صبر کا پھل میٹھا کیوں نہیں ؟

صدف شاہد نے 'مجلس اطفال' میں ‏مئی 4, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    صبر کا پھل میٹھا کیوں نہیں ؟

    میں نے کہیں پڑھا تھا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔ایک دن مجھے بہت بھوک لگ رہی تھی اور امی نے کریلے کا سالن پکایا تھا ۔ میں نے بہت صبر کرنے کے بعد کریلے کھائے ، تب بھی کریلے کڑوے ہی نکلے ۔ایک دن ابو آم لائے امی نے ٹھنڈا کرنے کے لیے آموں کو کاٹ کر فریج میں رکھ دیا۔ میں کافی دیر صبر کرکے آم کھانے گیا تو دیکھا آم فریج کے بجائے باورچی خانے میں تھے ۔ پلیٹ میں صرف چھلکے اور گٹھلیاں پڑی تھیں ۔ میں نے چھلکے چبائے تو وہ کڑوے نکلے ۔ میں نے سوچا کہ شاید گٹھلیاں ہی میٹھی ہوں گی مگر اس میں بھی کچھ میٹھا نہ نکلا پھر میں نے بہت سوچا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے تو دماغ نے کہا کہ صبر کا پھل نہیں بلکہ محنت کے بعد صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔ باجی کا کہنا تھا کہ کریلے کا جوس پینے سے خون صاف ہوتا ہے چناں چہ میں نے بڑی محنت سے جوسر مشین سے کریلے کا جوس نکالا اور آدھا گھنٹا صبر بھی کیا مگر وہ کڑوا ہی نکلا ۔ نہ صبر کا پھل میٹھا نکلا اور نہ ہی محنت کا ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟

    عدنان یوسف
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  2. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,849
    السلام علیکم

    خشک سالی کے دوران درخت پودے سوکھ گئے، بھیڑ بکریاں مرنے لگیں لوگ فاقوں پر مجبور ہو گئے، اس وقت کے حاکم نے دربار میں اعلان کروایا کہ کل دربار میں روٹی تقسیم کی جائے گی، دوسرے دن وہ لوگ دربار میں جمع ہو گئے جو بھوک سے نڈھال تھے اور بے چینی سے روٹی کا انتظار کرنے لگے، جونہی روٹیاں بانٹنے لگیں لوگوں کا رش لگ گیا دھکم پیل شروع ہو گئی، بادشاہ باہر کا جائزہ لینے آیا تو لوگ روٹیاں لے جا چکے تھے، اتنے میں ایک لڑکی آئی جو کافی دیر سے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کے حصّے میں وہ روٹی آئی جو دیکھنے میں جلی ہوئی لگتی تھی اس نے بادشاہ سلامت کو بہت دُعائیں دیں اور گھر چلی گئی، کیا دیکھتی ہے کہ روٹی کے درمیان میں بہت پستہ ، بادام اور میوے لگے ہوئے ہیں، لڑکی انہیں قدموں دربار واپس آگئی اور بادشاہ سے ملنے کی خواہش کی، اس کی ملاقات بادشاہ سے سلامت سے کروائی گئی۔
    لڑکی گویا ہوئی کہ بادشاہ سلامت ابھی چند منٹ پہلے میں یہاں آئی تھی اور اپنے حصّے کی روٹی لے کر چلی گئی تھی جوںہی میں نے گھر جا کر روٹی دیکھی تو اس میں بہت سے بادام، پستہ اور میوہ جات تھے ۔ بادشاہ سلامت نے کہا کہ تم روٹی واپس کیوں لے آئی ہو اور کھائی کیوں نہیں؟
    جس پر لڑکی نے جواب دیا کہ میں نے سمجھا چونکہ اس میں بہت سے میوہ جات لگے ہوئے ہیں ضرور یہ بادشاہ سلامت کی روٹی ہو گی یہ سوچ کر میں روٹی واپس لے آئی ہوں۔ بادشاہ نے جواب دیا ویسے لوگ اتنے ایماندار تو نہیں ہوتے آپ کو یقیناً بڑوں نے کوئی نصیحت کی ہو گی۔ لڑکی بولی آپ نے درست فرمایا میرے والد صاحب ہمیشہ یہی فرماتے تھے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔

    خشک سالی کی وجہ سے میں نے بہت بھوک برداشت کی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے برداشت کی طاقت دی اور جب میں یہاں روٹی لینے آئی تو کافی دھکم پیل تھی میں نے تب بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ایک کونے میں کھڑی ہو کر اپنی کا انتظار کرنے لگی اور باری پر روٹی لے کر چلی گئی گھر جا کر دیکھا تو اس پر میوہ جات لگے ہوئے تھے میں انہیں قدموں روٹی واپس آگئی ہوں۔

    بادشاہ سلامت نے فرمایا یقیناً یہ صبر کا ہی پھل ہے اور یہ بھی درست ہے کہ درباریوں نے یہ روٹی میرے لئے ہی پکائی تھی اوراب یہ روٹی تمہاری ہے یہ تمہارے سچ اور صبر کا انعام ہے۔ بادشاہ نے اسے اور بھی انعام وکرام سے نوازا۔

    دوستو! اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے جبکہ سانچ کو آنچ نہیں۔
    عائشہ محمود لا ہور


    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    ہم دنیاوی پھل کا سوچتے ہیں، جب کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے، بہت سے لوگ حق پر رہتے ہوئے صبر کے باجود میٹھا پھل کھانے کی حسرت لئے دنیا سے چلے جاتے ہیں، جبکہ صبر کا اصل اجر آخرت میں ملے گا، جو کہ واقعی میٹھا ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,321
    اگر ہم نے صبر کو بھی آم امرود کریلے بھنڈی جیسا ہی سمجھ لیا تو پھر اسی طرح کے ذائقے کی امید بھی رکھنی چاہیے۔ اور کبھی کبھی تو کسی پھل کی امید ہی نہین رہتی ۔ نہ میٹھا اور نہ ہی کڑوا۔
    بڑے شوق سے چقندر ، سیب وغیرہ کا جوس نکالا۔ اسے گلاس میں ڈالا اور پینے سے پہلے سوچا کہ جوسر کو دھو کر اس کی جگہ رکھ دیں۔ اس دوران اپنا ہاتھ لگا اور سارا جوس سنک میں۔ اور پھر ہم صبر کرتے رہ گۓ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  5. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    آپ نے جو کہانی شیئر کی اچھی تھی

    بے شک اصل اجر تو آخرت کا ہے

    بابر بھائی آپ نے بہت ہی اچھی باتیں کہی اور مثالیں دی


    اصل میں محاورے کو ہم نے اصل کے قائم مقام سمجھا ہے اسی لیے ہم اس میٹھے کے چکر میں پڑے ہیں جو محاوراتی ہے

    یہ اسی طرح ہے جیسے عام طور پرلوگوں کے ذہن میں برکت کا تصور ہے کہ "برکت " حاصل ہوجانے سے چیز بڑھ جائے گی

    حالانکہ چیز بڑھتی نہیں بلکہ وہی کافی ہوجاتی ہے

    اور پھر اللہ تعالی کا فرمان
    إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

    بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے


    اس سے بڑھ کراور میٹھا کیا چاہیے کہ صبر کرنے پر " اللہ تعالی " کا ساتھ مل جائے ؟

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,866
    ایسا اس لیے ہوا شاید کہ صبر کے ساتھ توکل اللہ بھی کرنا تھا.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. صدف شاہد

    صدف شاہد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    جی بالکل جزاک اللہ خیرا

    بے شک
    جزاک اللہ خیرا
    وعلیکم السلام ورحمت الله وبرکاته
    بہت سبق آموز کہانی شئیر کی آپ نے
    جزاک اللہ خیرا
    خوب لکھا آپ نے
    کافی دلچسپ انداز میں اِک تلخ حقیقت بیان کی ہے اُمید نہیں رہتی ۔۔۔۔صبر کرتے رہ گئے ۔۔۔۔یقینا روزِ آخرت اجرِ عظیم ہی نوازا جائے گا ان شا ء اللہ
    جزاک اللہ خیرا
    ان شاء اللہ
    بھیا میرے پاس ملٹی پل اقتباس سلیکٹ ہی نہیں ہوتے تبھی جواب الگ سے دینے پڑتے ہیں
    آپ سبھی کے جوابات قابلِ تحسین ہیں
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں