اسی شہرمیں پیدا ہوئے اور اسی میں مدفون ہوئے مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ سلسلہ حسینی، قرشی الھاشمی شمالی تہران کیسے پہنچا۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/middle...پیسوں-سے-مزار-کی-تزئین-پر9-ملین-ڈالر-خرچ.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    ہہہہہ بہت خوب، زندوں کو تو روٹی تک میسر نہ ہو اور مردوں کے لئے سٹیم باتھ اور لگژریی سوئمنگ پول، کیا کہنے، ویسے یہ ہتھکنڈے ہمارے ہاں بھی عام ہیں، مزاروں کی اندھی کمائی اور ٹیکسز وغیرہ سے بچنے کے لئے وہیں پر اپنی عیاشی کے لئے کمپلیکسز بنانا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں