مردانہ حلیے والی لڑکیاں

عائشہ نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏مارچ 5, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    بہت دنوں سے بہنوں کی اس مجلس میں لکھنا چاہ رہی تھی، آج وقت ملا۔
    شاید آپ نے بھی غور کیا ہو کہ ہمارے معاشرے میں کچھ لڑکیوں کے حلیے زیادہ ہی مردانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے ایسی 'لوگیاں' کبھی کبھار نظر آتی تھیں لیکن اب مجھے لگتا ہے یہ سب بڑھ رہا ہے۔ آپ ذرا اپنی رائے دیں اور یہ بھی بتائیں کہ ایسی عجیب وغریب لڑکیوں کے ارد گرد جن بے وقوف مگر حسین لڑکیوں کا جتھا ہوتا ہے وہ کس لیے ہوتا ہے؟ کیا لڑکیوں کی عقل گھاس چرنے چلی جاتی ہے یا انہیں قبر یاد نہیں یا خدا کا خوف نہیں۔ پھر ایسے مریضوں کی موجودگی پر خاموش تماشائی معاشرے کا کیا کیا جائے؟ایک بھلا وقت تھا جب ایسی لڑکیوں کی کوئی نہ کوئی کلاس ضرور لے لیتا تھا، برائی کو برا کہنے والے کہتے جاگتے تھے۔ اب اس قوم کو ہو کیا گیا ہے؟
    میری درخواست ہے آپ سب بہنیں رائے ضرور دیں تا کہ ہم اس مسئلے کے مختلف پہلو سمجھ سکیں اور شاید کسی کی گھاس چرتی عقل کو گھر واپسی نصیب ہو۔
     
    Last edited: ‏مارچ 5, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. Mahpara Tariq Khan

    Mahpara Tariq Khan نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2019
    پیغامات:
    7
    میرے خیال سے لڑکیاں اُن کے اِس حلیے کی وجہ سے اُن کی طرف مائل ہوتی ہیں چونکہ اُن کا حلیہ اور انداز Opposite Gender کی طرح کا ہوتا ہے.
    اور یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. Zainab younas

    Zainab younas نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 18, 2019
    پیغامات:
    3
    وعليكم السلام ورحمة الله. بلکل اب ان لوگیاں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا هے.آج سے تقریباً ڈیڑھ سال پهلے جب یونیورسٹی جانا شروع کیاتها تو صرف ایک ہی ایسے بندے، بندی کو دیکھنے کا موقع ملا لیکن اب یہ چار سے پانچ هو چکے.اور لڑکیاں ان سے دوستی پرفخر محسوس کرتیں کہ ان کی دوستی "یونیک" لوگوں سے هے.
    اللہ تعالیٰ هم سب کو ہدایت دے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    یہ بات ٹھیک ہے کچھ لڑکیاں خود ان کی طرف مائل ہوتی ہیں، لیکن بعض کو یہ بلیک میل یا بلی کر کے بھی اپنے گروپ میں شامل کرتی ہیں۔ عموما مردانہ حلیے والی لڑکی اگریسو اور بدتمیز ہوتی ہے جو نئی یا کم عمر لڑکیوں کو ٹارگٹ کرتی ہیں۔ اگر آپ کو اس بارے میں کچھ محسوس ہوا ہو تو لکھیے گا۔
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    یہ بہت اہم نکتہ ہے کہ یونیورسٹیز اور کالجز میں یہ بیماری موجود ہے۔ اس کے علاوہ سکولز میں بھی ہے۔ لوگ اس برائی کے خلاف بولتے نہیں، جانتے بوجھتے آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور یہ بڑھتی جارہی ہے۔
    اتنی بڑھ گئی کہ اب لوگ فخر کر رہے ہیں جب کہ گند کے ڈھیر پر بیٹھنے کو کبھی بھی یونیک ہونا نہیں کہہ سکتے۔ لیکن شیطان برائی کا نام بدل دیتا ہے تا کہ گند، گند نہ لگے۔
     
  6. Mahpara Tariq Khan

    Mahpara Tariq Khan نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2019
    پیغامات:
    7
    اللہ اکبر
    مجھے آج تک یہی لگتا رہا جیسے اِس طرح کے گرپس میں لڑکیاں اپنی مرضی سے شامل ہوتی ہیں. اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اُن کو بلیک میل کرکے اِس طرف لایا جاتا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. سیما

    سیما نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 7, 2017
    پیغامات:
    3
    وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
    بین الاقوامی سطح پر پھیلے اس فتنے کا شکار یہ لڑکیاں بھی ہیں۔ مخالف جنس جیسا بننے کی خواہش دونوں طرف موجود ہے۔ بعض مائیں بیٹے کی خواہش میں اپنی بیٹیوں کی پرورش ہی مردانہ انداز میں کرتی ہیں۔ جبکہ بعض لڑکیاں یونیک نظر آنے کی خواہش میں ایسا انداز بنا لیتی ہیں، بہرحال ہم صرف انہیں ترغیب ہی دے سکتے ہیں کہ اللہ کی بنائی گئی کاریگری کی حفاظت کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. غزالہ

    غزالہ نوآموز.

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2019
    پیغامات:
    2
    ایک استاذہ ہونے کی حیثیت میں یہ ایک انتہائی تکلیف دہ امر محسوس ہو رہا ہے لیکن بجاۓ اس کے کہ ایسے لوگوں کے لیئے صرف ملامتی جذبات کا اظہار ہو کچھ ایسی بچیوں کے لیئے اصلاح کا لائحہ عمل بھی طے ہو، کہ انہیں اصلاح کی ترغیب کیسے دی جائے؟ جہاں ایسی بچیوں کے گھر والے بھی انہیں ایسے حلیوں میں قبول کر چکے ہوتے ہیں وہاں ان کو یہ بتانا ہی معرکہ خیز بات ہو جاتی ہے کہ ان کا حلیہ و حرکات دین حق کے بتائے ہوئے چلن سے قطعا میل نہیں کھاتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    خوش آمدید محترمہ @غزالہ بارک اللہ فیک۔
    اس موضوع کا مقصد یہی ہے کہ گفتگو کے ذریعے اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔ آپ کے مشاہدےمیں بھی ایسے معاملات آتے ہوں گے تو آپ کیا حل تجویز کرتی ہیں؟
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    جی انہی لوگوں سے معلوم ہوا جب ایسی طالبات کی کاؤنسلنگ کی کوشش کی کہ ایسے گروپس سے باہر نکلنے کی کوشش پر دھمکیاں ملتی ہیں۔ کیوں کہ ان کے پاس ان کے راز یا کمزوریاں ہوتی ہیں۔
    ایسے تعلقات میں لالچ کے علاوہ دھونس بھی شامل ہوتی ہے۔ اور مینوپلیٹو پرسنالٹی والی لڑکیاں قیمتی تحفے بٹورتی ہیں۔
    آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ سہیلی بات نہیں کر رہی تو دوسری نے کلائی کی رگ کاٹ لی، یا کھانا پینا چھوڑ دیا، دوست سے جھگڑے پر خودکشی کی کوشش یہ سب اسی مرض کا نتیجہ ہے۔
     
  11. غزالہ

    غزالہ نوآموز.

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2019
    پیغامات:
    2
    عائشہ دل تو یہی چاہتا ہے کہ ایسے بچوں کی کاؤنسلنگ کی جائے لیکن وہ کیا انداز ہو کہ ان کی دل آزاری بھی نہ ہو اور بات مؤثر انداز میں پہنچا بھی دی جائے، یہ کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ ایسی ایک بچی ہماری فیکلٹی میں بھی ہے لیکن اتفاق ایسا رہا کہ میں نے انکی کلاس کو کوئی کورس نہ پڑھایا آج تک لہذا براہ راست رابطے کے نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کچھ سمجھانے کا موقع نہیں ملا اور اب دل پر بوجھ سا محسوس ہوتا ہے کہ شاید کسی اور انداز سے ہی سہی امر المعروف کا حق ادا کرنا چاہیے تھا جو نہ کر سکی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    ہمارا فرض ہے نہی عن المنکر، ہدایت دینے والا اللہ تعالی ہے۔ بات صرف لباس کی حد تک ہو تو اتنا مشکل نہیں اگر بچی چھوٹی ہو تو اس کے والدین کو کہیں اور اگر بالغ ہے تو اسے سمجھائیں کہ اب اپنے دینی معاملات کی ذمہ دار و ہ خود ہے۔
    بعض لوگ سن لیتے ہیں بعض کو بار بار کہنا پڑتا ہے اور کبھی نہ کبھی کچھ اثر ہو جاتا ہے۔
    مسئلہ زیادہ خراب تب ہوتا ہے جب بات لباس سے نکل کر مزید اخلاقی انحراف تک پہنچ چکی ہو۔ شہوات میں پڑے ہوئے لوگوں کو ٹوکنے کا ردعمل بہت سخت آتا ہے اس کے لئے اہل دعوت پہلے ہی تیار ہوتے ہیں۔ یہاں ان کی دل آزاری تو کیا خود پر حملے کے لیے تیار رہیں۔
    میرے خیال میں برائی کو برائی کہنے سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ مثلا اگر یہ کہا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے تو کچھ لوگ دل ازاری کا دعوی کر سکتے ہیں لیکن ہم ان کی خاطر دین کو نہیں بدل سکتے۔تاہم دعوت اچھے الفاظ میں ہی دینی چاہیے۔ میں عموما قرآن اور احادیث کی عبارت من و عن دہرا دیتی ہوں کیونکہ جو برکت قرآنی اور نبوی الفاظ میں ہے ہمارے الفاظ میں کبھی نہیں آ سکتی۔ ان کے خالق کا کلام ہے ان کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہے، خود ہی ان کے دل تک پہنچ جاتی ہے۔
    عموما گروپ کی لیڈر یا اس کی خصوصی چہیتی بات نہیں سننا چاہتی لیکن گروپ کے اندر موجود باقی لوگ جن کے دل میں نیکی کا کچھ نور موجود ہوتا ہے بات سنتی بھی ہیں اور اعتراف بھی کرلیتے ہیں کہ یہ غلط ہے ۔ پھر انہیں صرف یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ گناہ جتنا بھی بڑا ہو اللہ عزوجل معاف کر دیتے ہیں اوروہ توبہ کرنے والوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
    توبہ کرنے والی لڑکیوں کے بہت سے عملی مسائل میرے سامنے آئے ہیں اس کے لئے انہیں مسلسل کاؤنسلنگ اور مورل سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر اس مرحلے پر انہیں اکیلا چھوڑ دیا جائے تو وہ پلٹ بھی سکتی ہیں یا کسی اور مصیبت کا شکار ہوسکتی ہیں۔
    اس کام کے لیے فون اور نیٹ سے مدد لی جا سکتی ہے ان سے رابطے میں رہیں اور ان کے مسائل کا حل دیتی رہیں۔ میں کچن میں برتن دھوتے ہوئے کالز سن کر جواب دے دیتی ہوں : )
     
    Last edited: ‏مارچ 6, 2019
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    ہماری ایک فرینڈ نے مردانہ حلیے پر تبصرہ کیا کہ ان خواتین کو اپنے عورت ہونے پر اتنی شرمندگی کیوں ہے کہ وہ عورت جیسے کپڑے نہیں پہن سکتیں۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ لڑکیوں کو لڑکی لگنے میں کیا عار محسوس ہوتا ہے؟
     
  14. Gulmeena

    Gulmeena نوآموز.

    شمولیت:
    ‏فروری 25, 2019
    پیغامات:
    4
    جہاں تک میرا خیال ہے, بہت سے ایسے مسائل دین سے دوری کی بنا پر پیش آتے ہیں جہاں بچییوں کو یہ تک نہ بتایا گیا ہو کے مردوں جیسا حلیہ اختیار کرنے والوں پر اللہ کے رسول کی طرف سے لعنت کی گئی ہے. اسکے علاوہ جہاں بچییوں کے گھر سے نکلتے وقت یہ تک نہ دیکھا جاتا ہو کے وہ کس حلیے میں گھر سے نکلتی ہیں, جہاں کپڑوں کی خریداری کرتے وقت یہ تک نہ دیکھا جاتا ہو وہ کیا خریدتی ہیں کیا سلواتی ہیں, جہاں بچییوں نے بچپن سے ہی مرد عورت کے حلیے کا فرق نہ سیکھا ہو وہاں ایسے مسائل کا سامنے آنا فطری بات ہے. لیکن رہی بات ایسی لڑکیوں کی کاونسلنگ کی تو جہاں تک میرے محدود علم کا تعلق ہے اس حساب سے جب تک گناہ کی جڑ کو نہ adress کیا جائے یہ trend کم ہوتا دکھائی نہیں دیتا. لہذا ایسی لڑکیوں کے گروپ میں شامل ہونے والی لڑکیوں کی بجائے ان لڑکیوں کی اپنی کاونسلنگ کرنا زیادہ اہم دکھائ دیتا ہے (لیکن کاونسلنگ کرتے وقت یہ خیال رکھا جاۓ کے انہیں یہ احساس دلانا ذروری ہے کے ہم آپ کے خیر خواہ ہیں دشمن نہیں. جب تک انکو یہ احساس نہ ہو there are very little chances of success ) . اسکے علاوہ ان بچییوں کے ساتھ ساتھ انکے والدین کی دینی تربیت بھی اہم ہے.
     
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں