علماء کے ذوقِ نحو کی نذر

ساجد تاج نے 'منقبت و خراج تحسین' میں ‏فروری 28, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,750
    علماء کے ذوقِ نحو کی نذر

    نحوی غزل

    سُن میری نَحو میں کچھ
    تُجھ سے یہ گُفتگو ہے
    ڈُوبا ہُوں بحرِ غم میں
    جِس کا کِنارہ تُو ہے

    تیرا سِتَم ہے مصدر
    ہر زخم تجھ سے مُشتَق
    چَھلنی ہُوا ہے سینہ
    جامِد مگر لَہُو ہے

    ہے زُلف تیری سالِم
    یہ دِل مِرا مُکسَّر
    کر جمع دونوں کو تُو
    مُحتاجیِ رَفُو ہے

    تُو معرِفہ سراپا
    پہچان میری نکرہ
    لُوں نام گَر میں اپنا
    کہتا کہ کون تُو ہے

    ہر دن نیا تعلّق
    مُعرَب ہو جیسے کوئی
    رنجِش ہے مجھ سے مَبنی
    ایسا تُو تُند خُو ہے

    رکھتا ہوں میں ہمیشہ
    سر زیر تیرے آگے
    تیرا مُضاف اِلَیہ میں
    میرا مُضاف تُو ہے

    ہوں کیوں نہ پھر برابر
    اعراب دونوں ہی کے
    موصُوف تیرا پیکر
    اور صِفت تیری خُو ہے

    تُو جُملہ اِسمِیہ ہے
    تیری خبر مُقدَّم
    تُو مُبتدا خبر کا
    آغازِ گفتگُو ہے

    میں ظرفِ مُستَقَر ہوں
    تُو فِعلِ حَذف میرا
    تیرے بَجُز نہیں کچھ
    تیری ہی جُستجُو ہے

    کیا غیرِ مُنصرف ہوں
    جو یوں تُو مِثلِ تنوین
    رہتا ہے دُور مجھ سے
    جیسے مِرا عَدُو ہے

    ہر ہر خبر تِری میں
    اِنشائیہ سمجھ کر
    یوں پی گیا ہوں جیسے
    چَھکتا ہُوا سَبُو ہے

    بدلے سُوال لاکھوں
    پر ہر جواب اُلٹا
    لائے نفی کے جیسے
    ہر وقت دُو بَدُو ہے

    دیوانہ ہوں اگرچہ
    پر تیرے حُسن ہی کے باعِث
    مذکور فعل میں ہوں
    مفعول تُو لَہُ ہے

    معطوف میری گردن
    متبوع تیرا خنجر
    یُوں خُود بَخُود پلٹتا
    تلوار پر گُلُو ہے

    اِسمِ مُبالَغہ ہے
    یا اِسم تیرا تفضیل
    ہاں دونوں ہی بجا ہیں
    اس میں کہاں غُلُو ہے

    حُسن و جمال تیرا
    صفتِ مُشبّہ ٹھہرا
    سب دائمی غضب کا
    انداز رنگ و بُو ہے

    سُنتا نہیں مِری اِک
    کرتا ہوں سو نِدائیں
    کیسا ہے تُو مُنادٰی
    کیسا تُو چارہ جُو ہے

    کہنے کو تُو ہے مَرجع
    لیتا نہیں خبر بھی
    میرا ضمیر کرتا
    کتنی ہی ہاؤ ہُو ہے

    سترہ حروفِ جارہ
    ستّر ادائیں تیری
    کرتی ہیں زیر دونوں
    جاتا جو پیش رُو ہے

    تیرا وُجود مَصدَر
    ہر باب تجھ سے قائِم
    تیرے بغیر میرا
    ہر فِعل فالتو ہے

    حافِظؔ جو ہوتا نحوی
    ترکیبِ زِیست کرتا
    زیر و زبر بدلتا
    بس یہ ہی آرزو ہے

    بشکریہ عبدالقہار محسن بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,394
    شکر ہے ہم بچ گئے، علماء کو ہی مخاطب رکھیے اتنی مشکل غزل میں، ویسے یہ حافظ کون ہیں؟ اور عبدالقہار محسن بھائی تو جانے پہچانے لگتے ہیں ;) انہیں بھی کھینچ لائیے ، ہماری تو یہی درخواست ہے ان سے:


    ایجاب گر کرو تم
    مجلس پہ آ رہو تم
    تیرے حرف انبساط
    کی شدت سے آرزو ہے
     
    • متفق متفق x 1
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,750
    عبدالقہار محسن بھائی یقینا جانے پہچانے بھائی ہیں اردو مجلس کے.
    چند دن پہلے ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا.
    اللہ تعالی ان کی والدہ کی مغفرت کرے آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,394
    Last edited: ‏فروری 28, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    593
    ماشاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں