تمہارے دل میں تقوی ہوتا تو تمہارے اعضاء پر نظر آتا ...

اہل الحدیث نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏ستمبر 22, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,047
    - *|[ تمہارے دل میں تقوی ہوتا تو تمہارے اعضاء پر نظر آتا ... ]|*

    سیدنا نعمان بن بشیر رضي الله عنهما سے مروی رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم کی ایک حدیث کے آخر میں ہے :

    *”ألا وإنَّ في الجَسَدِ مُضْغَةً، إذا صَلَحَتْ، صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وإذا فَسَدَتْ، فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، ألا وهي القَلْبُ.“*

    "خوب جان لو کہ جسم میں ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔"

    - *|[ البخاري : 52 ، مسلم : 1599 ]|*

    *⬅️ شیخ ابنِ عثیمین رحمه اللہ فرماتے ہیں :*

    "اس حدیث میں اس گروہ پر رد ہے جنہیں آپ ظاہری منکرات جیسے داڑھی منڈوانے، سگریٹ نوشی اور شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنے پر ٹوکتے ہیں تو وہ زور سے سینے پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں: تقوی یہاں ہوتا ہے!!

    حالانکہ اگر سینے میں موجود دل میں تقوی ہوتا تو سارے ظاہر پر اس کا اثر ہوتا، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیه وسلم فرما رہے ہیں جس کا دل درست ہوا اس کا سارا جسم درست ہو گا، اور جس کے دل میں فساد ہوا اس کے سارے جسم میں فساد ہو گا۔

    پس اگر آپ کبھی ایسا بندہ دیکھیں تو اس سے کہیں : بھائی! سینہ مت پیٹو، تمہاری بات غلط ہے۔ تمہارے سینے میں تقوی ہوتا تو تمہارے اعضاء پر نظر آتا۔ یہ نبی صلی اللہ علیه وسلم کا فرمان ہے۔"

    - *|[ شرح صحيح البخاري : 160/1 ]|*
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں