مثبت سوچ، محنت اور لگن

اجمل نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اپریل 29, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    497
    مثبت سوچ، محنت اور لگن

    میں مفلس ہوں، میں غریب ہوں۔
    میرے پاس کوئی روپیہ پیسہ نہیں۔
    مجھے مدد کرنے والا کوئی نہیں۔
    میں 6 مہینے سے بے روزگار ہوں۔
    مجھے کوئی ملازمت نہیں مل رہی ہے۔
    مجھے کوئی جاب دلا دیں، باہر بھیج دیں۔
    میں بزنس کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
    بزنس کرنا چاہتا ہوں لیکن ہاتھ میں کچھ بھی نہیں، کس طرح بزنس شروع کروں۔
    میں 2 سال سے باہر جانے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن کوئی راستہ نہیں نکل رہا ہے ۔
    * * *
    اس طرح کے میسجز اکثر انبکس میں ملتے رہتے ہیں۔ اس میں میسجز بھینے والوں کا کوئی قصور نہیں۔ وہ بے چارے تو مجھے اپنا ہمدرد سمجھ کر اپنا دکھ درد اور اپنی احساسات و جذبات مجھ سے شیئر کرتے ہیں اور یہ سب شیئر کرنے پر میں ان لوگوں کا شکریہ گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا۔ کوئی بھی اپنا دکھ درد مجھ سے شیئر کر سکتا ہے، اپنی فیلنگ اپنی احساسات مجھے بتا سکتا ہے۔ اور یقین جانئے کہ میں کسی کو بھی کسی کا نام پتہ بتا کر کسی کے جذبات کو مجروح نہیں کروں گا۔ آپ کا مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے یہ سب شیئر کرنا مجھے بہت محبوب ہے اور آپ سب بھی مجھے بہت محبوب ہیں، بہت پیارے ہیں۔
    لیکن ایک بات کہوں،
    مائنڈ تو نہیں کریں گے:
    کامیابی یہ سب نہیں سنتی۔
    کامیابی کوئی منفی بات نہیں سنتی۔
    کامیابی ان منفی سوچوں سے نہیں ملتی۔
    * * *
    آپ مجبور ہیں۔
    آپ پریشان ہیں۔
    آپ بہت غریب ہیں۔
    آپ کے پاس کچھ بھی نہیں۔
    آپ بزنس نہیں کر پا رہے ہیں۔
    آپ کو کوئی جاب نہیں مل رہی ہے۔
    آپ باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    * * *
    ان باتوں کو کامیابی نہیں سنتی۔
    کیا آپ نے سنا؟
    میں کیا کہہ رہا ہوں؟
    میں کہہ رہا ہوں کہ
    کامیابی کوئی بھی منفی بات سننا پسند نہیں کرتی،
    اور نہ ہی کامیابی آپ کے دکھ درد اور احساسات و جذبات کی کوئی قدر کرتی ہے۔
    اگر آپ کامیابی سے کہیں گے کہ میں مفلس ہوں، غریب ہوں، بے سہارا ہوں، بے روزگار ہوں، بزنس میں ناکام ہوں، باہر جا نہیں سکا، کوئی مدد کرنے والا نہیں وغیرہ وغیرہ تو جانتے ہیں کامیابی کیا کہے گی؟
    کامیابی کہے گی میاں وجوہات دینا بند کیجئے، اپنی دلائل اپنے پاس رکھئے
    اور کچھ کر کے دکھائیے۔
    کامیابی حجت و دلائل سے نہیں ملتی۔
    کامیابی منفی سوچوں سے نہیں ملتی۔
    کامیابی ملتی ہے مثبت سوچ اپناتے ہوئے کچھ کرکے دکھانے سے۔
    کامیابی ملتی ہے محنت اور لگن سے کچھ کرنے سے۔
    لہذا ان منفی سوچوں سے باہر آئیے۔
    کامیابی و ناکامی کو ایک طرف رکھئے۔
    بس آپ محنت کیجئے۔
    پوری لگن سے محنت کیجئے۔
    اور اللہ پر توکل کیجئے۔
    اللہ پر بھروسہ کیجئے۔
    محنت کرنا آپ کا کام ہے اور کامیابی دینا اللہ کا کام ہے؛ یہی توکل ہے۔
    بغیر محنت اور کوشش کے آپ کو کچھ نہیں ملے گا۔
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (39) سورة النجم
    ’’اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے‘‘ (39) سورة النجم
    لہذا کوشش کیجئے، محنت کیجئے،
    ’’۔ ۔ ۔ اللہ سے رزق مانگئے اور اُسی کی بندگی کیجئے اور (پھر جو بھی مل جائے) اس کا شکر ادا کیجئے۔ ۔ ۔‘‘ (١٧) سورة العنكبوت

    لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (7) سورة ابراهيم
    ’’ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے‘‘۔ (7) سورة ابراهيم

    آج تھوڑے پر اللہ کا شکر کیجئے کل زیادہ بھی مل جائے گا، وہ جب دینے پر آتا ہے تو بے حساب دیتا ہے اسکے خزانے میں کوئی کمی نہیں۔
    بس آپ خالص ایمان کے ساتھ نیک عمل کیجئے کونکہ رب تعالیٰ کا فرمان ہے:

    مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (97) سورة النحل
    ’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مؤمن ہو تو ہم اسے (دنیا میں) اچھی زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے‘‘۔ (97) سورة النحل

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیسی کیسی پیاری اور مثبت پاتیں سمجھانے کی کوشش کی ہے، ان پر غور کیجئے۔

    پیارے نبی کریم ﷺ نے رزق کے تنگی سے نکلنے کی جو دعائیں بتائی ہیں ان کا سہارا لیجئے، صبح و شام کی دعاؤں اور توبہ و استغفار کا احتمام کیجئے، پنجگانہ نماز باجماعت ادا کیجئے، قرآن مجید کی تلاوت اور اس میں تدبر و تفکر کیجئے، اچھے لوگوں کی صحبت میں رہئے اور صلح رحمی کا حق ادا کیجئے۔ اپنا اخلاق درست کیجئے۔

    اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنے رب کے ساتھ مثبت سوچ رکھئے کیونکہ دنیا و آخرت کی ساری کامیابی اسی کے ہاتھ میں ہے۔

    اصول: کامیابی مثبت سوچ، محنت اور لگن سے ملتی ہے، منفی سوچ سے نہیں۔
    تحریر: محمد اجمل خان
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں