نماز پڑھ احسان نہ کر

ساجد تاج نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏فروری 4, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    نماز پڑھ احسان نہ کر

    انسان جب اسلام میں داخل ہوتا ہے اللہ اوراس کے رسول ﷺ پر ایمان لاتا ہے کہ ہاں اللہ ایک ہے اس کا کوئی معبو دنہیں اور نبیﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اس کے بعد سب سے پہلے سکھائی جانے والی چیز نماز ہے ۔اذان کی آواز کانوں میں گونجتے ہی مسلمان مسجد کا رُخ کرنے لگتا ہے ۔مسلمان دن میں پانچ بار نماز ادا کرتا ہے اور کتنے ہی سجدے کرکے اللہ کا شکر ادا کرتا ہے ، اس کی حمدو ثنا کرتا ہے اور اس کی واحدانیت بیان کرتا ہے۔ نماز روبرو اللہ کے ساتھ ایک مُلاقات ہے جس میں بندہ اپنے پروردگار سے ہمکلام ہوتا ہے۔
    آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان اور کافر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے۔(الحدیث)
    اکثر اوقات دیکھا گیا کہ لوگ نماز کی ادائیگی ایسے کرتے ہیں کہ جسے وہ کوئی فرض نہیں بلکہ احسان کر رہے ہوں۔ کب نیت باندھی ،کب رکوع میں گئے ، کب سجدہ کیا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔ نماز کو خشوع طریقہ سے پڑھنے کو کہا گیا۔ لیکن ہم اتنی تیزی سے نماز پڑھتے ہیں کہ جیسے کوئی سبق سنا رہے ہوں یا جان چُھڑا رہے ہوں۔رکوع کے لیے صحیح جھکے نہیں کہ رکوع سے کھڑے ہو گئے، پہلا سجدہ کر کے صحیح طرح بیٹھے نہیں کہ دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہیں۔ نماز میں کب کیا پڑھاکچھ پتہ نہیں ۔ یہ نماز ہے ؟ آخرکس بات کی جلدی ہوتی ہے ہمیں؟ کتنا وقت لگتا ہے ہمیں ان نمازوں کوادا کرنے میں جو ہم اتنی بے فکری سے نماز کی ادائیگی کرتے جاتے ہیں،اللہ کو تمہاری نمازوں کی ضرورت نہیں اگر ہوتی تو فرشتے کافی تھے اللہ کی عبادت کے لیے ۔ہم نماز پڑھتے ہیں اپنے لیے ، اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ، خود کو بُرائیوں سے روکنے کے لیے، پاک صاف رہنے کے لیے، جنت میں گھر پانے کے لیے، رزق کی کشادگی کے لیے ،اپنے اور کافروں کے درمیان فرق رکھنے کے لیے۔
    میں نے اکثر لوگوں کو نماز میں زاروقطار روتے ہوئے دیکھا ہے، گڑگڑاتے ہوئے دیکھا ، اذان کی آواز سنتےہی مسجد کی طرف بھاگتے دیکھا ، اپنے ہر کام کو ادھوارا چھوڑ کر نماز کی ادائیگی کرتے دیکھا ہے۔میں نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا ہے جونماز میں سورہ فاتحہ تو پڑھتے ہیںلیکن اس سورہ کا مطلب کیا ہے نہیں پتہ ، رکوع میں کتنا جھکنا ہے نہیں پتہ۔ ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں یہ تک نہیں پتہ کہ دعائے قنوت کس نماز کا حصہ ہے اور ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں یہ نہیں پتہ کہ نماز میں کتنی رکعات ہوتی ہیں، کچھ لوگ نماز پڑھتے ہیں تو نظریں ادھر ادھر گھماتے رہتے ہیں۔ اللہ نے اگر تمہیں نماز کی توفیق عطا کی ہے تو اللہ کے لیے جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو اسے خشوع طریقے سے ادا کیا کرو۔ نماز کی ادائیگی ایسے کرو جیسے اس کی ادائیگی کا حق ہے ، نماز کی ادائیگی ایسے کرو جیسا نبی ﷺ کی سنت مبارکہ سے ملتا ہے، نماز کی ادائیگی ایسے کروکہ تمہیں خود کو اطمینان اور سکون ملے۔نماز کو بوجھ سمجھ کر یا احسان سمجھ کر اپنے سر سے مت اُتارو۔ایسی نمازوں کو کیا فائدہ جس کی ادائیگی میں ہزاروں کوتاہیاں ہوں۔
    ایک حدیث میںآیا ہے کہ
    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ " وَعَلَيْكَ، فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ "، فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " وَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ بَعْدُ "، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَاعِدًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا ". سنن ابن ماجہ:حدیث نمبر: 1060
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، اس نے آ کر آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی“، وہ واپس گیا اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اور تم پر بھی آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، تم نے ابھی بھی نماز نہیں پڑھی“، آخر تیسری مرتبہ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کا ارادہ کرو تو کامل وضو کرو، پھر قبلے کی طرف منہ کرو، اور «الله أكبر» کہو، پھر قرآن سے جو تمہیں آسان ہو پڑھو، پھر رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ پورا اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھاؤ، اور پورے اطمینان کے ساتھ قیام کرو، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں مطمئن ہو جاؤ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے بیٹھ جاؤ، پھر اسی طرح اپنی ساری نماز میں کرو“ ۱؎۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں